Moral Story on Greed and Laziness| لالچ اور سستی کا سبق
لالچ اور سستی کی تباہ کن کہانی – ایک سبق جو زندگی بدل دے
ایک چھوٹے سے گاؤں میں، سلطنت نورانیہ کے محل کے قریب، مٹی کے ایک سادہ سے گھر میں ایک بوڑھی ماں اور اس کا جوان بیٹا آرین رہتا تھا۔ ماں روزانہ صبح سویرے جنگل جاتی، پھول توڑتی، انہیں خوبصورت طریقے سے ترتیب دیتی اور محل کے قریب بازار میں بیچنے جاتی۔ جو تھوڑے بہت پیسے ملتے، ان سے دو وقت کی روٹی کا بندوبست ہو جاتا۔ وہ اکثر خود کم کھا کر آرین کو زیادہ کھلاتی، لیکن آرین کو اس کی قربانیوں کا احساس ہی نہ تھا۔
آرین بہت سست تھا۔ ماں جب کہتی کہ “بیٹا، کچھ کام کر لو، گھر کا خرچہ چلانے میں مدد کرو” تو وہ جواب دیتا: “جب مجھے کوئی اچھا کام ملے گا تو کروں گا۔ یہ بیکار اور مشقت والا کام میں نہیں کر سکتا!”
ایک دن ماں پھولوں کی ٹوکری لے کر بازار پہنچی۔ وہاں سے گزرتی ہوئی شہزادی جاسمین نے پھول دیکھے، پسند کیے اور خرید لیے۔ ماں کی تھکی ہوئی شکل دیکھ کر شہزادی نے پوچھا: “اماں، تم اس عمر میں یہ کام کیوں کر رہی ہو؟ کیا تمہارے بچے نہیں ہیں؟”
ماں نے آنسوؤں کے ساتھ بتایا کہ بیٹا ہے، لیکن وہ کام نہیں کرتا، اچھا کام ملنے کا انتظار کر رہا ہے۔ شہزادی غصے میں آ گئیں: “بچوں کا فرض ہے کہ ماں باپ کی خدمت کریں۔ تمہارا بیٹا شرم سے مر جانا چاہیے!”
پھر شہزادی نے کہا: “اگر اچھے کام کی بات ہے تو اپنے بیٹے کو محل بھیج دو۔ وہاں آسان کام مل جائے گا، اور تم آرام کرو گی۔”
ماں خوشی سے رو پڑی اور شکریہ ادا کیا۔
اگلے دن آرین محل پہنچا۔ محل کی شان و شوکت دیکھ کر اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں – بلند مینار، خوبصورت باغ، قالین، فانوس، پھولوں کی مہک۔ وہ بولا: “واہ!” اسے ایک آسان سا کام ملا – تھوڑی سی دیکھ بھال کا۔ شروع میں وہ بہت خوش تھا، لیکن جلد ہی لالچ نے اسے گھیر لیا۔ محل کی دولت دیکھ کر اسے حسد ہوا کہ “یہ سب ان کے پاس کیوں ہے اور ہمارے پاس کچھ نہیں؟”
پہلے تو وہ باورچی خانے سے کھانا چراتا، ماں سے جھوٹ بولتا کہ “شہزادی نے دیا ہے”۔ پھر کپڑے، برتن، گلدان، چھوٹے زیورات… وہ بازار میں بیچ کر پیسے کماتا۔ لالچ بڑھتا گیا اور آخر کار اس نے شہزادی کا قیمتی ہار چوری کر لیا!
رات کو باغ میں بھاگتے ہوئے اسے پکڑ لیا گیا۔ محل میں ہنگامہ مچ گیا۔ بادشاہ نے حکم دیا:
“جس نے شہزادی کا ہار چوری کیا ہے، اس کے ہاتھ کاٹ دیے جائیں گے!”
تلاشی ہوئی، ہار آرین کے جیب سے نکل آیا۔ وہ روتے ہوئے بادشاہ اور شہزادی کے پاؤں پڑ گیا، معافی مانگتا رہا۔ لیکن جھوٹ اور لالچ کی سزا ملنی تھی۔ بادشاہ نے حکم دیا – آرین کے ہاتھ کاٹ دیے گئے اور اسے قید کر دیا گیا۔
ایک موقع ملا تھا محل میں عزت اور آرام کا، لیکن لالچ اور سستی نے سب برباد کر دیا۔ آج آرین نہ ہاتھ رکھ سکتا تھا، نہ آزادی۔
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ لالچ اور سستی انسان کو تباہ کر دیتے ہیں۔ موقع ملنے پر بھی اگر ہم محنت اور ایمانداری چھوڑ دیں، تو قسمت بھی ہمارا ساتھ نہیں دیتی۔ ماں باپ کی خدمت، محنت سے کمائی اور حلال روزی میں ہی حقیقی سکون ہے۔ چوری، جھوٹ اور لالچ کی آگ انسان کو جلا کر راکھ کر دیتی ہے۔
اگر آپ کو ایسی دل کو چھو لینے والی سبق آموز کہانیاں پسند ہیں تو ہماری ویب سائٹ https://adabiduniya.com/ پر ضرور آئیں۔ یہاں اردو کہانیاں، افسانے، اخلاقی قصے، ناول اور ادبی تحریریں دستیاب ہیں۔ نئی کہانیاں پڑھنے اور شیئر کرنے کے لیے ابھی وزٹ کریں: https://adabiduniya.com/
آپ نے کبھی لالچ کی وجہ سے کوئی غلطی کی ہے؟ یا محنت سے کامیابی حاصل کی؟ کمنٹ میں ضرور بتائیں!
