Bismillah Ki Taqat – Garib Dadi Ki Biryani Aur Zindagi Ka Raaz
بسم اللہ کی طاقت: غریب دادی کی بریانی اور زندگی کا سب سے بڑا راز
ایک چھوٹے سے قصبے میں، گلی کے کنارے ایک پرانی سی جھونپڑی میں ایک بوڑھی دادی رہتی تھیں۔ لوگ انہیں “دادی اماں” کہتے تھے۔ ان کی عمر ستر سے اوپر تھی، لیکن ہاتھ اب بھی مضبوط تھے اور دل میں اللہ پر کامل یقین تھا۔ دادی اماں روزانہ صبح سویرے اٹھتیں، وضو کرتیں، نماز پڑھتیں اور پھر بریانی بنانا شروع کر دیتیں۔
وہ بریانی کو بہت محنت سے تیار کرتیں – چاول دھوتیں، گوشت مرینٹ کرتیں، مصالحے خود پس کرتیں، اور سب سے اہم بات: ہر قدم پر “بسم اللہ الرحمن الرحیم” پڑھتیں۔ برتن میں تیل ڈالتے وقت بسم اللہ، پیاز ڈالتے وقت بسم اللہ، گوشت ڈالتے وقت بسم اللہ، دم لگاتے وقت بسم اللہ۔ ان کا ماننا تھا کہ “بسم اللہ” کے بغیر کھانا ادھورا ہے، اور برکت نہیں آتی۔
دادی اماں کی بریانی مشہور تھی۔ لوگ دور دور سے آتے، ایک پلیٹ خریدتے اور کہتے: “دادی اماں، یہ بریانی تو جیسے جنت کا کھانا ہے! ذائقہ الگ ہے، خوشبو الگ ہے، اور کھانے کے بعد دل کو سکون ملتا ہے۔”
لیکن دادی اماں کی آمدنی بہت کم تھی۔ وہ دن بھر بیٹھ کر بریانی بیچتیں، جو بچ جاتی اسے غریبوں، یتیموں اور مسافروں میں تقسیم کر دیتیں۔ خود صرف ایک چھوٹی سی پلیٹ کھاتیں اور باقی اللہ کے نام پر۔
ایک دن قصبے میں ایک امیر تاجر آیا۔ اس کا نام تھا حاجی صاحب۔ وہ بہت دولت مند تھا، لیکن دل میں بے چینی رہتی تھی۔ کاروبار چلتا تھا، گھر محل تھا، لیکن سکون نہیں تھا۔ اس نے دادی اماں کی بریانی کے بارے میں سنا تو خود آیا اور ایک بڑی مقدار منگوائی۔ کھائی تو حیران رہ گیا – ذائقہ لاجواب!
حاجی صاحب نے پوچھا: “دادی اماں، یہ بریانی اتنی لذیذ کیوں ہے؟ میں نے دنیا کی بہترین بریانیاں کھائی ہیں، مگر یہ الگ ہے۔ راز کیا ہے؟”
دادی اماں مسکرائیں اور بولیں: “بیٹا، راز یہ ہے کہ میں ہر کام بسم اللہ سے شروع کرتی ہوں۔ اللہ کا نام لینے سے برکت آ جاتی ہے۔ میں محنت کرتی ہوں، حلال کماتی ہوں، اور جو اللہ دیتا ہے اس میں خوش ہوں۔ باقی سب اللہ کی طرف سے ہے۔”
حاجی صاحب نے پوچھا: “لیکن آپ اتنی غریب ہیں، پھر بھی خوش کیسے رہتی ہیں؟”
دادی اماں نے جواب دیا: “بیٹا، خوشی دولت میں نہیں، اللہ پر بھروسے میں ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ جو لوگ بسم اللہ پڑھتے ہیں، محنت کرتے ہیں اور حرص نہیں کرتے، اللہ ان کے رزق میں برکت ڈال دیتا ہے۔ میری بریانی کم ہے، مگر جو کھاتا ہے اسے پیٹ بھرتا ہے اور دل بھی۔ تمہارے پاس سب کچھ ہے، مگر سکون نہیں کیونکہ تم اللہ کو بھول گئے ہو۔”
حاجی صاحب کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس نے دادی اماں سے دعا مانگی اور وعدہ کیا کہ اب سے وہ بھی ہر کام بسم اللہ سے شروع کرے گا، صدقہ دے گا اور حرص چھوڑے گا۔
وقت گزرا۔ حاجی صاحب کا کاروبار پہلے سے زیادہ چلنے لگا، لیکن اب وہ خوش تھا۔ دادی اماں کی بریانی اب بھی وہی تھی – سادہ، محنتی اور برکت والی۔
سبق:
- بسم اللہ پڑھنے سے ہر کام میں برکت آتی ہے۔
- محنت اور ایمانداری سے کمائی ہوئی چیز میں سکون ہوتا ہے۔
- رزق اللہ کے ہاتھ میں ہے – حرص اور لالچ سے دور رہو۔
- جو اللہ کو یاد رکھتا ہے، اللہ اسے کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔
یہ کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ زندگی کا اصل راز دولت یا طاقت میں نہیں، اللہ پر توکل اور بسم اللہ کی طاقت میں ہے۔ چھوٹی سی چیز بھی برکت سے بڑی ہو جاتی ہے۔
اگر آپ کو ایسی ایمانی، اخلاقی اور سبق آموز کہانیاں پسند ہیں تو ہماری ویب سائٹ https://adabiduniya.com/ پر ضرور آئیں۔ یہاں اردو کہانیاں، اسلامی وظائف، اخلاقی قصے، ادبی تحریریں اور بہت کچھ دستیاب ہے۔ نئی کہانیاں پڑھنے کے لیے ابھی وزٹ کریں: https://adabiduniya.com/
