تندرستی ہزار نعمت ہے مضمون اردو

تندرستی ہزار نعمت ہے مضمون اردو

Share With Others

تندرستی ہزار نعمت ہے

تندرستی کا لفظ دو الفاظ “تن” اور “درستی” سے مل کر بنا ہے۔ “تن” کا مطلب جسم اور “درستی” کا مطلب صحیح اور درست حالت۔ لہٰذا تندرستی سے مراد جسم کا مکمل طور پر صحیح اور سالم ہونا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمتوں میں سے ایک ہے۔ ایک مشہور کہاوت ہے کہ “تندرستی ہزار نعمت ہے” اور یہ بالکل درست ہے۔ جس شخص کو صحت کی یہ دولت نصیب ہو، اسے گویا دنیا کی ہر خوشی اور راحت حاصل ہو جاتی ہے۔

اللہ تعالیٰ کی نعمتیں بے شمار ہیں، جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہے: “وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَتَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَا” یعنی اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گننا چاہو تو گن نہیں سکو گے۔ ان نعمتوں میں سب سے اہم صحت اور تندرستی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “دو نعمتیں ایسی ہیں جن کے بارے میں اکثر لوگ دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں: صحت اور فارغ وقت۔” (صحیح بخاری)۔ صحت مند شخص خوش و خرم زندگی گزارتا ہے، وہ محنت کر کے رزق کماتا ہے، عبادت کرتا ہے اور دنیا کی لذتوں سے فائدہ اٹھاتا ہے۔

اس کے برعکس، اگر صحت نہ ہو تو دنیا کی کوئی دولت اور آسائش کام نہیں آتی۔ امیر سے امیر شخص بھی اگر بیمار ہو تو اس کی دولت اس کے لیے بوجھ بن جاتی ہے۔ وہ لذیذ کھانوں کا مزہ نہیں لے سکتا، سفر نہیں کر سکتا اور نہ ہی آرام سے سو سکتا ہے۔ مرزا اسد اللہ خان غالب نے خوب کہا ہے:

تنگدستی اگرچہ ہو غالب

تندرستی ہزار نعمت ہے

یعنی غربت تو برداشت کی جا سکتی ہے، لیکن بیماری نہیں۔ ایک بیمار شخص کی زندگی عذاب بن جاتی ہے۔ وہ دوائیوں، ڈاکٹروں اور ہسپتالوں کے چکر کاٹتا رہتا ہے، اور دنیا کی کوئی نعمت اسے خوش نہیں کر سکتی۔

تندرستی برقرار رکھنے کے لیے کچھ اصولوں پر عمل کرنا ضروری ہے۔ سب سے پہلے متوازن غذا کا استعمال۔ تازہ پھل، سبزیاں، دالیں اور مناسب مقدار میں گوشت وغیرہ کھانا چاہیے۔ زیادہ تلی ہوئی اور جنک فوڈ سے پرہیز کریں۔ روزانہ ورزش کریں، جیسے صبح کی سیر، دوڑ یا جم میں ورزش۔ اسلام بھی تندرستی کا خاص خیال رکھتا ہے۔ نماز میں رکوع و سجود سے جسم کو اچھی ورزش ملتی ہے، وضو سے پاکیزگی اور روزہ سے معدہ کی اصلاح ہوتی ہے۔

نیند بھی مکمل لیں، کم از کم ۷-۸ گھنٹے۔ تناؤ سے بچیں اور مثبت سوچ رکھیں۔ صفائی کا خاص اہتمام کریں، کیونکہ “صفائی نصف ایمان ہے”۔

آج کے دور میں لوگ پیسے کمانے کی دوڑ میں صحت کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ دیر رات تک کام، غلط خوراک اور بیٹھے رہنے کی عادت سے دل کی بیماریاں، موٹاپا اور ذیابیطس جیسی بیماریاں بڑھ رہی ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ صحت کی قدر کریں اور اسے برقرار رکھنے کی کوشش کریں۔

آخر میں یہی کہوں گا کہ تندرستی واقعی ہزار نعمت ہے۔ اس کی قدر صحت میں رہتے ہوئے کریں، کیونکہ بیماری میں قدر کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں صحت و عافیت عطا فرمائے اور اس نعمت کی قدر کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔


Share With Others

اس موضوع پر مزید پڑھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *