مجاز مرسل کی تعریف، اقسام اورمثالیں
مجاز مرسل کی تعریف، اقسام، مثالیں اور اردو ادب میں استعمال
اردو ادب میں علم بیان کے اہم ابواب میں سے ایک مجاز مرسل (Majaz Mursal) ہے۔ یہ ایک ایسی ادبی صنعت ہے جو لفظ کو اس کے حقیقی معنی کی بجائے متعلقہ یا قریبی معنی میں استعمال کرتی ہے۔ اس سے بات میں نرمی، خوبصورتی اور اختصار آتا ہے۔ آج ہم مجاز مرسل کی تعریف، اس کی 6 اہم صورتیں، مثالیں اور دیگر صنائع سے فرق تفصیل سے دیکھیں گے۔
یہ مضمون Matric, Inter, BA اردو، مقابلاتی امتحانات اور ادب کے طلبہ کے لیے خاص طور پر مفید ہے۔
مجاز مرسل کیا ہے؟ (Definition of Majaz Mursal)
مجاز مرسل عربی لفظ ہے جس کا مطلب ہے “بغیر تعلقِ مشابہت کے استعمال”۔
ادبی تعریف: جب کوئی لفظ اپنے حقیقی معنی کی بجائے متعلقہ یا قریبی معنی میں استعمال کیا جائے (جہاں مشابہت نہ ہو بلکہ کوئی اور تعلق ہو جیسے جزو و کل، ظرف و مظروف وغیرہ)، تو اسے مجاز مرسل کہتے ہیں۔
سادہ الفاظ میں: لفظ کو اس کے اصل معنی کی جگہ اس سے متعلقہ چیز کے لیے استعمال کرنا، جیسے “بھارت جیت گیا” کہنے سے مراد بھارتی ٹیم جیت گئی۔
یہ علم بیان کا تیسرا اہم باب ہے (تشبیہ اور استعارہ کے بعد)۔
مجاز مرسل کی اہم صورتیں (6 Sooraten – Forms)
عام طور پر مجاز مرسل کی 6 اہم صورتیں بیان کی جاتی ہیں:
- جزو کا استعمال کل کے لیے (Part for Whole – جزء کے لیے کل) مثال: “بھارت نے میچ جیت لیا” → مراد بھارتی ٹیم نے جیتا۔
- کل کا استعمال جزو کے لیے (Whole for Part – کل کے لیے جزء) مثال: “یہ گھر روشنیاں کر رہا ہے” → مراد گھر کے بچے خوش ہیں یا روشنیاں کر رہے ہیں۔
- ظرف کا استعمال مظروف کے لیے (Container for Contents – ظرف کے لیے مظروف) مثال: “میں نے پورا گلاس پی لیا” → مراد گلاس میں موجود پانی/دودھ پی لیا۔
- مظروف کا استعمال ظرف کے لیے (Contents for Container – مظروف کے لیے ظرف) مثال: “یہ چائے بہت گرم ہے” → مراد کپ میں موجود چائے گرم ہے (کپ کو چائے کہا)۔
- علامت کا استعمال معنی کے لیے (Sign for Meaning – علامت کے لیے معنی) مثال: “اس نے سفید جھنڈا لہرایا” → مراد ہار مان لیا۔
- سبب کا استعمال مسبب کے لیے یا مسبب کا استعمال سبب کے لیے (Cause for Effect / Effect for Cause) مثال: “اس کی تلوار سے بہت خون بہا” → مراد جنگ میں بہت لوگ مارے گئے۔
مجاز مرسل کی مشہور مثالیں (شاعری اور روزمرہ سے)
- روزمرہ کی مثالیں
- “پاکستان نے سیریز جیت لی” → پاکستانی کرکٹ ٹیم
- “گھر والے رو رہے ہیں” → گھر کے افراد
- “میں نے دو صفحے پڑھ لیے” → کتاب کے دو صفحے
- شاعری سے مثالیں
- “ہندوستان کی مٹی میں کھیلتے ہیں ہم” → ہندوستان کی سرزمین/لوگ
- “یہ شمع جل رہی ہے” → شمع کے گرد جمع لوگ یا محفل
- کلاسیکی شاعری غالب یا میر کے اشعار میں اکثر “دل” کو “محبوب” یا “عشق” کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جو مجاز مرسل کی شکل میں آتا ہے۔
مجاز مرسل اور دیگر صنائع سے فرق
| صنعت | خصوصیت | مجاز مرسل سے فرق |
|---|---|---|
| تشبیہ | دو چیزوں میں مشابہت | مشابہت ضروری، تعلق نہیں |
| استعارہ | ایک چیز کو دوسری کہنا (مشابہت پر) | مشابہت کی بنیاد پر، مجاز مرسل میں مشابہت نہیں |
| کنایہ | اشارے سے بات کرنا | پوشیدہ اشارہ، لفظ بدلنا نہیں |
| مجاز مرسل | متعلقہ معنی میں لفظ استعمال (غیر مشابہت) | تعلق جزو-کل، ظرف-مظروف وغیرہ پر مبنی |
امتحانات کے لیے اہم ٹپس
- تعریف میں “مشابہت کے بغیر متعلقہ معنی” یا “جزو و کل، ظرف و مظروف” ضرور لکھیں
- 6 صورتیں یاد رکھیں اور ہر ایک کی مثال دیں
- فرق پوچھا جاتا ہے: مجاز مرسل بمقابلہ استعارہ/تشبیہ
- کم از کم 4–5 مثالیں (روزمرہ + شاعری) دیں
مجاز مرسل اردو زبان اور شاعری کو اختصار، خوبصورتی اور روزمرہ کی سادگی دیتا ہے۔ یہ بات کو سیدھا نہ کہہ کر متعلقہ لفظ سے ادا کرنے کا فن سکھاتا ہے۔ غالب، میر، فیض اور جدید نثر میں اس کا خوبصورت استعمال ملتا ہے۔
اگر آپ اردو ادب کی گہرائی میں جانا چاہتے ہیں تو adabiduniya.com پر دیگر صنائع (حسنِ تعلیل، ایہام، کنایہ وغیرہ) کے مضامین بھی پڑھیں۔
