قومی زبان کی اہمیت و افادیت
قومی زبان کی اہمیت و افادیت
کوئی محرم نہیں ملتا جہاں میں
مجھے کہنا ہے کچھ اپنی زباں میں
پاکستان میں ایسے بہت کم افراد ہیں جنہیں حقیقی طور پر معلوم ہے کہ قومی ترقی کے صحیح ذرائع کیا ہیں اور خصوصاً تعلیم ملت میں قومی زبان کا کیسا درجہ ہوا کر تا ہے۔ چنانچہ جن پیش بیں شخصوں کو قومی زبان کی اہمیت کا احساس ہے وہ دیوانے سمجھے جا تے ہیں۔ حالانکہ یہ وہی لو گ ہیں جو
پھیلا رہے ہیں نور دل داغ داغ سے
ظلمت میں شب کی مہر درخشاں لیے ہوئے
قومی زبان کسی بھی قوم اور ملک کے تشخص کی بنیادی اکائی ہوتی ہے۔خود دار اور با وقار قومیں ہمیشہ اپنی تہذیب و ثقافت، اپنی قومی زبان کو سینے سے لگا کر رکھتی ہیں۔ اس کی قدر کرتی ہیں اور اس پر فخر کرتی ہیں۔ دنیا میں جن اقوام نے ترقی کے مدارج تیزی سے طے کیے ہیں۔ سبھی نے ہمیشہ اپنی ثقافت اور قومی زبان کو فوقیت دی ہے۔پاکستان کی قومی زبان اُردو ہے۔بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے 1948ء میں جلسہ عام میں فرمایا کہ:
’’میں واضح الفاظ میں بتا دینا چاہتا ہوں کہ پاکستان کی سرکاری زبان اردو اور صرف اردو ہی ہوگی۔ جو شخص آپ کو اس سلسلے میں غلط راستے پر ڈالنے کی کوشش کرے۔ وہ پاکستان کا پکا دشمن ہے۔ ایک مشترکہ زبان کے بغیر کوئی قوم نہ تو پوری طرح متحد رہ سکتی ہے اور نہ کوئی کام کرسکتی ہے‘‘
اُردو زبان میں پوری پاکستانی قوم کی ثقافتی روح موجود ہے۔ اردو زبان ہی پاکستان کے دیہاتوں اور شہروں میں وسیع پیمانے پر بولی اور سمجھی جاتی ہے۔ حتیٰ کہ دنیا کے ہر ملک میں اُردو بولنے والے لوگ کثیر تعداد میں موجود ہیں۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ اردو زبان تیزی کے ساتھ بین الاقوامی زبان کا درجہ حاصل کرتی جا رہی ہے۔ اس لیے ہمیں اپنی قومی زبان پر فخر کرنا چاہیے۔ جوکہ ہماری پہچان بھی ہے۔
اُردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغؔ
سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے
اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کے اعدادو شمار کے مطابق دنیا میں سب سے زیادہ بولی اور سمجھی جانے والی زبانوں میں چینی اور انگریزی کے بعد تیسری بڑی زبان اردو ہی تو ہے۔اردو رابطے کی حیثیت سے دنیا کی دوسری بڑی زبان ہے ۔ برصغیر پاک و ہند اور دنیا کے دوسرے خطوں میں ۸۰ کروڑ سے زیادہ افراد اسے رابطے کی زبان کی حیثیت سے استعمال کرتے ہیں ۔ اردو مشرق بعید کی بندرگاہوں سے مشرق وسطی اور یورپ کے بازاروں ، جنوبی افریقہ اور امریکا کے متعدد شہروں میں یکساں مقبول ہے۔ یہاں ہر جگہ اردو بولنے اور سمجھنے والے مل جاتے ہیں۔ یہ زبان ایک جاندار اظہار اور اظہار کا جان دار ذریعہ ہے۔
اردو زبان کی ساخت میں پورے برصغیر کی قدیم اور جدید بولیوں کا حصہ ہے۔ یہ عربی اور فارسی جیسی دو عظیم زبانوں اور برصغیر کی تمام بولیوں سے مل کر بننے والی ، لغت اور صوتیات کے اعتبار سے دنیا کی سب سے بڑی اور قبول عام کے لحاظ سے ممتاز ترین زبان ہے۔اردو ایک زندہ زبان ہے اور اپنی ساخت میں بین الاقوامی مزاج رکھتی ہے۔ اس کی بنیاد ہی مختلف زبانوں کے اشتراک پر رکھی گئی ہے۔ اردو گویا بین الاقوامی زبانوں کی ایک انجمن ہے۔اردو زبان اپنی لسانی مفاہمت اور افادیت کے علاوہ اپنے اندر ایک تہذیبی اور ثقافتی پہلو بھی رکھتی ہے۔ یہ اپنے علمی ، ادبی اور دینی سرمائے کے اعتبار سے بڑی باثروت زبان ہے۔
