دو طالب علموں کے درمیان دہشت گردی کے موضوع پر مکالمہ
کردار: عارف اسد
منظر: (عارف اور اسد دوست ہیں ۔اسد اخبار پڑھنے میں مصروف ہے اورعارف اس کے پاس آتا ہے)
عارف: السلام علیکم اسد ! میں معذرت چاہتا ہوں کہ تمھارے مطالعے میں مخل ہوا۔
اسد: وعلیکم السلام!کیسی باتیں کر رہے ہو ؟آؤ بیٹھو !
عارف: ویسے تم کیا پڑھ رہے ہو اتنے انہماک سے؟
اسد : تم نے لاہور میں دھماکے کی خبر سنی؟
عارف: ہاں!یہ دہشت گردی کے واقعات میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔
اسد: آج کل دنیا کے بہت سے ممالک اور با لخصوص پاکستان دہشت گردی کی زد میں ہے۔
عارف: بے شک۔۔۔ اب تو نئی نسل کے اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان بھی دہشت گردوں کے آلہِ کار بن رہے ہیں۔
اسد: اس سب کی اصل وجہ نا انصافی ،ظلم و ستم اور معاشی ناہمواری ہے؟
عارف: ہاں بالکل!
اسد: کیا اس طرح یہ معاشرے میں خوف و ہراس نہیں پھیلا رہے؟
عارف: بالکل! ان میں سے اکثر کا مقصد خوف و ہراس ہی پھیلانا ہے۔
اسد: اور کیا یہ اس مقصد کے تحت وہ ہر جائز و ناجائز طریقہ نہیں اپنا رہے ہیں؟
عارف: ہاں! یہ لوگوں کو اغوا کرتے ہیں بم دھماکے کرتے ہیں ،ہوائی جہازوں کو ہائی جیک کرتے ہیں،ان کے علاوہ آگ لگانا، ملک کے سربراہوں ، نامور شخصیات اور عام لوگوں کو قتل کرنا ان کی سرگرمیوںمیں شامل ہے۔
اسد: یہ اپنی سرگرمیوں میں کس طرح کے ہتھیار کا استعمال کرتے ہیں؟
عارف: یہ اپنی سرگرمیوں میں کمپیوٹر،انٹر نیٹ ،موبائل فون،جدید وائرلیس اور جدید ٹیکنا لو جی بھی استعمال کرتے ہیں۔اس سلسلے میں جعلی پاسپورٹ اور متعلقہ سفری دستاویزات بھی تیار کروا لیتے ہیں ۔الغرض سائنس کی ایجادات سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں۔
اسد: کیا دہشت گردی کو روکنے کے لیے کسی قسم کے اقدامات نہیں کیے گئے؟
عارف: ہاں !بالکل کیے گئے ہیں۔ہمارے ہاں سیکیورٹی کے کچھ ادارے قائم ہیں جو ہرلمحہ ان دہشت گردوں کی تلاش میں رہتے ہیں اور ان دہشت گردوں کے ارادوں کو ناکام بنانے میں دن رات مصروف ہیں۔
اسد: تو پھر یار عارف یہ ہمارے ہاں آئے دن بم دھماکے کیوں ہوتے ہیں؟
عارف: بھئی !ہماری ڈورتو غیر ملکی حاکموں کے ہاتھ میں ہے،وہ جب چاہتے ہیں اس میں ڈھیل دے دیتے ہیں اور جب چاہتے ہیں ہمارے گلے کا پھندابنا ڈالتے ہیں۔
اسد: محسوس تو یہی ہوتا ہے۔
عارف: بھائی ! پوری قوم محنت کرے اور ہر طبقہ دوسرے طبقہ کا خیال رکھے تو کوئی شخص دہشت گردی میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔ ہمارے اربابِ اختیار کی کاوش پر رئیس امروہوی نے کیا خوب تبصرہ کیا ہے:۔
محبت گولیوں سے بو رہے ہو
وطن کا چہرہ خوں سے دھو رہے ہو
گماں تم کو کہ رستہ کٹ رہا ہے
یقیں مجھ کو کہ منزل کھو رہے ہو
اسد: ہم ان دہشت گردوں سے اپنا دفاع کیسے کر سکتے ہیں ؟
عارف: ہمیں ان سارے حالات کومد نظر رکھتے ہوئے ہر دم اپنے دفاع اور حفاظت کی کوشش کرنی چاہیے ۔
اسد: ہاں لیکن ہمیں کیا اقدامات کرنے چاہیں؟
عارف: ہمیں اپنی بقا اور سلامتی کے لیے سائنسی میدان میں ترقی کو اپنا شعار بنانا چاہیے اور وقت کے سرپٹ بھاگتے ہوئے گھوڑے کواپنے قابو میں رکھنا چاہیے اس کے علاوہ رواداری کو فروغ دیا جائے اور احساس محرومی کو دور کیا جائے۔
اسد: سنا ہے دہشت گردی کی جڑیں ان ترقی یافتہ ممالک میں ہیں جو دنیا کے تمام وسائل پر قابض ہیں۔
عارف: بالکل درست سنا ہے ۔ اصل میں کچھ ممالک اپنے فائدے کے لیے ایک عرصہ سے انسان دشمن پالیسیوں پر کار بند ہیں۔
اسد: میں سمجھ گیا ۔تب ہی تو وہ اپنے مقاصد کے لیے دنیا میں امن قائم ہونے نہیں دیتے۔
عارف: ہم ان دہشت گردوں کے خلاف محض ہاتھ پر ہاتھ دھرے غیبی امداد کا انتظار کر رہے ہیں ۔
اسد: بے شک۔۔۔ہمیں اپنے آپ کو دہشت گردی کے اس جال سے آزاد کرنا ہو گااور خود کو مظلوم نہیں بلکہ مضبوط قوموں کی فہرست میں لا کھڑا کرناہو گا۔
عارف: ہاں!اور دہشت گردی کا خاتمہ ہمارے عروج کی منزلوں کا نقیب بن جائے گا۔
اسد: اِن شاءاللہ !چلو کلاس کا وقت ہو گیا ہے۔
عارف: ہاں چلو! (عارف اور اسد کلاس میں چلے جاتے ہیں)
