Iqbal Ka Shaheen Speech In Urdu PDF
اقبال کا شاہین
(تقریر کی شکل میں – مکمل اردو میں)
محترم صدرِ محفل، معزز اساتذہ، میرے پیارے بھائیو اور بہنو! السلام علیکم!
آج میں آپ کے سامنے علامہ اقبال کا وہ عظیم پیغام پیش کرنا چاہتا ہوں جسے وہ اپنے شاہین کے ذریعے پوری امتِ مسلمہ، بالخصوص ہم نوجوانوں کو دیتے ہیں۔
علامہ اقبال فرماتے ہیں:
ترے پر و بال میں وہ آگ ہے یا نہیں وہ جوشِ پرواز ہے یا نہیں
یہ پہلا سوال ہے جو اقبال ہم سے پوچھتے ہیں۔ اے نوجوان! بتا، تیرے اندر وہ آگ ابھی باقی ہے؟ وہ ولولہ، وہ جنون، وہ جذبۂ پرواز ابھی تیرے اندر زندہ ہے یا مر چکا ہے؟
پھر فرماتے ہیں:
تُو شاہین ہے، پرواز ہے کام تیرا تری آنکھوں میں ہیں آسمانوں کا ٹھکانہ
اے نوجوان! تُو کوّا نہیں، تُو کبوتر نہیں، تُو طوطا نہیں، تُو گدھ نہیں تُو شاہین ہے! شاہین! شاہین کا کام زمین پر چہل قدمی نہیں، دانہ چگنا نہیں، پنجرے میں قید ہونا نہیں شاہین کا کام ہے بلند پروازی، آسمانوں کو چھونا، طوفانوں سے ٹکرانا!
اقبال پھر تنبیہ کرتے ہیں:
نہ تیرا نشیمن ہے بازوئے خاور پر نہ تیرا نشیمن ہے شاخِ سرو قدا پر
اے شاہین! تیرا گھونسلا نہ بادشاہوں کے کندھوں پر ہے، نہ خوبصورت درختوں کی شاخوں پر تیرا ٹھکانا ہے بلند چٹانوں پر، جہاں تیز ہوائیں چلتی ہوں، جہاں خطرہ ہو، جہاں جدوجہد ہو!
فرماتے ہیں:
نہ تو وہ مرغِ قمار ہے کہ بیابان میں کسی کے پھندے میں آ کے رہ جائے اسیر
اے نوجوان! تُو دنیا کے چمکتے دمکتے پھندوں میں نہ پھنس نہ دولت کے پھندے میں، نہ عہدے کے پھندے میں، نہ شہرت کے پھندے میں یہ ساری چیزیں صیاد کے زرق برق دانے ہیں، یہ زنجیریں ہیں!
آخر میں اقبال اپنے شاہین کو آواز دیتے ہیں:
تُو شاہین ہے، مسافر ہے، یہ عالم تیرا کچھ بھی نہیں تری منزل ترے آگے ہے، یہ سارا جہاں تیرا کچھ بھی نہیں
اٹھ! کہ اب خوابِ گراں خواب نہیں رہا اے مسافرِ شوق، یہ مقام نہیں رہا
میرے بھائیو اور بہنو! آج ہم سب اقبال کے اس شاہین سے پوچھیں: کیا ہم واقعی شاہین ہیں؟ کیا ہم میں وہ آگ ہے؟ وہ جوشِ پرواز ہے؟ کیا ہم چٹانوں پر نشیمن بنانے کو تیار ہیں؟ کیا ہم دنیا کے پھندوں سے آزاد ہیں؟
اگر جواب ہاں ہے، تو آج ہی عہد کریں کہ ہم اقبال کے شاہین بنیں گے بلند پرواز کریں گے، قوم کے لیے جئیں گے، اسلام کے لیے جئیں گے، پاکستان کے لیے جئیں گے!
آخر میں اقبال کے الفاظ میں:
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے خدا بندے سے خود پوچھے، بتا تیری رضا کیا ہے
اللہ ہمیں اقبال کا سچا شاہین بنائے۔ آمین!
پاکستان پائندہ باد ⋯ اقبال زندہ باد ⋯ شاہینِ اقبال زندہ باد!
