دوست کے نام اس کی والدہ کی وفات پر اظہار تعزیت۔

دوست کے نام اس کی والدہ کی وفات پر اظہار تعزیت۔

Share With Others

دوست کے نام اس کی والدہ کی وفات پر اظہار تعزیت۔

امتحانی مرکز

۲۲ اکتوبر ۲۰۲۰ء

عزیز دوست!

          السلام علیکم، آج کی ڈاک سے آپ کا خط ملاجس میں آپ کی والدہ ماجدہ کے انتقال پرُ ملال کی خبر پڑھنے کو ملی۔ پہلے تو یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ اتنا بڑا سانحہ ہو گیا۔ بے اختیار آنکھیں پُرنم ہو گئیں۔

”اِنَّ لِلہِ وَ اِنَّ اِلَیْہ ِرٰاجِعُوْن“

          پیارے دوست ! موت  ایک یقینی امر ہے۔ خدا مرحومہ کو غریقِ رحمت کرے ۔اللہ تعالیٰ آپ کو اور دیگر پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ مجھے اس جانکاہ صدمے  کا از حد افسوس ہے کاش مجھے بروقت اطلاع مل جاتی تو میں نمازِ جنازہ میں شریک ہو جاتا۔

          مرحومہ نیک سیرت اور رحمدل ماں تھیں۔ آپ کا دوست ہونے کے ناتے مجھے وہ اپنے بیٹوں جیسا ہی سمجھتی تھیں۔ میرے ساتھ ان کا سلوک حقیقی ماں جیسا تھا۔ میں جب بھی آپ کے ہاں گیا تو وہ بڑی محبت اور شفقت سے پیش آئیں۔ وہ ہمیشہ پڑھنے لکھنے اور محنت کرنے پر ہمارا حوصلہ بڑھاتیں۔ اب مجھ کو رہ رہ کر ان کی یاد آ رہی ہے اور ان کی بے وقت موت پر آنسو ہیں کہ رکتے ہی نہیں۔ اگر آپ ان کی بیماری کے دوران  مجھے اطلاع کر دیتے تو میں بھی ان کی کچھ تیمارداری کر لیتا۔ ان کی جدائی کا جس قدر صدمہ آپ کو ہوا ہے وہ ایک قدرتی عمل ہے۔ دنیا میں ماں سے زیادہ ہمدرد رشتہ اور کونسا ہو سکتا ہے۔ اس سے بڑا صدمہ اور کیا ہو گا کہ یہی ہمدرد ترین ہستی آدمی سے چھن جائے۔لیکن  مرنا میراث آدم ہے اور اس سے کسی کو مفر نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں واضح طور پر ارشاد فرما دیا ہے:

کُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتْ

ترجمہ:    ہر جاندار نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے

          یہ سانحہ آپ اور آپ کے خاندان کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان ہے مگر انسان مصلحتِ ربّانی کے سامنے بے بس ہے۔ غم سے نباہ کرنا شیوہ مردانگی ہے۔ خداوند کریم ان کی مغفرت فرمائے، ان کو خلدِ بریں میں جگہ عطا فرمائے اور آپ کو اس عظیم حادثے کو برداشت کرنے کی توفیق اور ہمت بخشے۔ جو خلا مر حو مہ کی وفا ت حسرت آیا ت سے پیدا ہو گیا ہے۔ اس کا پر ہو نا ممکن نہیں ہے ۔خدا کے بعد ماں کا وجود ہی ایک ایسی ہستی ہے جسے اپنی اولا د سے بے لو ث اور والہا نہ محبت ہو تی ہے ۔ ما ں کی دعا کو جنت کی ہوا کہا جاتا ہے اور حدیث نبو ی کے مطا بق”ماں کے قد مو ں تلے جنت ہے “۔یہ امر با عث طما نیت ہے کہ آپ کو مر حو مہ کی خدمت کر نے کا پورا پورا موقع ملا اور وہ اس حالت میں رخصت ہو ئیں کہ آپ کو ان کی خوشنودی اور رضا مند ی حاصل تھی۔ یہ آپ کی بہت بڑی سعا د ت ہے ۔ میں اُن کی مغفرت کے لیے سچے دل سے دعا گو ہوں اور ہر روز “سورۃ الملک”  پڑھ کر ایصالِ ثواب کرتا رہوں گا۔

          آپ اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کی خاطر اس صدمے کو صبرو حوصلے سے برداشت کریں تاکہ ان کی ہمت بھی بندھی رہے۔ اس جانکاہ صدقے میں مجھے اپنا غمگسار جانیے ۔میں سچے دِل سے دُعا گو ہوں کہ خدا مرحومہ کو غریقِ رحمت کرے اور آپ سمیت تمام پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔میں انشا اللہ جلد آپ کے پاس پہنچ کر آپ کا دکھ بانٹنے کی کوشش کروں گا۔

          آپ کے والد کو سلام آپ کے چھوٹے بہن بھائیوں کو پیار ۔

                                                                                                والسّلام

                                                                                                آپ کا شریکِ غم

                                                                                                ا۔ب۔ج


Share With Others

اس موضوع پر مزید پڑھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *