اُستاد اور شاگرد کے مابین بہتر مستقبل کے حوالے سے مکالمہ

اُستاد اور شاگرد کے مابین بہتر مستقبل کے حوالے سے مکالمہ

Share With Others

اُستاد اور شاگرد کے مابین بہتر مستقبل کے حوالے سے مکالمہ

کردار:           استاد

                        حماد

منظر:  (علی میٹرک کا نتیجہ آنے کے بعد اپنے اُستاد محترم کا شکریہ ادا کرنے آتا ہے جو اس وقت اخبار کے مطالعہ میں مصروف ہیں۔)

حماد:    السلام علیکم! استاد محترم۔

اُستاد:   وعلیکم السلام بیٹا کیا حال ہے؟ تمہارا نتیجہ کیسا رہا؟

حماد:    میں نے میٹرک میں ۹۸۹ نمبر لے کر نمایاں کا میابی حاصل کی ہے۔

اُستاد:   (خوشی سے)واہ بھئی! یہ تو بہت اچھی خبر ہے تمھیں یہ کامیابی مبارک ہو۔

حماد:    میری یہ کامیابی اللہ کے فضل وکرم کے بعد اساتذہ کرام کی پر خلوص محنت اور تربیت کا نتیجہ ہے۔

اُستاد:   لیکن ! اس میں تمہاری شبانہ روز محنت بھی شامل ہے۔ جس کا ثمر تمہیں اس کامیابی کی صورت میں ملا ہے۔

حماد:    آپ کا بہت شکریہ ! آپ کی مشفقانہ رہنمائی شامل حال نہ ہوتی تو شاید زندگی کا یہ مسرت بھرا لمحہ مجھے نصیب نہ ہوتا۔

اُستاد:   اللہ تمہیں خوش رکھے ۔

حماد:    اللہ آپ کی عمر دراز کرے ۔(آمین)   

اُستاد:   بتاؤ اب مستقبل کے بارے میں کیا سوچا ہے؟

حماد:    میں آپ سے یہی مشورہ لینے آیا ہوں چونکہ میری دلچسپی ریاضی اور بائیالوجی دونوں میں ہے تو میں یہ فیصلہ نہیں کر پا رہا کہ میڈیکل یا انجینئرنگ میں سے کون سا شعبہ بہتر رہے گا؟

اُستاد:   بیٹا! یاد رکھو شعبہ کوئی بھی ہو اس میں دین اور دنیا دونوں کو مدنظر رکھنا چاہیے اور میرے خیال میں اس کے لیے بہترین شعبہ میڈیکل کا ہے۔

حماد:    استاد محترم ! میری بھی یہ خواہش ہے کہ میں ڈاکٹر بن کر دکھی انسانیت کی خدمت کروں۔

اُستاد:   ہاں! اس شعبے میں انسان کسب معاش کے ساتھ دکھی انسانیت کی خدمت بھی کر سکتا ہے۔

حماد:    میرا دل بھی چاہتا ہے کہ میں انسانیت کے لئے کچھ کروں ۔

اُستاد:   دنیاوی کامیابی کے ساتھ ساتھ اخروی کامیابی کا ذریعہ اللہ کی مخلوق کی خدمت کرناہی ہے۔

حماد:    بالکل بجا فرمایا آپ نے ۔

اُستاد:   کسی کے افسردہ چہرے پر خوشی کی ایک جھلک لانا بھی بڑے ثواب کا کام ہے ۔لوگوں کا علاج کرکے غریب مریضوں کی پر خلوص دعائیں ہماری دنیا اور آخرت دونوں سنوار سکتی ہیں۔ میڈیکل کا پیشہ انتہائی مقدس ہے۔

حماد:    جی! اور ویسے بھی ڈاکٹر نہ ہونے کی صورت میں بہت سے مریض بغیر علاج کے ہی موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔

اُستاد:   میرا مشورہ ہے کہ تم کینسر میں اختصا ص (سپیشلائزیشن )حاصل کرو اور لوگوں کی خدمت کرو۔

حماد:    استاد محترم! تو کیا میں میڈیکل کا شعبہ اختیار کروں؟

اُستاد:   میرے خیال میں تو تم جیسے ہونہار طالب علم کو میڈیکل کا شعبہ ہی اختیار کرنا چاہیے۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے:

تیرے سینے میں اگر دل ہے تو مسیحائی کر

حماد:    آپ نے درست فرمایا۔

اُستاد:     مگر ڈاکٹر بننے کے لیے سخت محنت اور ذہانت چاہیے۔

حماد:    کیا ایف ۔ا یس۔ سی کی تیاری سے بھی زیادہ ؟

اُستاد:   ہاں ! جوں جوں ہم محنت کرتے جاتے ہیں تو ں توں ہمیں محنت کی عادت پڑتی جاتی ہے۔جس سے وہ کام آسان ہو جاتا ہے۔

حماد:    کیا میں ڈاکٹر بننے کے لائق ہوں؟

اُستاد:   کیوں نہیں!محنت سے ہر کام ممکن ہے۔

حماد:    استاد محترم ! آپ کا بہت شکریہ۔ آپ کی یہ رہنمائی میرے لیے مشعل راہ ثابت ہوگی۔

اُستاد:   میں بھی تمہارے حق میں دعاگو ہوں کہ اللہ تمہیں اپنے نیک ارادوں میں کامیاب کرے (آمین)

حماد:    آمین ! اب میں چلتا ہوں۔ اللہ حافظ!

اُستاد:     جیتے رہو! اللہ حافظ بیٹا۔


Share With Others

اس موضوع پر مزید پڑھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *