Musammat Ka Mafhoom Aur Tareef , مسمط کا مفہوم اور تعریف
مسمط کا مفہوم اور تعریف | مسمط، مخمس اور مسدس | اردو اصنافِ سخن
اردو شاعری میں اصنافِ سخن (Asnafe Sukhan) اور اصنافِ نظم (Asnafe Nazm) کا مطالعہ بہت اہم ہے۔ ان میں سے مسمط (Musammat) ایک ایسی صنف ہے جس کی بنیاد بند (stanza) میں مصرعوں (misraon) کی تعداد پر ہوتی ہے۔ آج ہم مسمط کی تعریف، اس کی اقسام (خاص طور پر مخمس اور مسدس)، مثالیں اور اردو ادب میں اس کی اہمیت تفصیل سے دیکھیں گے۔
یہ مضمون طلبہ (Inter, BA اردو)، مقابلاتی امتحانات اور اردو شاعری کے شوقین قارئین کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
مسمط کیا ہے؟ (Definition of Musammat)
مسمط عربی لفظ ہے جس کا مطلب ہے “مُسَمَّط” یعنی بندوں میں تقسیم شدہ نظم۔
ادبی تعریف: وہ نظم جس کے ہر بند (stanza) میں ایک مقررہ تعداد کے مصرعے ہوں اور تمام بندوں میں مصرعوں کی تعداد برابر ہو، اسے مسمط کہتے ہیں۔ یہ نظم کی ساخت (haiyat) پر مبنی صنف ہے۔
سادہ الفاظ میں: مسمط وہ نظم ہے جس میں ہر بند میں ایک ہی تعداد کے شعر/مصرعے ہوں (جیسے 5، 6، 8 وغیرہ)۔
مسمط کی اقسام (Types of Musammat – مصرعوں کی تعداد کے اعتبار سے)
مسمط کی اقسام بنیادی طور پر بند میں مصرعوں کی تعداد سے طے ہوتی ہیں:
- مثلث (3 مصرعے فی بند) – کم استعمال
- مرتبع (4 مصرعے فی بند) – رباعی کی طرح
- مخمس (5 مصرعے فی بند) – بہت مشہور
- مسدس (6 مصرعے فی بند) – بہت مشہور اور کلاسیکی
- مثمن (8 مصرعے فی بند) – مسمّن کی 136 اقسام بیان کی جاتی ہیں
- متسع (9 مصرعے فی بند) – بہت کم لکھا جاتا ہے
نوٹ: مخلوط بندوں والی نظم کو اتساع (Utsah) کہتے ہیں۔
مخمس (Mukhammas) کی تفصیل
- تعریف: ہر بند میں 5 مصرعے ہوتے ہیں۔
- اقسام:
- پہلی قسم: پہلے بند کے پانچوں مصرعے ہم قافیہ یا مخصوص بحر میں، باقی بندوں کا پانچواں مصرعہ اہم قافیہ پر۔
- دوسری قسم (زیادہ عام): شروطی (Shruti) طرز۔
- روایت: کلاسیکی دور سے چلی آ رہی ہے، نذیر اکبر آبادی وغیرہ نے لکھی۔
مثال (نذیر اکبر آبادی سے): جب فقر آئے تو انسان کو کس طرح ستاتا ہے فقر اسے دن بھر پیاسا بیٹھائے رکھتا ہے فقر اسے رات بھر بھوکا سلا دیتا ہے یہ وہی شخص ہے جس پر فقر آ جائے
(یہاں ہر بند 5 مصرعوں پر مشتمل ہے اور فقر کی تکلیف کو بیان کیا گیا ہے۔)
مسدس (Musaddas) کی تفصیل
- تعریف: ہر بند میں 6 مصرعے ہوتے ہیں۔
- خاص بات: پہلے 4 مصرعے اہم ہوتے ہیں، جبکہ آخری 2 مصرعے (خاص طور پر پانچواں اور چھٹا) کلیدی معنی رکھتے ہیں۔
- روایت: کلاسیکی اردو میں بہت استعمال ہوئی، عوامی مسائل، مذہبی اور سماجی موضوعات پر۔
مثال (علامہ اقبال سے منسوب طرز): جنگ کے میدان میں اگر نماز کا وقت آ جائے تو زمین باس بن جائے، محمود و ایاز کھڑے ہو جائیں نہ کوئی آقا ہو نہ غلام، سب برابر ہو جائیں نواز بند، سب ایک ہو کر تیری حکومت تک پہنچ جائیں
(یہاں پہلے 4 مصرعے منظر کشی کرتے ہیں، آخری 2 میں گہرا پیغام ہے – مساوات اور اتحاد۔)
مسمط کی اہمیت اور اصول
- تمام بندوں میں مصرعوں کی تعداد برابر ہونی چاہیے۔
- بحر اور قافیہ کا توازن ضروری ہے (خاص طور پر مخمس اور مسدس میں)۔
- یہ صنف غزل سے مختلف ہے کیونکہ یہ نظم کی ساخت ہے، آزاد خیال کی بجائے بندوں پر مبنی۔
- مخمس اور مسدس اردو ادب میں طویل عرصے سے استعمال ہو رہے ہیں، خاص طور پر اصلاحی اور سماجی شاعری میں۔
امتحانات کے لیے اہم ٹپس
- تعریف میں “ہر بند میں مقررہ مصرعے” اور “برابر تعداد” ضرور لکھیں
- مخمس (5) اور مسدس (6) کی مثالیں الگ الگ دیں
- مثمن کی 136 اقسام کا ذکر کریں (اگر پوچھا جائے)
- فرق: مسمط بمقابلہ غزل/رباعی (غزل میں اشعار آزاد، مسمط میں بندوں کی ساخت)
مسمط اردو نظم کی وہ صنف ہے جو بندوں کی ساخت سے شاعری کو منظم اور خوبصورت بناتی ہے۔ مخمس اور مسدس اس کی سب سے مشہور شکلیں ہیں جنہیں نذیر، اقبال اور دیگر کلاسیکی شعرا نے خوبصورت طریقے سے استعمال کیا۔ یہ صنف طویل موضوعات، کہانیوں اور سماجی پیغامات کے لیے بہترین ہے۔
اگر آپ اردو ادب کی گہرائی میں جانا چاہتے ہیں تو adabiduniya.com پر دیگر اصنافِ سخن (جیسے غزل، نظم، رباعی، مثنوی وغیرہ) کے مضامین بھی پڑھیں۔
