Doctor Essay In Urdu
ڈاکٹر پر ایک مکمل مضمون
(ایک اچھے ڈاکٹر کی شخصیت، ذمہ داریاں اور معاشرتی حیثیت)
ڈاکٹر وہ عظیم ہستی ہے جو اللہ کے بعد انسان کی جان بچانے والا سمجھا جاتا ہے۔ جب انسان موت و زندگی کی کشمکش میں ہوتا ہے، درد سے تڑپ رہا ہوتا ہے، تو ڈاکٹر ہی وہ شخص ہوتا ہے جو امید کی کرن بن کر آتا ہے۔ ڈاکٹری کا پیشہ محض ایک نوکری نہیں، بلکہ انسانیت کی خدمت کا مقدس فریضہ ہے۔
ڈاکٹر کی شخصیت کی خوبیاں
ایک اچھا ڈاکٹر درج ذیل صفات کا مالک ہوتا ہے:
- علم و مہارت ڈاکٹری ایک انتہائی مشکل اور ذمہ داری والا پیشہ ہے۔ اس میں برسوں کی محنت، راتوں کی جاگتی آنکھیں اور مسلسل مطالعہ درکار ہوتا ہے۔
- شفقت و ہمدردی سرد دل اور بے حس ڈاکٹر کبھی اچھا ڈاکٹر نہیں بن سکتا۔ مریض کو اپنے درد میں تنہا محسوس نہیں ہونا چاہیے۔ ڈاکٹر کی ایک مسکراہٹ، دو شفقت بھری باتیں مریض کو آدھی بیماری سے شفایاب کر دیتی ہیں۔
- ایمانداری اور دیانتداری مریض کی جان کے ساتھ کھیلنا سب سے بڑا گناہ ہے۔ اچھا ڈاکٹر غیر ضروری ٹیسٹ، مہنگی دوائیاں اور آپریشنز سے گریز کرتا ہے۔
- صبر و تحمل مریض اور لواحقین بعض اوقات جذباتی ہو جاتے ہیں، گالیاں دیتے ہیں، الزام لگاتے ہیں۔ ڈاکٹر کو صبر سے کام لینا چاہیے۔
- خدمت کا جذبہ پیسے سے زیادہ انسانیت کو ترجیح دینا ہی ایک سچے ڈاکٹر کی پہچان ہے۔
ڈاکٹر کے فرائض
- مریض کی بیماری کی درست تشخیص کرنا
- بروقت اور صحیح علاج تجویز کرنا
- غریب اور مستحق مریضوں کا مفت یا کم فیس میں علاج کرنا
- رات کے کسی بھی پہر مریض کے پاس پہنچنا
- وبائی امراض سے بچاؤ کے لیے لوگوں کو آگاہ کرنا
- قدرتی آفات، حادثات اور جنگ کے دوران سب سے آگے بڑھ کر خدمت کرنا
معاشرے میں ڈاکٹر کی حیثیت
مسلمانوں کے نزدیک ڈاکٹر کو ”حکیمِ امت“ اور ”مسیحا“ کا درجہ دیا جاتا ہے۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ”اللہ نے ہر بیماری کے ساتھ اس کا علاج بھی پیدا کیا ہے۔“ لہٰذا ڈاکٹر دراصل اللہ کا نمائندہ بن کر اس علاج کو مریض تک پہنچاتا ہے۔
بدقسمتی سے آج کل کچھ ڈاکٹر پیسے کے لالچ میں پیشے کی حرمت بھول جاتے ہیں، مہنگی دوائیاں لکھتے ہیں، غیر ضروری آپریشن کرتے ہیں، اور پرائیویٹ کلینکس میں غریب مریض کو دروازے سے واپس کر دیتے ہیں۔ ایسی حرکتوں سے نہ صرف پیشے کی عظمت مجروح ہوتی ہے بلکہ انسانیت شرمسار ہوتی ہے۔
لیکن الحمدللہ! آج بھی ہمارے معاشرے میں لاتعداد ڈاکٹرز ایسے ہیں جو دن رات غریبوں کے مسیحا بنے پھرتے ہیں، دیہاتوں میں مفت کیمپ لگاتے ہیں، رات کو 3 بجے بھی مریض کے گھر پہنچ جاتے ہیں۔ یہی ڈاکٹرز ہیں جو اس پیشے کا سر فخر سے بلند کیے ہوئے ہیں۔
نتیجہ
ڈاکٹر کا پیشہ دولت کمانے کا ذریعہ نہیں، بلکہ انسانیت کی خدمت کا عظیم ذریعہ ہے۔ جو شخص اسے صرف پیسہ کمانے کا کاروبار سمجھے گا، وہ کبھی اچھا ڈاکٹر نہیں بن سکتا۔ سچا ڈاکٹر وہی ہے جس کے دل میں دردِ انسانیت ہو، جس کی آنکھوں میں مریض کے لیے آنسو ہوں، اور جو درد کی آواز سن کر بے چین ہو جائے۔
اے اللہ! ہمارے تمام ڈاکٹروں کو سچی انسانیت کی خدمت کا جذبہ عطا فرما، ان کے ہاتھوں کو شفا کا ذریعہ بنا، اور ہمیں ایسے نیک، ایماندار اور ہمدرد ڈاکٹر عطا فرما جو واقعی ”زندگی کے فرشتے“ کہلانے کے مستحق ہوں۔ آمین۔
