URDU ESSAY HAMARA NIZAM E TALEEM

URDU ESSAY HAMARA NIZAM E TALEEM

Share With Others

ہمارا نظام تعلیم

اس قوم کی پیشانی پر لکھی ہے تباہی

جس قوم کے مکتب کی فضا ٹھیک نہ ہوگی

            کسی ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں نئی نسل کے افکار و نظریات و کردار و عمل کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ نئی قوم، نئی نسل کا وجود نظام تعلیم کا مرہون منت ہے۔دنیا کی کوئی بھی قوم اس وقت تک ترقی نہیں کرسکتی جب تک کہ وہ اپنے تعلیمی شعبے کو بہتر نہ کرلے۔ تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ دنیا میں صرف وہی اقوام اپنا وجود بر قرار رکھ سکی ہیں جنہوں نے تعلیم کی اہمیت کو سمجھا اور اپنی نئی نسل کو اس زیور سے آراستہ کیا ہے۔ ہر فلاحی ریاست پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے مستقبل کے معماروں کو بہترین تعلیمی سہولت فراہم کرے۔

            کسی بھی نظام تعلیم کی سب سے بڑی خوبی یہ ہوتی ہے کہ وہ اس قوم کے مخصوص تقاضوں کے عین مطابق مرتب کیا گیا ہو۔ ہر قوم اپنے نظام تعلیم کو اپنے نظریات اور فلسفہ حیات کی اساس پر تشکیل کرتی ہے۔ اس لحاظ سے ہر ملک کا نظام تعلیم ایک جداگانہ اور منفرد حیثیت کا حامل ہوتا ہے۔ نظام تعلیم سے مراد طلبہ کی فکری، علمی، ثقافتی اور شخصی تعلیم و تربیت کا وہ  ڈھانچہ جو کسی ملک میں رائج  ہو۔گویاتعلیم ایک ایسا عمل ہے جو انسان کو زندگی گزارنے کے طریقے کا شعور دیتا ہے اور ا س میں زندگی کے مقاصد و فرائض کا احساس پیدا کر تا ہے۔تعلیم ذہنی، جسمانی اور اخلاقی تربیت کا نام ہے۔تعلیم ہی وہ عمل ہے جس کے ذریعے افراد کی تعمیر ممکن ہے۔کسی دانا کا قول ہے۔

’’جس قوم کے طلبہ کو بہتر علمی ڈھانچہ میسر ہو اس قوم کو ترقی سے کوئی نہیں روک سکتا۔‘‘

          ایک چینی کہاوت ہے:” تمہارا منصوبہ اگر سال بھر کے لیے ہے تو فصل کا شت کرو، اگر دس سال کے لیے ہے تو درخت اگاؤ اور اگر دائمی ہے تو مناسب افراد پیدا کرو۔ “

            چنانچہ افراد کی ذہنی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے اور ان کی سیرت و کردار کی تعمیر کر نے میں جو اہمیت کسی ملک یا قوم کے نظام تعلیم کو حاصل ہو تی ہے وہ کسی اور شے کو حاصل نہیں ہوتی۔ انسان کی خام صلاحتیں نشونما اور ترقی کے لیے تعلیم و تربیت کی محتاج ہو تی ہیں۔ تعلیم و تربیت ہی کے ذریعے انسان میں وہ اعلیٰ صفات پیدا کی جا سکتی ہیں کہ وہ نہ صرف ایک اچھا انسان بن سکے بلکہ اپنے ملک اور معاشرے کے لیے مفید اور کا ر آمد فرد ثابت ہو سکے۔ اگر نظام تعلیم میں وقت کے تقاضوں کے ساتھ تبدیلی نہ کی جائے توکوئی بھی معاشرہ اپنے وجود کو برقرار نہیں رکھ سکتا۔ اسی اہمیت کے پیش نظر موجود ہ دور کی تمام ترقی یا فتہ قومیں ملک میں رائج نظام تعلیم کو وقت کے تقاضوں کے ہم آہنگ کرتی ہیں۔ تعلیم و تربیت کے ذریعے افراد تیار نہیں ہو تے، قوم تیار ہو تی ہے۔ بقول علامہ اقبالؒ

افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر

ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ

          پاکستان۱۴ اگست۱۹۴۷ءکو اِسلام کے نام پر ایک آزاد اِسلامی مملکت کی حیثیت سے وجود میں آیا تھا اور ا س کے قیام کی غرض و غایت یہی تھی کہ ایک ایسا الگ خطہ زمین حاصل کیا جا ئے جہاں اِسلامی اقدار اور اِسلامی نظام زندگی کو پروان چڑ ھایا جائے۔ اس لحاظ سے ایک ایسا نظام تعلیم پاکستان کی اولین ضرورت تھا جو نظریہ پاکستان یعنی اِسلام کی بنیاد پر قائم ہو اور اسی نظریے کے مطابق نئی نسل کی تربیت اس طرز پر کرے کہ وہ قیام پاکستان کے مقاصد کو بطریق احسن پورا کر نے کے قابل ہو سکے۔

