John Milton Biography In Urdu

John Milton Biography In Urdu

Share With Others

جان ملٹن  بائیوگرافی اردو میں

جان ملٹن – انگریزی ادب کے عظیم شاعر، مفکر اور انقلاب کی آواز

تعارف

جان ملٹن (John Milton) انگریزی ادب کی تاریخ کا ایک عظیم ستون ہے، جنہیں “انگریزی کے دوسرے سب سے بڑے شاعر” (شکسپیئر کے بعد) کہا جاتا ہے۔ ان کی شہرہ آفاق کتاب پیراڈائز لاسٹ (Paradise Lost) انگریزی ادب کی سب سے بڑی مہاکاوی شاعری ہے۔ ملٹن نہ صرف شاعر تھے بلکہ ایک بہادر سیاسی مفکر، مذہبی مصلح اور آزادیِ اظہار کے علمبردار بھی تھے۔ ان کی تحریروں نے انگریزی سلطنت کے انقلابات، مذہبی اصلاحات اور ادبی ترقی کو نئی سمت دی۔ آج بھی “John Milton biography in Urdu”، “جان ملٹن کی شاعری” اور “پیراڈائز لاسٹ اردو ترجمہ” جیسے سرچز میں ان کی اہمیت واضح ہے۔

ابتدائی زندگی اور تعلیم

جان ملٹن 9 دسمبر 1608ء کو لندن، انگلینڈ میں ایک متوسط خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد جان ملٹن سینئر ایک سکریونر (قانونی دستاویزات تیار کرنے والا) اور رقم لگانے والے تھے، جو موسیقی اور کمپوزیشن کے شوقین بھی تھے۔ دادا رچرڈ ملٹن ایک سخت گیر پرطنز (Puritan) تھے، جنہوں نے والد کو انگریزی بائبل پڑھنے کی وجہ سے گھر سے نکال دیا تھا۔ ملٹن کی والدہ کا نام سارہ جیفری تھا، اور ان کے تین بچے زندہ رہے: این، جان اور کرسٹوفر۔

ملٹن کی ابتدائی تعلیم 1620ء میں لندن کے سینٹ پالز سکول سے شروع ہوئی، جہاں انہوں نے لاطینی، یونانی اور عبرانی زبانوں میں مہارت حاصل کی۔ وہ لاطینی شاعری لکھتے اور عبرانی زبور کا ترجمہ کرتے۔ سکول سے قریب سینٹ پالز کی مسجد میں وہ جان ڈان (John Donne) کے خطبات سنتے، جو ان پر گہرا اثر ڈال گئے۔ 1625ء میں وہ کیمبرج یونیورسٹی کے کرائسٹ کالج میں داخل ہوئے، جہاں انہوں نے بیچلر آف آرٹس (1629ء) اور ماسٹر آف آرٹس (1632ء) کی ڈگریاں حاصل کیں۔ ابتدائی طور پر وہ چرچ میں جانا چاہتے تھے، مگر یونیورسٹی کی منطقی تعلیم اور چرچ آف انگلینڈ کی یکسانیت سے انا رضا نہ ہوئی۔ ان کے استاد تھامس ینگ (Thomas Young) نے انہیں مذہبی اور سیاسی طور پر متاثر کیا۔ ملٹن نے اطالوی، لاطینی اور یونانی زبانوں میں مہارت حاصل کی اور اطالوی میں سونٹس بھی لکھے۔

اہم تخلیقات

جان ملٹن کی شاعری اور نثر دونوں انگریزی ادب کی شان ہیں۔ ان کی مشہور تخلیقات یہ ہیں:

  • پیراڈائز لاسٹ (Paradise Lost, 1667ء) – انگریزی ادب کی سب سے بڑی مہاکاوی، جو حضرت آدم و حوا کی کہانی، شیطان کی بغاوت اور جنت سے نکالنے پر مبنی ہے۔ یہ 12 کتابوں پر مشتمل ہے اور ہینڈل کی اوپیرا “مسائیہ” کی بنیاد بنی۔
  • پیراڈائز ریگنڈ (Paradise Regained, 1671ء) – حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی فتحِ شیطان پر مبنی۔
  • سیمسن ایگونسٹیز (Samson Agonistes, 1671ء) – کلاسیکی سانحہ (تراژڈی) جو حضرت شمشون کی کہانی ہے۔
  • نثر کی تخلیقات:
    • ایریوپا جٹیکا (Areopagitica, 1644ء) – آزادیِ اظہار کی دفاع میں مشہور کتاب، جو آج بھی سنسرشپ کے خلاف استعمال ہوتی ہے۔
    • ڈاکٹرائن اینڈ ڈسپلن آف ڈیوورس (Doctrine and Discipline of Divorce, 1643ء) – طلاق کے حقوق پر۔
    • دی ٹینور آف کنگز اینڈ میجسٹریٹس (The Tenure of Kings and Magistrates, 1649ء) – بادشاہوں کے خلاف، جو چارلس اول کی سزا کی دفاع کرتی ہے۔
    • ڈیفنس آف دی انگلش پیپل (Defensio pro Populo Anglicano, 1651ء) – یورپی مفکر سلمیسیئس کے خلاف۔

ملٹن کی ابتدائی شاعری میں لائیسیڈاس (Lycidas, 1638ء) (دوست کی یاد میں)، کومس (Comus, 1634ء) (ماسک ڈرامہ) اور ایلگریو (L’Allegro) و ایل پینسیروسو (Il Penseroso) شامل ہیں۔

سیاسی خدمات

ملٹن ایک پرجوش ریپبلکن (جمہوری) تھے۔ انگریزی خانہ جنگی (1642–1651ء) میں انہوں نے چرچ کی اصلاح، بادشاہت کے خاتمے اور مذہبی آزادی کی حمایت کی۔ 1649ء میں کرامویل کی حکومت میں انہیں سول سروس میں شامل کیا گیا، جہاں وہ بین الاقوامی خطوط لکھتے اور حکومت کا دفاع کرتے۔ انہوں نے چارلس اول کی سزا کی توجہہ کی اور “ایکونوکلیسٹس (Eikonoklastes, 1649ء)” میں بادشاہ کی کتاب کا جواب دیا۔ ملٹن کی تحریروں نے انگریزی انقلابات، انٹرریجنم، ریسٹوریشن اور انقلابات کو متاثر کیا۔

ذاتی زندگی

ملٹن کا سب سے قریبی دوست چارلس ڈائیوڈاٹی (Charles Diodati) تھا، جس کی موت (1638ء) پر انہوں نے “ایپی ٹافیئم ڈیمونس (Epitaphium Damonis)” لکھا۔ 1638–1639ء میں وہ یورپ کا دورہ کر چکے، جہاں فلورنس میں اطالوی ادبی حلقوں سے ملے اور گیلیلیو سے بھی ملا (جو پیراڈائز لاسٹ میں ذکر ہے)۔ 1642ء میں مері پاول سے شادی ہوئی، جو صرف 18 ماہ چلی (طلاق کی کوشش کی، جو ناکام رہی)۔ دوسری شادی (کیتھرین ووڈکوک، 1656ء) اور تیسری (الیزبتھ مینشرچ، 1663ء) ہوئیں۔ ان کے تین بیٹے تھے: این، مریم اور ڈیبورہ۔ بھائی کرسٹوفر ایک رائلٹ (بادشاہ نواز) وکیل تھے، مگر دونوں بھائیوں کے تعلقات اچھے رہے۔

نابینائی

ملٹن کی بینائی 1652ء میں مکمل ختم ہو گئی، جو ممکنہ طور پر اوور ورکنگ، ہائی بلڈ پریشر یا گلوکوما کی وجہ سے ہوئی۔ اس کے باوجود انہوں نے ڈکٹیٹ کر کے لکھا اور “پیراڈائز لاسٹ” جیسی شاہکار تخلیق کی۔

وراثت

جان ملٹن انگریزی ادب کے شکسپیئر کے بعد سب سے اہم مصنف ہیں۔ ان کی مہاکاوی، سانحہ اور نثر نے انگریزی ادب کو نئی جہت دی۔ پیراڈائز لاسٹ نے ہینڈل کی اوپیرا، سویفٹ کی طنز اور شیلی کی پرومیتھیئس انباؤنڈ کو متاثر کیا۔ ان کی تحریریں جمہوریت، مذہبی رواداری اور آزادی کی آواز تھیں، جو انگریزی سلطنت کے انقلابات میں گونجتی رہیں۔ آج بھی “جان ملٹن کی زندگی”، “Milton Urdu” اور “Paradise Lost summary in Urdu” سرچز میں ان کی مقبولیت واضح ہے۔

نتیجہ

جان ملٹن کی زندگی جدوجہد، تخلیق اور بہادری کی داستان ہے۔ نابینا ہونے کے باوجود انہوں نے روشنی پھیلائی۔ اگر ہم ان کی طرح محنت اور اصول پسندی اپنائیں تو ہماری قوم بھی ترقی یافتہ بن سکتی ہے۔ اللہ ان کے درجات بلند فرمائے – آمین!

جان ملٹن کی شاعری آج بھی زندہ ہے، کیونکہ وہ صرف الفاظ نہیں، بلکہ عقائد کی آواز تھی۔

جان ملٹن سے متعلق اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQ’s) 

Q1. John Milton ki paidaish kab aur kahan hui?

A. 9 December 1608 ko London, England mein.

Q2. John Milton ki sab se mashhoor kitab kaun si hai?

A. Paradise Lost (1667) – English literature ki sab se bari mahakavi.

Q3. John Milton ko andha hone ki wajah kya thi?

A. Overwork aur health issues (1652 mein poori tarah andhe ho gaye).

Q4. John Milton ne kis political movement ki support ki?

A. English Civil War aur Republicanism (Cromwell ki government ke liye).

Q5. John Milton ki legacy kya hai?

A. Freedom of speech (Areopagitica) aur religious tolerance ke champion; Shakespeare ke baad sab se bara English writer.


Share With Others

اس موضوع پر مزید پڑھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *