یہودی کی لڑکی ڈرامہ تحریر آغا محمد حشر کاشمیری

یہودی کی لڑکی ڈرامہ تحریر آغا محمد حشر کاشمیری

Share With Others

یہودی کی لڑکی ڈرامہ (۱۹۱۰، ۱۹۱۱) – تحریر آغا محمد حشر کاشمیری 

یہودی کی لڑکی (انگریزی: Yahudi Ki Ladki) ایک تاریخی اردو ڈرامہ ہے جو آغا حشر کاشمیری نے تحریر کیا۔ یہ ڈرامہ قدیم روم میں یہودیوں کی مظلومیت اور مذہبی تعصب کے موضوع پر مبنی ہے۔ دستیاب تاریخی دستاویزات کے مطابق، یہ ڈرامہ 1913 میں شائع ہوا، لیکن کچھ ذرائع میں اس کی ابتدائی تحریر یا پرفارمنس کو 1910-1915 کے درمیان قرار دیا جاتا ہے۔ یہ ڈرامہ پارسی اردو تھیٹر کا کلاسک سمجھا جاتا ہے اور اس پر 1933 اور 1958 میں فلمیں بھی بنیں۔ ڈرامہ تین ایکٹس پر مشتمل ہے: پہلا ایکٹ 8 سینز، دوسرا 7 سینز، اور تیسرا 3 سینز پر۔ یہ محبت، انتقام، اور مذہبی ہم آہنگی کے موضوعات کو چھوتا ہے۔

مصنف کا تعارف

آغا محمد حشر کاشمیری (پیدائش: 1879، بنارس – وفات: 28 اپریل 1935، لاہور) ایک مشہور اردو شاعر، ڈراما نگار اور فلم ساز تھے۔ انہیں “شیکسپیئر ہند” یا “اردو کا شیکسپیئر” کہا جاتا ہے کیونکہ انہوں نے شیکسپیئر کے کئی ڈراموں کو اردو میں ڈھالا اور ہندوستانی مزاج کے مطابق تبدیل کیا۔ ان کا اصل نام محمد شاہ تھا، اور وہ کشمیری برادری سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے والد غنی شاہ کشمیر سے بنارس ہجرت کرکے آئے تھے۔

حشر نے ابتدائی تعلیم بنارس میں حاصل کی اور کم عمری میں ہی شاعری شروع کی۔ وہ ایک ٹورنگ تھیٹر کمپنی سے وابستہ ہوئے جہاں انہوں نے عورتوں کے کردار ادا کیے کیونکہ اس وقت خواتین اسٹیج پر نہیں آتی تھیں۔ 1910 میں وہ بمبئی چلے گئے اور الفریڈ تھیٹریکل کمپنی اور مدن تھیٹرز سے وابستہ ہوئے۔ انہوں نے 100 سے زائد ڈرامے لکھے، جن میں شیکسپیئر کی تھیٹریکل سٹائل، ہندوستانی اساطیری کہانیاں، اور سماجی مسائل شامل تھے۔ ان کی تحریریں پارسی تھیٹر کو نئی جہت دیں اور بالی وڈ کی بنیاد رکھیں۔

حشر کی دیگر صلاحیتوں میں فلم ڈائریکشن اور سکرین پلے رائٹنگ شامل تھیں۔ ان کی فلمیں جیسے “شیرن فرہاد” (1931) اور “یہودی کی لڑکی” کی فلمی ورژن مقبول ہوئیں۔ وہ 1935 میں لاہور میں انتقال کرگئے۔ ان کی تصانیف اردو ادب میں اہم مقام رکھتی ہیں اور انہیں ہندوستانی تھیٹر کا بانی سمجھا جاتا ہے۔

تاریخی تناظر اور اہمیت

یہ ڈرامہ 1913 میں شائع ہوا اور پارسی تھیٹر میں بہت مقبول ہوا۔ یہ رومن سلطنت کے دور میں یہودیوں کی مظلومیت کو دکھاتا ہے، جو اس وقت کے ہندوستانی سماج میں مذہبی تعصب اور استحصال کی عکاسی کرتا ہے۔ ڈرامہ نے اردو تھیٹر کو نئی بلندی دی اور بعد میں فلمیں بنیں۔ 1933 کی فلم “یہودی کی لڑکی” (ڈائریکٹر پریم انکور اتھورتی) اور 1958 کی فلم “یہودی” (ڈائریکٹر بمل رائے) اسی ڈرامے پر مبنی تھیں۔ یہ ڈرامہ محبت کی فتح اور تعصب کی مذمت کرتا ہے، جو آج بھی متعلقہ ہے۔

حشر کے مشہور ڈرامے

آغا حشر کاشمیری نے متعدد مشہور ڈرامے لکھے، جن میں سے کچھ درج ذیل ہیں (آپ کی فہرست کے مطابق اور دیگر اضافے کے ساتھ):

ڈرامے کا نام تفصیل
شام جوانی سماجی مسائل پر مبنی۔
نعرہ توحید مذہبی موضوع۔
جرم نظر رومانٹک ڈراما۔
سلور کنگ شیکسپیئر سے متاثر، 1907 میں لکھا گیا۔
خود پرست خود غرضی پر تنقید۔
بلوا منگل عرف سورداس بھگت سورداس کی زندگی پر۔
بھرت منی اساطیری۔
شیر کی گرج طاقت اور انتقام۔
مدھر لی رومانٹک۔
بھاگیرتھ گنگا ہندو اساطیر۔
ہندوستان قدیم و جدید تاریخی موازنہ۔
ترکی حور ترکی ثقافت سے متاثر۔
آنکھ کا نشہ محبت کی نشہ آوری۔
دل کی پیاس جذباتی ڈراما۔
رستم و سہراب فارسی داستان پر مبنی۔
سیتا بن باس رامائن سے ماخوذ۔
رام اوتار رام کی کہانی۔
دل کی آگ جذباتی۔
آتش طوفان ڈرامائی۔
بیوقوفوں کی ٹکر مزاحیہ۔
شیریں فرہاد فارسی رومانس۔
عورت کا پیار عورت کی محبت۔
چنڈی داس بھگت چنڈی داس۔
خواب ہستی فلسفیانہ۔
خوب صورت بلا رومانٹک۔
سفید خون طبقاتی مسائل۔
ٹھنڈی آگ جذباتی۔

یہ فہرست حشر کی تخلیقی صلاحیت کی عکاسی کرتی ہے، جو شیکسپیئر، فارسی ادب، اور ہندوستانی اساطیر سے متاثر تھی۔

یہودی کی لڑکی کے کردار

ڈرامے کے اہم کردار درج ذیل ہیں (آپ کی فہرست کے مطابق):

مرد کردار

کردار کا نام تفصیل
مارکس روم کا شہزادہ، مرکزی عاشق۔
بروٹس مارکس کا دوست۔
عزرا یہودی حنا کا باپ، یہودی پیشوا، انتقام کی آگ میں جلتا ہے۔
کشیش روم کا پجاری۔
چوب دار روم کا داروغہ یا محافظ۔
بادشاہ مارکس کا باپ، روم کا بادشاہ۔
کرامت پٹھان یہودی کا خادم۔
سرخاب یہودی کا خادم۔
شمشاد یہودی کا خادم۔
رحیم یہودی کا خادم۔
کریم یہودی کا خادم۔
منوا یہودی کا خادم۔
جمعدار یہودی کا خادم۔

خواتین کردار

کردار کا نام تفصیل
حنا یہودی کی لڑکی، مرکزی ہیروئن، مارکس کی محبوبہ (کچھ ورژن میں راحیل کہلاتی ہے)۔
اکٹیویا بادشاہ کی بہن۔
جونا حنا کی سہیلی۔
نرگس حنا کی سہیلی۔
نصیباں حنا کی سہیلی۔

یہ کردار مذہبی تعصب اور محبت کی کشمکش کو اجاگر کرتے ہیں۔

ڈراما کا ایکٹ بھی (پہلا ایکٹ کا خلاصہ اور نمونہ ڈائیلاگ)

ڈرامہ تین ایکٹس میں تقسیم ہے۔ دستیاب ذرائع میں مکمل سکرپٹ ریختہ اور دیگر ادبی ویب سائٹس پر دستیاب ہے، لیکن یہاں پہلے ایکٹ کا مختصر خلاصہ اور نمونہ ڈائیلاگ (ڈرامے کی روح کے مطابق) پیش کیا جارہا ہے۔ پہلا ایکٹ 8 سینز پر مشتمل ہے اور روم کی سلطنت میں یہودیوں کی مظلومیت سے شروع ہوتا ہے۔

پہلا ایکٹ کا خلاصہ

پہلا ایکٹ قدیم روم میں یہودیوں کی حالت زار دکھاتا ہے۔ رومن بادشاہ کے حکم پر یہودیوں کو گھیٹو میں رکھا جاتا ہے۔ عزرا یہودی (حنا کا باپ) ایک پجاری ہے جس کا بیٹا رومن فوجیوں کے ہاتھوں مارا جاتا ہے۔ وہ انتقام کا عزم کرتا ہے۔ اسی دوران، روم کا شہزادہ مارکس ایک یہودی لڑکی حنا کو دیکھتا ہے اور اس سے محبت کر بیٹھتا ہے۔ مارکس یہودی کا بھیس بدل کر حنا سے ملتا ہے۔ ایکٹ کے آخر میں مارکس کی شناخت ظاہر ہونے کا خطرہ پیدا ہوتا ہے، اور یہودیوں پر مزید ظلم ہوتا ہے۔ یہ ایکٹ تعصب اور محبت کے آغاز کو اجاگر کرتا ہے۔

نمونہ سین (سین 1: روم کی عدالت)

(روم کی عدالت میں بادشاہ، کشیش اور چوب دار موجود۔ یہودیوں کی شکایات کا ذکر۔)

بادشاہ: اے کشیش! یہ یہودی قوم ہماری سلطنت میں کیوں بغاوت کرتی ہے؟ انہیں گھیٹو میں قید رکھو!

کشیش: حضور، وہ اپنے مذہب کی خاطر لڑتے ہیں۔ ان کا پیشوا عزرا انتقام کی آگ میں جل رہا ہے۔

چوب دار: جی حضور، ان کی لڑکیاں بھی خوبصورت ہیں، لیکن وہ ہمارے شہزادے مارکس کو للچاتی ہیں۔

(اسٹیج پر شور، یہودیوں کی آوازیں: “ہمارے حقوق دو!”)

بادشاہ: انہیں سزا دو! مارکس کہاں ہے؟

مارکس: (داخل ہوتے ہوئے) باپ جی، میں نے ایک خوبصورت لڑکی دیکھی… لیکن وہ یہودی ہے۔

(ایکٹ جاری، محبت اور تعصب کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔)

یہ نمونہ ڈرامے کی روح سے ماخوذ ہے؛ مکمل سکرپٹ کے لیے ریختہ یا ادبی کتب کا مطالعہ کریں۔

یہودی کی لڑکی ۱۹۱۱ کا خلاصہ

دستیاب ذرائع میں “یہودی کی لڑکی” کی 1911 کی کوئی الگ ورژن نہیں ملی، بلکہ یہ 1913 کی تصنیف سمجھی جاتی ہے۔ شاید 1910-1911 ابتدائی ڈرافٹ یا پرفارمنس کے سال ہوں۔ خلاصہ درج ذیل ہے (1913 ورژن پر مبنی، جو مرکزی ہے):

ڈرامہ قدیم روم میں شروع ہوتا ہے جہاں یہودیوں کو رومن سلطنت مظالم کا نشانہ بناتی ہے۔ عزرا یہودی کا بیٹا رومن فوجیوں کے ہاتھوں مارا جاتا ہے، جس پر وہ انتقام کا عزم کرتا ہے۔ اس کی لڑکی حنا (یا راحیل) بڑی ہوتی ہے اور روم کا شہزادہ مارکس اس سے محبت کرتا ہے۔ مارکس یہودی کا بھیس بدل کر حنا سے ملتا ہے۔ جب اس کی شناخت ظاہر ہوتی ہے تو حنا کو موت کی سزا سنائی جاتی ہے۔ کشیش اسے بچاتا ہے، لیکن عزرا سمجھتا ہے کہ بیٹی مر گئی اور وہ بادشاہ سے انتقام لینے کی سازش کرتا ہے۔

دوسرے ایکٹ میں، مارکس اور حنا کی محبت گہری ہوتی ہے، لیکن تعصب رکاوٹ بنتا ہے۔ عزرا مارکس کو قتل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ تیسرے ایکٹ میں سچ سامنے آتا ہے: حنا زندہ ہے، عزرا کو پتہ چلتا ہے کہ مارکس اس کی بیٹی کا عاشق ہے۔ ڈرامہ محبت کی فتح اور تعصب کی مذمت پر ختم ہوتا ہے، جہاں مارکس اور حنا متحد ہوتے ہیں اور رومن فوجی بغاوت کو کچل دیتے ہیں۔ یہ ڈرامہ مذہبی ہم آہنگی اور محبت کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔


Share With Others

اس موضوع پر مزید پڑھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *