Speech On Labour Day In Urdu
یوم مزدور پر اردو تقریر
محترم پرنسپل صاحب، معزز اساتذہ کرام، مہمانان گرامی، مزدور بھائیوں اور میرے پیارے ہم جماعتو!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
آج 1 مئی کا مقدس دن ہے، جو دنیا بھر میں یوم مزدور کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یہ دن محنت کش طبقے کی قربانیوں، جدوجہد اور حقوق کی علامت ہے۔ ہم سب اکٹھے ہوئے ہیں تاکہ ان ہاتھوں کا شکریہ ادا کریں جنہوں نے اپنے پسینے سے دنیا کو سنوارا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ ہم اس موقع پر موجود ہیں، جہاں ہم مزدور کی اہمیت، ان کی مشکلات اور ان کے حقوق پر بات کریں گے ۔

یوم مزدور کی تاریخی پس منظر
حاضرین کرام! یوم مزدور کی بنیاد 1886 میں امریکہ کے شہر شکاگو میں رکھی گئی جب مزدوروں نے 8 گھنٹے کے کام کا حق مانگا۔ اس تحریک میں ہزاروں مزدور شریک ہوئے، لیکن پولیس کی فائرنگ سے درجنوں شہید ہو گئے۔ اس خون آلود دن کی یاد میں 1889 میں پیرس میں انٹرنیشنل ورکرز ایسوسی ایشن نے 1 مئی کو یوم مزدور قرار دیا۔ آج دنیا کے 80 سے زائد ممالک اس دن کی تعطیل مناتے ہیں۔ پاکستان میں بھی 1947 سے یہ دن منایا جاتا ہے، جہاں مزدوروں کی جدوجہد قومی ترقی کا حصہ ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ترقی کی بنیاد محنت ہے، نہ کہ سرمایہ ۔
مزدور وہ ہیرو ہیں جو خاموشی سے کام کرتے ہیں۔ وہ سڑکیں بناتے ہیں، عمارتیں کھڑی کرتے ہیں، کھیتوں میں محنت کرتے ہیں اور کارخانوں میں مشینیں چلاتے ہیں۔ اسلام میں بھی مزدور کی قدر ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خُذُوا حَقَّکُمْ مِنْ أَجْلِ الْعَمَلِ یعنی کام کا حق ادا کرو۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ محنت کرنے والے کو اجر ملے گا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ مزدوروں کے حقوق کا خاص خیال رکھتے تھے ۔
پاکستان میں مزدوروں کی حالت زار
پیارے دوستو! پاکستان ایک زرعی اور صنعتی ملک ہے جہاں 60 فیصد آبادی مزدوری پر منحصر ہے۔ لاہور، کراچی، فیصل آباد کے کارخانوں سے لے کر بلوچستان کے کانوں تک، مزدور دن رات محنت کرتے ہیں۔ لیکن ان کی مشکلات بھی کم نہیں۔ کم اجرت، لمبے کام کے اوقات، حفاظتی آلات کی کمی، صحت کے مسائل اور بے روزگاری ان کا مقدر بن گئی ہے۔ کورونا کی وبا میں سب کو تنخواہ ملی، مگر مزدور بھوکوں مرتے رہے۔ حالیہ مہنگائی نے ان کی کمر توڑ دی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ کم از کم اجرت 50 ہزار روپے کرے، انشورنس دے اور ٹریڈ یونینز کو مضبوط بنائے ۔
یاد کیجیے 1950 کی دہائی میں کراچی کے ٹیکسٹائل ملز کی ہڑتال، جہاں مزدوروں نے اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھائی۔ آج بھی فیصل آباد کے مزدور اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرح، جو امریکہ میں ورکرز کو ترجیح دیتے ہیں، ہماری حکومت کو بھی مزدوروں کی فلاح پر توجہ دینی چاہیے۔ موجودہ دور میں ٹیکنالوجی اور AI مزدوروں کی نوکریاں چھین رہے ہیں، اس لیے ہنر سکھانے والے پروگرامز ضروری ہیں ۔
مزدور کی معاشرتی اہمیت اور شعر و شاعری
مزدور معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ بغیر ان کے نہ عمارتیں کھڑی ہوتیں، نہ فصلیں اگتیں، نہ ٹرین چلتی۔ مشہور شاعر نے کہا:
اس شہر میں مزدور جیسا کوئی درد بادل نہیں
اس شہر میں مزدور جیسا کوئی ڈر بدر نہیں۔
جس نے سب کے گھر بنائے اس کا کوئی گھر نہیں۔
فاروق ہیدر جیسے شعرا نے مزدوروں پر خوبصورت شاعری کی:
مزدور کا ہاتھ ہے جو دنیا کو سنوارتا ہے
پسینے کی بوندیں ہیں جو موتی بن جاتی ہیں۔
یہ اشعار ہمیں جھنجھوڑتے ہیں کہ مزدور کی قدر کرو۔ یوم مزدور پر شاعری سنانا، تقریریں کرنا اور مارچ نکالنا ان کی حوصلہ افزائی کرتا ہے ۔
حقوق اور ذمہ داریاں
مزدوروں کے حقوق میں شامل ہیں: مناسب اجرت، 8 گھنٹے کام، چھٹی، پنشن، صحت کی سہولیات اور بچوں کی تعلیم۔ آئین پاکستان آرٹیکل 37 مزدوروں کی فلاح کا حکم دیتا ہے۔ لیکن ذمہ داریاں بھی ہیں – کام میں لگن، وقت کی پابندی، یونینز کا غلط استعمال نہ کرنا۔ معاشرے کو چاہیے کہ مزدور کو عزت دے، ان کے بچوں کو سرکاری اسکولوں میں داخلہ دلائے اور سماجی بائیکاٹ سے بچائے ۔
نوجوانو! تمہیں مزدوروں کی مدد کرنی چاہیے۔ این جی اوز جیسے ایڈہی، ایڈوانس میں رضاکارانہ کام کرو۔ حکومت کو صنعتی زونز میں ہاسٹلز بنانے چاہییں۔ عالمی سطح پر آئی ایل او (انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن) مزدوروں کے لیے معاہدے کرتی ہے، پاکستان کو ان پر عمل کرنا چاہیے ۔

مستقبل کی راہنمائی اور مشورے
آئندہ دہائی میں پاکستان کو 10 ملین نوکریاں چاہییں۔ پروجیکٹس میں مزدوروں کو ترجیح دی جائے۔ تعلیم یافتہ مزدور، جیسے ورکرز، ڈیجیٹل پاکستان کا حصہ بنیں گے۔ حکومت کو ووکیشنل ٹریننگ سنٹرز بڑھانے چاہییں۔ کاروباری اشرافیہ کو فیکٹریوں میں ویلفیئر فنڈز لگائیں۔ یوم مزدور کو صرف تقریروں تک محدود نہ رکھیں، عملی اقدامات کریں ۔
مزدور بھائیو! تم مضبوط رہو، اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھاؤ مگر تشدد سے بچو۔ طلبہ! مزدوروں کے بچوں کو ٹیوشن دو۔ اساتذہ! نصاب میں مزدوروں کی کہانیاں شامل کرو۔ یہ سب مل کر ایک خوشحال پاکستان بنائیں گے۔
آخر میں، تمام مزدور بھائیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ ان کی محنت کے بغیر ترقی ناممکن ہے۔ اللہ انہیں جزا دے اور حقوق دلائے۔
خدا حافظ۔ اللہ حافظ۔ پاکستان زندہ باد۔
