26 January Speech In Urdu
محترم مہمانِ خصوصی،
قابلِ احترام اساتذہ کرام، پیارے بھائیوں اور بہنوں،
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ!
آج ہم سب یہاں جمع ہیں ایک انتہائی مقدس اور فخر سے بھرپور موقع پر — 26 جنوری، یعنی یومِ جمہوریہ! یہ وہ عظیم دن ہے جب 1950ء میں ہمارا ملک بھارت ایک مکمل جمہوریہ (Republic) بنا اور ہمارا اپنا آئین نافذ ہوا۔ آج ہم 76واں یومِ جمہوریہ منا رہے ہیں، اور یہ موقع ہمیں اپنے ماضی کو یاد کرنے، حال کو سنوارنے اور مستقبل کے لیے عہد کرنے کا بہترین موقع دیتا ہے۔
سب سے پہلے میں آپ سب کو یومِ جمہوریہ کی دلی مبارکباد پیش کرتا/کرتی ہوں!
یومِ جمہوریہ کی تاریخی اہمیت
26 جنوری کی تاریخ ہمارے ملک کے لیے دوہری اہمیت رکھتی ہے۔ 1930ء میں لاہور کے تاریخی اجلاس میں انڈین نیشنل کانگریس نے پوری آزادی (پُورن سوراج) کا اعلان کیا تھا اور 26 جنوری کو یومِ آزادی کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا گیا۔ جب 1947ء میں ہمیں سیاسی آزادی ملی تو ہمارے رہنماؤں نے فیصلہ کیا کہ آئین نافذ کرنے کی تاریخ بھی اسی تاریخی دن سے جوڑی جائے۔ اس لیے 26 نومبر 1949ء کو آئین منظور ہونے کے بعد 26 جنوری 1950ء کو اسے نافذ کیا گیا۔ اس دن سے ہمارا ملک ایک جمہوریہ بن گیا جہاں بادشاہ یا بیرونی طاقت نہیں بلکہ عوام کی مرضی اور آئین کی حکمرانی ہے۔
یہ آئین دنیا کا سب سے طویل تحریری آئین ہے جسے مرتب کرنے میں ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کی سربراہی میں دستور ساز اسمبلی نے تقریباً 2 سال، 11 ماہ اور 18 دن لگائے۔ اس میں 395 آرٹیکلز، 8 شیڈولز اور اب تک سینکڑوں ترامیم شامل ہو چکی ہیں۔ یہ آئین ہمیں بنیادی حقوق دیتا ہے، عدل و انصاف کی ضمانت دیتا ہے اور سب کو مساوات کا درس دیتا ہے۔
ہمارے آئین کی روح کیا ہے؟
ہمارا آئین کہتا ہے:
- سب انسان برابر ہیں (آرٹیکل 14)
- مذہب، نسل، ذات، جنس کی بنیاد پر کوئی امتیازی سلوک نہیں ہوگا (آرٹیکل 15)
- ہر شہری کو آزادیِ خیال، اظہارِ رائے، مذہب اور پیشہ کی آزادی ہے (آرٹیکل 19)
- غریبوں، پسماندہ طبقات اور خواتین کے لیے خصوصی تحفظات ہیں
یہ آئین صرف کاغذ کا مجموعہ نہیں، بلکہ ہمارے بزرگوں کا خون پسینہ ہے۔ لاکھوں شہداء، گاندی جی، نہرو، پٹیل، مولانا آزاد، سروجنی نائیڈو، امبیڈکر اور کروڑوں نامعلوم مجاہدین کی قربانیوں کا نتیجہ ہے۔
یومِ جمہوریہ کیسے منایا جاتا ہے؟
صبح سویرے دہلی کی راج پتھ پر شاندار پریڈ ہوتی ہے۔
- فوج کے جوان مارش پاسٹ کرتے ہیں
- مختلف ریاستوں کی جھانکیاں ہماری ثقافت، ترقی اور ورثے کو دکھاتی ہیں
- بہادری کے تمغے حاصل کرنے والے فوجیوں کو اعزاز دیا جاتا ہے
- صدر جمہوریہ قومی پرچم لہراتے ہیں اور قومی ترانہ گایا جاتا ہے
اسکولوں، کالجوں اور محلہ کمیٹیوں میں بھی پروگرام ہوتے ہیں — حب الوطنی نغمے، تقریریں، ثقافتی پروگرام اور پرچم کشائی۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہمارا ملک کتنا متنوع اور خوبصورت ہے — مختلف زبان، مذہب، لباس، کھانے پینے کے باوجود ہم سب ایک ہیں، ایک ہندوستانی ہیں۔
آج کے دور میں ہماری ذمہ داریاں
آج کے نوجوانوں کے سامنے بہت بڑا چیلنج ہے۔ ہمارا ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہے — خلائی تحقیق، ٹیکنالوجی، معیشت، دفاع سب میں ہم دنیا میں سرفہرست ہیں۔ لیکن ابھی بھی غربت، بے روزگاری، تعلیم کا فقدان، ماحولیاتی مسائل اور سماجی ناانصافی موجود ہیں۔
ہمیں اپنے آئین کی روح کو زندہ رکھنا ہے۔
- ووٹ کی طاقت کو سمجھیں اور درست لیڈر منتخب کریں
- کرپشن، جھوٹ، نفرت اور فرقہ واریت سے دور رہیں
- لڑکیوں کی تعلیم اور بااختیاری پر کام کریں
- ماحول کو بچائیں — درخت لگائیں، پانی بچائیں، پلاسٹک کم کریں
- ملک کے لیے کچھ کرنے کا جذبہ رکھیں — چاہے چھوٹا سا کام ہی کیوں نہ ہو
جیسا کہ علامہ اقبال نے کہا تھا:
“خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے”
آخری الفاظ
پیارے ساتھیوں! یومِ جمہوریہ صرف ایک تہوار نہیں، ایک عہد ہے — عہد کہ ہم اپنے ملک کو مزید مضبوط، خوشحال اور انصاف پسند بنائیں گے۔ ہم سب مل کر ایک ایسا بھارت بنائیں گے جو سچا، خوبصورت اور عظیم ہو۔
آئیے آج یہ عہد کریں کہ: ہم اچھے انسان، اچھے شہری اور اچھے ہندوستانی بنیں گے!
جے ہند! جے بھارت! بھارت ماتا کی جے!
بہت بہت شکریہ!
مزید اردو تقاریر کے لیے یہاں کلک کریں
