طالب علم کا روز نامچہ

طالب علم کا روز نامچہ

Share With Others

بروز جمعرات۳ ۔فروری ۲۰۱۷ء

          صبح جب میری آنکھ کھلی تو گھڑی کا الارم ٹرٹر بج رہا تھا۔ میں نے ہاتھ بڑھا کر الارم بند کیا اور آنکھیں ملتے ملتے دیکھا صبح کے پانچ بج رہے تھے ۔ پورا بدن سُستی و کاہلی میں مبتلا تھا۔ اُٹھنے کو جی نہ چاہ رہا تھا لیکن دماغ نے کہا اُٹھو! آج بہت سے کام کرنے ہیں۔ لِہٰذا میں بستر سے اُٹھ بیٹھا اور وضو کیا ۔ بعد ازاں نماز فجر با جماعت ادا کرنے کی غرض سے مسجد چل دیا۔ نماز سے فارغ ہو کر گھر آ کر ناشتہ کیا اور کالج چلا گیا۔ کالج میں ہمارا پہلا پیریڈ اسلامیات کا تھا جس میں ہمارے پروفیسر نے ہمیں زکوٰة کی اہمیت و افادیت کے بارے میں بتایا ۔اُس کے بعد اردو ،انگریزی اورفزکس کےپیریڈ ہوئے۔ تقریباً ساڑھے گیارہ بجے بائیالوجی کا پیریڈ شروع ہوا ۔آج بائیالوجی کے پروفیسر چھٹی پر تھےلِہٰذاہم نے وہ پیریڈ لائبریری میں مختلف رسائل کی ورق گردانی میں گزارا۔ ایک بجے سے اڑھائی بجے تک کیمسٹری اور فزکس کی لیب میں دو پریکٹیکل کے پیریڈ ہوئے ۔ کیمسٹر ی کے پریکٹیکل کے دوران میں ایک طالب علم کی غلطی سے سپرٹ کی شیشی زمین پر گرنے سے آگ بھڑ ک اُٹھی لیکن لیب اٹینڈ نٹ نے فوراً آگ کو بجھا دیا۔

          اس موقع پر کیمسٹری کے اُستاد نے ہمیں اس واقعہ سے سبق سیکھنے اور محتاط رہنے کو کہا ۔ اس کے بعد میں گھر آگیااور نماز ظہرادا کی اور پھر کھانا کھایا۔ اتنے میں چار بج گئے تو میں نے نمازِ عصر ادا کی ۔ورزش اور کھیل انسانی زندگی کے لئے بہت ضروری ہیں لِہٰذا والدہ نے کہا کہ جاؤ کچھ دیر اپنے دوستوں کے ساتھ کھیل آؤ، میں باہر دوستوں کے ساتھ کر کٹ کھیلنے چلا گیا۔کھیل سے واپسی پر قریبی مسجد میں نماز مغرب ادا کی۔ امی نے میرے لئے گرم گرم چکن سوپ تیار کر رکھا تھا جو میں نے مزے لے لے کر پیا۔ اس سے طبیعت بشاش ہو گئی اور میں یہ شعر گُن گنانے لگا:۔

زندگی زندہ دلی کا نام ہے

مردہ دل کیا خاک جیا کرتے ہیں

          تازہ دم ہو کر سٹڈی روم میں پڑھنے چلا آیا۔ دو گھنٹے تک کالج کا ہوم ورک مکمل کرتا رہا ۔رات ۹ بجے والدین کے ساتھ کھانا کھا کر نیشنل جیو گرافک چینل پر ”دی بگ کیٹ “پروگرام دیکھا جس میں شیروں کی زندگی اور ان کے شکار کرنے کے طریقوں کے بارے میں دکھایا گیا تھا۔ یہ پروگرام بڑا دلچسپ تھا ۔ اس کے بعد نماز ِ عشاءادا کر کے اپنے والدین ، اساتذہ اور ملک و قوم کی خیرو سلامتی کی دعا مانگی اور سونے چلا گیا بستر پر دراز ہوتے ہی نیند کی وادیوں میں کھو گیا۔


Share With Others

اس موضوع پر مزید پڑھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *