دوست کے نام خط کسی کتاب کے بارے میں تاثرات
امتحانی مرکز
۱۵جون۲۰۲۰ء
پیارے دوست!
السلام علیکم، کافی عرصے سے آپ کی طرف سے کوئی اطلاع نہیں ملی۔ امید ہے کہ آپ خیریت سے ہوں گے۔سوچا کہ خود ہی آپ کو خط لکھ کر آپ کی خیریت دریافت کر لوں۔
گذشتہ دنوں مجھے علامہ اقبال کی کتاب ”بانگ درا“ پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ اقبال جنوبی ایشیا کے نامور مفکر، شاعر اور سیاسی رہنما تھے۔ ’’بانگِ درا‘‘ ان کا اولین شعری مجموعہ ہے جو ۱۹۲۴ءمیں شائع ہوا۔ اقبال کے شعری مجموعوں میں ”بانگِ درا “کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ اس مجموعے کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔
1905ء تک لکھی گئی نظمیں، جب کہ ابھی اقبال انگلستان نہیں گئے تھے۔ اس میں بچوں کے لیے خوبصورت نظمیں ہیں۔ ان میں اہم نظمیں چاند اور تارے، ماں کا خواب، پرندے کی فریاد،ایک مکڑا اور مکھی اور ایک پہاڑ اور گلہری وغیرہ شامل ہیں۔حب الوطنی کے حوالے سے مشہور “ترانۂ ہندی” موجود ہے۔
1905ءسے 1908ء کے درمیان لکھی گئی نظمیں، جب اقبال انگلستان میں طالب علم تھے۔ اس میں علامہ نے مغرب کی علمیت و عقلیت کو تو سراہا ہے لیکن مادہ پرستی اور روحانیت کی کمی پر کڑی تنقید کی ہے۔
1908ءسے 1923ءکے درمیان کی گئی شاعری، جس میں اقبال نے مسلمانوں کو اپنے عظیم ماضی کی یاد دلائی ہےاوراُخوت و بھائی چارے کا مطالبہ کیا ہے۔ مشہور نظمیں شکوہ، جواب شکوہ، خضر راہ اور طلوع اسلام اسی حصے میں شامل ہیں اور انہیں تاریخ کی بہترین اسلامی شاعری تسلیم کیا جاتا ہے۔محبت اور خودی اس حصے کے اہم موضوع ہیں۔
اس کتاب میں اُردو شاعری کے بہترین شعری نمونے ملتے ہیں۔ فنی اعتبار سے یہ شعری سرمایہ اقبال کی حسین اور پُر فکرتخلیق ہے۔ قدم قدم پر جدّتِ بیان اور حُسن تشبیہ کی مثالیں ملتی ہیں۔ اقبال کے پیغام کا خلاصہ یہ ہے کہ مسلمان اپنی حیثیت کو پہچان لیں اور قرآن کے افکار کو اپنا لائحہ عمل بنائیں۔ اقبال ایک جگہ کیا خوب کہتے ہیں:۔
اپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زندوں میں ہے
سرِّ آدم ہے ضمیرِ کن فکاں ہے زندگی
فکروفن کا ایسا حسین امتزاج بانگِ درا سے پہلے اردو شعر و ادب میں نہیں ملتا۔ اس لیے میں اس کتاب کو پسند کرتا ہوں۔ اس کے آخری حصے میں اقبال کا وہ مزاحیہ کلام بھی ہے جو انہوں نے مشہور مزاحیہ شاعر اکبر الہٰ آبادی کی تقلید میں لکھا تھا۔ ”بانگِ درا “صحیح معنوں میں ایک ایسی کتاب ہے جس کا مطالعہ قاری پراَمِٹ نقوش چھوڑتا ہے۔ میں جیسے جیسے اس کتاب کا مطالعہ کرتا گیا ویسے ویسے اس کی فکر انگیزی مجھے مسحور کرتی گئی۔ آج تک میں نے جتنی بھی کتب کا مطالعہ کیا ہے۔ اُن میں سب سے زیادہ دل چسپ کتاب جس نے مجھے متاثر کیا ہے وہ یہی ”بانگِ درا “ہے۔ میں آپ کو بھی مشورہ دیتا ہوں کہ پہلی فرصت میں اس کا مطالعہ ضرور کیجیے۔ اچھا اب اجازت چاہوں گا۔ اپنے والدین کو میرا سلام کہیے اور چھوٹے بھائی کو پیار۔
والسلام
آپ کا دوست
۱۔ب۔ج
