Iqbal Day Speech In Urdu
یومِ اقبال تقریر
محترم صدرِ محفل، معزز اساتذہ، پیارے طلبہ و طالبات! السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ!
آج 9 نومبر ہے۔ وہ سورجِ نو، جس دن 1877ء میں سیالکوٹ کے ایک گھر میں ایک بچہ پیدا ہوا، جس کا نام رکھا گیا محمد اقبال۔ آج ہم اسی بچے کو یاد کرنے آئے ہیں، جس نے بچپن میں کبوتر اڑائے، جوانی میں قوم کو اڑایا، اور موت کے بعد بھی آسمانوں میں اڑ رہا ہے!
اے نوجوانو! اقبال کو صرف کتابوں میں نہ ڈھونڈو۔ وہ تمہارے خون میں ہے، تمہاری رگوں میں ہے۔ جب تم سست ہو جاتے ہو، وہ تمہیں جھنجھوڑتا ہے:
اٹھو! میری دنیا کے غریبوں کو جگا دو!
جب تم امتحان میں فیل ہونے سے ڈرتے ہو، وہ تمہیں بتاتا ہے:
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے، بتا تیری رضا کیا ہے!
جب تم موبائل میں گھس جاتے ہو، وہ تمہارے کان میں پکارتا ہے:
تو شاہین ہے، بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں پر
نہ یہ پرندہ بن جو ڈالے پر بیٹھ کر مانگے دانے!
اقبال نے کبھی خواب نہیں بیچے، خواب بنوائے۔ 1930ء میں الہ آباد کے اسٹیج پر کھڑے ہو کر انہوں نے کہا: “مجھے یقین ہے کہ شمال مغرب میں ایک الگ مسلم ریاست بنے گی۔” لوگ ہنسے۔ لیکن 17 سال بعد، 14 اگست 1947ء کو، وہی ہنسنے والے خاموش ہو گئے، اور اقبال کا خواب سبز پرچم بن کر لہرانے لگا!
اے میرے پیارے بچو! آج کا پاکستان اقبال کا خواب نہیں، اقبال کا امتحان ہے! وہ پوچھ رہے ہیں:
مٹا دے اپنی ہستی کو اگر کچھ مرتبہ چاہے
کہ دانے خاک میں ہے جوہرِ آفتاب کا!
کیا ہم تیار ہیں؟ کیا ہم کرپشن کے دانے کو روند کر ایمان کا سورج اگائیں گے؟ کیا ہم یوٹیوب کی بجائے یوتھ کو لیبارٹریوں اور لائبریریوں میں لے جائیں گے؟ کیا ہم TikTok کی بجائے ٹاپ رینک لانے والے بن جائیں گے؟
اگر ہاں، تو آج کا دن مبارک! اگر نہیں، تو اقبال رو رہے ہیں۔ ان کی قبر پر لکھا ہے:
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں
آئیے آج عہد کریں: ہم اپنی خودی کو جگائیں گے، اپنے پاکستان کو بچائیں گے، اور جب تک سانس ہے، اقبال کے شاہین بن کر اڑتے رہیں گے!
پاکستان زندہ باد! اقبال زندہ باد! نوجوانِ پاکستان پائندہ باد!
والسلام خدا ہم سب کو اقبال کی خودی عطا فرمائے۔ آمین!
شکریہ! اللہ حافظ!
(نوٹ: تقریر کے دوران ہر شعر پر زور سے تالی بجوائیں۔ آخر میں تمام طلبہ مل کر نعرہ لگائیں: اقبال کا پاکستان… زندہ آباد!)
