Farewell Speech in Urdu
الوداعی تقریر | Farewell Speech in Urdu | سکول/کالج کی الوداعی تقریر مکمل تحریری شکل میں
محترم پرنسپل صاحب، معزز اساتذہ کرام، پیارے سینئرز، جونیئرز اور میرے عزیز ساتھیو! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
آج میری زبان پر صرف ایک ہی جملہ بار بار آ رہا ہے: “اے دلِ ناداں! یہ پل بھی گزر جائے گا…” مگر یہ پل اتنا قیمتی ہے کہ اسے بھولنا ممکن نہیں۔ آج ہم میں سے الگ ہو رہے ہیں، یا شاید ہم اس سکول/کالج سے الگ ہو رہے ہیں جس نے ہمیں ننھے پودوں سے تناور درخت بنا دیا۔
ہمارے اساتذہ کا احسانِ عظیم
اے ہمارے محترم اساتذہ! آپ نے ہمیں نہ صرف کتابیں پڑھائیں بلکہ زندگی پڑھائی۔ جب ہم گرتے تھے تو آپ نے اٹھایا، جب ہم ہار مانتے تھے تو آپ نے حوصلہ دیا، جب ہم غلطی کرتے تھے تو آپ نے ڈانٹا بھی اور پیار بھی کیا۔ آج ہم جو کچھ بھی ہیں، آپ کی تربیت، آپ کی محنت اور آپ کی دعاؤں کا نتیجہ ہیں۔ ہمولانا روم نے کہا تھا: “تو مجھے استاد بنا، میں تجھے بادشاہ بنا دوں” آپ نے ہمیں بادشاہ نہیں بنایا، بلکہ باعزت، باشعور اور باکردار انسان ضرور بنا دیا۔ اللہ آپ سب کو صحت، عزت اور لمبی عمر دے۔ آمین!
ہمارا پیارا ادارہ
یہ عمارت، یہ کلاس رومز، یہ کینٹین، یہ گراؤنڈ، یہ لائبریری، یہ لیبارٹری، یہ درخت، یہ پھول… یہ سب ہمارے لیے صرف اینٹیں اور پتھر نہیں، بلکہ ہماری یادوں کا گھر ہیں۔ یہاں ہم نے پہلی بار “اے بی سی ڈی” سیکھی، یہاں ہم نے پہلی بار سٹیج پر تقریر کی، یہاں ہم نے پہلی بار امتحان میں فیل بھی ہوئے اور پاس بھی، یہاں ہم نے دوستی کی، محبت کی، لڑائی بھی کی اور صلح بھی کی۔ یہاں کی ہر اینٹ ہمارے لیے گواہ ہے کہ ہم نے بچپن سے جوانی تک کا سفر یہاں طے کیا۔
جونیئرز سے چند باتیں
اے میرے پیارے جونیئر بھائیز اینڈ گرلز! آج ہم جا رہے ہیں، کل تمہاری باری آئے گی۔ یہ ادارہ تمہارے حوالے ہے۔ اس کی عزت، اس کی روایات، اس کی شان کو بلند رکھنا۔ پڑھائی کرو، کھیلو، ہنسو، رونگٹے کھڑے کرو، مگر کبھی اس ادارے کا نام نہ جھکاؤ۔ اور یاد رکھو: “استاد کے سامنے جھکنا سیکھو، دنیا خود بخود تمہارے سامنے جھک جائے گی”
سینئرز کا شکریہ
اے ہمارے پیارے سینئرز! تم نے ہمیں رگڑا لگایا، ڈانٹا بھی، مگر ہر ڈانٹ میں پیار تھا۔ تم نے ہمیں سکھایا کہ زندگی میں محنت، لگن اور استقامت کیا ہوتی ہے۔ آج تم ہمارے مہمانِ خصوصی ہو۔ ہم تمہیں سلام پیش کرتے ہیں۔
ساتھیو!
آج آنکھوں میں آنسو ہیں، دل میں درد ہے، مگر یہ دردِ جدائی میٹھا ہے۔ ہم جہاں بھی جائیں گے، یہاں کی یادیں ساتھ جائیں گی۔ ہم وعدہ کرتے ہیں کہ ہم اپنے اسکول/کالج کا نام روشن کریں گے۔ ہم وعدہ کرتے ہیں کہ ہم اچھے انسان بنیں گے۔ ہم وعدہ کرتے ہیں کہ جب بھی موقع ملا، ہم اپنے اس ادارے کی خدمت ضرور کریں گے۔
آخری بات… علامہ اقبال نے کہا تھا: “ترے آزاد بندوں کی نہ یہ دھرتی ہے نہ وہ آسمان جس کا ہر ذرہ تیرے لیے جاں نثار نہیں”
ہمارے لیے یہ ادارہ، یہ اساتذہ، یہ دوست، یہ سب کچھ جاں نثار ہیں۔ اللہ ہم سب کو کامیابیاں دے، ہمارے ادارے کو ترقی دے، اور ہماری دوستی کو ہمیشہ قائم رکھے۔
بہت بہت شکریہ! اللہ حافظ اور… ایک آخری نعرہ بلند کریں: ہمارا سکول/کالج… زندہ آباد! ہمارے اساتذہ… زندہ آباد! پاکستان… پائندہ آباد!
خدا حافظ! (آنکھیں نم، دل بھر آیا، مگر مسکراہٹ کے ساتھ الوداع!)

You have made some decent points there. I looked оn the net to find
out more about thе issue and found most people will go along
with your views on this website.
Have a look at my blog post – digital banking