اِسلام ایک مکمل ضابطہ حیات
اِسلام ایک مکمل ضابطہ حیات
دہر میں عیش دوام آئین کی پابندی سے ہے
موج کو آزادیاں، سامانِ شیون ہو گئیں
’’اِسلام مکمل ضابطہ حیات ہے۔‘‘مذکورہ جملے میں لفظ ’’مکمل‘‘اور لفظ ’’ہے‘‘ سمجھنے میں آسان ہیں۔ اس جملے کے بقیہ دو الفاظ یعنی لفظ ’’اِسلام‘‘اور ’’ضابطہ حیات‘‘کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
اِصطلاح میں اِسلام سے مراد وہ طریقہ زندگی ہے جو اللہ رب العز ت نے انبیا کے ذریعے سے لو گوں تک پہنچایا اور اس کی تکمیل اس کے آخری اور عالمی نبی حضرت محمدﷺ نے کی۔ ضابطہ حیات سے مراد ہے قوانین اور ہدایات کا ایک ایسا مجموعہ جو پوری انسانی زندگی کے ہر پہلو کا احاطہ کرے۔ گویا ضوابط کی ایک ایسی فہرست جو پیدائش سے موت تک تمام انسانی موضوعات [روحانی، جسمانی، جنسی، معاشی، عمرانی، وغیرہ، وغیرہ[ کے بارے میں کھل کر حکم دے کہ اس موضوع سے تعلق رکھنے والے معاملات کس طور سے حل کیے جائیں۔
یہ حقیقت ہے کہ ابتدائے آفرینش سے انسان کبھی مذہب کی صورت میں اور کبھی سماجی قاعدے کی صورت میں کسی نہ کسی ضابطہ حیات کی پابندی کرتا آیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جس ضابطے کو انسانیت کی کامیابی و کامرانی کا بنیادی ماخذ قرار دیا ہے وہ ہے اِسلام، شریعت محمدی جو قرآنِ مجید کی صورت میں ہمارے پاس موجود ہے اور قیامت تک آنے والے انسانوں کے لیے رہ نمائی کا بہترین ذریعہ ہے۔
مرتب ہوگیا منشور حق، دستور آزادی
نظام کفر و باطل کے مقدر میں تھی بربادی
دین اِسلام ہر زمان ومکان اورہر جن و انس کے لیے مکمل دستور حیات ہےجو زندگی کے تمام معاملات میں انسان کو اچھائی اور برائی، نیکی و بدی اور حقوق وفرائض کا شعور بخشتے ہوئے امن وسلامتی اور انسانی ترقی کی ضمانت فراہم کرتا اور ظاہری وباطنی نعمتوں کی تکمیل کرتا ہے۔ توحیدخالص اسکی بنیاد اور اخلاق حسنہ اس کی پہچان ہے۔ اسلام رنگ، نسل، ذات برادری طاقت و دولت حسب ونسب اور شاہ و گدا کی بنیاد پر امتیازات کرنے کا قائل نہیں ہے۔ یہ تو انسان کی فطری نشوونما اور اللہ تعالیٰ سے عبد ومعبود کے خالص تعلق کو قائم و مضبوط کرتا ہے اور ہمیں تقویٰ کا درس دیتا ہے۔
فَإِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ مِنِّي هُدًى فَمَنْ تَبِعَ هُدَايَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ
ترجمہ: پھر اگرتمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت آئے پس جو میری ہدایت پر چلیں گے ان پرنہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔
اِسلامی تمدن کے سوا دنیا کا ہر تمدن دین اور دنیا میں تفریق کرتاہے۔ مذہب کو عبادت گاہوں تک محدود کردیتا ہے اور اس کی ہدایات کو چند رسموں اور رواجوں تک محدود رکھتا ہے۔ دنیاوی زندگی بالعموم مذہب سے خالی رکھتا ہے لیکن اِسلامی تمدن میں دین و دُنیا کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے۔ اس کے نزدیک دین اِس چیز کا نام ہے کہ دنیاوی معاملات کو جنابِ رسالت مابﷺ کی ہدایات کے مطابق سرانجام دیں یعنی دنیاوی معاملات کو دین کے مطابق چلانا ہی دین ہے۔ دین کا راستا دنیا سے الگ تھلگ نہیں بلکہ ایک شخص پکا دنیادار ہوتے ہوئے بھی صحیح دیندار ہوسکتا ہے۔
اِسلام ایک اعلیٰ تہذیب ، ایک وسیع ثقافت اور مخصوص معاشرتی اوصاف کا حامل ہے جس میں رنگ و نسل، شکل وصورت، رسم ورواج اور زبان و مکان جیسے خدوخال ثانوی حیثیت رکھتے ہیں تاہم مذہبی عقائد ، اخلاقی معیار اور روحانی اقدار کی حیثیت بنیادی ہے جن کا مرکزی نقطہ عقیدہ توحید ہے یہی فرق اِسلام کو دوسری تہذیبوں سے ممتاز کرتا ہے قرآن کریم میں ارشاد ہے:
اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَاللہِ الْاِسْلَام
ترجمہ: ’’اللہ تعالیٰ کے نزدیک دین صرف اِسلام ہے‘‘
ایک اور جگہ ارشادہے:
یٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِي السِّلْمِ کَا فَّةً
ترجمہ: اے ایمان والو! داخل ہوجاؤ اِسلام میں پورے پورے
موجودہ انسانی زندگی کو تین بڑے شعبوں میں یا حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ ایک سیاست دوسرے معیشت اور تیسرے معاشرت۔ اِسلام کے سیاسی نظام کی اساس یہ نظریہ ہے کہ حکمرانی اور حاکمیت صرف اللہ تعالیٰ کو حاصل ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:۔
”وہ (خدا) جس کے ہاتھ میں بادشاہی ہے، بڑی برکت والا ہے اور ہر چیز پر قادر ہے“
اِسلام کے نظریہ حاکمیت کی بنیاد عدل و انصاف پر ہے۔ اِس سلسلے میں اسوۂ حسنہ رسولﷺ اور خلافتِ راشدہ کا نظام ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے۔ حضور سرور کائنات کا ارشاد پاک ہے۔
”قوم کا سردار قوم کا خادم ہوتا ہے۔“
اسی طرح ایک اور حدیث پاک ہے۔
”عادل سلطان زمین پر خدا کا سایہ ہے۔“
دین اِسلام انسان کی معاشرتی زندگی میں بھی ہمہ پہلو اور ہمہ جہت انسان کی رہ نمائی کرتا ہے۔ یہ انسان کو جہاں وسعت نظری، خوداری، عزت نفس، عاجزی، پاکیزگی نفس، حسن کردار اور قانون الٰہی کی پابندی جیسے اوصاف پیدا کرتا ہے وہیں عقیدہ آخرت انسان میں احساس ذمہ داری پیدا کرتا ہے۔ ارشادِ ربانی ہے:
”اسی نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہاری آزمائش کر لے کہ تم میں کون اچھے کام کرتا ہے“
اِسلام عقیدہ ایمان ہی نہیں بلکہ وہ مکارم اخلاق کی بھی تعلیم دیتا ہے ۔اخلاق کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ اِسلام اخلاقیات کا مکمل ضابطہ پیش کرتا ہے۔ وہ اپنے پیروکاروں کو راست بازی، امانت و دیانت، ایفائے عہد، عدل، مساوات، اُخوت، مروت و احساس کا پیغام دیتا ہے اور جھوٹ، چغل خوری، حسد، بغض، عداوت، نفاق سے بچنے کی تلقین کرتا ہے۔ ارشادِ نبویﷺ ہے:۔
اَکْمَلُ الْمُؤْمِنِیْنَ اِیْمَانًا اَحْسَنُھُمْ خُلُقًا
ترجمہ: تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جس کے اخلاق اچھے ہوں۔
معاشرہ افراد کے مجموعے کا نام ہے۔ ایک مثالی معاشرہ اسی صورت میں معرضِ وجود میں آسکتا ہے جب ہر فرد اپنی ذمہ داری کو کماحقہ، پورا کرے۔ اِسلام انسان کی انفرادی حیثیت کو تسلیم کرتے ہوئے فرد کو بہت اہمیت دیتا ہے اور اِسے بذاتِ خود ذمہ داروجوابدہ قرار دیتا ہے۔ بقول علامہ اقبالؒ:۔
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارا
قرآن مجید اسی نظریہ کو پیش کرتا ہے کہ ہر شخص خدا کے سامنے انفرادی طور پر اپنے اعمال کا جوابدہ ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:۔
وَمَنْ يَّكْسِبْ إِثْمًا فَإِنَّمَا يَكْسِبُهٗ عَلٰی نَفْسِهٖ ۚ
ترجمہ: اور کوئی شخص دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔
اگر ہر شخص اپنی ذمہ داری کا احساس کرلے اور بطریق احسن سرانجام دے تو معاشرہ ایک مثالی معاشرہ بن جاتا ہے اور ملت کا نام روشن ہوسکتا ہے۔ جہاں اِسلام فرد کو اس کی ذمہ داری کا احساس دِلاتا ہے وہاں وہ اِسلامی تمدن کا اجتماعی تصور پیش کرتا ہے۔ اِسلام ایک اجتماعی عالمگیر نظریہ حیات پیش کرتا ہے۔ اِسلام امربالمعروف و نہی عن المنکر کی تلقین کرتاہے وہ دوسروں کے حق کی تلقین اور اشاعت و تبلیغ کی دعوت دیتا ہے۔ اِسلام نماز باجماعت کا حکم دیتا ہے تاکہ اِسلامی معاشرہ میں اُخوت، یکجہتی پیدا ہو۔ اس کے علاوہ نماز جمعہ نماز عیدین اور حج کے موقع پر بھی انسانوں میں اجتماعیت اور بھائی چارے کا درس ملتا ہے۔
انسانی زندگی کا سب سے پہلا اور بنیادی دائرہ خاندان ہے۔ اِسلام چونکہ دین فطرت ہے اِس لیے اِس نے خاندان کے تمام افراد کے لیے حد بندیاں قائم کردی ہیں، ہر ایک کے حقوق و فرائض مقرر کردیے ہیں۔ میاں بیوی اور والدین کے حقوق کی منصفانہ اور واضح تقسیم کردی ہے تاکہ ایک دوسرے پر زیادتی نہ ہو اور تعلقات خوشگوار رہیں۔ ارشاد خداوندی ہے:۔
وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِيْ عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ
ترجمہ: عورتوں کے کچھ حقوق ہیں جس طرح کی بھلائی کے ساتھ اس پرکچھ فرائض بھی ہیں اور مردوں کواِن پر ایک گونہ بڑائی حاصل ہے۔
پھر ارشاد ہوتا ہے:۔
وَعَاشِرُوْھُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ
ترجمہ: اور عورتوں کے ساتھ نیکی کے ساتھ زندگی گزارو۔
اِسلام پورے معاشرے کو صحت مندانہ خطوط پر استوار کرنا چاہتا ہے۔ معاشرے میں رشتہ دار ہمسائے اور عام شہری شامل ہیں۔ اِسلام نے اِن سب کے حقوق و فرائض متعین کیے ہیں۔ اِن حقوق میں سب سے پہلے رشتہ داروں کے حقوق ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَّذِي الْقُرْبٰی
ترجمہ: اور والدین اور رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔
اس کے بعد ہمسایوں کے حقوق ہیں۔ ارشاد نبویﷺ ہے:۔
”جو شخص سیر ہوکر کھانا کھالے اور اِس کا ہمسایہ بھوکار ہے وہ مومن نہیں۔“
اسلام انسانیت کا ایک بلند معیار پیدا کرتا ہے۔ انسان کے اخلاقی حسن کو اعلیٰ معیار بخشتا ہے۔ انسانی رشتوں کے بارے میں اِسلام نے واضح ہدایات دی ہیں۔ شرم و حیاعورت کا زیور اور مرد کی زینت ہے۔ حیا اخلاق کی روح ہے اور بے حیائی برائی کی جڑ ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:۔
قُل لِّلْمُؤْمِنِيْنَ يَغُضُّوْا مِنْ أَبْصَارِهِمْ
ترجمہ: مومن مردوں سے کہہ دو کہ اپنی نظریں نیچی رکھیں۔
ارشادِ نبوی ہےﷺ:۔
اَلْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِّنَ الْإِيْمَانِ
ترجمہ: حیاء جزو ایمان ہے۔
پاکیزگی اِسلام کا بہت اہم جزو ہے۔ اِسلام انسان کو ہر لحاظ سے پاک و صاف دیکھنا چاہتا ہے۔ پاکیزگی اور صفائی کے لیے اِسلام میں ”طہارت“کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ جب تک جسم اور لباس صاف نہیں ہوگا عبادت بھی قبول نہیں ہوتی۔ ابوجہل نے اعتراض کیا تھا کہ یہ کیسا رسول ہے جو رفع حاجت کے طور طریقے بھی بتاتا ہے۔ یہ ابو جہل کی جہالت تھی، حقیقت یہ ہے کہ اِسلام نے انسانی زندگی کے تمام شعبوں میں انسان کی مکمل رہ نمائی کی ہے۔
اِسلام کا اپنا ایک مخصوص معاشی نظام ہے۔ یہ نظامِ دولت کی عادلانہ اور منصفانہ تقسیم پر مبنی ہے۔ اِسلام ارتکازِ دولت کا مخالف ہے۔ اِسلام دولت کی گردش پر زور دیتاہے۔ زکوٰة اِسلام کے پانچ ارکان میں سے ایک اہم رکن ہے جس کے تحت مالدار لوگ اپنے مال کا اڑھائی فیصد حصہ غرباو مساکین اور بے وسیلہ افراد پر خرچ کرتے ہیں۔ اِسلام زکوٰة کے علاوہ صدقہ و خیرات کی بھی تلقین کرتاہے۔ ارشاد ربّانی ہے:۔
وَالَّذِيْنَ فِيْٓ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَّعْلُوْمٌ لِّلسَّائِلِ وَالْمَحْرُوْمِ
ترجمہ: اور یہ وہ لوگ ہیں جن کے مالوں میں حاجت مندوں اور ناداروں کے لیے معلوم ومقرر حصہ ہے۔
اِسلام نے تجارت و کاروبار کرنے کے لیے کچھ اُصول و ضوابط وضع کیے ہیں جن کی پابندی کرتے ہوئے انسان اپنے ذریعہ معاش کو حلال و جائز بناسکتا ہے۔ تجارت کا اولین اُصول امانت و دیانت ہے ارشاد ربانی ہے:۔
”اور انصاف کے ساتھ ٹھیک تو لو اور تول کم مت کرو، یعنی ڈنڈی نہ مارو“
اور ارشادِ نبویﷺ ہے:۔
”دیانتدار تاجر جنت میں میرا ہمسایہ ہوگا۔“
اِسلام میں عدل و انصاف کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ معاشرے کے تمام افراد کے حقوق کا تحفظ ضروری ہے۔ معاشرے میں ظلم، فساد اور بگاڑ اُسی وقت پیدا ہوتا ہے۔ جب عدل و انصاف کو نظر انداز کر دیا جائے اور افراد کے حقوق پامال کر دیے جائیں۔ اسلامی قانون کی نظر میں سب انسان برابر ہیں۔ اسلام میں عدل وانصاف قائم کرنے کے بارے میں حکم ہے۔
إِنَّ اللهَ یَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْإِحْسَانِ
ترجمہ: بے شک اللہ تعالیٰ عدل و احسان کا حکم دیتا ہے۔
رسول اکرمﷺ نے بھی اپنے اُسوۂ حسنہ کے ذریعے عدل و انصاف کا بہترین نمونہ پیش کیا۔ ایک موقع پر فرمایا:۔
”اگر میری بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا۔“
اِسلام صلح وآشتی کا مذہب ہے۔ قرآن مجید کی تعلیم یہ ہے کہ سخت سے سخت دشمن بھی ہو تو اس کی برائی کا جواب حسنِ سلوک سے دیا جائے۔ دنیا میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو نہ تو صلح کی آواز سنتے ہیں اور نہ نیکی کی ترغیب سے متاثر ہوتے ہیں۔ لہٰذا ایسے لوگوں کے خلاف جہاد کا حکم دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے اُس کے دین کو سربلند کرنے کے لیے اور کلمہ حق کو پھیلانے کے لیے جو لڑائی لڑی جاتی ہے اسے جہاد کہتے ہیں۔ جہاد کی بڑی فضیلت ہے۔ ارشاد ہوتا ہے:۔
اِنَّ اللهَ يُحِبُّ الَّذِيْنَ يُقَاتِلُوْنَ فِىْ سَبِيْلِـهٖ صَفًّا كَاَنَّـهُـمْ بُنْيَانٌ مَّرْصُوْصٌ
ترجمہ: بے شک اللہ تو ان کو پسند کرتا ہے جو اس کی راہ میں صف باندھ کر لڑتے ہیں گویا وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہے۔
اِسلامی معاشرے میں غیر مسلم اقلیتوں کو بھی پورا پورا تحفظ حاصل ہے۔ وہ غیر مسلم قوتیں جو اِسلامی حکومت کے زیر سایہ رہتی ہیں اور اس سے وفاداری کا دم بھرتی ہیں انہیں وہی حقوق حاصل ہوتے ہیں جو مسلم شہریوں کو حاصل ہوتے ہیں۔ اِسلام نے اقلیتوں کو جو حقوق دیے ہیں ان کی مثال کسی مذہب و ملت میں نہیں ملتی۔ اِس ضمن میں اُسوۂ رسولﷺ اور خلافتِ راشدہ کا دور ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے۔ رسول اکرمﷺ نے ذمیوں کے ساتھ باقاعدہ معاہدے کیے۔ حضرت عمر فاروق کے عہد میں قبیلہ بکربن وائل کے ایک مسلمان نے حیرہ کے ایک عیسائی کو مار ڈالا۔ حضرت عمرؓ نے حکم دیا قاتل مقتول کے وارثوں کے حوالے کردیا جائے چنانچہ اسے قتل کردیا گیا۔ حضرت علیؓ نے فرمایا کہ جو لوگ ذمی ہوچکے ہیں اِن کا خون ہمارا خون ہے اور اِن کا خون بہا ہمارا خون بہا۔ اِسلامی حکومت ذمیوں کو مذہبی آزادی کا حق دیتی ہے۔ غرض یہ کہ اِسلام وہ دینِ فطرت ہے جو ہر لحاظ سے مکمل ضابطہ حیات ہے۔ مزید یہ کہ وہ دینِ فطرت ہے جو انسان کو اُس کی تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ نہ صرف پروان چڑھاتا ہے بلکہ ہر شعبۂ زندگی میں کامیابی کے لیے ہدایات بھی فراہم کرتا ہے۔
