ماں باپ کے ساتھ سلوک مضمون اردو
ماں باپ کے ساتھ سلوک
ماں باپ اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسان کو عطا کی جانے والی سب سے بڑی نعمت ہیں۔ وہ ہماری زندگی کے وہ ستون ہیں جن پر ہماری شخصیت، تربیت اور کامیابی کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ ماں نو ماہ تک پیٹ میں رکھ کر، درد سہہ کر ہمیں جنم دیتی ہے، اور باپ دن رات محنت کر کے ہماری پرورش کرتا ہے۔ ان کی قربانیاں، محبتیں اور دعائیں ایسی ہیں جو کسی اور سے حاصل نہیں ہو سکتیں۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا ہے اور اسے اپنی عبادت کے بعد سب سے اہم فریضہ قرار دیا ہے۔
سورۃ الإسراء میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: “وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا” یعنی تیرے رب نے فیصلہ کر دیا ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرو۔ اس آیت سے واضح ہے کہ توحید کے بعد سب سے بڑا حق والدین کا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے بھی والدین کی اطاعت اور خدمت کو جنت کا راستہ قرار دیا۔ ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “ماں باپ کی رضا میں اللہ کی رضا ہے اور ماں باپ کی ناراضی میں اللہ کی ناراضی ہے۔” (ترمذی)
ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کئی شکلوں میں ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ان کی فرمانبرداری اور اطاعت۔ جب تک وہ شریعت کے خلاف کوئی حکم نہ دیں، ان کی ہر بات ماننی چاہیے۔ ان سے نرم اور پیار بھرا لہجہ استعمال کریں، کبھی اونچی آواز میں بات نہ کریں۔ قرآن میں ارشاد ہے: “إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِندَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُل لَّهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا” یعنی اگر تمہارے پاس ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں “اف” بھی نہ کہو، نہ جھڑکو اور ان سے ادب سے بات کرو۔
بڑھاپے میں والدین کو سب سے زیادہ ہماری ضرورت ہوتی ہے۔ اس وقت وہ کمزور ہو جاتے ہیں، ان کی طبیعت نازک ہوتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ان کی خدمت کریں، ان کی ضروریات پوری کریں، ان کے ساتھ وقت گزاریں اور ان کی بات سنیں۔ آج کے دور میں لوگ نوکری، کاروبار اور اپنی ذاتی زندگی کی مصروفیات میں الجھ کر والدین کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ کچھ تو انہیں بوڑھوں کے گھروں میں چھوڑ دیتے ہیں، جو انتہائی غلط اور ظالمانہ عمل ہے۔ اسلام میں والدین کی خدمت کو جہاد سے بھی افضل قرار دیا گیا ہے۔
ایک صحابی نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: سب سے بڑا نیک عمل کون سا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: “نماز وقت پر ادا کرنا۔” پھر پوچھا: اس کے بعد؟ فرمایا: “ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک۔” (بخاری و مسلم)
والدین کے ساتھ اچھے سلوک کے فوائد بے شمار ہیں۔ ان کی دعائیں قبول ہوتی ہیں، جو اولاد کی کامیابی کا سبب بنتی ہیں۔ جو اولاد والدین کی خدمت کرتی ہے، اللہ اسے دنیا و آخرت میں کامیابی عطا فرماتا ہے۔ اس کے برعکس، جو والدین سے بدسلوکی کرتے ہیں، ان کی زندگی میں برکت نہیں رہتی، اور آخرت میں سخت عذاب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
آج کی نوجوان نسل کو چاہیے کہ مغربی تہذیب کی اندھی تقلید چھوڑ کر اسلامی تعلیمات پر عمل کرے۔ والدین کو تحائف دیں، ان کے ساتھ سفر کریں، ان کی صحت کا خیال رکھیں اور انہیں تنہا نہ چھوڑیں۔ اگر والدین انتقال کر جائیں تو بھی ان کے لیے دعا کریں، صدقہ دیں اور ان کے دوستوں کا احترام کریں۔
آخر میں یہی کہوں گا کہ ماں باپ جنت کے دروازے ہیں۔ ان کے ساتھ حسن سلوک کرکے ہم جنت حاصل کر سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے والدین کی صحیح معنوں میں خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ان کی دعاؤں سے ہماری دنیا و آخرت سنوار دے۔ آمین۔