قومی زبان پوری قوم کی خصوصیات اور اس کی روایات کی حامل ہوتی ہے۔ قومی زبان منتشر قوم کی شیرازہ بندی کرتی ہے۔ جو قوم جس قدر ترقی یافتہ ہوگی، اس کی زبان بھی اسی قدر وسیع ہو گی اور اس میں ہر قسم کے علمی، ادبی اور سائنسی، قانونی مفاہیم ادا کرنے کی صلاحیت ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ زبان کی ترقی میں عقل و فہم کی ترقی، قومی ترقی اور انسانیت کی ترقی کا راز پوشیدہ ہے۔اسی اہمیت کے پیش نظر 1973 کے آئین کی شق 251 کے مطابق پاکستان کی قومی زبان اردو ہے۔
قومی زبان کو قومی زندگی میں صحیح مقام حاصل ہوئے بغیر قومی یگانگت پیدا نہیں ہو سکتی۔ قوم کے دماغوں سے نہ احساس کمتری دور ہو سکتی ہے نہ خود اعتمادی پیدا ہو سکتی ہے اور نہ ملک اور قوم مستحکم ہو سکتے ہیں۔ اُردو زبان کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ یہ ملک کے صوبوں اور ان کے عوام کے درمیان یکجہتی اور اتحاد کی علامت ہے اور اس کا سبب بھی۔ چاروں صوبوں کے باشندے جب آپس میں ملتے ہیں تو اُردو کو ذریعہ اظہار بناتے ہیں۔ اس طرح ان کے درمیان یگانگت کا احساس پیدا ہوتا ہے۔
زبان کے ذریعے کسی قوم کے مزاج اور اس کی روایات و اقدار کو بآسانی سمجھا جا سکتا ہے۔ اُردو محض ایک زبان ہی نہیں بلکہ برصغیر کے مسلمانوں کی سیکڑوں برس قدیم روایات اور ان کی علمی و ادبی اور لسانی کاوشوںکا ثمر ہے۔اسی اہمیت کے پیش نظر ہمارے سیاسی قائدین اور دینی اکابر نے اسی زبان کو اپنے خیالات کے اظہار کا ذریعہ بنایا۔ مسلمانان برصغیر اُردو زبان کو اپنے ملی افکار اور اسلامی علوم و فنون کے فروغ کا سب سے موثر وسیلہ سمجھا ہے۔
پاکستانی تعلیم و تربیت میں تہذیب و تمدن کی زبان اردو ہے جس کا کردار بہت اہمیت کا حامل ہے۔اردو زبان میں تہذیب و تمدن کے ساتھ اسلامیات اور اخلاقیات کا گرانقدر ذخیرہ بھی موجود ہے۔ برصغیر کے بیشتر علما فضلا اور صوفیائے کرام کی مذہبی تصانیف اُردو میں ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت عربی اور فارسی کے بعد مسلمانوں کا قیمتی دینی سرمایہ اُردو میں ہے۔ اُردو کا اسلا م سے گہرا واسطہ ہے۔ دنیا کی کسی زبان میں اِسلام سے متعلق اتنا سرمایہ مو جود نہیں ہے جتنا اُردو زبان میں ہے۔ عربی، فارسی اور ترکی کے تمام اِسلامی مواد کو ایک پلڑے میں رکھا جائے اور ان تمام کتابوں کو جو اُردو میں شائع ہوئی ہیں دوسرے پلڑے میں رکھا جائے تو اُردو کا پلڑا بھاری رہے گا۔
میر تقی میرؔ، مرزا غالبؔ، داغؔ دہلوی، شاعرِ مشرق علامہ اقبالؒ، فیض احمد فیؔض، احمد فرؔاز، اور ایسے ہی لاتعداد شعراء کی کوششوں کا ثمر ہے، جن کے کلام نے ایک عالم کو اپنا دیوانہ بنا رکھا ہے۔اُردو ادب میں نظم ونثر کا بیش قیمت ذخیرہ موجود ہے۔ جس میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ ہم اپنے اس قیمتی ادبی سرمائے کو پورے فخر کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کر سکتے ہیں۔
اردو ہزار قافلہ چہروں کی گرد ہے
اردو نوائے گل کی طرح رہ نورد ہے
اردو لسانیات کی دنیا میں فرد ہے
اردو نہاد ذوق ہے غالب اساس ہے
اردو زبان آتش و ناسخ کی پیاس ہے
قومی زبان اُردو ایک ترقی یافتہ زبان ہے۔ بیشتر علمی، سائنسی فنی، قانونی اور دفتری اصطلاحات کا اُردو میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ یوں اُردو زبان ہر طرح کے مطالب کے اظہار و بیان کی پوری قدرت رکھتی ہے۔ اس زبان کےفنی خطاطی کے بہترین نمونے پائے جاتے ہیں وہاں اس کا ٹائپ اور کمپیوٹر بھی آسانی کے ساتھ مستعمل ہے، جس کی وجہ سے نشرو اشاعت کا کام تیز رفتاری سے سر انجام پاتا ہے۔ اب کتابیں اور روزانہ کے اخبارات کتابت کی بجائے ٹائپ اور کمپیوٹر پر کمپوز ہوتے ہیں۔
وطن دوستی اور زبان میں بہت گہرا تعلق ہو تا ہے۔ زبان محض اظہار خیالات کا ذریعہ نہیں ہو تی بلکہ قوم کی تمام روایات کی حامل ہو تی ہے اور ا س کے بو لنے والوں کے ایک ایک لفظ سے ایک قلبی تعلق رکھتا ہے ۔ اس لیے اگر ایک قومی زبان (اُردو) کی ترویج ہو تو اس امر کی امید ہو سکتی ہے کہ پاکستان کے مختلف علاقوں کے درمیان جذباتی تعلق اور گہرا ہو جائے۔
کیا اُردو میں تعلیم ممکن ہے؟اس سوال کا سیدھا سا جواب ہے کہ کرۂ ارض کی پانچ ہزار سالہ مرقومہ تاریخ گواہ ہے کہ دنیا کی کسی بھی قوم نے اس وقت تک ترقی نہیں کی جب تک اس نے اپنی زبان کو ہر شعبہ میں ذریعہ اظہار نہیں بنایا۔بڑی مثال یہ کہ حضرت آدمؑ سے لے کر نبی آخرالزماں حضرت محمدﷺ تک تمام انبیا نے اپنی ہی زبان کو جملہ مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کیا۔
انگریزوں کو جدید تعلیم رائج کر نے کا خیال پیدا ہوا تو انھوں نے دہلی کالج کے ذریعے سے اُردو میں ہی ابتداءکی۔ عثمانیہ یو نیورسٹی میں اس کا پو را پورا تجربہ ہو چکا ہے۔ جا معہ کراچی نے بھی اس کا تجربہ کر کے دیکھا۔ان کامیاب تجربوں کے بعد اسی قسم کے سوال مہمل ہیں ۔
اردو زبان کی آج کے دور میں ملک کے پڑھتے بچوں کو بہت ضرورت ہے کیونکہ وہ تعلیم ہی اثر رکھتی ہے جوانسان اپنی قومی زبان میں حاصل کرتا ہے۔ عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ انگریزی کو ترک کر دیا گیا تو ہماری ترقی رک جائے گی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا جاپان ،چین اور روس کی ترقی کا سبب انگریزی ہے۔ یہ غلط فہمی ہے کہ محض انگریزی ہی ترقی کی ضامن ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب تک قومی زبان کو صحیح رتبہ حاصل نہیں ہو گا ہم کسی قسم کی ترقی نہیں کر سکتے۔
چند ماہ قبل سپریم کورٹ کے جج کی حیثیت سے جواد ایس خواجہ نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے تمام اداروں اور ارباب اختیار کو حکم دیا کہ اردو زبان کو تین ماہ کے اندر سرکاری اداروں میں نافذالعمل کیا جائے۔ یہ فیصلہ آئے کئی ماہ گزر گئے ہیں مگر اب تک اس حکم کی تکمیل نظر نہیں آرہی ہے۔ ہاں البتہ جسٹس جواد ایس خواجہ نے سرکاری زبان کے نفاذ کو عملی طور پر اپناتے ہوئے اپنے چیف جسٹس کے عہدے کا حلف اردو زبان میں لیا اور اردو کے نفاذ کا عملی مظاہرہ کیا۔
یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ اُردو زبان ہماری قومی زبان بننے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے اور اس سے چشم پوشی، اغماض نظر اور مخالفت کرنا گویاپاکستان کی استواری، استحکام اور خوشحالی کو نقصان پہنچانا ہے۔لہٰذا اردو کو سرکاری اور دفتری زبان کے لحاظ سے مکمل طور پر نافذ کرنا پاکستان کے بیس بائیس کروڑ عوام کا اسلامی جمہوریہ پاکستان میں جمہوری اور قانونی استحقاق بھی ہے۔
اپنی مٹی پہ ہی چلنے کا سلیقہ سیکھو
سنگِ مرمر پہ چلو گے تو پھسل جاؤ گے
