ڈاکٹر کا روز نامچہ
۷۔مارچ ۲۰۱۷ء
آج ہفتہ کا دن ہے۔ بستر سے صبح ساڑھے چار بجے اٹھا ، وضو کر کے نمازِ فجر ادا کرتے ہی رات کی تکان غائب ہو گئی۔تھوڑی دیر کے لیے باغیچہ میں جڑی بوٹیاں صاف کرنے میں مصروف رہا۔ سورج کی تیز روشنی کی چبھن جب ناقابل برداشت ہو گئی تو پنکھے کے نیچے جا کر لیٹ گیا۔ ناشتہ کر کے مجھے مقامی میڈیکل کالج میں ایم۔بی۔بی۔ایس کی فرسٹ ائیر کی کلاس کو اناٹومی پڑھانے جاناتھا۔ لِہٰذا ”گریرز اناٹومی“ سے متعلقہ موضوعات پر کچھ مطالعہ کر کے نوٹس لیے۔ کالج پہنچا تو کلاس میں طلبہ و طالبات پہلے سے موجود تھے۔ ان کے چمکتے دمکتے چہرے ان کی کامیابی کی نوید سنا رہے تھے ۔ چونکہ میں اپنا لیکچر تیار کر کے گیا تھا لِہٰذا طلبہ و طالبات ہمہ تن گوش تھے۔ لیکچر کے دوران میں، میں نے ملٹی میڈیا پر کچھ سلائیڈز بھی دکھائیں جس سے موضوع کو سمجھنا زیادہ مشکل نہ رہا۔ لیکچر ختم ہوا تو طالب علموں نے تالیاں بجا کر میرے اندازِ تدریس کو سراہا۔
ساڑھے گیارہ بجے سٹاف روم میں ڈاکٹر دوستوں کے ساتھ چائے پی ۔ ڈیڑھ بجے دوپہر تک وارڈ میں مریضوں کا معائنہ کیا۔ دو بجے گھر آ کر بیوی بچوں کے ساتھ کھانا کھاتے ہوئے ان کے مسائل کے مناسب حل تجویز کیے۔ اتنے میں عصر کی نماز کا وقت ہو گیا۔ نماز کے بعد ایک پرائیویٹ ہسپتال سے ایمر جنسی کال آئی تو مریض کو دیکھنے گیا ۔ واپسی پر نماز مغرب ادا کرنے کے بعد میں اپنے کلینک پر چلا گیا۔
کلینک پرآ ج حسبِ معمول رش تھا۔ یوں تو میں فزیشن ہو ں مگر میں نے بیماریوں کی تشخیص کے لیے لیب ٹیسٹ کے ساتھ ساتھ ”الٹراساﺅنڈ “ مشین کی سہولت بھی حاصل کر رکھی ہے اس لیے میرے پاس مریض دیگر ڈاکٹروں کی نسبت زیادہ آتے ہیں۔ علاوہ ازیں میں اپنے کام کو عبادت سمجھ کر کرتا ہوں اور یہ سمجھتا ہوں کہ شاید انسانوں کی خدمت سے اللہ کے ہاں میری بخشش ہو جائے ۔ ایسی ہی صورت حال کے لیے شاعر نے کیا خوب بات کہی ہے:۔
دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کرو بیاں
میرے مریضوں میں زیادہ تر متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد ہوتے ہیں۔ یہ لوگ حفظانِ صحت کے اصولوں کے مطابق صاف ستھرے نہیں رہتے اسی لیے یہی لوگ زیادہ بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں۔ جو لوگ ہاتھ منہ دھو کر کھانا کھاتے ہیں وہ پیٹ کی بیماریوں سے بچے رہتے ہیں۔ اس لیے اسلام نے صفائی پر بڑا زور دیا ہے۔ارشاد نبوی ہے:۔
”صفائی نصف ایمان ہے“
آج میرے کلینک پر ایک بڑے دلچسپ بزرگ آئے ،ان کا نام بھی عجیب تھا ۔ وہ اپنے آپ کو ”کمبوہ “بتارہے تھے غالباً یہ ان کی ذات ہو گی ۔ چہرے پر نور اور زبان میں بڑی مٹھاس تھی۔ باتیں بڑی دلچسپ کرتے تھے۔ ان کے ایک سوال نے تو مجھے لاجواب کر دیا۔ انہوں نے پوچھا تھا کہ ڈاکٹر صاحب! آپ غریبوں کو پھل اور امیر مریضوں کو پھلوں کی بجائے دلیہ کھانے اور ڈائٹ کرنے کا مشورہ دیتے ہیں ۔آخر کیوں؟ بھلا میں انہیں کیسے سمجھا تا کہ غریب خوراک کی کمی اور امیر خوراک کی زیادتی کا شکار ہوتا ہے مگر وہ میرے اس جواب سے مطمئن نہ ہوئے۔ اتنے میں نماز عشا کا وقت ہوا تو میں تمام مریضوں سے فارغ ہو کر مسجد میں نماز ادا کرنے چل دیا۔