شیخ مرحوم کا قول اب بھی مجھے یاد آتا ہے

دل بدل جائیں گے تعلیم بدل جانے سے

          بدقسمتی سے ہم نے جو نظام تعلیم لارڈ میکالے سے ورثے میں پایا تھا اس کی دیکھ بھال نگہداشت ہم نے نہایت مستعدی اور چابکدستی سے سر انجام دی ہے۔ اس نظام تعلیم کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ فارغ التحصیل طلبا و طالبات کے اذہان کو مکمل طور پر انگریز بنا دیا جائے۔ مسلمانوں کے ذہن کو اسلام کی نفرت سے معمور کر کے مغرب کا پرستار کردیا جائے۔ اخلاق و اطوار بدل کر مغرب پرستی اور اہل مغرب کی تقلید پر مجبور کر دیا جائے۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہمارا نوجوان طبقہ اپنی ثقافت بے مثال تہذیب اور بہترین تمدن سے متنفر ہو کر مغربی تہذیب و ثقافت کا دلدادہ بن گیا۔ چنانچہ پاکستانی معاشرے میں ایک ایسا ثقافتی خلا  پیدا ہو چکا ہے کہ اذہان میں کشمکش اور خلفشار موجود ہے۔

اور یہ اہل کلیسا کا نظام تعلیم

ایک سازش ہے فقط دین ومروت کے خلاف

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شکایت ہے مجھے یا رب خدا وندان مکتب سے

سبق شاہیں بچوں کو دے رہے ہیں خاک بازی کا

          آج ۷۰ سال گزرنے کے باوجود ہمارے  نظام تعلیم کا بنیادی ڈھانچہ وہی ہے جس کی بنیاد انگریزوں نے اپنے استعماری مقاصد کے لیےرکھی تھی۔ ہاں اتنا ضرور ہوا کہ اب اِسلامیات کو ایک لا زمی مضمون کے طور پر پڑھایا جانے لگا ہے مگر اس کی حیثیت بھی ٹاٹ میں مخمل کے پیوند سے زیادہ نہیں۔ بقول اکبر الٰہ آبادی

نئی تعلیم میں بھی مذہبی تعلیم شامل ہے

مگر یوں ہی کہ گویا آب زمزم میں مے داخل ہے

          ایک اچھے نظام تعلیم کی سب سے اولین خوبی اور نمایاں صفت یہ ہونی چاہیے کہ وہ ملک و ملت کے معاشرتی تقاضوں ملکی اور قومی امنگوں کا آئینہ دار ہو۔ اگر نظام تعلیم قومی نظریہ حیات سے متضاد ہو تو قوم و ملک کی جڑیں کھوکھلی ہو جاتی ہیں۔ ظاہر ہے کہ لارڈ میکالے کا تیار کردہ نظام تعلیم ہماری قومی اُمنگوں اور ملی تقاضوں کا آئینہ دار نہیں ہو سکتا تھا۔یہ نظام تعلیم نہ تو ہماری نظریاتی، اِسلامی اور دینی ضرورتوں کو پو را کر تا ہے اور اور نہ مادی اور دنیاوی اعتبار سے ہمارے لیے سود مند ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ حکومت کی باگ ڈور ایسے افراد کے ہاتھوں میں جا رہی ہے جن کی اکثریت دیانت، امانت، اور فر ضی شناسی کے اوصاف سے تہی ہے اور جو اپنے ذرا سے فائدے کے لیے اپنے ملک اور اپنی قوم تک کو داؤ پر لگا سکتے ہیں۔

خوش تو ہیں ہم بھی جوانوں کی ترقی سے مگر

لب خنداں سے نکل جاتی ہے فریاد بھی ساتھ

            انگریزوں کے وضع کر دہ اس نظام تعلیم نے مسلمانو ں پر جو اثرات بد قائم کیے، ان کا احساس خود علی گڑھ تحریک کے بانی اور انگریزی تعلیم کے سب سے بڑے حامی سر سید احمد خان کو بھی آخری عمر میں ہو گیا تھا ور انہوں نے دکھ بھری حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا:

”کہ تعجب ہے کہ جو تعلیم پاتے جاتے ہیں اور جن سے قومی بھلائی کی امید تھی وہ مادہ پرست اور بد ترین قوم ہو تے جاتے ہیں۔“

           مو لا نا شبلی نعمانی نے انگریزی درس گاہوں کو خالی کوٹ پتلون کی نمائش گاہ قرار دیا تھا اور اکبر الہٰ آبادی نے اپنے بے پناہ تہذیبی شعور اور دور اندیشی کی بدولت اس نظام تعلیم کے مضمرات کا اندازہ لگا لیا تھا۔ اسی لیے وہ کہتے ہیں :

مسجدیں سنسان ہیں اور کالجوں میں دھوم ہے

مسئلہ قومی ترقی کا مجھے معلوم ہے

          علامہ اقبالؒ کو اس نظام تعلیم کی ہو لنا کیوں کا بخوبی اندازہ تھا چنانچہ انہوں نے اپنے کلام میں جگہ جگہ اسے بڑی شدت سے ہدف تنقید بنایا ہے۔

گلا تو گھونٹ دیا اہل مدرسہ نے ترا

کہاں سے آئے صدا لا الہ الا اللہ؟

            یہ صورت حال مو جودہ نظام تعلیم کی فوری تبدیلی کا تقاضا کر تی ہے۔ پہلے اگر ہم انگریز کے وضع کر دہ نظام تعلیم کو اپنی مجبوری اور بے کسی کے تحت گوارا کیے ہوئے تھے۔ تو اس کو سینے سے لگانے اور لگائے رکھنے کا کوئی جو از باقی نہیں ہے۔ اب تو ہمیں اپنے حسب حال نظام تعلیم مر تب اور نا فذ کر نا چاہیے جو ہمارے نظریاتی تقاضوں کو پورا کر نے کے علاوہ ہماری دینی اور دنیاوی ضرورتوں کو کما حقہ پو را کر سکے۔

ہم سمجھتے تھے کہ لائے گی فراغت تعلیم

کیا خبر تھی کہ چلا آئے گا الحاد بھی ساتھ

            اِسلام نے علم کا جو تصور دیا ہے، اس میں سب سے بنیادی چیز یہ ہے کہ علم کا سر چشمہ ذات باری تعالیٰ ہے۔ نیز یہ کہ علم کا تعلق محض لوازمات حیات سے ہی نہیں مقصد حیات سے بھی ہے اور لوازمات حیات کو لازماً مقصد حیات کے تابع ہو نا چاہیے۔ یہ وہ تصور ہے جس سے ہمارے نظام تعلیم کا پو را مزاج بنتا ہے۔ اِسلام فرد کی انفرادی شخصیت کی نشوونما اور ارتقا چا ہتا ہے اور اس کی خوابیدہ صلاحیتوں کو تعلیم و تربیت کے ذریعے بیدار کر کے اسے معاشرے کا ایک ذمہ دار فرد بنانا چاہتا ہے۔ اس سے معلوم ہو تا ہے کہ اِسلام انفرادیت اور اجتماعیت میں توازن پیدا کر تا ہے۔

          حکومت پاکستان نے 1958ءمیں تعلیمی نظام کو قومی ضرورتوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ایک کمیشن مقرر کیا۔ یہ کمیشن اب تک کئی ایک تعلیمی اصلاحات کرچکا ہے۔اسی طرح  تعلیمی شماریات اور معلومات کے لیے ایک دفتر کوائف تعلیم قائم کیا گیا۔ تعلیم میں سمعی بصری اعانات کے فروغ کے لیے مرکز اعانات سمعی و بصری  قائم کیا گیا۔ اسی طریق سے رفتار زمانہ کے ساتھ نصاب تعلیم میں ضروری تبدیلی کا سلسلہ قائم رہنے کے لیے دفتر تدوین قائم کیا گیا۔

          نئی تعلیمی پالیسی اور اس کی اصلاحات سے تربیت پانے والا نظام تعلیم ہمارے ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ قومی و ملکی اُمنگوں کا آئینہ دار ہو گا۔ پاکستان ایک نظریاتی مملکت ہے۔ چنانچہ نظریہ پاکستان کا تحفظ اور اپنی ثقافت کا فروغ، ملکی سا لمیت و استحکام اس پالیسی کے عمدہ اصول ہیں۔

          نصاب میں ان تبدیلیوں کے پیش نظر اساتذہ کے لیے ریفریشر کورسز کا اہتمام کرنے کی غرض سے تعلیمی توسیعی مرکز قائم کیے گئے ہیں۔ یہ مراکز تعلیمی موضوعات پر سیمینار، ورکشاپ اور ریفریشر کورسز کا اہتمام کرتے ہیں۔ اس طریق سے تعلیمی نظام میں یکسر ایک انقلاب برپا کیا گیا ہے۔

          ابتدائی تعلیم کو بہتر بنانے اور عام کرنے کے لیے مکتب سکیم کو فروغ دیا گیا تاکہ عمارات کی کمی اور جگہ کی تنگی کا مسئلہ حل ہو سکے۔ پبلک سکولوں کا وجود غیر اسلامی اور غیر جمہوری ہے۔ موجودہ پالیسی نے ان اداروں کو عوامی ادارے بنانے کی تجویز پیش کی ہے اور اسی طرز کے جامع مدارس کے قیام پر زور دیا ہے۔ جامع مدارس اسے کہتے ہیں جہاں بچے اساتذہ کی نگرانی میں رہ کر اور بہتر تعلیمی ماحول میں زندگی بسر کر کے اپنی شخصیت کی تعمیر وتربیت بہتر خدوخال پر کرتے ہیں۔

            نئے نظام تعلیم میں تعلیمی اداروں کو زیادہ سے زیادہ خود مختار بنانے کی تجاویز پیش کی گئی ہیں جن کے نتائج دور رس ہو سکتے ہیں۔ ملک سے ناخواندگی کو ختم کرنے کے لیے کوشش کی جارہی ہے۔ اسی طریق سے تعلیمی نظام کے انتظامی ڈھانچے میں بے شمار تبدیلیاں تجویز کی گئی ہیں۔

          نئی تعلیمی پالیسی میں مقاصد تعلیم کی واضح نشاندہی کی گئی ہے۔ یعنی نظریہ پاکستان کا تحفظ، اسلامی نظریہ حیات ہماری پالیسی کا اولین مقصد ہے اور ہم اس کے لیے کوشاں ہیں۔ اس نظام تعلیم میں اسلامیات اور مطالعہ پاکستان کو تعلیم کی ہر منزل پر لازمی قرار دیا گیا ہے۔ میٹرک تک تعلیم مفت ہے۔ حکومت نے یکساں قسم کا معیار نافذ کرنے کے لیے لازمی قرار دیا ہے کہ انگریزی سکولوں میں ذریعہ تعلیم اُردو ہو گا۔ اس طرح قومی زبان کو اپنایا جارہا ہے اور اس کی تدریس انٹرمیڈیٹ سطح تک لازمی ہے۔

            سائنس کی تعلیم پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے او رکافی حد تک کورسز کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالا گیا ہے اور علمی و سائنسی میدان میں روز افزوں تجربات و تحقیقات سے روشناس کرانے کے لیے ٹیکسٹ بک بورڈ قائم کیے گئے ہیں جو کتابوں کی تجدید کرتے رہتے ہیں۔

          خواتین کی تعلیم پر بھی خصوصی توجہ دی جارہی ہے اور خواتین کے لیے الگ یونیورسٹی کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ خواتین کی تعلیم کو مردوں کے شانہ بشانہ تمام سہولتیں مہیا کی گئی ہیں اور تمام ضلعی مقامات پر گرلز کالجوں کا قیام ضروری قرار دیاگیا ہے۔

            ہمارے نظام تعلیم میں امتحانات کے لیے ثانوی تعلیمی بورڈ قائم ہیں۔ پرانے طرز کے امتحانات کی جگہ معروضی طرز کے امتحانات کو زیادہ فروغ مل رہا ہے۔ اس کے علاوہ سمسٹر سسٹم کے تجربات بھی کیے جا رہے ہیں۔ انتظامی سطح پر تعلیم میں کافی تیدیلی عمل میں لائی گئی ہے۔ کالجوں اور سکولوں کی نظامیت تعلیمات الگ کر دی گئی ہیں اور ضلع کی سطح پر زنانہ اور مردانہ شعبے الگ کیے جارہے ہیں۔

          فاصلاتی تعلیم کے ذریعے علمی استعداد میں اضافہ کرنے کےلیے اور ملازمین کے لیے زیادہ مواقع فراہم کرنے کے لیے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔ اس دائرہ کو اور زیادہ وسیع کیا جارہا ہے۔ مختلف مقامات پر اسلامی یونیورسٹیاں قائم کی جارہی ہیں تاکہ اسلامی تعلیمات پر تحقیق کا کام جاری رہ سکے۔

            الغرض حکومت بھی کوشش کررہی ہے اور یہ ہماری قومی و ملی بقا کا تقاضا ہے کہ ایسا نظام تعلیم جلد وضع اور نا فذ ہو تا کہ وہ مقصد بطریق احسن پورا ہو سکے جس کے لیے پاکستان قائم ہو اتھا۔ ہماری قومی ضرورتوں کی تکمیل ہو سکے، ہماری وہ ملی امنگیں برآسکیں جن سے ملت کے ہر فرد کا سینہ آباد ہے اور سچے علم کی روشنی سے وہ ہمہ گیر انقلاب برپا ہو سکے جو اِسلام کا مقصود و مطلوب ہے۔


Share With Others

اس موضوع پر مزید پڑھیں

One Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *