علم بیان

علمِ بیان کی تعریف، اقسام اور اہمیت

Share With Others

(علم بیان)

علم بیان کی تعریف اور موضوع لکھیں۔

جواب علم بیان سے مراد وہ علم ہے جس کے ذریعے اپنے خیالات کے اظہار کے لیے ایک معنی کو مختلف طریقوں سے ادا کیا جاتا ہے ، تاکہ کلام میں زور ، تاثیر اور حسن پیدا ہو جائے۔ علم بیان کا موضوع لفظ ہے جو دو طرح سے استعمال ہوتا ہے، حقیقی معنوں میں اور مجازی معنوں میں۔

حقیقت ( لفظ کے حقیقی معنوں میں استعمال ) کا کیا مطلب ہے؟ جواب: لفظ کے حقیقی معنوں میں استعمال سے مراد یہ ہے کہ کسی لفظ کو ان معنوں میں استعمال کیا جائے جن کے لیے وہ وضع کیا گیا ہو۔ مثلاً کوئی شخص بہادر ہو تو اسے دلیر یا بہادر کہنا۔

مجاز (لفظ کے مجازی یا غیر حقیقی معنوں میں استعمال ) کا کیا مطلب ہے ؟

 جواب جب کوئی لفظ ان معنوں کے علاوہ کسی اور معنی کے لیے استعمال کیا جائے جن کے لیے وہ وضع کیا گیا ہو تو اسے مجاز کہتے ہیں۔ مثلاً شیر ایک خاص جانور کا نام ہے لیکن جب کسی انسان کو بہادری کی وجہ سے شیر کہا جائے تو اسے ہم لفظ ” شیر ” کا مجازی معنوں میں استعمال کہیں گے۔

علم بیان کا دارو مدار کتنی چیزوں پر ہے ؟

ان کے نام بھی تحریر کریں۔ جواب علم بیان کا دارو مدار چار چیزوں پر ہے، جن کے نام درجہ ذیل ہیں:

تشبیہ

استعاره

 مجاز مرسل

 کنایہ

( تشبیہ)

تشبیہ کے کہتے ہیں؟

جواب کسی چیز کو دوسری چیز کے ساتھ ایک معنی یا صفت میں برابر شریک کرنے کو تشبیہ کہا جاتا ہے۔ علم بیان کی اصطلاح میں کسی چیز کو کسی خوبی یا خامی وغیرہ کی وجہ سے کسی دوسری چیز کی مانند قرار دینے کو تشبیہ کہا جاتا ہے۔

مثلاً: پانی برف کی طرح ٹھنڈا ہے۔ پھولوں پر شبنم کے قطرے موتیوں کی مانند چمک رہے تھے۔ احمد

شیر کی طرح بہادر ہے۔

تشبیہ کے کتنے ارکان ہیں اور کون کون سے ؟

جواب تشبیہ کے چار ارکان ہیں، جن کے نام درج ذیل ہیں:

مشبہ

مشبہ بہ

وجہ شبہ

حرفِ تشبیہ

ارکان تشبیہ کی تعریف لکھیں۔

مشبہ سے مراد وہ چیز ہے جس کی تشبیہ دینا مقصود ہو۔

مشبہ بہ سے مراد وہ چیز ہے جس کے ساتھ تشبیہ دی جائے۔

وجہ شبہ: وه صفت، خوبی یا خامی وغیرہ جس کی وجہ سے تشبیہ دی جائے۔

حرف تشبیہ سے مراد وہ حرف ہے جس کے ذریعے مشبہ اور مشبہ بہ کے مابین مماثلت کے تعلق کو ظاہر کیا جائے۔ حروفِ تشبیہ کو آداتِ تشبیہ بھی کہتے ہیں۔ عام طور پر استعمال ہونے والے حروف تشبیہ یہ ہیں : جیسا، کی طرح کی مانند ، مثل، گویا، سا، یوں۔

 نوٹ: بعض لوگ غرض تشبیہ کو بھی ارکان تشبیہ میں سے شمار کرتے ہیں۔ غرض تشبیہ سے مراد وہ مقصد ہے جس کے لیے تشبیہ دی جائے۔

اطراف یا طرفین تشبیہ کی تعریف لکھیں۔

مشبہ اور مشبہ بہ کو طرفین تشبیہ یا اطراف تشبیہ کہتے ہیں۔

(استعاره)

استعارہ کسے کہتے ہیں؟

استعارہ کے لغوی معنی ہیں کسی سے کوئی چیز عاریتا مانگ لینا، قرض لینا اور ادھار مانگنا۔ علم بیان کی اصطلاح میں جب کوئی لفظ اصلی معنوں کے بجائے مجازی معنوں میں استعمال ہو جائے اوراصلی اور مجازی معنوں میں تشبیہ کا تعلق ہو تو اسے استعارہ کہا جاتا ہے۔

مثلاً ہم کہتے ہیں احمد شیر ہے۔ یہاں بہادری کی وجہ سے احمد کو شیر کہا گیا۔ یعنی حقیقتا شیر ایک جانور کا نام ہے اور مجازی معنوں میں احمد کو شیر کہا گیا ہے۔

اسی طرح راہ راست “ سے مراد سید ھاراستہ “ ہے لیکن اس کا مجازی مطلب ” دین اسلام “ ہے۔ راہ راست کے حقیقی معنی ”سیدھا راستہ “ اور مجازی معنی ” دین اسلام کے مابین تشبیہ کا تعلق ہے۔ راہ راست پر چلتے ہوئے مسافر اپنی منزل پر پہنچ جاتا ہے اور دین اسلام پر چلتے ہوئے مسلمان اپنی منزل

(جنت) پر پہنچ جاتا ہے۔

استعارہ کے ارکان کتنے اور کون کون سے ہیں؟

استعارہ کے ارکان تین ہیں جو کہ درج ذیل ہیں:

مستعارلہ

مستعار منہ

وجہ جامع

ارکان استعارہ کی تعریف لکھیں۔

جواب ارکان استعارہ کی تعریف درج ذیل ہے:

مستعارلہ : وہ چیز جس کے لیے کچھ مستعار لیا جائے۔

مستعار منہ: وہ چیز جس سے کچھ مستعار لیا جائے۔

وجہ جامع : مستعار لہ اور مستعار منہ کے مابین جو تشبیہ کا تعلق ہوتا ہے اسے وجہ جامع کہتے ہیں۔

ارکان استعارہ کو سمجھنے کے لیے ایک آسان مثال۔

ماں نے کہا: میر اچاند آیا۔

چاند

مستعار منہ

بیٹا

مستعار لہ

خوبصورتی

وجہ جامع

(مجاز مرسل)

مجاز مرسل کی تعریف لکھیں۔

جب کسی لفظ کو حقیقی معنوں کے بجائے مجازی معنوں میں استعمال کیا جائے لیکن حقیقی اور مجازی معنوں میں تشبیہ کے علاوہ کوئی اور تعلق ہو تو اسے مجاز مرسل کہتے ہیں۔ مثلاً قلم سے علم مراد لینے کے لیے یہ کہنا کہ قلم تلوار سے زیادہ طاقتور ہے۔

اسی طرح بارش اور پانی برسنے کے لیے یہ کہنا کہ آج بادل خوب برسا۔

 مجازِ مرسل کی کل کتنی صورتیں ہیں ؟ چند اہم اور معروف صورتوں کی تفصیل لکھیں۔

مجاز مرسل کی کل چوبیں صورتیں ہیں، جن میں سے مشہور صورتیں درج ذیل ہیں

کل کہہ کر جزو مراد لینا اکرم پاکستان میں رہتا ہے۔ اکرم پاکستان کے ایک شہر یا گاؤں کے کسی محلے میں اپنے گھر میں رہتا ہو گا نہ کہ کل پاکستان میں۔

جزو کہہ کر کل مراد لینا مثلا نماز میں الحمد پڑھنا ضروری ہے۔ نماز میں پوری سورہ فاتحہ پڑھی جاتی ہے نہ کہ صرف الحمد۔ لہذا یہاں مراد پوری سورت ہے۔  ظرف کہہ کر مظروف مراد لینا مثلاً انور نے سارا گلاس پی لیا۔

انور نے گلاس نہیں بلکہ پانی پی لیا ہے لہذا یہاں گلاس کہہ کر مراد پانی پی لینا ہے۔

  مظروف کہہ کر ظرف مراد لینا مثلاً میں نے دودھ آگ پر رکھ دیا۔ آگ پر دودھ نہیں بلکہ وہ برتن رکھا جاتا ہے جس میں دودھ ہو۔ لہذا یہاں دودھ آگ پر رکھنے سےمراد بر تن آگ پر رکھنا ہے۔

مسبب ( نتیجہ ) کہہ کر سبب مراد لینا مثلاً آگ جل رہی ہے۔

حقیقتا آگ نہیں بلکہ لکڑیاں جلتی ہیں، لہذ اذ کر مُسبب (آگ) کا ہوا اور مراد سبب ( لکڑیاں ) ہیں۔

سبب کہہ کر مسبب ( نتیجہ ) مراد لینا مثلاً آج بادل خوب برسا۔

برستا تو پانی ہے ، نہ کہ بادل۔ یہاں سبب (بادل) کہہ کر مراد مسبب (پانی) ہے۔

(کنایہ)

کنایہ کسے کہتے ہیں؟

کنایہ کے معنی ہیں پوشیدہ بات چھپا کر بات کہنا یا اشارے سے بات کرنا۔ یعنی اس طرح بات کہنا کہ مدعا کی وضاحت نہ ہونے پائے۔ علم بیان کی اصطلاح میں کنایے سے مراد یہ ہے کہ کسی لفظ کو مجازی معنوں میں اس طرح استعمال کیا جائے کہ اگر حقیقی معنی بھی مراد لیے جائیں تو درست ہوں۔ یا کسی لفظ کو مجازی معنوں میں اس طرح استعمال کرنا کے مجازی اور حقیقی معنوں میں کوئی تعلق بھی پایا جاتا ہو۔ مثلا کسی کو سفید ریش کہا جائے تو اس سے مراد بوڑھا شخص ہو گا۔

آنکھ نیچی کرنا کنا یہ ہے شرمندگی اور حیا کا۔

سر پر چڑھانا کنا یہ ہے کس کو بے ادب اور گستاخ بنانے کے لیے۔

سر جھکانا عاجزی کا کنایہ ہے۔

لمبے ہاتھ کنا یہ ہے سخاوت کے لیے۔

دھوپ میں بال سفید نہ کرنا کنا یہ ہے تجربہ کار اور عمر رسیدہ شخص کے لیے۔

  کنایہ کے کتنے اجزا ہیں اور کون کون سے ؟

کنایے کے دو اجزا ہیں۔

صفت

موصوف

کنا یہ کی دو بنیادی اقسام کون کون سی ہیں؟

جواب کنایہ کی دو بنیادی اقسام یہ ہیں،

کنایہ قریب

 کنایہ بعید

تشبیہ ، استعارہ ، مجاز مرسل اور کنایہ میں بنیادی طور پر کیا فرق ہے؟

تشبیہ جب دو چیزوں کے مابین مشابہت بیان کرنی ہو۔

استعارہ جب کسی لفظ کو حقیقی معنوں کے بجائے مجازی معنوں میں استعمال کیا جائے اور حقیقی اور مجازی معنوں کے مابین تشبیہ کا تعلق ہو۔

مجاز مرسل  جب کسی لفظ کو حقیقی معنوں کے بجائے مجازی معنوں میں استعمال کیا جائے اور حقیقی اور مجازی معنوں کے مابین تشبیہ کے علاوہ کوئی اور تعلق ہو۔

کنایہ جب کسی لفظ کو مجازی معنوں میں اس طرح استعمال کیا جائے کہ اگر حقیقی معنی بھی مراد لیے جائیں تو درست ہوں۔

استعارہ، مجاز مرسل، کنایہ اور محاورہ میں بنیادی طور پر کیا فرق ہے؟

استعاره، مجاز مرسل ، کنایہ اور محاورہ چاروں کا استعمال مجازی معنوں میں میں ہوتا ہے لیکن ان کے استعمال میں تھوڑا فرق موجود ہے جس کی تفصیل درج ذیل ہے:

استعارہ کا استعمال مجازی معنوں میں اس طرح ہوتا ہے کہ حقیقی اور مجازی معنوں کے درمیان تشبیہ کاتعلق ہوتا ہے۔ مجاز مرسل کا استعمال مجازی معنوں میں اس طرح ہوتا ہے کہ حقیقی اور مجازی معنوں میں تشبیہ کے علاوہ کوئی تعلق ہوتا ہے۔ کنایہ کا استعمال مجازی معنوں میں اس طرح کیا جاتا ہے کہ اگر حقیقی معنی بھی مراد لیے جائیں تو بات درست ہو۔

محاورہ کا استعمال مجازی معنوں میں اس طرح ہوتا ہے کہ حقیقی اور مجازی معنوں میں کوئی تعلق نہیں ہو تا بلکہ یہ اہل زبان کی بول چال میں اس طرح رائج ہوتا ہے کہ اس کے معنی پہلے سے معلوم اورمقرر ہوتے ہیں۔


Share With Others

اس موضوع پر مزید پڑھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *