14 August Speech In Urdu
یومِ آزادی پاکستان: 14 اگست کی تقریر
محترم حاضرین، معزز اساتذہ، پیارے طلبہ و طالبات، اور میرے خونِ جگر سے پیارے ہم وطنو! السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ!
آج… 14 اگست… جب سورج طلوع ہوا، تو اس کی کرنیں گویا شہداء کے خون سے رنگین تھیں۔ ہوا کے جھونکوں میں مائیں کی لوریاں گونج رہی تھیں، جن کی گودیاں خالی ہو گئیں۔ اور آسمان پر چاندنی میں لکھا تھا:
“یہ وطن تمہارا ہے… اس کی خاطر سب کچھ قربان کر دو!”
دل لرزتا ہے جب یاد آتا ہے… وہ لاکھوں مائیں جو واگنوں میں بچوں کو چھاتی سے لگائے بیٹھی تھیں… وہ بہنیں جن کے مانگ کے سنہرے سنہرے بال خون سے بھگ گئے… وہ بچے جو ماں کے ہاتھ چھوڑ کر بھاگے، اور کبھی نہ ملے…
یہ سب کس کے لیے؟ صرف اس لیے کہ ہم آج یہاں کھڑے ہو کر کہہ سکیں: “پاکستان ہمارا ہے!”
علامہ اقبال کی آواز کانوں میں گونجتی ہے:
تو شاہین ہے، پرواز ہے کام تیرا
ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں!
لیکن شاہین کے پر کٹے جا رہے ہیں… کرپشن کے پنجوں سے، ناانصافی کے خنجروں سے، تفرقے کے زہر سے… کیا ہم نے یہی خواب دیکھا تھا؟
قرآن کی آواز دل میں اترتی ہے:
وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا (آل عمران: 103)
اے اللہ! ہمارے ہاتھ الگ ہو گئے… ہمارے دل بٹ گئے… ہمارے خواب چھن گئے… لیکن تیری رسی اب بھی ہمارے ہاتھوں میں ہے! بس ایک جھٹکا دے دیں… ایک عہد کر لیں… “آج سے ہم سب ایک ہیں!”
نبی کریم ﷺ کا فرمان آنکھوں میں آنسو بھر دیتا ہے:
المسلم من سلم المسلمون من لسانه ویده
لیکن… آج ہماری زبانوں سے زہر ٹپکتا ہے… ہمارے ہاتھ ایک دوسرے کی طرف اٹھتے ہیں… کیا یہی اسلام تھا جس کے لیے پاکستان بنا؟
سنیے ایک ماں کی آہ… وہ ماں جو سرحد پار کرتے ہوئے اپنے بیٹے کو واگن سے گرتا دیکھتی رہی… وہ چیختی رہی، روتی رہی، لیکن کوئی نہ رکا… وہ ماں آج بھی پوچھتی ہے: “میرے بیٹے کی لاش کہاں ہے؟” اور ہم جواب دیتے ہیں: “خاموش رہو، جشن مناؤ!”
نہیں! آج جشن نہیں… آج توبہ کا دن ہے! آج عہد کا دن ہے! آج آنسوؤں کا دن ہے!
قرآن کی آخری تنبیہ دل کو کاٹ دیتی ہے:
إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنفُسِهِمْ
اے پاکستانیو! اٹھو! اپنے اندر کے شیطان کو مارو… اپنے اندر کے قائد کو جگاؤ… اپنے اندر کے شہید کو زندہ کرو…
ایک شعر یاد آتا ہے، جو دل کو چھلنی کر دیتا ہے:
اے وطن! تیری مٹی میں دفن ہیں میرے ماں باپ
تیری ہوا میں گونجتی ہیں میری بہن کی آہیں
تیری راہوں میں بہتا ہے میرا خونِ جگر
پھر بھی کہتا ہوں… پاکستان زندہ باد!
آخر میں، آنسوؤں بھری دعا: اے اللہ! ہمارے شہداء کے خون کو رائیگاں نہ جانا… ہماری ماؤں کے آنسوؤں کو ضائع نہ کرنا… ہمارے بچوں کے خوابوں کو چھین نہ لینا… ہمیں وہ پاکستان واپس دے… جو قائد نے خواب میں دیکھا تھا! آمین!
پاکستان دردِ دل سے زندہ باد! پاکستان آنسوؤں سے زندہ باد! پاکستان شہداء کے خون سے زندہ باد!
وآخر دعوانا أن الحمد للہ رب العالمین۔
