خداسرسبز رکھےاس چمن کو مہرباں ہوکر شاعر: اکبر الٰہ آبادی

خداسرسبز رکھےاس چمن کو مہرباں ہوکر شاعر: اکبر الٰہ آبادی

Share With Others

تعارف شاعر:

            اکبرؔ الہ آبادی ایک ایسے شاعر کا نام ہے جس نے مغربی تہذیب‘ مسلمانوں کی مغربی تہذیب سے قربت‘معاشرے کے غلط رسم ورواج‘اپنے عہد کی سیاست اور اس دور میں چلنے والی تحریکو ں اور رجحانوں کے خلاف اپنے طنز و مزاح سے بھرپور ’’ رد عمل‘‘ کی شاعری کے ذریعے شہرت حاصل کی۔ اور ادب کی تاریخ میں ’’ لسان العصر‘‘ کا لقب حاصل کیا۔ا کبرؔ اُردو میں طنز و مزاح کے نمائندہ شاعر ہیں۔ کلیات اکبرؔ پر نظر ڈالنے سے پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے غزل ‘ نظم‘رباعی ‘قطعات اور کئی متفرق اشعار پر مبنی اپنی طنز و مزاح اور سنجیدہ شاعری کو پیش کیا ہے۔

            اکبرؔ الہ آبادی شاعرانہ قوت کی بناء پر اس طرح کی منظر کشی کی کہ ہمیں تصویر یں جیتی جاگتی، چلتی پھرتی بلکہ بسا اوقات سانس لیتی دکھائی دیتی ہیں۔ اُنہوں نے اپنی مٹی اور زمین سے رنگ آہنگ لے کر لفظی تصویریں تخلیق کیں۔ علاقائیت یا مقامیت آپ کی شاعری کا اساسی رنگ تھا۔کوہ و کو ہسار ، دشت و صحرا ، صبح و شام ، آفتاب و ماہتاب اور افلاک کی بلندیوں کو اپنی منظری شاعری میں خاص جگہ دی ہے اور نئی معنویت عطا کی ہے۔

اُنھوں نے منظرنگاری کرتے ہوئے منظر کو صرف ضمنی انداز سے پیش نہیں کیا بلکہ اُس کو زندہ وجاوید کرکے اُس میں اپنی روح پھونک دی اور الفاظ کی طاقت سے منظر آنکھوں کے گرد گھومتے ہوئے دکھایا۔اکبرؔ نے ایک ایسے ادب کو جنم دیا جس کا رشتہ اپنی مٹی، رنگ وآہنگ اور زندگی سے جڑا ہوا تھا جو ہر موسم، ہر رُت، ہر رنگ، ہر لہجہ، ہر سُر اور ہر تال کو محسوس کرتا ہے۔

متن کا تعارف:

خدا سرسبز رکھے۔ شامل نصاب نظم دراصل عنوان کے بغیر ایک نظم ہے۔ نظم کا آخری سے پہلے شعر کا پورا مصرع یہ ہے۔ ”خدا سرسبز رکھے اس چمن کو مہرباں ہوکر“ جبکہ مرتبین نے ”خدا سرسبز رکھے اس چمن کو“ کے عنوان کے تحت اس نظم کو مرتب کردیاہے۔ یہ نظم اپنے موضوع اور محاسن کے اعتبار سے انوکھی اور منفرد ہے۔ کل اشعار سات ہیں جبکہ شامل نصاب صرف پانچ ہیں۔

بہار آئی کھلے گُل زیبِ صحنِ بوستاں ہو کر

عنادِل نے مچائی دھوم سر گرمِ فغاں ہو کر

الفاظ معانی الفاظ معانی
زیب سجاوٹ۔آرائش صحن بوستاں باغ کا صحن
زیب صحن بوستاں باغ کے صحن کی آرائش اور سجاوٹ کا باعث عنادل عندلیب کی جمع۔ بلبلیں
دھوم مچانا شور و غل مچانا سرگرم مستعد۔ پر جوش
فغاں شوروغوغا، فریاد    

مفہوم:          بہار آنے پر پھول کھلے ہیں جو  باغ کی خوبصورتی میں اضافہ کر رہے ہیں اور بلبلوں کے چہچہانے سے ہر طرف دھوم مچی ہے۔

تشریح: ’’خدا سر سبز رکھے اس چمن کو مہرباں ہوکر‘‘ شامل نصاب نظم دراصل عنوان کے بغیر ایک نظم ہے ۔ نظم کے آخری سے پہلے شعر کا پورا مصرع یہ ہے ’’خدا سر سبز رکھے اس چمن کو،مہربان ہو کر‘‘ جب کہ مرتبین نے ’’خدا سرسبز رکھے اس چمن کو‘‘ کے عنوان کے تحت اس نظم کو مرتب کر دیا  ہے ۔یہ نظم اپنے موضوع اور محاسن کے اعتبارسے انوکھی ہے۔

            تشریح طلب شعر اکبرالہٰ آبادی کی نظم کا پہلا شعر ہے ۔پوری نظم غزل کی ہئیت میں لکھی گئی  ہے ۔ شاعر نے باغ میں بہار کی آمد کا نقشہ کھینچا ہے ہرموسم مختلف خصوصیات رکھتا ہے۔ خزاں میں ہر طرف ویرانی ہی ویرانی دکھائی دیتی ہے۔ خزاں کے رخصت ہوتے ہی باغ میں بہار آجاتی ہے۔ بہار سے باغ میں پھول کھل اٹھتے ہیں۔ پھولوں کی کثرت کی وجہ سے باغ کی خوبصورتی کو چار چاند لگ جاتے ہیں۔ ہر طرف رنگوں اور خوشبوؤں کا ایک سیلاب امڈ تا محسوس ہوتا ہے۔ مختلف رنگوں مختلف قسم کے پھول باغ کے کونے کونے کو سجا سنواردیتے ہیں۔

پھول ہیں صحرا میں یا پریاں قطار اندر قطار

اودے اودے، نیلے نیلے، پیلے پیلے پیرہن

            اُردو شاعری میں گل اور بلبل ، عشق وعاشقی کی دو بڑی علامتیں ہیں اور شاعر نے ان کے ایک ساتھ تذکرے سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ اس موسم میں جذبات کا بہاؤ اس قدر تیز ہوجاتا ہے کہ چمن میں پھول کھل اُٹھنے پر بلبلیں اپنی خوشی اور مسرت کا اعلان کرتی نظرآتی ہیں ۔جوش مسرت کے ترانے گانے شروع کر دیتی ہیں ۔ گویا باغ پھولوں کے حسن سے دلکش نظر آتا ہے۔ دوسری طرف اس حسن کو دوبالا کرنے کے لیے یہی بلبلیں ان پھولوں پر منڈلاتی ہیں اور حسن کی تعریف میں خوشی کے ترانے گاتی ہیں  ۔میر تقی میرؔ نے غزل کے ایک شعر میں اس منظر میں یوں بیان کیا ہے۔

گلشن میں آگ لگ رہی تھی رنگ گل سے میؔر 

بلبل پکاری دیکھ کے، صاحب پرے پرے

            تشریح طلب شعر پڑھ کر یوں معلوم ہوتا ہے کہ اکبر الہٰ آبادی نے اپنے تخیل اور خوبصورت الفا ظ سے شاعرانہ مصوری کی ہے۔ موسم بہار میں باغ کے حسن ودل ربائی کی عمدہ تصویر صاف نظر آنا شروع ہو جاتی ہے ۔ بہار کی آمد آمد ہے اور بلبلوں کے چہچہانے سے باغ میں ایک ہنگامہ برپا ہے۔ ماحول کی خوشگواری کے اثرات ہر کسی پر ہوتے ہیں ۔ یہ تبدیلی پرندوں میں بھی محسوس کی جا سکتی ہے۔ محبت کرنے والے کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کا محبو ب اس کی نظروں کے سامنے موجود رہے۔ جوں جوں وابستگی بڑھتی جاتی ہے توں توں محبوب کو دیکھتے رہنے کی آرزو میں اضافہ ہوتا جا تا ہے۔ بلبل سارا سال بہار کے موسم کا انتظار کر تا ہے کہ کب بہار کا موسم آئے اور گلاب کے پھول کھلیں، چنانچہ جو نہی بہار کا موسم قریب آتا ہے بلبل کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں رہتا۔ بہار کی آمد پر وہ خوشی میں دیوانہ وار چہچہانے لگتا ہے اور باغ میں ایک ہنگامہ سا برپا ہوجاتا ہے۔بلبل  کےگیتوں سے سارا باغ سات سُروں کا سرگم لگنے لگتا ہے۔

آمد بہار کی ہے جو بلبل ہے نغمہ سنج

اڑتی سی اک خبر ہے زبانی طیور کی

            بہار کا موسم انسانی دلوں میں بھی امنگ اور ترنگ کو جنم دیتا ہے۔ انسان بھی خوشی کے گیت گانے لگتا ہے اور ان نشاط انگیز لمحات سے لطف انداز ہونے لگتا ہے ۔موسم بہار کے مضمون پر اقبال نے کیا خوب کہا ہے۔

پھر چراغ لالہ سے روشن ہوئے کوہ و دمن

مجھ کو پھر نغموں پہ اُکسانے لگا مرغ چمن

            زیر نظر شعر میں ’’صحن گلستا ن ‘‘اور ’’سر گرم فغاں ‘‘انتہائی خوبصورت تراکیب استعمال کی گئی ہیں ۔ جن سے شعر معنوی اعتبار کے ساتھ ساتھ لفظی حسن کا بھی مرقع بن گیا ہے۔ اسے پڑھ یا سن کر سماعت پر خوشگوار اثر ہوتاہے ۔ قاری خود کو بہار کی پر مسرت رونقوں میں شامل پاتا ہے۔ صنعت مراعات النظیر کا اہتمام اس شعر کی ایک اور خوبی ہے۔

          میر تقی میرؔ

چلتے ہو تو چمن کو چلیے ، سنتے ہیں کہ بہاراں ہے

پات ہرے ہیں پھول کھلے ہیں ، کم کم باد و باراں ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نکھر آئی ، نکھار آئی ، سنور آئی ، سنوار آئی

گلوں کی زندگی لے کر گلستاں میں بہار آئی

بچھا فرشِ زمرد اہتمام سبزہ تر میں

چلی مستانہ وش بادِ صبا عنبر فشاں ہو کر

الفاظ معانی الفاظ معانی
زمرد سبز رنگ کا ایک قیمتی پتھر اہتمام انتظام۔ بندوبست
سبزہ تر ہرابھرا/تروتازہ سبزہ مستانہ وش مستی کے سے انداز میں
بادصبا صبح کے وقت چلنے والی ہوا عنبرفشاں عنبر کی خوشبو سے بھری ۔ خوشبودار

مفہوم:        شبنم سے بھیگا ہوا سبزہ یوں دکھائی دے رہا ہے جیسے زمرد کا فرش بچھا دیا گیا ہو اور ہر طرف ہوا خوشبو بکھیر تے ہوئے یوں چل رہی ہے جیسے کوئی نشے کی حالت میں چلتا ہے۔

تشریح: تشریح طلب شعر میں شاعر نے موسم بہار میں باغ کی رعنائی کو خوبصورت انداز میں بیان کیا ہے۔ بہار کے موسم میں نمو اور روئیدگی کی تاثیر بڑھ جاتی ہے۔ جس سے روئے زمین پر ہر طرف سبزہ سبزہ نظر آتا ہے۔ باغوں میں خاص طور پر زمین کا چھوٹے سے چھوٹا  ٹکڑا   بھی سبزے اور ہریالی سے خالی نظر نہیں آتا۔ سبزے کے رنگ و روپ کو دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے، جیسے ہرے مخمل کا فرش بچھا ہوا ہے۔ بہار کے موسم میں رات کو اوس کا پڑنا فطری ہے۔ یوں سبزے پر رات نے شبنم کی چادر ڈال دی ہے اور شبنم کے موتیوں نے سبزے کو گیلا اور چمکدار بنادیا ہے۔

کھا کھا کے اوس اور بھی سبزہ ہرا ہوا

تھا موتیوں سے دامن صحرا بھرا ہوا

شاعر نے باغ میں اُگی ہوئی ہری ہری گھاس پر پڑے شبنم کے قطروں کو فرش زمرد سے تشبیہ  دی ہے۔ زمرد سبز رنگ کا بیش قیمت موتی ہے۔ اس مناسبت سے شاعر نے شبنم کے اُن قطروں کو زمرد سے تشبیہ دی ہے جو ہری ہری گھاس پر پڑے ہونے کی وجہ سے خود بھی ہرے نظر آتے ہیں۔

اوس نے فرش زمرد پر بچھائے تھے گہر

لوٹی جاتی تھی مہکتے ہوئے سبزے پر نظر

            موسم بہار میں کھلے پھولوں کی خوشبو نے چمن کو مہکا رکھا ہے۔ موسم بہار میں اس قدر تاثیر ہے کہ صبح کی ہوا بھی جب ان پھولوں کو چھوکر گزرتی ہے تو وہ ان کے مست نشے سے لہرا کر جھوم جھوم کر گزرتی ہے۔ یہاں شاعر نے حسن تعلیل سے کام لیا ہے اور صبح کے وقت ہوا کے رُک رُک کر چلنے کی علت یہ بیان کی ہے کہ یہ بہار کا نشہ ہے جس کی وجہ سے بادصبا جھوم رہی ہے اور پھولوں کی خوشبو سے بھرا دامن سمیٹ کر اس طرح چل رہی ہے جیسے بے خود ہوکر بالکل اُس شرابی کی طرح جو نشے میں کبھی اس طرف لڑکھڑاتا ہے تو کبھی اُس طرف جھومتا ہے۔

ہے ہوا میں شراب کی تاثیر

بادہ نوشی ہے بادہ پیمائی

            مزید یہ کہ موسم بہار میں پانی کی فراوانی اور سازگار موسم سے زمین کی قوت نمو میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ یوں باغ میں اُگے درختوں کی تازگی وشادابی سے باغ کی زینت، حسن اور فطرت کی دلربائی بڑھ جاتی ہے۔ جب بادنسیم باغ میں مستانہ وار چلتی ہے۔ تو بڑھتے نشوونما پاتے پودےوٹہنیاں بڑھوتری کے نشے اور نمو کے غرور میں جھومنے لگتی ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ جیسے وہ آپس میں اٹھکیلیاں کررہی ہوں اور خوشی و مسرت کے جھولے جھول رہی ہوں۔حفیظ جالندھریؔ

نسیم سرسرا گئی

چمن میں گل کھلا گئی

کلی کو گدگدا گئی

تو پھول کو ہنسا گئی

          سادہ آسان، عام فہم اور مسحورکن یہ شعر صنعت حسن تعلیل کی عمدہ مثال ہے۔

عروج نشہ نشوونما سے ڈالیاں جھومِیں

ترانے گائے مرغانِ چمن نے شادماں ہو کر

الفاظ معانی الفاظ معانی
عروج ترقی، انتہا نشوونما پھلنا پھولنا۔ شادابی
مرغان چمن باغ کے پرندے شادماں خوش

مفہوم:  بہار کے موسم میں پودوں کی قوت نمو بڑھ گئی ہے اور شاخیں اس نشے میں جیسے جھوم رہی ہیں اور دوسری طرف باغ میں موجود پرندے خوشی کے گیت گانے میں مصروف ہیں۔

            تشریح طلب شعر میں اکبر الہ آبادی نے ایک ایسے چمن کا نقشہ کھینچا ہے جس میں بہار کا موسم ہے۔ بہار کا خوشگوار موسم پودوں کے پھلنے پھولنے کے لیے بڑا موثر ہوتا ہے۔ شاعر نے صنعت حسن تعلیل استعمال کی ہے۔ ہوا کے ساتھ ڈالیوں کے ہلنے یا جھومنے کی علت یہ بیان کی ہے کہ یہ اُن کی نشوونما کا نشہ ہے جس کی وجہ سے یہ جھوم رہی ہیں۔ گویا موسم بہار کا ایسا اثر ہوا کہ فرط جوش سے جھومنا شروع کردیتی ہیں۔

            بہار کے موسم میں باغ کی ہر چیز نشوونما کے مرحلے سے گزر کر پھلتی پھولتی ہے اور ہوا کے چلنے سے شاخیں ہلنے کو شاعر نے ان کا جھومنا کہا ہے کیونکہ پھولوں اور سبزے کی کثرت کی وجہ سے اور معطر ہوا کے چلنے سے شاخیں بھی مست ہوگئی ہیں۔

            زیر نظر شعر میں شاعر نے بہار کے پر تاثیر اور خوشگوار موسم کو موضوع سخن بناکر یہ نکتہ پیدا کیا ہے کہ بہار کے موسم سے پورے باغ میں مستی اور خوشی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ باغ میں موجود پرندے بھی ماحول کی خوش گواری کو محسوس کررہے ہوتے ہیں۔ چنانچہ یہ پرندے اپنی میٹھی میٹھی بولیوں میں نغمہ طرازی شروع کردیتے ہیں۔ گویا وہ موسم بہار کو خوش آمدید کہہ رہے ہوتے ہیں۔ یوں قمریاں، کوئلیں اور میٹھی  آواز والے  پرندے اپنی اپنی آوازوں کا جادو جگارہے تھے۔

جادو بھرا تھا گل کا ادھر حسن جاں فزا

بلبل ادھر ترانہ اُلفت سے خوش نوا

بلائیں شاخِ گل کی لیں نسیمِ صبح گاہی نے

ہوئیں کلیاں شگفتہ روئے رنگینِ بتاں ہو کر

الفاظ معانی الفاظ معانی
بلائیں لینا قربان ہونا۔ بہت پیار کرنا شاخ گل پھول کی ٹہنی
نسیم صبح کی وقت چلنے والی ٹھنڈی ہوا صبح گاہی صبح کا وقت
شگفتہ کھلنا، تروتازہ رو چہرہ
روئے رنگین خوبصورت چہرہ بتاں محبوب

مفہوم:          صبح کے وقت چلنے والی ٹھنڈی ہوا نے پھولوں بھری شاخوں کی بلائیں لیں کہ ان شاخوں پر کلیاں یوں کھلی ہوئی تھیں جیسے خوبصورت چہرے جمع کر دیے گئے ہوں۔

تشریح: تشریح طلب شعر میں اکبر الہ آبادی نے ایک ایسے باغ کی لفظی تصویر کشی کی ہے جس میں بہار اپنے جو بن پر ہے۔ جب صبح کی ہوا چلتی ہے تو وہ پھولوں کی ٹہنیوں کو چھوتی ہوئی گزرتی ہے جس سے پھولوں پر شباب کا رنگ آجاتا ہے۔ پھول حسن کے لیے استعارہ ہے ۔ کسی بھی فرد کو بہت حسین اور نازک کہنا ہو تو اسے پھولوں کی مانند قرار دیا جاتا ہے۔ اکبر الٰہ آبادی کا کہنا یہ ہے کہ پھول یوں کھلے ہیں کہ انہیں دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے بہت سے خوبصورت چہرے باہم جمع کر دیے ہوں۔

            شاعر نے یہاں شاخوں کے جھومنے اور کلیوں کے چٹخنے کو بیان کرکے ایک لحاظ سے نسیم صبح کی تاثیر کو بھی بیان کیا ہے۔ اُن کے مطابق جب صبح کی ٹھنڈی ہوا کلیوں سے ٹکراتی ہے تو کلیاں مسکرانے لگتی ہیں اور ان کی مسکراہٹ پھولوں کے کھلنے کا سبب بن جاتی ہے۔ گویا ہوا کی تاثیر سے کلیاں چٹخ کر پھول بن جاتی ہیں۔ جب کلیوں نے پھولوں کا روپ دھارا تو یہ منظر اس طرح دکھائی دینے لگا کہ جس طرح ہر طرف خوش رنگ اور جاذب نظر  چہرے کھل اُٹھے ہوں۔ پھولوں کے کھلنے کو اکبر الہ آبادی نے محبوب کے گل رنگ چہرے سے تشبیہ دی ہے۔ اسی طرح جب پھولوں کو خوبصورت چہروں کی صورت میں دیکھتے ہیں تو بے ساختہ انہیں یہ احساس ہوتا ہے کہ انہیں نظر نہ لگ جائے کہ خوبصورت چیزوں کو نظر لگنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ چنانچہ صبح کی ہوا ان پھولوں کی بلائیں لیتی نظر آتی ہے۔ گویا ہوا فرط محبت سے ایک ماں کی طرح ٹہنی کی بلائیں لینے لگی۔ گویا اللہ اسے نظربد سے محفوظ رکھے اور یوں ہی کھلے رہیں۔ یہ بہار کبھی خزاں میں نہ بدلے۔ ایسے حسن، پر کیف اور پرمسرت ماحول میں حسین و جمیل چہرے والے غنچے بھی مسکرانے لگے اور خوشی وشادمانی سے کھل کر پھول بن گئے۔ ان کے چہرے کسی خوبصورت شوخ و شنگ محبوب کی طرح نظر آنے لگے اور ان پر حیا اور شرم کی سرخی جھلکنے لگی۔

پانی کو چھو رہی ہے جھک جھک کے گل کی ٹہنی

جیسے حسین کوئی آئینہ دیکھتا ہو

کیا پھولوں نے شبنم سے وُضو صحنِ گلستاں میں

صدائے نغمۂ بُلبل اُٹھی بانگِ اذاں ہو کر

الفاظ معانی الفاظ معانی
صحن گلستان باغ کا صحن صدا آواز
نغمہ بلبل بلبل کا گیت بانگ اذاں اذان کی آواز

مفہوم:          پھولوں نے شبنم سے وضو کیا اور بلبل کی آواز باغ میں اذان بن کر گونجنے لگی گویا صبح کے وقت نباتات اور پرندے عبادت الہٰی کی تیاری میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔

تشریح: تشریح طلب شعر میں اکبر الہ آبادی ایک ایسے باغ کی منظر کشی کررہے ہیں جس میں بہار کا موسم اپنے عروج پر ہے۔ شاعر باغ میں کھلے پھولوں کے حسن کو ایک اور انداز میں بیان کررہا ہے۔ شاعر نے صنعت تعلیل سے کام لیا ہے۔ صبح کے وقت پھولوں پر پڑے شبنمی قطروں کو وضو کا پانی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ پھولوں پر جو یہ قطرے نظرآرہے ہیں۔ یہ اصل میں پھولوں نے وضو کیا ہوا ہے۔ شاعر کے نزدیک صبح کا وقت چونکہ خدا کی عبادت کا وقت ہے اور کہا یہ جاتا ہے صبح کے وقت ہر چیز اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کرتی ہے۔ شاعر نے بھی غالباً اسی وجہ سے پھولوں پر پڑے شبنم کے قطروں کو وضو کے قطرے قرار دیا ہے کہ پھولوں نے شبنم سے وضو کیا ہے بالکل ایسے ہی جیسے انسان خالق ارض کے حضور باوضو ہوکر سجدہ ریز ہوتا ہے۔ پھولوں نے بھی اللہ تعالی کی عبادت کا اہتمام شروع کردیا ہے۔ علمائے دین بتاتے ہیں کہ آپ کسی بھی پودے کا پتہ دیکھ لیجئے اس کا اگلا سرازمین کی طرف جھکا ہوا ملے گا ۔ اس کا سبب یہ بتایا جاتا ہے کہ یہ پتے بھی بار گاہ خداوندی میں اپنی اطاعت کا مظاہرہ کر رہے ہوتے ہیں کہ ان کی فطرت میں شکر گزاری شامل کر دی گئی ہے تاکہ وہ اپنے پیدا کرنے والے کے حضورسرِ تسلیم خم رکھیں۔

سحر کو باغ میں پڑتی ہے اس لیے شبنم

ہے کہ نیا نیا کرے یاد باوضو تیری

گویا شاعر کے نزدیک باغ کی ہر چیز اپنے خالق کے حضور عبادت میں محو ہے۔ اس حوالے سے شاعر عبادت کے تمام ارکان یعنی پہلے وضو، پھر اذان۔ پھر نماز یعنی سجدہ اور آخر میں دُعا کو مرحلہ وار بیان کرتے ہو ئے کہا ہے کہ جب بلبل نے دیکھا کہ کہ پھولوں نے اللہ کے حضور جھکنے کے لیے وضو کرلیا ہے۔ تو اُس نے اپنے گلے سے نہایت خوبصورت آواز فضا اور ہوا میں بکھیرنا شروع کردی۔ گویا اُن کا یہ عمل اذان دینے کے مترادف ہے۔ بلبل کی آواز میں اذان تھی جس طرح مؤذن اپنی میٹھی آوازیں اللہ اکبر اعلان کرتا ہے اسی طرح بلبل نے بھی اپنی سریلی اور میٹھی آواز میں اذان دینا شروع کردی۔ اس عمل سے  سارا چمن اللہ کی عبادت کے لیے تیار ہوگیا۔ فنی اعتبار سے دیکھا جائے تو ”صدائے نغمہ بلبل“ ”صحن گلستان“ اور ’’بانگِ اذان‘‘ عمدہ تراکیب ہیں جن سے شعر میں چاشنی پیدا ہوگئی ہے۔ معروف نعت گو محسن کا کوری نے باغ میں عبادت کے منظرکو بڑے پرکیف انداز میں بیان کیاہے وہ کہتے ہیں۔

کیفیت وحی میں ہے بلبل

ہے وقت نزول مصحف گل

سبزہ ہے کنار آب جو پر

یا خضر ہے مستعد وضو پر

نوبت ہے صدائے قمریاں کی

تیاری ہے باغ میں اذاں کی

پھیلی ہوئی بوئے گل چمن میں

اور صلی علیٰ کا غل چمن میں

ہوائے شوق میں شاخیں جھکیں خالق کے سجدے کو

ہوئی تسبیح میں مصروف ہر پتی زباں ہوکر

الفاظ معانی الفاظ معانی
ہوائے شوق میں جذبے سے خالق تخلیق کرنے والے۔ خدا
تسبیح سبحان اللہ کہنا    

مفہوم:          درختوں کی شاخیں خالق کے حضور سجدے کو جھکیں جبکہ ہر پتی خالق کی تسبیح بیان کرنے لگی۔

تشریح: تشریح طلب شعر میں شاعر اذان کے بعد عبادت کے اگلے مرحلے اقامتِ الصلوۃ کو بیان کررہا ہے۔ شاعر تخلیقی صلاحیت کو بروئے کار لاتے ہوئے درختوں کی شاخوں کے جھکنے کے عمل کو سجدہ ریز ہونے پر قیاس کررہا ہے۔ گویا درختوں اور پودوں کی شاخوں نے خدائی محبت سے سرشار ہوکر اللہ کی رحمت کی طلب میں اپنا سرجھکا دیا۔

            شاعر نے ایک بار پھر حسن تعلیل کو بڑی خوبصورتی سے نبھایا ہے پھول کی پتی کا ظاہری روپ چونکہ زبان سے ملتا جلتا ہے اس سے شاعر کے نزدیک ہر پتہ مجسم زبان ہوکر خدائی تسبیح و تعریف میں مصروف ہے۔ شاعر یہاں پھول کی پتی کو زبان سے بھی تشبیہ دی ہے۔

          تشریح طلب شعر کی انفرادیت یہ ہے کہ شاعر نے انسان کو اللہ کے حضور سجدہ ریز نہیں دکھایا بلکہ درختوں کی ٹہنیوں کو وفور شوق میں اللہ کے حضور سر کو جھکاتے دکھایا ہے۔ اب منظریوں بن رہا ہے کہ اذاں سن کر درختوں کی شاخیں جھک کر اُس با برکت ہستی کے سامنے سجدہ ریز ہوگئیں ہیں۔ جبکہ پودوں، درختوں اور پھولوں کی پتیاں زبان ہے اللہ تعالیٰ کی تسبیح خوانی کرنے لگ گئی ہیں۔ گویا باغ کی ہر شے حسب حال حمد و ثنا بیان کررہی ہے۔ علمائے دین بتاتے ہیں کہ آپ کسی بھی پودے کا پتہ دیکھ لیجئے اس کا اگلا سرازمین کی طرف جھکا ہوا ملے گا ۔ اس کا سبب یہ بتایا جاتا ہے کہ یہ پتے بھی بار گاہ خداوندی میں اپنی اطاعت کا مظاہرہ کر رہے ہوتے ہیں کہ ان کی فطرت میں شکر گزاری شامل کر دی گئی ہے تاکہ وہ اپنے پیدا کرنے والے کے حضورسرِ تسلیم خم رکھیں۔یہ شعر قرآن مجید کی اس شعر پہ دال ہے۔

تُـسَبِّحُ لَهُ السَّمٰوٰتُ السَّـبْعُ وَالْاَرْضُ وَمَنْ فِيْهِنَّ ۭ وَاِنْ مِّنْ شَيْءٍ اِلَّايُسَبِّحُ بِحَمْدِهٖ وَلٰكِنْ لَّا تَفْقَهُوْنَ تَسْبِيْحَهُمْ 

ترجمہ: ساتوں آسمان اور زمین اور جو بھی ان میں ہے اسی کی تسبیح کر رہے ہیں۔ ایسی کوئی چیز نہیں جو اسے پاکیزگی اور تعریف کے ساتھ یاد نہ کرتی ہو۔ ہاں یہ صحیح ہے کہ تم اس کی تسبیح سمجھ نہیں سکتے۔

          ”ہوائے شوق“ کی ترکیب سے عبادت کی بھرپور جذبے اور شوق کی انتہا کا اظہار ہورہا ہے یہ شعر عام فہم ہے۔ پتی کی شکل زبان سے مشابہت رکھتی ہے اسے مصروف تسبیح دکھانا کمال فن کی نشانی ہے۔

زبانِ برگِ گُل نے کی دعا رنگیں عبارت میں

خدا سر سبز رکھے اس چمن کو مہرباں ہو کر

الفاظ معانی الفاظ معانی
زبان برگ گل پھول کی پتی کی زبان رنگین عبارت میں خوبصورت الفاظ میں

مفہوم:  پھولوں کی پتیاں بڑے خوبصورت الفاظ میں یہ دعا مانگ رہی ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی مہربانی سے اس باغ کو یوں ہی سرسبز شاداب رکھے۔

تشریح: تشریح طلب شعر میں اکبر الٰہ آبادی ایک ایسے باغ کی منظر کشی کررہے ہیں جس میں بہار ڈیرے جما چکی ہے پھولوں کا جوش دیدنی ہے۔ صبح کا وقت عبادت کا وقت ہے شاعر بھی مناظر فطرت کو مصروف عبادت دکھا رہا ہے۔ اس حوالے سے شاعر عبادت کے تمام ارکان یعنی پہلے وضو، پھر اذان، پھر نماز کا قیام اور آخر میں دُعا کو مرحلہ وار بیان کررہا ہے۔ تشریح طلب شعر میں عبادت کا عمل ختم ہوا تو پھولوں کی پتیوں نے نہایت خوبصورت انداز میں اللہ کے حضور دعا کی۔

الدعاء مغز العبادۃ 

دعا عبادت کا  مغز ہے۔

          باغ میں موسم بہار ہے۔ اور وقت ”صبح گاہی“ جو عبادت و دعا کی قبولیت کا وقت ہے۔ اس قبولیت کی گھڑی میں شاعر نے زبان برگ گل کو مصروف دعا دکھایا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ دعا کا عظیم کام برگ کے حصے میں آیا۔ یوں پھولوں نے شبنم سے وضو کرکے نماز ادا کی اور پھول کی پتی نے بڑی خوش ادائی اور خوش بیانی سے دُعا کی۔ اے مہربان، رحیم و کریم خدا تو ہی خالق کل ہے تو جسے چاہے زندگی بخشے اور جسے چا ہے موت دے تو جب چاہے دنیا میں بہار لائے اور جب تیرا حکم ہو خزاں چھا جائے اس لیے اے قادر مطلق تجھ سے دُعا ہے کہ تو اس گلستاں پر ہمیشہ اپنی مہربانیوں کی بارش فرما۔ اس چمن میں بہار ہی ڈیرے ڈالے رہے۔ اس باغ کو ہزاروں لاکھوں بہاریں دیکھنا نصیب ہوں یہ وطن اور چمن سدا ہنستا اور مسکراتا رہے اس کی شادابی میں کمی نہ آئے۔ یونہی یہ تروتازہ اور دلکش رہے۔

          اپنی سر زمیں سے ہر کسی کو محبت ہوتی ہے۔ وہ نباتات ہوں، حیوانات ہوں یا انسان اپنی سر زمیں ہر کسی کو اچھی لگتی ہے۔ وہ اس کی بقاءاس کی حفاظت اور اس کی ترقی کا خواہش مند ہوتا ہے۔اگر ہم اس ساری نظم میں باغ کو وطن کے لیے استعارہ مراد لیں نظم میں خوبصورتی اور بڑھ جاتی ہے۔ اگر اُمت کے باغ پر اللہ تعالی کے فضل و کرم سے بہار آ جائے تو اس بڑھ کر اور کیاخوش نصیب ہوگی۔

خدا کرے کہ میری ارض پاک پر اترے

وہ فصل گل جسے اندیشۂ زوال نہ ہو

یہاں جو پھول کھلا رہے برسوں

یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو

          زیر نظر شعر فکری حسن کے ساتھ ساتھ فن کمال کا بھی خوبصورت مظہر ہے۔ برگ گل (پھول کی پتی) چونکہ رنگ دار ہوتی ہے، اسی رعایت سے شاعر نے رنگین عبارت کی ترکیب استعمال کرکے قرینہ شعری پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ شعر کے ظاہری اور معنوی حسن میں بے پناہ اضافہ کردیا۔

خلاصہ :

          باغ میں بہار آنے سے ہر طرف پھول کھلے ہیں۔ بلبلیں خوشی سے گیت گانے لگی ہیں۔ ہر طرف سبزہ نظر آنے لگا ٹھنڈی ہوا کے چلنے سے ڈالیاں جھوم رہی ہیں اور پرندے خوشی کے گیت گارہے ہیں۔ صبح کی ہوا کے چلتے ہی باغ کی ہر چیز پرندے درخت، پھول اور شاخیں اپنے اپنے انداز میں اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مصروف ہو گئے ہیں۔ ایسے میں پھول کی ہر پتی باغ کی ہمیشہ سرسبز رہنے کی دعا کر رہی ہے۔


Share With Others

اس موضوع پر مزید پڑھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *