اردو مضمون حب وطن
اردو مضمون حب وطن
اے وطن تجھ سے نیا عہدِ وفا کرتے ہیں
مال کیا چیز ہے ہم جان فدا کرتے ہیں
حب کے معنی محبت، پیار۔ انس اور وطن سے مراد وہ جگہ جہاں کوئی ذی روح جنم لے نشوونما پائے اور پروان چڑھے اپنے ہم جنسوں میں زندگی بسر کرے۔ حبّ الوطنی زمین کے ایک ٹکڑے سے محبت کرنے کے ساتھ ساتھ ان پختہ عقائد و نظریات سے محبت ہے جو حب الوطنی کے حقیقی اجزائے ترکیبی ہیں۔ وطن سے محبت ایک فطری، بدیہی اور خون میں رچی بسی چیز ہے۔وطن کی مٹی سے قدرتی طور پرانس ہوتا ہے۔ اس کی ہواؤں فضاؤں، دریاؤں، سمندروں، درختوں فصلوں سے فطرتاً محبت ہوتی ہے۔ اس انس و محبت میں ریاکاری یا نمود نہیں بلکہ خلوص وصداقت کے ستون ہوتے ہیں۔ اس لیے کہ انسان کی فطرت میں وطن سے محبت اور وابستگی رکھ دی گئی ہے اسے انسانوں اور جانداروں سے ہی محبت نہیں ہوتی بلکہ مکانوں اور راستوں تک سے محبت ہوتی ہے۔
چلچلاتی دھوپ میں سر پہ اک چادر تو ہے
لاکھ دیواریں شکستہ ہوں پر اپنا گھر تو ہے
جس انسان کا دل محبت کے جذبے سے خالی ہے وہ پتھروں سے بھی گیا گزرا ہے۔ انسان جہاں رہتا ہے اس کے ماحول سے بھی اسے الفت ہوتی ہے کہ ماحول سے ہی تو زندگی کے بہت سے حسین لمحات وابستہ ہوتے ہیں۔ گویا وطن سے محبت فطری امر ہے۔ جو دل وطن کی محبت سے خالی ہے وہ یقین و ایمان سے خالی ہے۔ یہ حدیث ضعیف ہے یا صحیح مگر اس کی صداقت میں کوئی شک نہیں :
حُبّ الَّوَطَنِ مِنَ الْإِيْمَان
ترجمہ: وطن کی محبت جزو ایمان ہے۔
حضرت یوسفؒ جو مصر کے تخت پر جلوہ گر تھے۔ لیکن آپ مصر کی حکومت کے مقابلے میں کنعاں کا فقیر ہونا اچھا سمجھتے اور جانتے ہیں۔
حب وطن از ملک سلیمان خوشتر
خار وطن از سنبل و ریحان خوشتر
یوسف کہ بہ مصر بادشاہی می کرد
می گفت گدا بودن کنعان خوشتر
نبی مکرم رحمت اللعالمین مکہ چھوڑتے ہوئے پکار اٹھتے ہیں ’’اے مکہ تو مجھے دنیا کے دیاروں سے عزیز ہے مگر مجھے تیرے فرزند یہاں رہنے نہیں دیتے اس لیے تجھے چھوڑ کر جارہا ہوں“
وطن پر فدا ہے جو انسان ہے
کہ حبِ وطن جزو ایمان ہے
وطن سے محبت کس کو نہیں ہوتی انسان حیوان چرند پرند سبھی اپنے وطن سے محبت کرتے ہیں ایک بیل جہاں رہتا ہے وہ جگہ چھوڑنے کو تیار نہیں ہوتا گھوڑے کو اپنے تھان سے، کتے کو اپنی گلی سے، یہاں تک کہ مرغیوں بطخوں کو اپنے ڈربے سے محبت ہوتی ہے، بلی تو سات گھر پھر کر بھی اپنی جنم بھومی پر پہنچ جاتی ہے اور
مچھلی جب چھوٹتی ہے پانی سے
ہاتھ دھوتی ہے زندگانی سے
ایک پودے کو باغ سے اکھاڑ کر اسی باغ میں ہی کہیں دو فٹ دور اسی وقت نصب کردیں تو یہ پودا ایک وقت ضرور مرجھا جائے گا۔ اس کی نگہداشت ہو اور پھر اس میں نشوونما کی قوت بھی ہو تو تب کہیں سبز ہوتا ہے۔ یہ سب اس کا اس مٹی سے پیار ہے جس مٹی سے بیج نے پودا بننے تک کا سفر طے کیا ہے۔
