Essay On Computer In Urdu

Essay On Computer In Urdu

Share With Others

کمپیوٹر پر ایک مضمون | Essay On Computer In Urdu

تعارف

کمپیوٹر کے لفظی معنیٰ ہیں ‘حساب کرنے والا‘، لیکن اس کا کام صرف حساب کتاب کرنا ہی نہیں ہے بلکہ یہ ایک ایسی الیکٹرانک مشین ہے جو الفاظ اور ہندسوں کی شکل میں بجلی کی طرح تیز رفتاری سے بہت کم وقت میں ہمارے سامنے مطلوبہ معلومات پیش کردیتی ہے۔ یہی نہیں بلکہ یہ ایک ایسا آلہ ہے جو معلومات کو ہمیشہ کے لیے محفوظ بھی کر لیتا ہے تاکہ وقتِ ضرورت کام آئے۔ آج کے تیز رفتار دور میں کمپیوٹر زندگی کا ایک اہم ترین حصہ بن گیا ہے۔ تعجب نہیں کہ عنقریب کمپیوٹر سے ناواقف لوگوں کو کمتر سمجھا جانے لگے گا۔ کمپیوٹر کی تازہ ترین ایجاد نے لوگوں کو اس حد تک حیرت میں ڈال دیا ہے کہ لوگ اسے جادوئی مشین کہتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ کمپیوٹر کا موجد ‘اباکس‘ ہے، لیکن اس آلہ کو مکمل شکل دینے والا امریکہ کا “ہارڈائن” نامی شخص ہے۔ آج کل کمپیوٹر ہوائی اڈوں، ریلوے اسٹیشنوں، صنعتی اداروں، جنگی مہموں اور ہر بڑے دفاتر میں کام لیا جا رہا ہے۔ لوگوں کا خیال ہے کہ کمپیوٹر ایک انتہائی پیچیدہ مشین ہے، حالانکہ ایسی بات نہیں ہے۔ کمپیوٹر بے جان، بے حرکت اور سادہ سی مشین ہے۔ پرائمری اسکول کا طالب علم بھی اسے استعمال کر سکتا ہے۔ کمپیوٹر ایک ایسا ذہن ہے جس کا حافظہ بہت مضبوط ہوتا ہے۔ درمیانہ سائز کا کمپیوٹر ایک سیکنڈ میں دس لاکھ احکامات پر عمل کرتا ہے، جبکہ ایک ذہین اور تندرست آدمی کو ان کاموں کے کرنے میں ایک سال سے زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔

کمپیوٹر کی اقسام

کمپیوٹر تین طرح کے ہوتے ہیں:

  1. مین فریم (Mainframe): بڑے اداروں اور کمپنیوں کے لیے، جہاں ہزاروں صارفین ایک ساتھ استعمال کرتے ہیں۔ یہ بہت طاقتور اور مہنگے ہوتے ہیں۔
  2. منی کمپیوٹر (Mini Computer): درمیانے سائز کے اداروں کے لیے، جیسے سکول یا چھوٹی کمپنیاں۔ یہ مین فریم سے سستے اور چھوٹے ہوتے ہیں۔
  3. مائیکرو کمپیوٹر (Micro Computer): ذاتی استعمال کے لیے، جیسے ڈیسک ٹاپ، لیپ ٹاپ یا ٹیبلیٹ۔ یہ سب سے عام اور سستے ہیں۔

کمپیوٹر کے کام اور استعمال

آج کے سائنسی دور میں کمپیوٹر بہت سے کام انجام دیتا ہے، مثلاً:

  • تعلیم دینا: آن لائن کورسز، ای لرننگ اور طلبہ کی مدد۔
  • پیغام رسانی: ای میل، سوشل میڈیا اور ویڈیو کالز۔
  • عمارتوں کا نقشہ بنانا: آرکیٹیکچر اور انجینئرنگ میں CAD سافٹ ویئر۔
  • امراض کا پتا لگانا: میڈیکل ڈائیگنوسس اور تحقیق۔
  • کتابوں کے ترجمے اور کتابت: گوگل ٹرانسلیٹ اور ٹائپنگ سافٹ ویئر۔
  • ریڈیو، ٹیلی فون، ٹیلی ویژن، ریل گاڑیوں اور ہوائی جہازوں کا چلانا: کنٹرول سسٹم اور آٹومیشن۔

ایسا لگتا ہے کہ کمپیوٹر چند سالوں میں ہمارے سب کاموں کو انجام دینے لگے گا۔ ہمیں اپنے گھر میں ملازم رکھنے کی بھی ضرورت نہیں ہوگی۔ لیکن یہ یاد رکھیں کہ یہ عجوبہ کتنی ہی ترقی کیوں نہ کر جائے، ہر زمانے میں اسے حکم دینے یا کام لینے کے لیے انسان کی ہی ضرورت ہوگی۔ کمپیوٹر کو طرح طرح کے کاموں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ کوئی اسے تحقیقی کاموں کے لیے استعمال کرتا ہے تو کوئی کاروبار کے لیے۔ کوئی اسے حساب کتاب کے لیے استعمال کرتا ہے تو کوئی ڈیزائننگ کے لیے۔ کوئی اس سے ڈی ٹی پی کا کام کرتا ہے تو کوئی اس پر انٹرنیٹ کے ذریعے دنیا بھر کی جانکاری حاصل کرتا ہے۔ موجودہ دور میں تو اس سے ٹی وی اور ویڈیو گیمز کی طرح بھی استعمال میں لایا جا رہا ہے۔ ایک چھوٹی سی الیکٹرانک مشین میں بے انتہا خصوصیات چھپی ہوئی ہے۔ بس انسان میں کتنی صلاحیت ہے اور وہ اس سے کیا کام نکال سکتا ہے، یہ اس پر منحصر کرتا ہے۔ اتنی زیادہ کام کرنے کی صلاحیت والی یہ مشین ایک جادو کے پٹارے کی مانند ہے جسے ہر طرح کے کاموں کے لیے استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔

کمپیوٹر کی خصوصیات

موجودہ تیز رفتار دور میں ہر مسئلے یا مشکل کا فوری طور پر حل ہونا بہت ضروری ہوتا ہے۔ بعض کاموں میں بہت سے مشکل حسابات کرنے ہوتے ہیں اور بعض لوگوں کو معلومات کا ذخیرہ مستقبل میں استعمال کرنے کے لیے محفوظ کرنا ہوتا ہے۔ کمپیوٹر نہایت تیز رفتاری سے کام کرتا ہے۔ اس کا دماغ یعنی سی پی یو ایک سیکنڈ میں دس ملین یعنی ایک کروڑ حروف ایک حصے سے دوسرے حصے میں منتقل کر سکتا ہے اور ایک سیکنڈ میں ریاضی کے تین ملین یعنی 30 لاکھ سوالات حل کر سکتا ہے۔ وہ بڑی مقدار میں معلومات اور تفصیلات مستقبل میں استعمال کے لیے اپنی یادداشت میں محفوظ بھی رکھ سکتا ہے۔ تیز رفتاری کمپیوٹر کی سب سے بڑی خوبی ہے۔

ہر مسئلے کا حل فوری اور غلطیوں سے پاک ہونا ضروری ہوتا ہے۔ کمپیوٹر کیونکہ مشین ہے اس لیے وہ وہی کام انجام دیتا ہے جس کی اسے ہدایت دی گئی ہو۔ کمپیوٹر اپنے طور پر کوئی غلطی سر انجام نہیں دیتا۔ اگر کمپیوٹر ہمیں غلط جواب یا اطلاع دیتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اسے غلط معلومات یا ہدایات بہم پہنچائی گئی ہیں۔ ورنہ کمپیوٹر کسی بھی صورت میں غلط اطلاع نہیں دے گا۔

کمپیوٹر کو ایک فہرست کے تحت ہدایات دی جاسکتی ہیں۔ اگر ہدایات ایک مرتبہ مرتب کرکے کمپیوٹر میں فیڈ کر دی جائیں تو وہ خودبخود آپ کی ہدایت پر بغیر کسی مدد کے عمل کر سکتا ہے۔ مثال کے طور پر آپ تین الگ الگ فائلوں کو پرنٹ کرنا چاہتے ہیں۔ آپ ایک بار میں ہی تینوں کو پرنٹ کرنے کا حکم دے سکتے ہیں۔ کمپیوٹر سے منسلک پرنٹر فہرست کے مطابق پرنٹ کرے گا۔

کمپیوٹر بغیر آرام کیے ہوئے ایک لمبے وقت تک ایک ہی کام کو بار بار دہرا سکتا ہے۔ نہ ہی اس کا موڈ خراب ہوتا ہے اور نہ ہی یہ تھکتا ہے اور نہ ہی یہ بور ہوتا ہے۔ کمپیوٹر چونکہ ایک مشین ہے اس لیے وہ کوئی شکایت بھی نہیں کرتی۔ اس لیے diligence کمپیوٹر کی ایک اہم خصوصیت ہے۔

کمپیوٹر مختلف جگہوں پر متعدد مسائل کے حل کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ موجودہ دور میں کمپیوٹر کا استعمال مختلف میدانوں میں کیا جانے لگا ہے، مثلاً سائنس، تعلیمات، ریسرچ، فائننس، دفاتر وغیرہ۔ کیونکہ کمپیوٹر بیک وقت متعدد کاموں کو انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے اس لیے اسے versatile (ہمہ گیر) مشین کہا جاتا ہے۔

کمپیوٹر کے فوائد اور نقصانات

کمپیوٹر کی وجہ سے بے روزگار لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے، لیکن اس کی مقبولیت اور اہمیت سے کوئی انکار بھی نہیں کرسکتا ہے۔ فوائد میں تیز کام، درست نتائج، معلومات کی آسانی سے رسائی اور تفریح شامل ہیں۔ نقصانات میں بے روزگاری، صحت کے مسائل (جیسے آنکھوں کی کمزوری) اور سائبر کرائم۔

اختتام

کمپیوٹر ایک انقلاب ہے جو انسانی زندگی کو بدل رہا ہے۔ یہ نہ صرف کام آسان کرتا ہے بلکہ نئی امکانات بھی کھولتا ہے۔ ہمیں اسے ذمہ داری سے استعمال کرنا چاہیے تاکہ اس کے فوائد حاصل ہوں اور نقصانات سے بچا جا سکے۔ اللہ ہمیں سائنسی ترقی کی توفیق دے۔ آمین!


Share With Others

اس موضوع پر مزید پڑھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *