نعت سبق نمبر ۲ شاعر حفیظ تائب

نعت سبق نمبر ۲ شاعر حفیظ تائب

Share With Others

 

نعت سبق نمبر ۲ شاعر حفیظ تائب

 حفیظ تائب عہد حاضر کے ممتاز نعت گو شاعر ہیں ۔ آپ نے تمام عمر عشق رسول   کے اظہار کے لیے نعت نگاری کے فن کو عبادت کے طور پر اپنائے رکھا۔ آپ نے نعت گوئی کے میدان میں نئے نئے تجربات کیے۔ یہی وجہ ہے کہ شعروں سے عقیدت و محبت کی کرنیں پھوٹتی ہیں آپ نعتیہ شعروں میں نادر تشبیہات اور استعارات کا استعمال کرنے میں شہرت رکھتے ہیں۔الفاظ کا انتخاب، مترنم بحور، جذبے کا رچاؤ اُن کے کلام کے نمایاں اوصاف ہیں۔اس کے ساتھ جذب و کیف اور اخلاص و گداز کے جوہر نے انہیں معاصر نعت نگاروں کی صف میں ممتاز و منفرد حیثیت عطا کی ہے۔آپ اشعار میں اُردو، فارسی اور عربی زبان کے الفاظ سے مٹھاس گھولتے ہیں۔

خوش خصال و خوش خیال و خوش خبر، خیرالبشر

خوش نژاد و خوش نہاد و خوش نظر، خیرالبشر

الفاظ معانی الفاظ معانی
خوش خصال اچھی خصلتوں والا، نیک عادات خوش خیال خوش فکر، اچھے خیالات کا مالک
خوش خبر خوش خبری سنانے والا خیرالبشر آنحضور کا لقب، مراد ہے بہترین انسان، انسانیت کی بھلائی چاہنے والا
خوش نثراد عالی نسب، اچھے قبیلے سے تعلق رکھنے والا خوش نہاد نیک فطرت
خوش نظر اچھی نظر ڈالنے والا، محبت سے دیکھنے والا    

مفہوم:          حضور  خوش خصال، خوش خیال، خوش خبری دینے والے ہنس مکھ انسان ہیں۔ آپ  انسانوں میں سے بہترین انسان ہیں۔

تشریح: عشقِ رسول  ہر مسلمان کا ایمان ہے۔ قاعدہ ہے کہ ہر عاشق اپنے محبوب کی تعریف میں اپنی تمام تر توانائیاں صَرف کر دیتا ہے اور حضور کی ذات تو ایسی ذات ہے جو تمام اوصافِ حمیدہ کی حامل ہے۔ ان کی ذات کی جتنی بھی صفات بیان کی جائیں کم ہیں:

بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر

          تشریح طلب شعر میں حفیظ تائب ؔ نے خوش کے لاحقے سے انتہائی خوبصورت تراکیب تراشی ہیں اور محمد مصطفیٰ   کے اوصاف حمیدہ کو بیان کیا ہے۔  اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کو تمام انسانوں اور نبیوں کا سردار بنایا ہے۔ آپ   کو وہ ساری اچھائیاں اور ساری خوبیاں عطا کردیں جو سابقہ انبیا کی انفردای خاصہ تھیں۔کسی فارسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے:

حسن ِ یوسف ؑ، دمِ عیسٰیؑ ، یدِ بیضا داری

آنچہ خوباں ہمہ دارند ، تو تنہا داری

          چنانچہ نبی مکرم   بر حق افکار و خیالات اور اعمال و اخلاق کے لحاظ سے بلند درجے پر فائز ہیں۔بلاشبہ آپ   کی مثالی عادات واطوار کے باعث قرآن پاک نے آپ   کو خلق عظیم کے مقام پر فائز ہونے کی سند عطا کی اور انسانیت کو تعلیم فرمادی کہ ذات محمد  تمھارے لیے بہترین نمونہ ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ

ترجمہ:   بلاشبہ یقیناً تمہارے لیے اللّٰہ کے رسول میں بہترین نمونہ ہے۔

          حضور   کی ذات نہایت اچھی عادات کی مالک تھی۔ آپ   کی عادات ایسی عمدہ تھیں کہ بچپن میں ہی شریف النفس مشہور تھے۔ آپ  کے خیالات خوبصورت اور صالح تھے۔ آپ  کے خیالات میں محبت اور مہربانی کا رنگ پایا جاتا تھا۔ آپ پنے دشمنوں کے حق میں بھی بددعا نہ کرتے تھے۔ آپ نے عام انسانوں کے درمیان رہتے ہوئے ہر قسم کے دنیوی تعلقات نبھائے۔ بشریت کے تمام تقاضے آپ   کی ذات سے پورے ہوئے لیکن آپ  نے ہر لحاظ سے جو بلند اخلاق کا اعلیٰ  معیار قائم کیا۔

ہوئی تکمیل جن کی ذات پر ہر خیروبرکت کی

انہیں خیر البشر خیر الوریٰ کہیے، بجا کہیے

          یہ آپؐ کے عادات و خصائل ہی تھے جن کی وجہ سے آپؐ عام انسانوں سے منفرد اور خاص تھے۔ آپؐ کا ہر فعل ہر زمان و مکاں کے انسان کے لیے حسین اور مثالی نمونہ بن گیا۔ یہ آپؐ کی ذاتِ اقدس ہی تھی جس نے برسوں سے جہالت  میں ڈوبے ہوئے عربوں کو روشنی کی راہ دکھائی۔ یہ آپ  کی ذات ہی تھی جس پر بدترین دشمن بھی انگلی نہ اٹھا سکے اور آپ  کی صفات کے قائل ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔  12 ربیع الاول کو طلوع ہونے والے اس چاند کی روشنی سے ایک عالم منور ہو گیا۔

دشمنوں کو بھی دعاؤں سے نوازا تو نے

دوستوں تک ہی نہ محدود رہا تیرا کرم

          آپ  کی صفت عالیہ تھی کہ آپ   خوش خبر تھے۔ آپ  نے قرآن کی شکل میں لوگوں کو بھلائی اور نجات کا راستہ دکھایا ۔ قرآن پاک میں آپ   کو ’’بشیر‘‘ کے لقب سے پکارا گیا ہے۔ آپ  لوگوں کو اچھائی کی خبر دیتے تھے۔ مایوس لوگوں کو خوشخبری سنانے والے تھے۔

          دوسرے مصرعے میں شاعر میں نبی پاک کی کچھ اور شخصی توصیفات بیان کی ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ آپ   بہترین حسب و نسب کے حامل خوش طبیعت اور نیک فطرت انسان تھے۔ آپ  کا سلسلہ نسب حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیل ؑسے جاملتا ہے۔ آپؐ کے قبیلے بنو ہاشم کا شمار مکہ کے معزز ترین اور مالدار قبائل میں ہوتا تھا۔ جن کے ذمہ بیت اللہ کی حفاظت تھی۔ آپؐ کی والدہ ماجدہ حضرت آمنہ بھی نسب اور رتبے کے لحاظ سے قریش کی افضل ترین خاتون شمار ہوتی تھیں۔ اسی طرح آپ  ملن ساری، بے تکلفی اور خوش مزاجی بھی آپؐ کی عادات کا اہم حصہ تھیں۔ آپؐ ہمیشہ نرمی سے گفتگو فرماتے اور نہایت پاکیزہ اور خوبصورت باتیں کرتے تھے۔ آپ   کی گفتگو میں حکیمانہ اور بصیرت افروز نکات مضمر تھے۔ آپ  نیک طبیعت، نیک سرشت اور ہنس مکھ انسان تھے۔ خوش خصالی اور خوش خیالی میں کوئی آپ  کا ثانی نہ تھا۔ آپؐ کی نگاہ مبارک ہمیشہ اچھا ئیوں پر رہی۔ آپؐ لوگوں کی کمزوریوں، اُن کے عیبوں سے درگزر فرماتے۔ آپؐ تمام جہانوں کے لیے رحمت بن کر تشریف لائے۔ قرآن پاک میں ہے:۔

وَمَآ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِيْنَ  ؁

اور ہم نے آپ کو تمام جہان والوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔

          مختصر یہ کہ آپؐ تمام انسانیت کے خیرخواہ تھے اہل دنیا کی بہتری اور بھلائی آپ  کے پیشِ نظر تھی اس لیے آپؐ بہترین انسان ہیں اور خیرالبشر ہیں۔ شعر میں ایک لفظ ’’خوش‘‘ سے چھے تراکیب بنانے سے شاعر نے شعر کے حسن میں چار چاند لگا دیے ہیں۔جو تسبیح کے دانوں کی طرح معلوم ہوتے ہیں۔

دل نواز و دل پذیر و دل نشین و دل کشا

چارہ ساز و چارہ کار و چارہ گر، خیر البشر

الفاظ معانی الفاظ معانی
دل نواز دلوں کو نوازنے والا، مہربان دل پذیر مرغوب، پسندیدہ
دل نشین دل پر جم جانے والا، مؤثر دل کشا دل کو کھول دینے والا، دل خوش کرنے والا
چارہ ساز علاج کرنے والا چارہ کار بھلائی کرنے والا
چارہ گر طبیب، معالج، بھلائی چاہنے والا    

مفہوم:        آپ  دل نواز، دل نشین اور دل کشا شخصیت کے مالک اور انسانیت کے چارہ ساز، چارہ کار اور چارہ گر ہیں ۔

تشریح: تشریح طلب شعر میں شاعر دل کے مرکبات سے مختلف تراکیب وضع کر کے نبی اکرم   کی ذات با صفات کے چند  اخلاق حسنہ کی بڑے  دلکش اور عمدہ انداز میں تصویر کشی کی ہے ۔ آپ   دلوں کو اپنی محبت سے نوازنے والے اور انسانوں کے دلوں میں گھر کرنے والے تھے آپ  دلوں کو اطمینان اور تسلی عطا کرنے والے تھے آ پ  سراپا شفقت اور رحمت تھے  ۔ آپ  دکھی، مظلوم اور ٹوٹے ہوئے دلوں کو تسلی دیتے تھے اور آپ  کا انداز اس قدر موثر اور دلوں کو لبھانے والا ہوتا تھا کہ لوگ دلی طور پر آپ  کے معتقد ہو جاتے۔ آ پ  کے حسن عمل سے لوگوں کے دلوں کو آ پس میں جوڑ دیا ۔ آپ   نہایت نرم گفتار تھے آپ   کی نرم گفتگوسے ٹوٹے اورہارے ہوئے دلوں کو شگفتگی نصیب ہوتی تھی۔آپ  کے اخلاق فاضلہ اور طبیعت کی حلیمی ونرمی کے باعث جو بھی آپ  سے ملتا آپ  کا گرویدہ اور مداح ہو جاتا۔ یہ سراسر آ پ  کی شخصیت کی دل پذیری کا اعجاز ہے کہ بہت سے کفار آپ کی شخصیت کے اسی پہلو کو دیکھ کر حلقہ بگوش اِسلام ہوئے۔

دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے

پر نہیں طاقتِ پرواز مگر رکھتی ہے

          مصرع ثانی میں شاعر نے لفظ ’’چارہ ‘‘کو لا حقہ بناتے ہوئے شاندار اور نادر تراکیب اختراع کی ہیں  لفظ ’’چارہ ‘‘کا لغوی مطلب تدبیر ہے اور یہ ’’ساز‘‘سے مل کر خوبصورت معانی پیدا کرتا ہے کہ نبی اکرم  مشکل میں پھنسے ہوئے اور پریشاں لوگوں کے لیے تدابیر پیدا کرتے ۔ آپ نے صدیوں سے قعر مذلت میں گرے ہوئے  معاشرے کی اصلاح کی۔ آپ  نے بھٹکےہوئے لوگوں کو صراط مستقیم دکھایا۔ آپ   نے انسانیت کے دکھ درد کو سمجھتے ہوئے اس کا علاج کیا بے کسوں اور مجبوروں کا سہارا بنے ۔ گرے پڑے لوگوں کی دستگیری کی ۔ مسکینوں اور یتیموں کے سروں پر ہاتھ رکھا۔

وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا

مرادیں غریبوں کی بر لانے والا

مصیبت میں غیروں کے کام آنے والا

  وہ اپنے پرائے کا غم کھانے والا

          آپ  نے ایک ایسے معاشرے کی تشکیل کی جس میں حضرت بلال حبشیؓ کو سیدنا بلالؓ کہہ کر پکارا جاتا تھا۔ غرضیکہ آپ  کی ذات ہر شعبہ زندگی اور ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے شخص کے لیے ایک چارہ گر اور مسیحا کی حیثیت رکھتی ہے۔ آپ  چارہ گر اور چارہ ساز تھے جو مجبور اور بے سہارا شخص آپ  کے درِ اقدس پر حاضر ہوتا، آپ  کی حلیم گفتگو سے حوصلہ پاتا۔ آپ  ایسے طبیب اور معالج تھے جس کے پاس انسانی دکھوں کا مداوا موجود تھا۔ آپ   کی  صفات  کاملہ کے پیش نظر حفیظ تائب نے محبوب خدا کو بلا شبہ خیر البشر کہا ہے۔

وہ جس نے دلوں کو دی عمرِ ابد

وہ جانِ مسیحا ہمارا نبی  ہے

          شاعر نے شعرکے پہلے مصرعے میں ’’دل‘‘ کے سابقے اور دوسرے میں ’’چارہ‘‘ کے سابقے سے شعر کی خوبصورتی میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے ۔ شعر میں دل اور چارہ کی تکرار لفظی سے حسن پیدا ہوگیا ہے۔

سر بہ سر مہر و مُروّت ، سر بہ سر صدق و صفا

سر بہ سر لطف و عنایت ، سر بہ سر، خیرالبشر

الفاظ معانی الفاظ معانی
سر بہ سر مکمل طور پر، کامل مہرومروت محبت اور خلوص
صدق و صفا سچائی اور دیانت داری لطف و عنایت مہربانی اور کرم نوازی

مفہوم: حضور  سراپا مہرو محبت ہیں۔ سچائی اور پاکیزگی آپؐ کی صفات ہیں۔ آپؐ سب پر لطف و عنایت فرمانے والے بہترین انسان ہیں۔

تشریح: تشریح طلب شعر میں حفیظ تائب نے نبی اکرم   کے اخلاق حمیدہ کو خوبصورت  الفاظ میں بیان کیا ہے ۔ آپ  کی شخصیت کا نمایاں پہلو مہر ومحبت ہے۔ سرور کونین کی ذات بابرکات میں اپنوں اور پرائیوں کے لیے محبت ،خلوص ،شفقت اورعنایت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔جس کا مظاہرہ آپؐ کی حیات مبارکہ میں قدم قدم پر دیکھنے کوملتا ہےکہ لوگ آپؐ کو پتھر مارتے ہیں آپؐ ان کے لیے دعا فرماتے ہیں۔