یہ وطن ہے جہاں انسان اپنی زندگی گزارتا ہے جہاں اس کے والدین عزیزواقارب دوست احباب بستے ہیں جس کی سہانی فضا میں وہ پلتا بڑھتا اور پروان چڑھتا ہے۔ اس کے گلی کوچوں، سبزہ زاروں، دلفریب فضاؤں رات دن سے اسے ایک خاص قسم کا انس اور جذباتی وابستگی ہوتی ہے۔ پر دیس جاکر وہ خواہ کتنا ہی خوشحال کیوں نہ ہو وطن میں گزرے دنوں کی یاد اسے ستاتی ہے۔ وہ بے قرار ہو اٹھتا ہے۔
دشمن کو بھی اللہ چھڑائے نہ وطن سے
جانے وہی بلبل جو بچھڑ جائے چمن سے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آرام کی صورت نہیں مسکن سے بچھڑکر
طائر بھی پھڑکتا ہے نشیمن سے بچھڑکر
اگرچہ نقل مکانی ازل سے جاری و ساری ہے، قحط، بیماری، رزق کی تلاش انسان کو اس کے گھربار اور وطن سے دور لے جاتے ہیں۔ بعض اوقات طویل جنگیں بھی نقل مکانی پر مجبور کردیتی ہیں۔ پھر کبھی سیروسیاحت کے شوقین بھی مسافر بن کر نگری نگری گھومتے پھرتے ہیں۔ ظاہراً خوش وخرم نظر آتے ہیں مگر کوئی ان کے دل سے پوچھے کہ صبح و شام کے ہنگاموں کے دوران وہ کن تکلیف دہ مراحل سے گزرتے ہیں۔ دوست احباب کی محفل میں اکیلے اور تنہا سے ہوتے ہیں۔ وطن سے دور بس تو جاتے ہیں مگر وطن کی کشش ایک قدرتی چیز ہے۔ عزیزواقارب کی شکلیں ان کی آنکھوں میں سدا پھرتی رہتی ہیں۔ وطن کے گلی کوچے درودیوار انہیں یاد آتے ہیں۔ وطن کا ذرہ ذرہ انہیں پیارا ہوتا ہے اور جب کبھی کوئی وطن کا ساتھی آملتا ہے تو وہ اس سے وطن کی مستانہ ہواؤں، گھنگھور گھٹاؤں، باغوں اور سرووریحان سبھی کا حال پوچھتے ہیں وطن کے چاند ستارے، سرمست نظارے، ہری بھری فصلیں، پیڑوں کی چھاؤں دریاندی نالے رہ رہ کر اسے یاد آتے ہیں۔ پکار اٹھتا ہے
او دیس سے آنے والے بتا کس حال میں ہیں یاران وطن
تاریخِ انسانی پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوگا کہ عظیم لوگوں نے جو اپنے وطن کے لیے کارنامے سرانجام دیے ہیں، اُن کے اس عمل کے پیچھے وطن کی محبت کا جذبہ کارفرما تھا وہ وطن کی محبت کے فطری جذبہ سے سرشار تھے۔ ان کے دلوں میں قوم کا سچا درد اور وطن کی حقیقی محبت تھی۔ سکندراعظم نصف دنیا کو فتح کرنے والا جس کی فوج کا ایک ایک سپاہی وطن سے محبت کرنے والا ہے اسی لیے تو سکندر کو وطن واپسی پر مجبور کرتے ہیں۔ سچ ہے وطن کی قدرو ہی جانتا ہے جو وطن اور گھر سے دور ہے اسے ہی اپنے گھر کی صحیح قدر ہوتی ہے۔
وطن سے کہیں دور بے کس اسیر
نگہبان سے کہتا تھا وقت اخیر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ذرا چیر کر دیکھ میرا بدن
ہے لکھا ہوا دل پہ میرے وطن
علامہ اقبالؒ شروع میں جغرافیائی نظریہ وطنیت کے قائل تھے مگر بعد میں انہوں نے اسی بات پر زور دیا کہ مسلمان بحیثیت قوم کے ایک ہیں جہاں کہیں بھی مسلمان آباد ہیں دوسرے مسلمان کا بھائی ہے۔ ایک خدا ایک رسول ایک قرآن اور ایک کعبہ کے پیروکار ہونے کی بناپر سب مسلمان ایک ہی بندھن میں بندھے ہیں۔
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کا شغر
اس کے باوجود انہیں بھی اس مٹی سے پیار ہوتا ہے جہاں وہ اپنی زندگی کا بہترین حصہ گزارتے ہیں جو ان کی جائے پیدائش ہوتی ہے کہ اس خطہ زمین سے والہانہ لگاؤہونا فطری امر ہے۔دور کیوں جائیں سیداحمد بریلوی شاہ اسماعیل شہید اور سرسید نے ملک وقوم کی خاطر جس خلوص و محبت سے کام کیا سبھی جانتے ہیں پھر مولانا حالیؔ، محمد علی جوہرؔ اور علامہ اقبالؒ نے اس جذبے کو جس طرح ابھارا اور قائداعظم نے انتھک کوششوں اور بے پناہ اخلاص و محبت سے جس طرح ہمیں آزادی دلائی اور وطن عزیز کو حاصل کرنے کے لیے ہمارے بزرگوں نے جس طرح قربانیاں دیں یہ وطن کی محبت کی مثالیں نہیں تو اور کیا ہے۔ یہ سب ملک و ملت کی محبت کا جذبہ تھا کہ ایک فرد اپنا گھر بار دولت جائیداد اولاد سب کچھ قربان کرکے جب پاکستان پہنچتا ہے تو اس سرزمین کی مٹی کو چوم لیتا ہے 1965 کی جنگ میں جس طرح اپنے لہو سے وطن کے ذروں کو سیراب کیا یہ سب زندہ قوم کے نشانات ہیں اور وطن سے محبت کا عظیم ثبوت ہیں۔
اے وطن تو نے پکارا تو لہو کھول اٹھا
تیرے بیٹے ترے جانباز چلے آتے ہیں
حب وطن کے کچھ تقاضے بھی ہیں۔ حب الوطنی کا تقاضا ہے کہ وطن سے محبت کا اظہار صرف زباں اور گفت گو کی حد تک نہ ہو بلکہ عمل اور کردار سے بھی ثابت کریں کہ ہمیں وطن سے محبت ہے۔ وطن سے محبت کا تقاضا ہے کہ اپنے ہم وطنوں کے دکھ درد میں شریک ہوں۔ ان کی غمی خوشی میں شامل ہوکر یکجہتی اور اتحاد کا مکمل ثبوت دیں۔ امیر غریب چھوٹے بڑے سب کی عزت نفس کا خیال رکھیں۔ ایک دوسرے کو اچھی اور کارآمد باتیں بتائیں۔ غریبوں اور حاجت مندوں کی حاجت پوری کریں۔ جس شعبہ حیات سے بھی تعلق ہو محنت اور تن دہی سے ادا کریں۔ اپنے فرائض جانفشانی سے سرانجام دیں حقوق کی راہ میں اگر وطن آڑے آئے تو ان حقوق سے دست بردار ہونے میں بھی ذرا برابر پس و پیش نہ کریں۔ استاد بچوں کو مکمل لگن اور دیانتداری سے تعلیم دیں۔ والدین ان کی تربیت کا حق ادا کریں کہ انہی بچوں نے تو آگے بڑھ کر اس ملک کی باگ ڈور سنبھالنا ہے۔ محنت کش اپنے فرض کو ایمانداری سے نبھائے اور صنعت کار ملک و ملت کے لیے بغیر ملاوٹ کے بہترین مصنوعات تیار کریں اپنے ملکی وسائل کو کام میں لائیں۔ عوام کا فرض ہے کہ اپنے ملک کی تیار کردہ مصنوعات کو استعمال کریں کہ وطن کی مٹی ہی سب کی شناخت اور پہچان ہے۔
میری مٹی نے دیا تھا مجھ کو میرا رنگ و روپ
ڈھالتی جاتی ہے دنیا اپنی صورت پر مجھے
وطن سے محبت اور لگاؤکا تقاضا ہے کہ ملک کا ہر شہری وطن کا پاسباں ہو، محافظ ہو، رکھوالا اور نگہبان ہو اور سچا سپاہی ہو۔ اپنے پیارے ملک پاکستان کی بقا، تعمیر و ترقی اور خوشحالی کے لیےسبھی شہری خاص طور پر نوجوانوں کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا چاہیے۔ ملک کی دفاعی بلکہ معاشی، اخلاقی، سیاسی ، مذہبی ، تعلیمی اور معاشرتی ترقی کے لیے ہر وقت سرگرم رہنا چاہیے۔ ہر شہری پر لازم ہے کہ وطن کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کرے۔ اپنے ذاتی اور انفرادی مفادات کو ملکی اور اجتماعی مفادات پر قربان کر دے کیونکہ
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ
حب وطن کا تقاضا ہے کہ ہر شہری اپنے مثبت انداز اور فکروعمل سے ملک و وطن کی یکجہتی و اتحاد اور ترقی کا باعث ہیں۔ کوئی ایسی حرکت نہ کرے جس سے دشمن فائدہ اٹھاسکے۔ کیونکہ سیاسی انتشار اور بدنظمی ملک کو کھوکھلا اور کمزور کردیتی ہے۔ ہر شہری پر لازم ہے کہ خلوص دل سے وطن میں سیاسی استحکام کے لیے کوشاں رہے۔ اس سے ہی ملک کی عظمت، عزت اور رفعت کے تمام مدارج بہ کمال سرعت طے ہوتے ہیں۔
اقتصادی لحاظ سے بھی وطن کے مجموعی مفاد کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ ذاتی فائدہ انسان کو خود غرض بنادیتا ہے۔ تخریب پسند عناصر سے ہوشیار رہنا چاہیے۔ مستحکم اور فعال معاشرے کے قیام کے لیے بلند سماجی قدروں کی تہذیب اور ارتقا کے لیے بھی دل و جان سے سرگرم رہنا چاہیے۔ ان سب کے تبلیغ وتلقین کا موثر ذریعہ فنون لطیفہ ہے چنانچہ ثقافت کے تمام شعبوں میں اظہار و ابلاغ کے ایسے وسائل برتے جائیں جن سے حب الوطنی کے جذبات فروغ پائیں وطن دشمن عناصر کی حوصلہ شکنی ہو ایسی تحریرو تقریر کا سختی سے محاسبہ کیا جائے جس سے وطن دشمنی کا ہلکا سا بھی شائبہ ہو۔ وطن کی عظمت کے لیے ہمہ وقت اور ہر جگہ مصروف عمل رہنا چاہیے۔ خوش قسمتی سے ہمارے ملک میں حب الوطنی کی درخشاں مثالیں تحریک آزادی اور حاصل آزادی کے بعد بھی موجود ہیں۔
جنت سے کہیں بڑھ کے حسیں میرا وطن ہے
ہم سر ہے جو فلک کی وہ زمیں میرا وطن ہے
آزادی کی خاطر ہمارے اسلاف نے جو قربانیاں دیں وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ خدا کا شکر ہے کہ ہماری یہ مملکت خداداد بین الاقوامی حیثیت سے بڑی مضبوط اور مستحکم ہوچکی ہے۔ ترقی کی راہ پر تیزی سے گامزن ہے۔ ہمیں آزادی کی اس شمع کو روشن رکھنا ہے کہ وطن تو محبوب کی طرح ہوتا ہے عاشق محبوب کے لیے کیا کچھ نہیں کرتا ہمیں بھی عاشق صادق کا کردار ادا کرنا ہے۔ ہمیں ہر لحاظ سے اپنے وطن کو اقوام عالم کے برابر بلکہ ان سے بھی بڑھ کر دکھانا ہے۔
اگر ایشیاء کا مرد خفتہ (چین) چند سالوں میں جذبہ حب الوطنی کے تحت ترقی یافتہ اقوام میں سر فہرست آسکتا ہے تو ہمارے وطن میں کس چیز کی کمی ہے کون سی معدنیات ہے جو یہاں نہیں اور کون سے وسائل ہیں جو ہمیں حاصل نہیں۔ قدرت نے ہماری سرزمین میں ہر قسم کی دولت نہاں رکھی ہے ضرورت ہے تو ہمارے سچے مسلمان اور پکے پاکستانی بننے کی کہ حب وطن نصف ایمان ہے اور بقول قائد روح کی تازگی تین تصورات سے عبارت ہے عشق ایمان اور حب الوطنی۔
عشق آزادی بہار زیست کا سامان ہے
عشق میری جان آزادی مرا ایمان ہے
عشق پہ کردوں فدا میں اپنی ساری زندگی
اور آزادی پہ مرا عشق بھی قربان ہے
