علم بدیع کیا ہے مکمل گائیڈ

علم بدیع کیا ہے مکمل گائیڈ

Share With Others

(علم بدیع)

علم بدیع کی تعریف لکھیں۔

جواب بدیع کے معنی ہیں نادر اور انوکھا، عجیب و غریب یا نو ایجاد۔ علم بدیع وہ علم ہے جس میں کلام (خصوصاً نظم) میں لفظی اور معنوی خوبصورتی اور خوبیاں پیدا کرنے سے متعلق بحث کی جاتی ہے۔ علم بدیع کی اقسام کو بدائع وصنائع بھی کہا جاتا ہے۔ بدائع بدیع کی جمع ہے جب کہ صنائع صنعت

کی جمع ہے۔

صنعت کسے کہتے ہیں؟

صنعت کے معنی سجاوٹ، کاریگری اور حسن کاری ہیں۔ صنعت سے مراد کلام میں مقرر طریقوں سے الفاظ کا استعمال ہے جس کے ذریعے سے کلام میں حسن پید اہو جائے۔

علم بدیع کی کتنی قسمیں ہیں اور کون کونسی؟

جواب علم بدیع کی دو قسمیں ہیں ، صنائع لفظی ، صنائع معنوی۔

صنائع لفظی کی تعریف لکھیں۔

جواب صنائع لفظی سے مراد وہ صنعتیں ہیں جن کے ذریعے سے کلام کے ظاہری الفاظ میں حسن

پیدا کیا جائے۔

صنائع معنوی کی تعریف لکھیں۔

جواب صنائع معنوی سے مراد وہ صنعتیں ہیں جن کا تعلق کلام کے معنوی حسن سے ہے۔ یعنی صنائع معنوی وہ صنعتیں ہیں جن کے استعمال سے کلام میں معنوی طور پر تاثیر اور حسن پیدا کیا جاتاہے۔

مشہور بدائع و صنائع کے نام اور تعریف لکھیں۔

مشہور بدائع وصنائع درج ذیل ہیں

صنعتِ حسنِ تعلیل: جب شاعر کسی امر کی حقیقی علت و سبب کو بیان کرنے کی بجائے کوئی اور علت بیان کرے تو اسے حسن تعلیل کہا جاتا ہے۔

مثلاً: اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ کوئی بے تاب عاشق جو زمین کے نیچے دفن ہے وہ اپنی محبوب کی یاد میں تڑپتا ہو گا اس لیے زلزلے آتے ہیں، حالانکہ زلزلے اس وجہ سے نہیں آتے، یہ صنعت حُسنتعلیل ہے۔

زلزلے یوں ہی زمینوں پہ نہیں آتے ہیں

کوئی بیتاب تہ خاک تڑپتا ہوگا

صنعت تلمیح: کلام میں کسی خاص تاریخی واقعے کی طرف اشارہ کرنے کو تلمیح کہا جاتا ہے۔ مثلاً: آتش کے اس شعر میں قارون کے خزانے کا تذکرہ ہوا ہے، یہ صنعت تلمیح ہے۔

 زیر زمیں سے آتا ہے جو گل سوزر بکف

قاروں نے راستے میں لٹایا خزانہ کیا

صنعت تضاد: جب کسی کلام میں پہلے کچھ الفاظ ذکر کیے جائیں اور پھر ان الفاظ کے متضاد الفاظ ذکر کیے جائیں تو اسے صنعت تضاد کہتے ہیں۔ صنعت قضاد کو تطبیق اور طباق بھی کہا جاتا ہے۔

مثلا: درج ذیل شعر میں دن کا متضاد لفظ رات اور جیت کا متضاد لفظ مات (شکست) استعمال ہوا ہے۔

دن کو میں رات نہیں کہہ سکتا

جیت کو مات نہیں کہہ سکتا

صنعت مراعات النظیر : جب کسی کلام میں ایسی چیزیں ایک ساتھ جمع کی جائیں جن میں آپس میں کوئی مناسبت اور تعلق ہو تو اسے صنعت مراعات النظیر کہا جاتا ہے۔ مثلا باغ کی مناسبت سے گل،بلبل اور خزان و بہار وغیر ہ کا ذکر کرنا۔

مثلاً: درج ذیل شعر میں بلبل، باغباں اور فصل بہارا ایک دوسرے سے تعلق رکھتے ہیں ، یہ صنعت مراعات النظیر کی مثال ہے۔

بلبل کو باغباں سے نہ میاد سے گلہ

قسمت میں قید لکھی تھی فصل بہار میں

صنعت تجنیس: تجنیس سے مراد یہ ہے کہ کلام میں دو ایک جیسے الفاظ کا استعمال اس طرح کیا جائے کہ اُن کا تلفظ تو ایک جیسا ہو لیکن دونوں کے معنی الگ الگ ہو۔

مثلا: مندرجہ ذیل شعر میں لفظ “حق دو بار آیا ہے اور دونوں کا مفہوم الگ الگ ہے۔

 جان دی ، دی ہوئی اسی کی تھی

حق تو یوں ہے کہ حق ادانہ ہوا

صنعت تکرار : جب کسی کلام میں زور اور حسن پیدا کرنے کے لیے الفاظ یا جملوں کو دہرایا جائے تواسے صنعت تکرار کہتے ہیں۔

مثلا: درج ذیل شعر میں لفظ خیاباں خیاباں کا استعمال صنعت تکرار ہے۔

جہاں تیرا نقش قدم دیکھتے ہیں

خیاباں خیاباں اِرم دیکھتے ہیں

صنعت لف و نشر: الف کے معنی لیٹنے کے ہیں جب کہ نشر کے معنی پھیلانے کے ہیں۔ علم بدیع کی اصطلاح میں جب کسی کلام میں پہلے دو یا زیادہ چیزیں ذکر کی جائیں اور پھر مذکورہ چیزوں کی مناسبت اور ترتیب سے دیگر چیزوں کا ذکر کیا جائے تو اسے صنعت لف و نشر کہا جاتا ہے۔ صنعت لف و نشر میں مقدم الذکر چیزوں کو لف کہا جاتا ہے جب کہ موخر الذکر چیزوں کو نشر کہتے ہیں۔

مثلاً: داغ دہلوی کے درج ذیل شعر کے مصرع اول میں جو چیزیں ذکر ہیں، مصرع ثانی میں انہی کی مناسبت سے دوسری چیزیں مذکور ہیں۔

نہ ہمت نہ قسمت نہ دل ہے نہ آنکھیں

نہ ڈھونڈا نہ پایا نہ سمجھا نہ دیکھا

صنعت مبالغہ : صنعت مبالغہ سے مراد یہ ہے کہ کوئی بات بہت خوبصورت انداز میں حقیقت سے بڑھا چڑھا کر بیان کی جائے۔

مثلاً: درج ذیل شعر میں احمد فراز نے اپنے محبوب کی تعریف میں مبالغہ سے کام لیتے ہوئے یہ کہا ہے کہ میرا محبوب اتنا پیارا ہے کہ دن بھر تتلیاں اس کے ارد گرد گھومتی ہیں اور رات کو جگنو اس کا دیدار کرنے کے لیے آتے ہیں۔

سنا ہے دن کو اسے تتلیاں ستاتی ہیں

سنا ہے رات کو جگنو ٹھہر کے دیکھتے ہیں

صنعت عجائل عارفانہ: تجاہل عارفانہ کے معنی ہیں جان بوجھ کر انجان بننا۔ اس سے مراد یہ ہے کہ کلام میں ایسے الفاظ لائے جائیں جن سے شاعر کا جان بوجھ کر انجان بنا معلوم ہو تا ہو۔ مثلاً : میر تقی میر کے درج ذیل شعر میں وہ پوچھ رہے ہیں کہ آخر کس چیز کی وجہ سے ہم دنیا سے بیزار

ہو گئے ہیں، حالانکہ انہیں پتہ ہے کہ وہ ان کا محبوب ہی ہے۔

وہ کیا چیز ہے آہ جس کے لیے

ہر اک چیز سے دل اٹھا کر چلے

صنعت سہلِ ممتنع : اس سے مراد ایسا کلام ہے جو انتہائی سادہ اور آسان نظر آئے لیکن کوئی اس طرح لکھنا چاہے تو بہت مشکل اور دشوار محسوس ہو جائے۔ مثلا: غالب کا درج ذیل شعر سہل ممتنع کی بہترین مثال ہے جو بہت آسان نظر آرہا ہے لیکن ایسا شعرلکھنا مشکل کام ہے۔

موت کا ایک دن معین ہے

نیند کیوں رات بھر نہیں آتی

ایہام (توریہ): توریہ سے مراد کلام میں ایسا ذو معنی لفظ لانا ہے جسے سن کر خیال فورا قریبی معنی کی طرف چلا جائے لیکن مراد بعید کے معنی ہوں اور وہ معنی غور و فکر کرنے کے بعد واضح ہو جائیں۔

مثلا: درج ذیل شعر میں ”خدا خدا کر کے “ صنعت ایہام ہے۔ یہاں ”خدا خدا کر کے “ کے ظاہری معنی عبادت کرنا یا ذکر اذکار کرنا ہے جب کہ اس شعر میں بعید کے معنی اور مفہوم مشکل کے ساتھرات گزارنا ہے۔

شب جو مسجد میں جا پھنسے مومن

رات کاٹی خدا خدا کر کے

صنعت اشتقاق: جب کسی کلام میں دو یا زیادہ الفاظ ایسے لائے جائیں جن کا اصل مادہ (مصدر) ایک ہو اور معنی میں اصل کے ساتھ موافقت بھی ہو ، تو اسے صنعت اشتقاق کہتے ہیں۔ مثلاً: او گھٹ شاہ وارثی کے اس شعر میں لفظ ” قتل “ اور مقتل صنعت اشتقاق کی مثال ہے۔

 قتل کچھ عاشق ہوئے مقتل میں اس کے ہاتھ سے

کچھ پھرے مایوس اور شوق شہادت لے چلے

صنعت تضاد، صنعت مراعات النظیر اور صنعت لف و نشر میں بنیادی فرق کیا ہے ؟

صنعت تضاد میں الفاظ کے متضاد الفاظ ذکر کیے جاتے ہیں اور مراعات النظیر میں باہم متعلق اور ہم موضوع الفاظ بلا ترتیب جمع کیے جاتے ہیں، جب کہ صنعت لف و نشر میں الفاظ ذکر کیے جاتے ہیں اور پھر ان الفاظ کی وضاحت اور تشریح کے لیے ترتیب وار دیگر الفاظ لائے جاتے ہیں۔


Share With Others

اس موضوع پر مزید پڑھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *