حمد کی تشریح شاعر مولانا ظفر علی خاں بارہویں کلاس
حمدشاعر: مولانا ظفر علی خاں |
تعارف شاعر:
مولانا ظفر علی خاں کی شاعری کا ایک اہم ترین وصف ان کا جذبہ عشق رسول ہے۔اِسلام سے محبت ان کی سرشت میں سمائی ہوئی تھی اور رسول اکرم کا عشق ان کی روح پر چھایا ہوا تھا۔ چنانچہ انھوں نے حمدو نعت کے میدان میں نئے باب کا اضافہ کیا ہے۔ مولانا ظفر علی خان کی شاعری ایک ایسے قادرالکلام اور بدیہہ گو شاعر کا کلام ہے جس کے خیالات میں سمندروں کا طوفان اور دریاؤں کی سی روانی ہے اور جس نے طوفان آفریں جذبات کو اشعار کے نازک آبگینوں میں بند کر دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حمد و نعت کے میدان میں ان کا فن اور جذبہ دونوں پاکیزہ اور کامل نظر آتے ہیں۔ ان کے حمدیہ کلام میں ایک طرف حسن عقیدت عروج پرنظر آتی ہے تو دوسری طرف حسن کلام بھی اپنے عروج پر نظر آتا ہے۔
پہنچتا ہے ہر اک مے کش کے آگے دور جام اس کا
کسی کو تَشنہ لب رکھتا نہیں ہے لطفِ عام اس کا
| الفاظ | معانی | الفاظ | معانی |
| مے کش | شراب نوش | دورجام | شراب کے پیالے کی گردش |
| تشنہ لب | پیاسا | لطف عام | ایسی عنایت جو ہر ایک تک پہنچے |
مفہوم: ا للہ تعالیٰ کی مہربانی اور لطف اتنا عام ہے کہ ہر ایک کے پاس پہنچتا ہے اور کوئی بھی اس کی عنایت سے محروم نہیں رہتا۔
تشریح: تشریح طلب شعر مولانا ظفر علی خاں کی نظم حمد کا پہلا شعر ہے۔ پوری نظم غزل کی ہیئت میں لکھی گئی ہے۔ شاعر نے اس شعر میں غزل کے رموز و علام کو استعمال کیا ہے۔ اس شعر میں مولانا ظفر علی خاں اللہ تعالیٰ کی رحمت کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کو ساقی اور مخلوق کو مےکش قرار دیا ہے۔شاعر کہتے ہیں کہ وہ رب العالمین ہے۔ تمام بنی نوع انسان اس کی رحمت اور شفقت کی محتاج ہے۔ عربی ہو یا عجمی، گورا ہو یا کالا، ادنیٰ ہو یا اعلیٰ، مسلم ہو یا غیر مسلم سب تک اس کی رحمت اور شفقت پہنچتی ہے۔ کوئی بھی انسان اس کی رحمت اور لطف و کرم کے دائرے سے خارج نہیں۔ یہاں شاعر نے اللہ کی عمومی نعمتیں جیسے ہوا، پانی اور خوراک وغیرہ کا ذکر کیا ہے یہ نعمتیں سب تک پہنچ جاتی ہیں اور اللہ کے کرم میں کوئی فرق نہیں آتا وہ اتنا مہربان ہے کہ جو اسے نہیں بھی مانتا اسے بھی عطا کر تا ہے۔ کسی اور شاعر نے کیا خوب کہا ہے:
خطائیں دیکھتا بھی ہے، عطائیں کم نہیں کرتا
سمجھ میں کچھ نہیں آتا وہ اتنا مہرباں کیوں ہے؟
اللہ تعالیٰ کی صفات کی کوئی حد نہیں ہے۔ وہ تمام جہانوں کا پیدا کرنے اور پالنے والا ہے اس کی رحمتیں بے حساب ہیں۔ قرآن مجید میں خالق کائنات کو رب العالمین کہا گیا ہے۔ تما م جہانوں کے رب کی عنایات سب کے لیے ہیں۔ اس کے ماننے والوں کے لیے بھی اور نہ ماننے والوں کے لیے بھی ۔شاعر بھی اس شان کریمی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہ رہا ہے کہ اے اللہ ! تیرا دور جام ہر مے کش کے پاس پہنچتا ہے۔ شاعر کے خیال میں اگرساری دنیا کے انسانوں کو مے کش (شراب پینے والے) تصور کر لیا جائے تو کائنات کا مالک و خالق ایک ایسا ساقی ہے کہ جس کے کرم اور رحم کا جام(پیالہ)سب کے سامنے خود بخود پہنچ جا تا ہے ۔
عموماً شراب پینےوالے کو اس بات کا گلہ ہوتا ہے کہ اس تک شراب کا پیالہ نہیں آیا۔ جبکہ کچھ دوسرے لوگوں پر ساقی کی عنایت ہے۔ لیکن یہاں ایسا نہیں ہے اللہ تعالیٰ کی مہربانی اور رحمتوں کا سلسلہ صرف مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ کفار اور مشرک بھی اس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ وہ اپنی ساری مخلوق سے بے حد پیار بھی کرتا ہے اور انہیں بےحد نوازتا بھی ہے۔اللہ تعالیٰ کی شان اتنی بلند ہے کہ وہ اپنی رحمتوں کے دروازے کھلے رکھتا ہے۔ اُس کی رحمتوں کادور جام ہر کسی کی پیاس بجھاتا ہے۔ وہ کسی کو اپنی نعمتوں سے محروم نہیں رکھتا۔ وہ اپنی جناب سے رزق اور دیگر نعمتوں سے نوازتا ہے ۔قرآن پاک میں ہے:
وَاِنَّ اللهَ لَهُوَ خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ
ترجمہ: بیشک خدا سب سے بہتر رزق دینے والا ہے۔
’’مے کش‘ ‘، ’’دور جام‘‘ ’’تشنہ لب‘‘ اور ’’لطف عام‘‘ کی تراکیب نے شعر کے بیان میں اچھوتا نکھار پیدا کردیا ہے۔ مولانا ظفر علی خاں نے گویا خوبصورت انداز میں انسان کو سبق دیا ہے کہ انسان خواہ دنیا کے کسی خطے میں بستا ہو اسے اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس اور نااُمید نہیں ہونا چاہیے۔ اُسے تلاش رزق میں حریص نہیں ہونا چاہیے ۔ اُسے حتی المقدور جائز ذرائع کا سہارا لینا چاہیے کیونکہ رزق کی تقسیم اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
گواہی دے رہی ہے اس کی یکتائی پہ ذات اس کی
دوئی کے نقش سب جھوٹے، ہے سچا ایک نام اُس کا
| الفاظ | معانی | الفاظ | معانی | الفاظ | معانی |
| یکتائی | انفرادیت۔ بے مثل ہونا | دوئی | دوہونے کی کیفیت، شرک | نقش | تصو یر، نشان |
مفہوم : خدا کی ذات اس کی یکتا ئی کی گو اہ ہے اور اس کا نام سچا ہے ۔
تشریح: تشریح طلب شعر میں مولانا ظفر علی خاں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور یکتائی کو موضوع سخن بنایا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات وحدہٗ لاشریک ہے۔ اُس جیسا کوئی نہیں ہے۔ اُس کی ذات و صفات اور اختیارات میں کوئی دوسرا شریک نہیں ۔ دراصل اس شعر کا مفہوم وہی ہے جو کلمہ طیبہ کے پہلے حصے میں بیان کیا گیا ہے یعنی : لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ
اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اُس کی ذات اور کائنات کا یہ نظام خود اس بات کی گواہی دے رہا ہےکہ اللہ تعالیٰ زبردست طاقت والا ہے وہ اپنی ذات میں واحد و یکتا ہے۔ قرآن پاک میں جگہ جگہ اللہ تعالیٰ نے اپنی وحدانیت کا ذکر کیا ہے۔ سورہ اخلاص میں تو اللہ تعالیٰ نے واضح کردیا ہے کہ:
ترجمہ: ’’کہو اللہ ایک ہے۔ اللہ بے نیاز ہے ۔ نہ وہ کسی سے جنا گیا ہے اور نہ اُس نے کسی کو جنا ہے۔ اور اُس کی کوئی برابری کرنے والا نہیں۔‘‘
اس سورہ مبارکہ میں توحید پر مہر ثبت کردی گئی ہے۔ اس سے واضح توحید کا تصور کہیں نہیں ملتا۔ توحید اسلام کی روح ہے اس کو مختلف شعراء نے منظوم کیا ہے۔ کسی شاعر نےکیا خوب کہا ہے:
زمانے میں سب کچھ ہے الا، شریک
وہی ہے وہی وحدہ‘ لا شریک
یہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ بظاہر نظر نہیں آتا لیکن کائنات کے منظم نظام پر غور و فکر کے ذریعے اُسے پہچانا جاسکتا ہے۔ اس کائنات میں جو کچھ بھی پیدا کیا گیا وہ اللہ کی کاری گری اور ہنر مندی کا ایک معجزہ ہے وہ خود بھی یکتا اور بے مثل ہے اور اس کی بنائی ہوئی ہر چیز اپنے اندر ایک زبر دست انفرادیت رکھتی ہے۔ یہی کاریگری ایک لحاظ سےاللہ تعالیٰ کی “یکتائی ” پر مُہرِ تصدیق ہے۔
اللہ تعالیٰ کا پردوں کے پیچھے رہ کر نظام کائنات کو چلانے کی حقیقت کو مولانا ظفر علی خاں نے ایک اور شعر میں یوں بیان کی ہے۔
دلوں کو معرفت کے نور سے تو نے کیا روشن
دکھایا بے نشاں ہوکر ہمیں اپنا نشاں تُو نے
انسان اس نظام کائنات پر جوں جوں غور کرتا ہے توں توں اللہ تعالیٰ کی بڑائی اور عظمت اُس کے دل پر نقش ہوجاتی ہے اگر انسان عقل سلیم سے کام لے تو اس کی عقل کبھی بھی یہ نتیجہ اخذ نہیں کر سکتی کہ کائنات میں کسی غیر اللہ کا کوئی عمل دخل ہے ۔ قران پاک میں ہے:
اِنَّ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّھَارِ لَاٰيٰتٍ لِّاُولِي الْاَلْبَابِ
ترجمہ: ’’آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات دن کے ہیر پھیر میں یقیناً عقلمندوں کے لیے نشانیاں ہیں۔‘‘
معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہی اُس کی یکتائی کی دلیل ہے۔خواجہ میر دردؔ اس حقیقت کو یوں بیان کرتے ہیں:
جگ میں آکر ادھر اُدھر دیکھا
تو ہی آیا نظر جدھر دیکھا
شعر کے دوسرے مصرعے میں شاعر دوئی کو جھٹلاتے ہوئے اس بات کا اقرار کیا ہے کہ صرف اُسی مالک کا نام سچا ہے۔ جس خدا نے یہ کائنات بنائی ہے۔ اُس کا کوئی مدمقابل نہیں ۔ اپنے آپ کو خدا کہلانے والے فرعون ، نمرود ، شداد سب جھوٹے ثابت ہوئے ۔ اگر کوئی سچا نام ہے تو وہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔سورۃ الانبیا میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
لَوْ كَانَ فِيْهِمَآ اٰلِهَةٌ اِلَّا اللّٰهُ لَفَسَدَتَا ۚ
ترجمہ: اگر (آسمان و زمین میں) سوائے اللہ تعالیٰ کے اور بھی معبود ہوتے تو یہ نظام درہم برہم ہوجاتا۔‘‘
معلوم ہوا کہ اللہ رب العزت کی ذات واحد اور بے مثل ہونے کی شہادت خود ہی دے رہی ہے۔دوئی کا جو بھی تصور یا نشان ہے وہ جھوٹا اور ختم ہونے والا ہے۔ صرف اللہ ہی اس کائنات کا خالق و مالک ہے۔بقول مرزا غالبؔ:
اسے کون دیکھ سکتا کہ یگانہ ہے وہ یکتا
جو دوئی کی بُو بھی ہوتی تو کہیں دو چار ہوتا
مختصر یہ کہ انسان پر لازم ہے کہ وہ اس حقیقت کو سمجھے کہ کائنات کا سارا نظام انسان کے فلاح اور بہتری کے لیے ہے ۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اس نظام کائنات پر غور کرتے ہوئے اپنے خالق و مالک کو سمجھے اور صحیح معنوں میں اُس کی عبادت کا حق ادا کرے۔
ہر اک ذرّہ فضا کا داستاں اس کی سناتا ہے
ہر ایک جھونکا ہوا کا آکے دیتا ہے پیام اُس کا
| الفاظ | معانی | الفاظ | معانی |
| داستاں | کہانی | پیام | پیغام، سندیسہ |
مفہوم: کائنات کی ہر چیز خدا کی ذات کی ترجمان ہے اور ہوا کا ہر جھونکا اس کا پیغام لاتا ہے۔
تشریح: زیر مطالعہ شعر میں بھی مولانا ظفر علی خاں مظاہرِ فطرت کے حوالے سے خدا کی قدرتِ کاملہ بیان کررہے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کو ظاہری آنکھوں سے نہیں دیکھ سکتے۔ اس دنیا کا تمام نظام خدا ہی کے اختیاروقدرت میں ہے جس نے یہ کائنات تخلیق کی ہے۔ اس کائنات کا ذرہ ذرہ اس کے ہونے کی گواہی دیتا ہے۔ ہمارے اردگرد کی دنیامیں پھیلی ہوئی بے شمار شہادتیں اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا اظہار ہیں۔ یہ وسیع وعریض زمین بغیر ستونوں کے ایستادہ آسمان،یہ سیاروں اور ستاروں کا چلنا، یہ دریاؤں کا بہنا ،یہ ہواؤں کی سرسراہٹ یہ سورج کا چمکنا، سمندروں کا مدوجزریہ فصلوں کی لہلہاہٹ اسی ایک خدا کے وجود اور قدرت کاملہ کا اظہار ہے۔
اُسی کا یہ جلوہ ہے چاروں طرف
ہزاروں نشاں ہیں ہزاروں طرف
اللہ تعالیٰ کی ذات مبارکہ اپنا ادراک واعتراف خود ہی کراتی ہے ۔اگر لفظ ’’ذرے‘‘ پر غور کریں تو کائنات کی ہر چیز مختلف ذرات کا مجموعہ ہے ۔ دنیاکا یہ زبردست نظم وضبط اس کی ذات پر گواہ ہے ۔ کائنات کا ذرہ زرہ اس کی داستان سناتا ہے۔
شعر کے دوسرے مصرع میں مولانا ظفر علی خاں کہتے ہیں اگر ہوائیں چلتی ہیں تو یہ بھی اپنی زبان سےاسی کی صناعی اور حکمت کا راز کھولتی ہیں۔ انسان پر یہ بات منکشف ہوتی ہے کہ کوئی ایسی ہستی ہے جو اس کائنات کو سنبھالے ہوئے ہے اور اس کو چلا رہی ہے۔ گویا ہواؤں اور فضاؤں پہ اسی ذات کی حکمرانی ہے۔ قرآن پاک میں ہے۔
وَسِعَ كُرْسِـيُّهُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ ۚ
ترجمہ: اس کی کرسی کی وسعت نے زمین اور آسمان کو گھیر رکھا ہے۔
دوسرے لفظوں میں ہوا کا چھوٹا سا جھونکا بھی اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور قدرت کاملہ کا اظہار ہے۔ شاعر نے مختلف حوالوں سے اللہ تعالیٰ کے یکتا اور واحد ہونے کے دلائل شاعرانہ انداز میں بیان کر دیے ہیں۔ ان کی روشنی میں یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ یہ کائنات اپنے خالق کے ہونے کا منہ بولتا ثبوت ہے جسے جھٹلانا کم عقلی اور جہالت کے زمرے میں آتا ہے۔
مختصر یہ کہ انسان کو چاہیے کہ وہ ان نشانیوں کے ذریعے اللہ کی ذات کو پہچانے۔ بلا شبہ اہل نظر ہر چیز میں اللہ تعالیٰ کی نشانیاں دیکھتے ہیں اور سبق حاصل کرتے ہیں اس لیے وہ دوسروں کو بھی دیدہ بینا سے دیکھنے کی دعوت دیتے ہیں ۔سعدی شیرازی نے کہا تھا:’’کہ درختوں کا ایک ایک پتا اللہ کی پہچان اور اسی کی معرفت کا ذریعہ ہے ۔‘‘
ہم اہل نظر کو ثبوت حق کے لیے
اگر رسول نہ ہوتے تو صبح کافی تھی
مولانا ظفر علی خاں کا یہ شعر اللہ تعالیٰ کی توحید کا مظہر ہے ۔ شعر کے مطابق ذرے ذرے سے شان یکتائی بیان ہو رہی ہے ۔ شعرمیں فکری خوبصورتی کے ساتھ فنی حسن بھی موجود ہے ۔شاعر نے ذرہ ،فضا،جھونکااور ہوا کے الفاظ ملاکر مراۃ النظیرکی خوبصورت مثال رقم کی ہے۔
سراپا معصیت میں ہوں، سراپا مغفرت وہ ہے
خطا کوشی روش میری، خطا پوشی ہے کام اس کا
| الفاظ | معانی | الفاظ | معانی |
| سراپا | سراسر، تمام، سر سے پاؤں تک | معصیت | گناہ ، خطا |
| مغفرت | بخشش | روش | طور طریقہ، قاعدہ |
| خطا کوشی | غلطی کرنا | خطا پوشی | خطا پر پردہ ڈالنا |
| اس کا | مراد خداتعالیٰ کی ذات کا |
مفہوم: میری ذات گناہوں سے آلودہ ہے جبکہ اللہ تعالیٰ غفور اور رحیم ہے۔ خطا کرنا انسان کی عادت جبکہ عیب چھپانا اللہ کی صفت ہے۔
تشریح: تشریح طلب شعر میں مولانا ظفر علی خاں انسانوں کے گناہوں کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ کی شان مغفرت اور رحمت کو بیان کرتا ہے۔ انسان بلاشبہ اشرف المخلوقات ہے مگر غلطی اور خطا اس کی سرشت میں موجود ہے انسان کتنا ہی زاہداور عارف کیوں نہ ہو شیطان کسی نہ کسی طریقے سےلغزش یا غلطی پر آمادہ کر لیتا ہے ۔اللہ تعالیٰ نے شیطان کو انسان کا کھلا دشمن قرار دیا ہے ۔ اس لیے یہ انسان پر سامنے سے، پیچھے سے، دائیں سےبائیں سے ، اوپر سے اور نیچے سے وار کرتا ہے ۔انسان کو بعض اوقات یہ معلوم بھی نہیں ہوتا کہ اس سے گناہ سرزد ہو رہا ہے۔ انسان کو خطا کا پتلا بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اسی خطا کے نتیجے میں انسان جنت سے نکالا گیا تھا۔ اُس نے اپنی خطا کی معافی اس طرح مانگی:۔
”اے ہمارے پروردگار! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اگر تو نے ہمیں معاف نہ کیا اور رحم نہ کھایا تو ہم گھاٹا پانے والوں میں سے ہو جائیں گے“
تشریح طلب شعر میں مولانا ظفر علی خاں اللہ تعالیٰ سے اپنے لیےمغفرت مانگتے ہیں کہ اے خدا میں انسان ہوں میری سرشت میں گناہ کرنا اور غلطیاں کرنا شامل ہے ۔ انسان ہونے کی حیثیت سے سر سے پاؤں تک گناہوں میں ڈوبا ہوا ہوں۔ اس کے مقابلے میں باری تعالیٰ تیری ذات سراپامغفرت ہی مغفرت ہے قرآن پاک میں ہے اللہ فرماتا ہے: ﴿ وَرَحْمَتِيْ وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ ﴾میری رحمت تمام اشیا پر محیط ہے۔
شاعر اس حقیقت سے واقف ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات اپنے بندے پر حد سے زیادہ رحم کرنے والی ہے ۔وہ اپنی مخلوق سے ستر ماؤں کے پیار سے بھی زیادہ پیار کرتاہے۔ بقول شاعر:۔
باوجودیکہ پُر ہوں عصیاں سے
تیری رحمت کا پھر بھی ہے سودا
حدیث پاک میں آتا ہے ۔ جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا فرمایا تو عرش پر لکھ دیا ۔
اِنَّ رَحْمَتِیْ تَغْلِبْ غَضَبِیْ
’’میری رحمت میرے غضب پر بھاری ہے ۔‘‘
مصرع ثانی میں شاعر نے شعری پیرائے میں اللہ رب العزت کی ایک اور صفت کو اجاگر کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام خطاکاروں کی پردہ پوشی کرتا ہے ۔غلطی کرنا انسان کی فطرت میں ہے ۔ گناہوں کو معاف کرنا خطاؤں کی پردہ پوشی رب غفورالرحیم کی صفت خاص ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔
وَسَتَّارُ الْعُيُوْبِ وَغَفَّارُ الذُّنُوْبِ
عیبوں کا چھپانے والااور گناہوں کا بخشنے والا ہے۔
مختصر یہ کہ شاعر اپنے گناہوں کا اعتراف کر کے اپنی توبہ کا دروازہ کھلوانا چاہتا ہے وہ جانتا ہے کہ کرم کرنے والا اور بخشنے والاصرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ خدا کی رحمت اور شفقت اس کی دیگر صفات پرحاوی ہیں۔
نہ کہیں جہاں میں اماں ملی ،جو اماں ملی تو کہاں ملی
مرے جرم خانہ خراب کو ترے عفو بندہ نواز میں
انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے گناہوں کی صدق دل سے معافی طلب کرے اور آئندہ گناہوں اور غلطیوں سے سچی توبہ کرے وہ رحیم وکریم ہے ضرور بالضرور بخش دے گا۔ یہ شعر جذب وشوق میں ڈوبا ہواہے اور اللہ تعالیٰ کی بڑی صفت بخشش وعطا کا آئینہ دار ہے ۔یہ شعر سادگی ،سلاست اور لطافت کا نمونہ ہے۔
مری افتادگی بھی میرے حق میں اس کی رحمت تھی
کہ گرتے گرتے بھی میں نے لیا دامن ہے تھام اُس کا
| الفاظ | معانی | الفاظ | معانی |
| افتادگی | بے کسی، عاجزی | دامن تھام لینا | سہارا لے لینا |
مفہوم: میری عاجزی میرے لیے اللہ تعالیٰ کی رحمت کا باعث تھی کیونکہ میں نے ہمیشہ اس کے دامن کو تھامے رکھا۔
تشریح: تشریح طلب شعرمیں شاعر نے اپنی افتادگی (عاجزی ،انکساری)کو اپنے لیے رحمت اور قدرت الہٰی کا انعام قرار دیا ہے۔ میرا گناہوں میں پڑنا ایک لحاظ سے رحمت ثابت ہو ا وہ یوں کہ گناہوں کے بعد توبہ پر مائل ہو گیا اور میں نے اللہ تعالیٰ کی رحمت میں پناہ لےلی۔
انسان کی دنیاوی زندگی ایک بہت بڑی آزمائش ہے اور اس کو کامیابی سے گزارنا انتہائی مشکل ہے ۔زندگی میں کامیابی یہ ہے کہ انسان اطاعت وعبادت کے اعلیٰ ترین مدارج پر فائز ہو کر خدا کی خلافت اور نیابت کا حق ادا کرے ۔ لیکن اس دنیا میں آنے کے بعد وہ اپنے اصل مقصد حیات سے غافل ہو کردنیاکی دلفریبیوں میں کھو کر رہ جاتا ہے اس میں دنیاوی دکھ ، تکلیفیں ، مصیبتیں اور طرح طرح کی پریشانیاں اسے گھیر لیتی ہیں ۔دنیاوی مصائب کی حقیقت یہ ہے کہ انسان کو پریشان کرنے کے لیے نہیں بلکہ بیدار کرنے کے لیے ہوتے ہیں تاکہ وہ بھولے ہوئے مقصد حیات کی طرف لوٹ آئے ۔
بہت خوش ہوں خدا یاد آرہا ہے اس مصیبت میں
مری کشتی کو اے طوفاں ! یونہی زیروزبر رکھنا
مولانا ظفر علی خاں اپنے آپ پر آنے والے دکھوں اور تکلیفوں کو بھی اپنے حق میں اللہ تعالیٰ کی رحمت قرار دے رہا ہے کہ ان دکھوں نے اسے اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے پر مجبور کر دیا ہے ۔ شاعر کہتا ہے پھر یوں ہوا کہ مجھ میں احساس ندامت پیدا ہو ا اور میں نے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا اسی کا دامن پکڑا،اس سے مغفرت طلب کی ۔اللہ تعالیٰ نے میری عاجزی کو قبول کیا اور مجھے اپنی رحمت کے سائے میں لے لیا۔ یوں میرا گرنا میرے حق میں رحمت ثابت ہوا کہ انجام کار کے لحاظ سے اللہ رب العزت کے قریب ہوگیا۔
موتی سمجھ کے شان کریمی نے چن لیے
قطرے جو تھے مرے عرقِ انفعال کے
اللہ تعالیٰ اس کائنات کا خالق ہے اور خالق ہونے کے ناطے اسے اپنی مخلوق سے بہت پیار ہے۔ وہ بار بار کہتا ہے کہ اُسے پکارو وہ سب کی دعاؤں کو سنتا اور قبول کرتا ہے ۔وہ لوگ جو اللہ کی رحمت کا دامن تھام لیتے ہیں وہ دنیا و آخرت کے ہر امتحان میں کامیابی اور سرخروئی حاصل کرتے ہیں۔
شاعر کی افتادگی اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کے ذکر سے شعر میں اثر آفرینی پیدا کر دی ہے ۔شعر فکری خوبیوں سے مالامال ہے۔ ’’گرتے گرتے‘‘کے الفاظ سے صنعت تکرار نمایاں ہے ۔’’دامن تھام لینا ‘‘ محاورہ استعمال کیا گیا ہے۔
ہوئی ختم اس کی حجت اس زمیں کے بسنے والوں پر
کہ پہنچایا ہے ان سب تک محمد نے کلام اُس کا
مفہوم: اللہ تعالیٰ نے اہل زمیں تک اپنا پیغام پہنچانے کے لیے حضور اکرم کو مبعوث فرمایا اور اسی لیے رب کے ہونے نہ ہونے کی بحث اپنے انجام کو پہنچی۔
تشریح: تشریح طلب شعر استعارہ کی خوب صورت مثال ہے۔ قرآن پاک کے لیے استعارے کے طورپر لفظ ’’کلام‘‘ استعمال ہوا ہے۔ اس کے علاوہ خفیف سی تلمیح کا رنگ ظاہر ہوتا ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر نبی آخرالزماں نے اپنے اصحاب اور پیروکاروں سے سوال کیا تھا کہ کیا میں نے تم لوگوں کوخدا کے پیغام کی حجت تمام کر دی ہے تو سب لوگوں نے یک زبان ہو کر کر کہا تھا کہ ہاں کر دی ہے۔
تشریح طلب شعر میں حضرت محمد Aکی عظمت اور ختم نبوت کا پہلو بھی بیان ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں انسان کی رشدو ہدایت کے لیے انبیاورسول بھیجے۔ نبوت کے سلسلے کی تکمیل نبی آخرلزماں پر ہوئی حضرت محمد کی ۲۳ سال کی نبوت کی زندگی میں قرآن حکیم کی وقفے وقفے سے تنزیل ہوتی رہی اور آ پاسے عملی زندگیوں میں نافذکرنے کی غرض سے اس کی تشریح و تفسیر فرماتے رہے۔ یوں دینی اور شرعی احکامات تکمیل کی منازل طے کرتے رہے۔ بالآخر اللہ پاک نے حجۃالوداع کے روز آیت نازل کی۔
اَلْيَوْمَ اَ كْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا
ترجمہ: آج میں نے تمہارے لیے دین کو کامل کردیا اور تم پر اپنا انعام بھرپور کردیا اور تمہارے لیے اِسلام کے دین ہونے پر رضامند ہوگیا۔
گویا اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد A کی وساطت سے اپنا کلام بنی نوع انسان تک پہنچادیا ہے۔ قرآن پاک مکمل ضابطہ حیات ہے اس میں زندگی بسر کرنے کے تمام اُصول سمجھا دیے گئے ہیں۔ آپ A نے اپنےقول وفعل اور عمل سے خدا کے احکا م کی عملی صورت ہمارے سامنے پیش کردی جس کی گواہی قرآن پاک نے ان الفاظ میں دی ہے:
لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ
ترجمہ: بے شک رسول اللہ کی زندگی تمھارے لیے بہترین نمونہ ہے۔
آپA نے زمین کے باسیوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی وحدت اور یکتائی کا پیغام پہنچادیا تاکہ کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ اُس تک پیغام ہدایت نہیں پہنچا ۔ اس شعر کی رو سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور A کی نبوت کے دو مقاصد تھے ایک یہ کہ انسان پر اللہ کی نعمتوں کو پورا کیا جائےاور دوسرے یہ کہ اُس پر نبی مکرم A کی وساطت سے یہ ثابت کیا جائے کہ خدا ہی اس کائنات کا اوّل و آخر ہے۔
بظاہر یہ حمد کا شعر ہے لیکن نعتیہ رنگ لیے ہوئے ہے۔ ظفر علی خاں اس شعر کے پردے میں حضور کی ذات کے حوالے سے یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ آپAنے دنیا میں کفروالحاد کا خاتمہ کرنے کے لیے اللہ کے احکام انسانوں تک پہنچائے۔ بقول شاعر:۔
ہدایت کے لیے دنیا کی ختم المرسلیں آئے
کتابِ رشد لے کر رحمت اللعالمیں آئے
شاعر کا موقف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضورA کے ذریعے تمام دنیا تک اپنا پیغام پہنچا کر یہ جواز مہیا کر دیا ہے کہ کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ اللہ کا پیغام اس تک نہیں پہنچا۔ کیونکہ حضور کی تعلیمات رہتی دنیا تک لوگوں کے لیے فلاح اور نجات کا ذریعہ ہیں۔
نبی آئے ہزاروں اور گئے درس وفا دے کر
سلام اُن پر جو آئے اور آنے کے لیے آئے
یہ شعر سادگی ،عمدگی اور لطافت کا مظہر ہے ۔ شعر میں خفیف سی تلمیح اور استعاراتی آہنگ لیے ہوئے ہے۔
بجھاتے ہی رہے پھونکوں سے کافر اس کو رہ رہ کر
مگر نور اپنی ساعت پر، رہا ہو کر تمام اُس کا
| الفاظ | معانی | الفاظ | معانی |
| ساعت | لمحہ، گھڑی | تمام ہونا | پورا ہونا |
مفہوم: کفار اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود دینِ اسلام کو مٹانے میں ناکام رہے اور اللہ کا نور اور تعلیمات دین و دنیا میں پھیل کر ہی رہیں گی۔
تشریح: تشریح طلب شعر میں مولانا ظفر علی خاں نے درج ذیل آیت کریمہ کے مفہوم کی وضاحت کی ہے۔
﴾يُرِيْدُوْنَ لِيُطْفِــــُٔـوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ ۭ وَاللّٰهُ مُتِمُّ نُوْرِهٖ وَلَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ ﴿
ترجمہ: وہ چاہتے ہیں کہ وہ بجھا دیں اللہ کے نور کواپنی پھونکوں سے اور اللہ پورا کرنے والا ہے اپنے نور کو اور اگرچہ کافر ناپسند کریں ۔
تخلیق آدم کے ساتھ ہی خیروشر کی محاذ آرائی بھی شروع ہو گئی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو شر سے محفوظ رکھنے اور انہیں شیطان کی گمراہی سے بچانے کے لیے انبیا مبعوث فرمائے جنہوں نے لوگوں کی اصلاح کا فریضہ سر انجام دیا۔اگر ہم تاریخ پر نظر ڈالیں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ خیروشر کی کشمکش ازل سے جاری ہے۔ جب بھی خیر اور شر کا معرکہ برپا ہوا تو ہمیشہ خیر ہی شر پر غالب رہا۔
نبی محتشم A کو جب اللہ تعالیٰ نےمبعوث فرمایا تو عرب معاشرہ جہالت کے اندھیروں میں ڈوبا ہوا تھا۔ بد اخلاقی، جوا، جھوٹ، غیبت ، چوری،بدکاری اور بے حیائی جیسی برائیاں عام تھیں۔بقول حالیؔ:
کہیں پانی پینے پلانے پہ جھگڑا
کہیں گھوڑا آگے بڑھانے پہ جھگڑا
حضرت محمد مصطفیٰ اس دنیا میں تشریف لائے آپ کی زندگی سراپا رحمت تھی نیک سیرتی، پاکیزگی اور صدق و صفا سے عبارت تھی۔ بعثت کے بعد آپ نے اہل عرب کو برائیوں سے باز رہنے اور اللہ کی اطاعت کا پیغام پہنچایا تو کفار و مشرکین اپنے نظریات ، عقائد اور رسم ورواج کو چھوڑنے پر آمادہ نہ ہوئے۔ اقبال ؔنے ایسے لوگوں کے بارے میں کہا ہے:
آئین نو سے ڈرنا طرز کہن پہ اڑنا
منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں
تاریخ اِسلام شاہد ہے کہ کبھی اُنھوں نے آپ A کو مال و دولت کا لالچ دیا تو کبھی سرداری اور کبھی دنیاوی مال و متاع کا ۔ جب کفار اپنے عزائم میں ناکام ہوئے تو پیارے آقا حضور A کے جانی دشمن ہوگئے ۔ قرآن پاک نے کفار کے کردار کو یوں واضح کیا ہے۔
ترجمہ: ’’تم نے نبیوں کے ایک گروہ کو جھٹلایا جبکہ ایک گروہ کو قتل کیا ‘‘
ظفر علی خاں کہتے ہیں کہ نور حق یعنی دین اِسلام ایک ایسا چراغ ہے جسے اللہ نے روشن کیا ہے۔ وہ چراغ لے کر نبی مکرم تشریف لائے۔ اس چراغ کی روشنی سے آپ نے جہالت کا خاتمہ کیا اور توحید پرستی کو رواج دیا۔ حجۃ الوداع کے موقع پر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا : ’’جاہلیت کی تمام رسمیں آج میرے پاؤں کے نیچے ہیں۔‘‘
مولانا ظفر علی خاں کفار کی انھیں مذموم کوششوں کا ذکر کررہے ہیں کہ کفار نے اپنی پھونکوں سے حق کے اس چراغ کو بجھانے کی کوشش کی۔ شاعر کا کہنا ہے کہ کفر اور شر کتنی بھی کوششیں کر یں اِسلام کی شمع کو نہیں بجھا سکتے کیونکہ اس کی حفاظت کا ذمہ خود اللہ تعالیٰ نے لیا ہے:۔
نورِ خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا
اقبالؔ نے کیا خوب کہا ہے:
کیوں ہراساں ہے صہیل فرس اعدا سے
نور حق بجھ نہ سکے گا نفس اعدا سے
بظاہر یہ حمد کا شعر ہے لیکن نعتیہ رنگ لیے ہوئے ہے۔ دوسرے مصرعے میں مولانا ظفر علی خان نے ”نور“ کا لفظ استعمال کر کے حضور کی شخصیت کا حوالہ دیا ہے جِن کی تعلیمات کو کفار اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود ختم نہ کر سکے اور شمع توحید کی روشنی زمین عرب سے نکل کر دنیا کے کونے کونے تک پھیل گئی۔ اسی بات کا اظہار مولانا ظفر علی خاں نے ایک اور موقع پر یوں کیا ہے:۔
وہ شمع اجالا جس نے کیا چالیس برس تک غاروں میں
اک روز چمکنے والی تھی سب دنیا کے درباروں میں
ہم دیکھتے ہیں کہ نبی آخرالزماں کے حیات مبارکہ میں ہی
جَاءَ الْحَقّ وَزَهَقَ الْبَاطِل
کا سماں کفر کے منظر نامے پر چھا چکا تھا۔ نبی آخرالزماں کے وصال کے بعد بھی بہت سے فتنے اُٹھے مگر شمع توحید کو گل نہ کرسکے۔ اہل مغرب بھی اپنی تصانیف اور میڈیا کے ذریعے اِسلام کی مخالفت میں مصروف عمل رہے مگر انجام کے لحاظ سے حق کو ہی فتح نصیب ہوئی۔یہ شعر غنایت سے لبریز ، جوش و جذبے سے بھر پور اور قوت ایمانی کو تازہ کرنے والا ہے۔
خلاصہ:
اللہ تعالیٰ کا کرم اور مہربانی اس دنیا کی ہر شے پرعام ہے وہ کسی کو بھی اپنی رحمت سے محروم نہیں رکھتا۔ کائنات کی ہر شے اُس کے ہونے کی گواہی دیتی ہے۔ انسان سراپا خطا ہے جبکہ اللہ کی ذات سراپا مغفرت ہے شاعر کہتا ہے کہ میری افتادگی میرے حق میں اسکی رحمت ثابت ہوئی کیوں کہ میں نے گرتے ہوئے اُس کا سہارا لیا اور اس نے مجھے تھام لیا۔ محمد کے ذریعے سے اللہ کا پیغام کفر کی کوششوں کے باوجود مکمل ہو کر رہا۔