ترجمہ: اے اللہ انہیں معاف کر دے کیونکہ یہ نہیں جانتے جو یہ کر رہے ہیں۔

          آپؐ پر کوڑا پھینکا جاتا ہے اسی کی آپؐ تیمار داری کو جاتے ہیں ۔ فتح مکہ کے موقع پر دشمنان اِسلام کو معاف کردیا۔ دنیامیں آپؐ سے بڑی رحیم اور مہربان ہستی بھلا کون ہو سکتی ہے؟

سلام اُس پر کہ جس نے خوں کے پیاسوں کو قبائیں دیں

سلام اُس پر کہ جس نے گالیاں سن کر دُعائیں دیں

            نبی پاکؐ کے خلق عظیم اور عام لطف وکرم کا ذکر کرنے کے بعد حفیظ تائب نے حضور کی صداقت اورسچائی کا ذکر کیا ہے آپؐ ہمیشہ سچ بولتے تھے۔ آپؐ اتنا سچ بولنے والے تھے کہ بعثت نبوی سے قبل ہی آپؐ ’’الصادق‘‘ (سب سے زیادہ سچ بولنے والا)اور ’’الامین ‘‘(سب سے اچھی امانت کا خیال رکھنے والا)کے صفاتی ناموں سے جانے جاتے تھے۔ کوہ صفا پر اہل قریش نےآپؐ کی صداقت کی گواہی دی آپؐ کے جانی دشمن بھی آپؐ کی سچائی کا اعتراف کرتے تھے ایک دفعہ ابوجہل نے آپؐ کی صدق وصفا کا یوں اقرار کیا۔

’’اے محمد میں تمھیں جھوٹا نہیں کہتا لیکن تمہاری تعلیم پر میرا دل نہیں ٹھہرتا‘‘۔

          آپؐ کے قلب اطہر میں بچوں ،بوڑھوں ،جوانوں ،خواتین ،غلام ،اورلونڈیوں حتیٰ کہ جانوروں کے لیے بھی رحمت وشفقت کے جذبات پائے جاتے ہیں۔ آپؐ کا وجود مبارک  تمام جہانوں کے لیے باعث رحمت ہے ۔ قرآن پاک میں ہے :۔

وَمَآ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِيْنَ  ؁

ترجمہ:  اور ہم نے آپ کو تمام جہان والوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔

            فتح مکہ کے موقع پر آپؐ نے شفقت و محبت کی ایسی عالمگیر مثال قائم کی کہ جس کی نظیر پوری تاریخ انسانی میں نہیں ملتی۔ فتح مکہ کے موقع پر جب مسلمان مشرکین پر پوری طرح غالب آچکے تھے وہ ماضی کے ہر ظلم کا بدلہ ان سے لے سکتے تھے۔ لیکن آپؐ کی ذاتِ اقدس نے ان ظالموں کو بھی معاف فرما دیا جنہوں نے آپؐ پر پتھر برسائے ۔حتیٰ کہ آپؐ کے پاپوش مبارک لہو سے تر ہوگئے لیکن آپؐ نے بد دعا دینے کی بجائے ان کے لیے سیدھے راستے کی دعا کی۔ آپؐ کی انہی صفات کی بنا پر پورا مکہ بغیر تلوار اٹھائے آپؐ کا دست نگر بن گیا۔ یہ شعر محبت رسول اور سوز ایمان میں ڈوبا ہوا ہے ۔مہرومحبت ، صدق وصفا ،لطف وعنایت خوبصورت تراکیب شعر کے حسن میں اضافہ کر رہی ہیں۔

صاحب خلقِ عظیم و صاحب لطف عمیم

صاحب حق، صاحب شقّ القمر، خیرالبشر

الفاظ معانی الفاظ معانی
صاحب خلق عظیم اعلیٰ ترین اخلاق کے مالک۔ عمیم عام رحمت، سب کے لیے یکساں مہربانی
شق القمر آنحضور  کا معجزہ جس میں چاند کے دو ٹکڑے ہو گئے تھے

مفہوم:          آپؐ خلق عظیم کے پیکر ہیں آپؐ کی مہربانی ہر ایک پر عام ہے۔ آپؐ کے حکم سے چاند بھی دو ٹکڑے ہو گیا تھا۔

تشریح: تشریح طلب شعر میں حفیظ تائب نے حضور کے اوصاف حمیدہ کے گن گاتے ہوئے سب سے پہلے آپ  کے خلق عظیم کو بیان کیا ہے ۔ حضور نبی مکرمؐ چونکہ تمام انسانوں اور کائنات کی ہر چیز سے برتر اعلیٰ اورافضل ہیں ،آپؐ کو اعلیٰ ترین اخلاق عطاکیا گیا ہے آپ  کے اخلاق کی گواہی خود قرآن میں اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں دی ہے۔

وَاِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِيْمٍ۝

ترجمہ: بے شک آپ  کا اخلاق سب سے بلند ہے۔

            قرآن پاک میں نبی مکرمؐ کی ذات کو انسانیت کے لیے بہترین نمونہ قرار دیا گیا ہے۔ آپؐ اخلاق کے ایسے بلند مرتبے پر فائز تھے کہ آپ  کے اخلاق کے بارے میں پوچھنے پر حضرت عائشہؓ  آپؐ کے اخلاق کو قرآن کی جیتی جاگتی تصویر قرار دیا ۔ آپؐ کی ذات خلق عظیم کا پیکر تھی۔آپؐ کا ارشاد ہے کہ:

 إنما بُعِثْتُ لأتمم مكارم الأخلاق

مجھے اعلیٰ اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا ہے۔

            تشریح طلب شعر میں حضور ؐ کی دوسری صفت ’’لطف عمیم ‘‘ کا ذکر ہے ۔ آپؐ کی ذات ہر کسی پر مہربان تھی اپنوں کا ہی نہیں بلکہ غیروں کا بھی بے حد لحاظ رکھتے تھے۔آپؐ کی رحمت تخصیص ِمذہب ،رنگ ونسل ،خاص وعام سے بالاتر تھی   ۔بقول حضرت خدیجہ ؓمیں نے خداکے آخری رسول کو صلہ رحمی اور صلح جو طبیعت کا پایا ہے۔ مکی زندگی میں جن جن لوگوں نے آپؐ کو تکالیف پہنچائیں ان سے مواخذہ کرنے کی بجائے آپؐ نے ان سے درگزر فرمایا ۔

دنیا میں رحمت دوجہاں اور کون ہے

جس کی نہیں نظیر وہ تنہا تمھی تو ہو

            حفیظ تائبؔ حضور ؐ کی صفت حق کا تذکرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ آپؐ ہمیشہ حق اور سچ کی بات کرتے۔آپؐ کی صداقت  اور سچائی کی گواہی خالق کائنات نے خود دی۔ اس سلسلے میں آپؐ  خود فرمایا کرتے تھے’’کہ صدق میرا ساتھی ہے ۔ ‘‘ تاریخ گواہ ہے کہ آپؐ کے دشمن بھی آپؐ کی صداقت کی گواہی دیتے تھے ۔ابو سفیان نے قیصر ِروم ہرقل کے روبرو ا ٓ  پؐ کی حق گویائی ،سچائی اور صداقت کا اعتراف کیا۔ حضور صاحبِ حق تھے۔ آپؐ کی زندگی میں کوہ صفا کا واقعہ مشہور ہے۔ سب مشرکوں نے یک زبان ہو کر کہا تھا کہ آپ ہمیشہ سچ بولتے ہیں۔

            رسول اکرم ؐ کی سیرت کا ایک درخشاں پہلواُن کے معجزات پر مبنی ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیا کی صداقت اور حق گوئی کے اثبات کے لیے انھیں معجزات سے نوازا تھا ۔  رسول عربی کو بھی بہت سے معجزات عطا کیے گئے ۔ جن میں سے ایک معجزہ ’’شق القمر‘‘بھی ہے ۔ جس کی تاریخی تفصیل یوں ہے کہ نبوت کے آٹھویں سال ولید بن مغیر ہ ، ابو جہل اوردوسرے کفار کے مطالبے پر اپنی انگشت مبارک سے چاند کو دو ٹکڑے کر کے دکھادیا۔ مگر شق قمر کا مطالبہ کرنے والے کفار اس معجزے کے بعد بھی سیدھی راہ پر نہ آئے لیکن اللہ کی طرف سے آپؐ کی حقانیت اور صدق وصفا کی گواہی مل گئی ۔ شاعر اس حکمت بھرے معجزے کے حوالے سے آپؐ کی ذات کو ’’صاحب شق القمر‘‘ کہہ رہا ہے۔

سلام اس پر کہ جس نے چاند کو دو ٹکڑے فرمایا

سلام اس پر کہ جس کے جسمِ اطہر کا نہ تھا سایا

کار زارِ دہر میں وجہ ظفر، وجہ سُکوں

عرصۂ محشر میں وجہِ درگزر، خیرالبشر

الفاظ معانی الفاظ معانی
کارزاردہر زمانے کی کشمکش، حالات کی گردش وجہ ظفر کامیابی کا سبب
عرصہ محشر قیامت کا دورانیہ، حشر کی گھڑی۔ وجہ درگزر وجہ درگزر معافی کا وسیلہ

مفہوم:          دنیا کے میدان میں آپؐ کا ذکر فتح مندی کا باعث ہے اور میدان حشر میں آپ کی شفاعت سے گناہ گار بخشے جائیں گے۔

تشریح: تشریح طلب شعر تشبیہی شعر ہے۔جس میں حفیظ تائب نےاس اس دنیا کو میدان جنگ سے تشبیہ دی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کو بہت جاذب نظر اور دلکش بنایا ہے۔ یہ اپنے اندر بے پناہ جاذبیت رکھتی ہے۔ اس کے کھیل تماشے، رنگ و خوشبو اور ہزاروں دلچسپیاں انسان کو اپنی طرف یوں کھینچ لیتے ہیں کہ وہ ان دنیاوی لذتوں ہی کو سب کچھ سمجھ لیتا ہے اور اپنے انجام سے با خبر ہونے کے باوجود یہاں کی رونقوں میں کھو جاتا ہے۔ ایک شاعر نے اسے یوں بیان کیا ہے:۔

