دودوستوں کے درمیان احترام ِاساتذہ کے موضوع پر مکالمہ
منظر: (عمران اور فرقان کالج کی کینٹین میں بیٹھے تھے۔ اخبار کی ایک خبر پر تبصرہ کرتے ہوئے، دونوں دوستوں کے درمیان احترام اساتذہ کے موضوع پر گفتگو ہوتی ہے)
عمران: السلام علیکم !کیسے ہو؟
فرقان: وعلیکم السلام !میں ٹھیک ہوں۔
عمران: یار!ہمارے معاشرے میں استاد کا احترام باقی نہیں رہا۔
فرقان: یہ بڑے دکھ کی بات ہے بلکہ یہ قومی المیہ ہے۔
عمران: واقعی اس سے بڑا اور کیا المیہ ہو سکتا ہے؟ وہ قومیں تباہ وبرباد ہوجاتی ہیں جو اپنے اساتذہ کا احترام نہیں کرتیں۔
فرقان: استاد معمار قوم ہوتا ہے۔ قوم اور معاشرے کی تعمیر اسی کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ علامہ اقبال ؒنے کیا خوب کہا ہے:
شیخِ مکتب ہے اک عمارت گر
اس کی صنعت ہے روحِ انسانی
عمران: استاد ہمیں صرف لکھنا پڑھنا ہی نہیں سکھاتے بلکہ زندگی کو سمجھنے کا شعور بھی پیدا کرتے ہیں ۔ ہمیں اچھے اخلاق سکھاتے اور اچھا انسان بناتے ہیں۔
فرقان: تم نے ٹھیک کہا یہ کتابیں اور نصاب ہمیں معلومات دیتے ہیں لیکن ہمیں اچھا انسان تو استاد ہی بناتے ہیں۔ تم نے اکبر الہ آبادی کا یہ شعر نہیں سنا؟
کورس تو لفظ ہی سکھاتے ہیں
آدمی، آدمی بناتے ہیں
عمران: کہتے ہیں کسی زمانے میں استاد کا بہت احترام کیا جاتا تھا۔ بڑے بڑے بادشاہ اور شہزادے اپنے استادوں کے جوتے سیدھے کیا کرتے تھے۔
فرقان: ہاں یار! کتابوں میں تو یہی پڑھا ہے۔ اسلام میں تو استاد کا بہت احترام بتایا گیا ہے اور انھیں پیغمبروں کا وارث کہا گیا ہے۔
عمران: حضرت علیؓ نے تو یہاں تک فرمایا ہے : ” مجھے جس نے ایک لفظ بھی سکھایا اس نے مجھے اپنا غلام بنا لیا “۔
فرقان: میں نے حضرت امام اعظم ابو حنیفہ کا ایک واقعہ پڑھا ہے کہ ایک مرتبہ وہ درس دے رہے تھے کہ کوئی کتا ایک دو مرتبہ قریب سے گزرا تو آپ کھڑے ہوگئے۔ آپ کے شاگرد وں نے پوچھا کہ حضرت آپ کتے کے آنے پر کیوں کھڑے ہو گئے۔آپ نے جواب دیا کہ میں نے اس کتے کو اپنے استاد کی گلی میں دیکھا تھا۔
عمران: سبحان اللہ! کیا بات ہے۔ حقیقت میں تو استاد کا ایسا ہی احترام ہونا چاہیے۔
فرقان: مہذب قومیں تو اب بھی اپنے اساتذہ کا بہت احترام کرتی ہیں۔
عمران: جو لوگ غیر ممالک سے ہوکر آتے ہیں وہ ایسا ہی بتاتے ہیں۔ ان معاشروں میں استاد کو سب سے زیادہ عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ دفتروں میں، بسوں میں ، عوامی مقامات پر ہر جگہ استاد کو ترجیح دی جاتی ہے۔
فرقان: ہاں یار! وہاں تو صرف شاگرد ہی اپنے استاد کا احترام نہیں کرتے بلکہ سارا معاشرہ اساتذہ کا بہت احترام کرتا ہے۔
عمران: آخر ہمارے ہاں اساتذہ کا احترام کیوں کم ہوتا جارہا ہے؟
فرقان: اس کی بہت سی وجوہات ہیں۔ مثلاً ناجائز دولت، ناہل لوگوں کا بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہوجانا، دین ومذہب سے دوری اور مادہ پرستی وغیرہ۔
عمران: تمہاری بات درست ہے۔ ہم میں سے اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے پیسے دے کر استاد کو خرید لیا ہے۔
فرقان: یار عمران! اگر غور کیا جائے تو استاد کے احترام کے کم ہوجانے کے ذمہ دار خود اساتذہ بھی تو ہیں۔
عمران: کسی حد تک یہ بات بھی درست ہے ۔ آج کل کے کچھ اساتذہ بھی اپنی ذمہ داریوں اور فرائض کو نہیں سمجھتے ۔
فرقان: بعض اساتذہ تو اپنے مقام کا خیال تک نہیں کرتے ۔
عمران: ہاں چند لوگ ایسے ہیں اور ان ہی کی وجہ سے اساتذہ کا سارا طبقہ بدنام ہورہا ہے ۔
فرقان: یہ لوگ حقیقت میں استاد نہیں ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو حادثاتی طور ہر اس شعبے میں آگئے ہیں۔ یہ طبعاً استاد نہیں ہیں۔ بننا تو کچھ اور چاہتے تھے لیکن مجبوراً استاد بن گئے۔
عمران: بالکل درست ! ہمارا یہ ایک المیہ ہے ۔
فرقان: اس سلسلے میں ہمارے حکمرانوں کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔استادوں کا انتخاب کرتے وقت ان کے طبعی میلان اور کردار کو مدنظر رکھنا چاہیے۔
عمران: ملک کا یہ سب سے زیادہ پڑھا لکھا طبقہ ہے لیکن انھیں مراعات اور سہولیتں حاصل نہیں ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ اساتذہ کی تنخواہوں اور مراعات میں خاطر خواہ اضافہ کرے تاکہ وہ اطمینانِ قلب کے ساتھ اپنے فرائض ادا کرسکیں۔
فرقان: اللہ ہمیں اور ہمارے معاشرے کو توفیق دے کہ ہم اساتذہ کا احترام بحال کر سکیں۔
عمران: آمین! یار بہت وقت ہوگیا اب اجازت دو ۔ابھی ظہر کی نماز بھی ادا کرنا ہے۔ اللہ حافظ۔
فرقان: اچھا اللہ حافظ۔ (دونوں دوست سلام دعا کے بعد ایک دوسرے سے جدا ہوتے ہیں)
