How To Write Urdu Essay
مضمون نویسی
تعریف اور مفہوم:
مضمون عربی زبان کا لفظ ہے، جس کے معانی۔1۔ بیان، 2۔مطلب، 3۔ مفہوم، 4۔کسی موضوع پر تحریر، 5۔انشا
کسی موضوع پرمدلل اور ادبی انداز میں اظہار خیال کو اُردو میں مضمون جبکہ انگریزی میں کہا جاتا ہے۔ مضمون کے لیے موضوع کی کوئی قید نہیں۔ اس کائنات کی ہر شے مضمون کی قید میں آسکتی ہے۔ چند ایک مثالیں حسب ذیل ہیں۔
مذہبی و اخلاقی مضامین: جیسے: اِسلام اور مساوات ‘اسلامی نظام حیات، اسلامی معاشرہ
تعلیمی مضامین: جیسے: تعلیم نسواں‘مخلوط تعلیم‘موجودہ نظام تعلیم
مجلسی مضامین: جیسے: جہیز ایک رسم بد‘خواتین کے حقوق‘ہمارے رسم و رواج
ادبی مضامین: جیسے: غالب کی شاعری ‘سرسید کی ادبی خدمات ‘زندگی اورادب ‘میرا پسندیدہ شاعر
سیاسی مضامین: جیسے: طلبہ اور سیاست ‘قانون اور تلوار
تخیلی مضامین: جیسے: ایک حسین خواب‘اگر میں وزیراعظم ہوتا
متفرق مضامین: جیسے: چاندنی رات‘صحت افزا مقام کی سیر ‘سینما بینی وغیرہ
شخصی مضامین: جیسے: قائداعظم، علامہ اقبالؒ، سرسیداحمد خاں وغیرہ
ایک معیاری مضمون میں زبان و بیان کی دلفریبی کے ساتھ ساتھ مضمون نگار کے وسعت علم و مشاہدہ کا بھی اظہار ہوتا ہے۔
مضمون نویسی کے لیے ضروری ہدایات:
امتحانی پرچے میں مضمون نویسی کا سوال آخر میں ہوتا ہے اور اس کے بیس نمبر(20) ہوتے ہیں۔ طلباءکو چاہیے کہ اس سوال کی تیاری کے لیے درج ذیل ہدایات کا مطالعہ کریں اور اُن کی روشنی میں سوال کو حل کریں تا کہ زیادہ سے زیادہ نمبر حاصل کرسکیں۔
پرچے میں دیے گئے عنوانات میں سے اس عنوان کو منتخب کریں جو آپ کے ذوق طبع، نظریات یا مزاج سے زیادہ مناسبت رکھتا ہو اور اس موضوع کے متعلق آپ کے پاس معلومات بھی ہوں۔
عنوان کے انتخابات کے بعد اس کا ایک خاکہ بنا لیں اس مقصد کے لیے جوابی کاپی کے ایک صفحے کو بطور رف عمل استعمال میں لائیں اور اس پر وہ نکات مختصر درج کر لیں جو لکھنا چاہتے ہیں۔ ان کو ترتیب دے لیں اور پھر مضمون لکھنے کے دوران ان نکات سے مدد لیں۔
ابتدائی پیراگراف میں موضوع کا تعارف کرائیں لیکن تمہیدی پیراگراف ایسا ہونا چاہیے کہ پڑھنے والے کی توجہ فوراً موضوع کی طرف ہوجائے۔
مختلف نکات کو واضح کرنے کے لیے الگ الگ پیراگراف بنائیں۔ پیراگراف کی طوالت بہت زیادہ نہیں ہونی چاہیے
مضمون کے خاتمے پر ایک اختتامی پیراگراف تحریر کریں، جس میں ساری بحث کو سمیٹ کر چند سطور میں اپنی رائے یا خیالات کو فیصلہ کن اور واضح انداز میں بیان کیا گیا ہو۔
مضمون کے تمام پیراگراف میں ایک ربط اور مناسبت ہونی چاہیے
مضمون میں الفاظ، فقرات اور خیالات کی تکرار سے گریزکریں
جملے سادہ ہونے چاہئیں
موقع کی مناسبت سے اشعار، قرآنی آیات، احادیث، اقوال ضرور درج کریں لیکن یہ تمام چیزیں درست طور پر استعمال ہوں
اقوال، احادیث و آیات اور اشعار وغیرہ پرچے میں پورے صفحے پر واضح اور نمایاں ہوں۔
مشکل الفاظ و تراکیب کے غیر ضروری استعمال سے اجتناب کریں۔
قواعد زبان اور بیان کی صحت کا ضرور خیال کریں۔
دوسری زبانوں کے الفاظ استعمال نہ کریں۔ اگر ناگزیر ہوتو اس لفظ کا انگریزی رسم الخط بھی بریکٹ میں لکھ دیں۔
رموزِ اوقاف کا خاص خیال رکھیں کیونکہ اس کے بغیر عبارت کا مفہوم غیر واضح ہوتا ہے۔
خوشخطی کا خیال رکھیں تاکہ تحریر میں الفاظ واضح پڑھے جاسکیں۔