بہتر تو ہے یہی کہ نہ دنیا میں دل لگے

پر کیا کریں جو کام نہ بے دل لگی چلے

           شاعر اس میں کہتے ہیں کہ حضور ؐ کی آمد صرف عرب کے لیے نہیں بلکہ آپؐ پوری نوع انسانی کی قسمت سنوارنے کے لیے تشریف لائے ۔ آپؐ اقوام عالم کی بقا، ظلم کے خاتمے، مظلوم کے لیے رحمت بن کرآ ئے۔ آپؐ خدا شناسی کا پیغام لے کر آئے  ۔اگر شعر کی تفہیم کے لیے شعر کو اس پہلو سے دیکھا جائے کہ میدان جنگ میں کامیابی کے لیے حکمت عملی اور تدابیر کا عمل دخل ہوتاہے ۔ شاعر کے نزدیک زندگی کی اس جنگ میں کامیابی پانے کے لیے آپؐ کے نقش قدم پر چلنا  ازحد ضروری ہے ۔ حد یث پاک کا مفہوم ہے ’’ تم اس وقت تک کامل ایمان کو نہیں پہنچ سکتے جب تک میں تمھیں  تمھاری جان ،مال ، اولاد  اور والدین حتیٰ کہ ہر چیز سے عزیز نہ ہو جاؤں‘‘۔

گویا انسان کی فلاح ، کامیابی اور سکون پانے کے لیے  آپؐ کا عملی مجسمہ ہی راہنمائی مہیا کر سکتا ہے ’’وجہ سکون ‘‘کے دو معانی ہو سکتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ آپ  کی سیرت میں جن کو اختیار کر کے کوئی بھی انسان سکون سے زندگی بسر کر سکتا ہے ۔جب کہ دوسرا مطلب انتہائی خوبصورت بنتا ہے ۔ حضورؐ کی ذات پاک ایک عملی نمونہ ہے ۔ آپؐ کا پیغام دائمی ،ابدی اور عالمگیر ہے اس سے انسانی زندگی کے لیے بہترین ہدایت ہیں ۔آپؐ کی سنتوں کی پیروی کرنے والا ہی دنیاوی زندگی میں کامیاب وکامران رہ سکتا ہے ۔گویاجو شخص آپؐ کی سنتوں کا اجتناب کرے گا اُس کا دل آرام وسکون کی دولت سے محروم رہے گا۔

ذکر نبی میں جو دن گزرے وہ دن سب سے بہتر ہے

یاد نبی میں رات جو گزرے اس سے بہتر رات نہیں

          شعر کے دوسر ے مصرع میں حفیظ تائب نے حبیب خدا کی صفت ’’شافعی کوثر‘‘ کا تذکرہ کیا ہے ۔شاعر کہتا ہے کہ محشر کے دن بھی حضور ہی کی ذات کام آئے گی۔ یہ وہ دن ہو گا جب ہر شخص کا نامہ اعمال تولا جائے گا۔ ہر طرف نفسا نفسی کا عالم ہو گا۔ کوئی کسی کے کام نہیں آئے گا۔ یہ صرف آپؐ کی ذاتِ اقدس ہی ہو گی جو حشر کے دن انسان کی بخشش کا سبب بنے گی۔ آپؐ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کی مخلوق کی نہ صرف شفاعت فرمائیں گے بلکہ اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں کے گناہوں سے درگزر کرنے اور انہیں معاف کر دینے کی التجا بھی کریں گے۔ گویا دنیا اور آخرت دونوں جگہ کامیابی کی ضمانت آپؐ کی ذات پاک ہے۔

عقبیٰ کی منزلوں میں بھی ہو گا وہ دستگیر

آسان جس کے فیض سے کارِ جہاں ہوا

شریعت کی رو سے میدان حشر میں وہی لوگ کامیاب قرار دیے جائیں گے جن کے پاس صالح اعمال ہوں گے مگر شاعرنے حضورؐ کی صفت شافعی کوثر کو بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ میدان حشر میں عفوودرگزر کی وجہ آپؐ کی ذات ہی بنے گی۔ شاعر کے نزدیک نبی مکرم کی ذات صرف دنیا میں بے کسوں کا سہارا ہی نہیں بلکہ قیامت کےروز میدان حشر میں بھی آپؐ اللہ تعالیٰ سے اپنے اُمتیوں کے لیے بخشش کے لیے سفارش کریں گے۔ ایک حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ:

          ’’قیامت کے دن نبی مکرم اپنے اُمتیوں کی سفارش کے لیے سجدے میں گر جائیں گے۔‘‘

رونما کب ہو گا راہِ زیست پر منزل کا چاند

ختم کب ہو گا اندھیروں کا سفر، خیرالبشر

الفاظ معانی الفاظ معانی
رونما ہونا ظاہر ہونا راہ زیست زندگی کا راستہ

مفہوم:          اے خیر البشر ! زندگی کی راہ کا مسافر کب منزل آشنا ہو گا اوراندھیروں کا سفر کب اختتام پذیر ہو گا۔

تشریح: تشریح طلب شعر میں شاعر التجائی انداز اختیار کرتے ہوئے کہ اُمت مسلمہ کے مایوس کن حالات کے پیش نظر آقا نامدار حضور  سے فریاد کر رہا ہے ۔واضح رہے کہ پہلے مصرع میں لفظ ’’ہمارے‘‘ سے مراد اُمت مسلمہ ہے۔  شاعر کہتا ہے کہ ا ے خیر البشر آ ج چاروں اطراف تاریکی پھیلی ہوئی ہے مسلمان راہ حق سے  ہٹ کر جہالت کی بھول بھلیوں میں الجھ کر رہ گئے ہیں ۔ پسماندگی، جہالت ، ظلم اورغربت و افلاس اور زوال کاشکار ہیں۔آج ملت بیضا (مسلمان قوم )قرآن اور صاحب قرآن کی تعلیمات سے غافل ہو کر پستی میں اتر رہی ہے، ماضی باکمال اور حال روبہ زوال ہے ۔شاعر شفیع معظم سے فریاد کرتے ہوئے استفسار کرتا ہے کہ اے نبی مکرم  اس قوم کے سر سے جہالت کے بادل کب چھٹیں  گے اور انھیں کھویا ہوا مقام کب نصیب ہو گا؟

اے خاصۂ خاصانِ رسل وقت دعا ہے

اُمت پہ تری آکے عجب وقت پڑا ہے

فریاد ہے اے کشتیِ اُمت کے نگہباں!

بیڑا یہ تباہی کے قریب آن لگا ہے

          بقول حفیظ تائب ؔ

اے نوید مسیحا تیری قوم کا حال موسیٰ کی بھیڑوں سے ابتر ہوا

اسکے کمزور اور بے ہنر ہاتھ سے چھین لی چرخ نے برتری یانبیؐ!

          حفیظ تائب نے مصرع اولیٰ میں ’’منزل کا چاند ‘‘کی ترکیب انتہا ئی با معانی انداز میں استعمال کی ہے ۔ تاریکی رات کی علامت ہے اور اس میں روشنی پھیلانے والے اور روشنی مہیا کرنے کے لیے چاند مہیا ہو سکتا ہے ۔ یہاں چاند کا استعارہ شاعر نے ایسی رہنمائی کے لیے استعمال کیا جو تا ریکی میں ڈوبی ہوئی اس قوم کو اس منزل مقصود تک پہنچا دے۔یقیناًمنزل کا چاند آنحضرت کی سیرت طیبہ کے علاوہ کچھ اور ہو ہی نہیں سکتا ۔اس لیے شاعر دعائیہ انداز میں التجا کر رہا ہے کہ اے رسول پاکؐ! یہ زندگی کے راستے تاریک پڑے ہیں آپؐ سے التجا ہے کہ  انھیں منور کر دیں ۔ آپؐ چاند کی روشنی بکھیر دیں  کہ اندھیرے چھٹ جائیں اور منزل بھی دکھائی دینے لگے۔

          شاعر مسلمانوں کی سیاسی ،اخلاقی اور دینی زوال سے غمگین ہے۔ تاج سرِدارا کو کچلنے والی یہ قوم آج غیروں سے بھیک مانگتی نظر آتی ہے۔ شاعر مشرق علامہ اقبالؒ نے بھی ایسے حالات میں نبی معظم ہی سے درخواست کی تھی۔

تو اے مولائے یثرب آپ میری چارہ سازی کر 
مری دانش ہے افرنگی مرا ایماں ہے زناری

          گویا شاعر کی واحد امید حضورؐ کی ذات مقدسہ ہے کہ آپؐ کی بدولت ہی شب کی تاریکی سحر میں بدل سکتی ہے یہ شعر موجودہ حالات کا آئینہ دار ہے۔ آج پوری اُمت مسلمہ اندھیروں میں بھٹک رہی ہے لیکن منزل کا چاند حب  رسول اور تعلیمات محمدیہؐ پر عمل کرنے کے بعد ہی ملے گی۔ مختصر بات یہ ہے کہ حضور  کی مہربانی ہی سے اس زوال سے نجات ممکن ہے۔

کب ملے گا ملّتِ بیضا کو پھر اوجِ کمال

کب شبِ حالات کی ہو گی سحر، خیرالبشر

الفاظ معانی الفاظ معانی
ملت بیضا ر وشن قوم، مراد مسلمان قوم اوج کمال ہنر اور فن کی بلندی، کمال کا عروج
شب حالات حالات کی تاریکی سحر صبح

مفہوم:          وہ دن کب طلوع ہو گا جب اُمت مسلمہ کا زوال ختم ہو گا، انہیں دوبارہ عروج حاصل ہو گا۔

تشریح: کوئی بھی فرد ہو یا قوم جب وہ بے عملی کا شکار ہو جاتی ہےتو علم سے دور ہو جاتی ہے۔ وہ اخلاقی گراوٹ میں مبتلا ہو کر باہمی نااتفاقی اور انتشار کا شکار ہو جاتی ہے۔ وہ کمزور ہو کر زوال اور پسماندگی کے اندھیروں میں ڈوب جاتی ہے۔ مسلمان جب تک حضور کی دی ہوئی تعلیمات پر عمل کرتے رہے انہیں قوت و طاقت حاصل ہوتی تھی وہ ایک باوقار حیثیت کے مالک بھی رہے لیکن آخر جب وہ اِسلامی تعلیمات سے دور ہو گئے تو زوال ان کا مقدر بن گیا۔ ہر صاحب دل اور حساس مسلمان کی طرح حفیظ تائب ؔکا دل بھی مسلمانوں کے زوال پر دکھتا ہے۔ اپنی ایک دوسری نعت میں وہ کہتے ہیں:۔

اے نوید مسیحا تری قوم کا حال عیٰسی کی بھیڑوں سے ابتر ہوا

اس کے کمزور اور بے ہنر ہاتھ سے چھین لی چرخ نے برتری یا نبی!

          تشریح طلب شعر میں شاعر ملت اِسلامیہ کے زوال کے بارے میں دکھ سے سوالیہ انداز میں بات کر رہا ہے وہ ملت جس کا ماضی روشن تھا آج زوال کا شکار ہے شاعر نے مصرع اولیٰ میں ’’ملت بیضا‘‘ کا لفظ جس کا معانی روشن اور تانباک ہے، استعمال کیا ہے جس سے مراد یہ ہے کہ ایک وقت تھا جب مسلمان زندگی کی ہر شاہراہ پر امام تھے ۔ دنیا کی تمام تر ترقی مسلمانوں  سے منسوب تھی۔

بہار اب جو دنیا میں آئی ہوئی ہے

یہ سب پود انھی کی لگائی ہوئی ہے

          علم حکمت، سائنس، طب اور مذہب میں لازوال کارنامے دکھانے والی قوم آج جہالت اور تاریکی میں ڈوبی ہوئی ہے ۔آج کے حالات کے پیش نظر حفیظ تائب ’’شب‘‘کا لفظ لاتے ہیں ۔ شاعر آپؐ سے فریاد گو ہے کہ آپؐ کے عشاق کب تک غلامی کی ٹھوکر کھائیں گے آخر کب ترقی اور کامیابی ان کے قدم چومے گی۔

          انسانی فطرت ہے کہ وہ بہتر سے بہترین کی تلاش میں رہتا ہے۔ اس فطری خواہش کے برعکس جب حالات بد سے بدتر ہوتے چلے جائیں تو انسان سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ یہ کیوں ہو رہا ہے؟ اور پھر جب کوشش کے باوجود حالات نہ بدلیں بلکہ جوں کے توں رہیں تو انسان اس ہستی کی طرف متوجہ ہوتا ہے جس کے بارے میں اسے دو باتوں کا یقین ہو۔ اول یہ کہ اس ہستی کو ہم سے ہمدردی ہے اور دوم یہ کہ ان حالات میں دین کچھ کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔ حضور  کی ذات اقدس ہی سے مسلمان یہ امیدیں وابستہ کر سکتے ہیں چنانچہ حفیظ تائب بھی اُمت مسلمہ پر پھیلے ہوئے افلاس کو دور کرنے کی حضور  سے التجا کرتے ہیں۔

شاعر حقیقت میں اُمت مسلمہ کو اس پستی سے نکالنے کا ایک ہی در بتا رہے ہیں کہ اگر وہ دین محمدی   کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیں سیرت مصطفی   کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھال لیں اور پھر وہ دن دور نہیں جب اُمت مسلمہ کے حالات بدل جائیں گے ۔ ظلم وپستی کی تاریک راہیں ختم ہو جائیں گی صرف اور صرف اُسوہ رسول  سے مسلمان اپنی کھوئی ہوئی عظمت کو پھر سے پا لیں گے ۔

خلاصہ:

حفیظ تائب کہتے ہیں کہ آپؐ اچھی عادات کے مالک اور اچھے خیالات کے حامل ہیں۔ آپؐ بہترین انسان ہیں۔ آپؐ اچھے حسب و نسب والے ہیں۔ آپؐ اپنی خوبیوں کی بدولت لوگوں کے دلوں میں گھر کر لیتے تھے۔ آپؐ صاحب حق تھے اور آپؐ ہی نے اپنی انگشت مبارک کے اشارے سے چاند کے دو ٹکڑے کیے تھے۔ آپؐ دونوں جہانوں کے لیے رحمت ہیں۔ اس دنیا میں آپؐ ہمارے لیے وجہ کامیابی ہیں اور آخرت میں نجات کا ذریعہ ہیں۔ ہماری زندگیوں کے اندھیرے کب ختم ہوں گے اور کب ہماری زندگی کی منزل ہمیں ملے گی۔ پستیوں میں گری ہوئی ملت اسلامیہ آپؐ کی نگاہ کرم کی منتظر ہے۔اور خود تائب بھی آپؐ کی ایک نظر کرم کا منتظر ہے۔


Share With Others

اس موضوع پر مزید پڑھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *