9 November Speech In Urdu
۹ نومبر (اقبال ڈے) پر تقریر
محترم صدرِ محفل، معزز اساتذہ کرام، میرے عزیز طلبہ و طالبات، السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ!
آج ۹ نومبر کا مقدس دن ہے۔ یہ دن علامہ ڈاکٹر محمد اقبال رحمتہ اللہ علیہ کی ولادت کا دن ہے، جنہیں ہم شاعرِ مشرق، مفکرِ پاکستان، حکیم الامت اور روحانی باپِ قوم کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اقبال کو جو فکر و شعور عطا کیا، اسی کی بدولت آج ہم ایک آزاد ملک کے شہری ہیں۔
بھائیو اور بہنو! اقبال وہ عظیم ہستی تھے جنہوں نے مسلمانانِ برصغیر کو خوابِ غفلت سے جگایا۔ انہوں نے ۱۹۳۰ میں الہ آباد کے تاریخی خطبے میں سب سے پہلے علیحدہ مسلم ریاست کا تصور پیش کیا۔ ان کا فرمان تھا: “میں چاہتا ہوں کہ پنجاب، سرحد، سندھ اور بلوچستان کو ملا کر ایک بڑی مسلم ریاست بنائی جائے۔”
یہ وہی تصور تھا جو بعد میں پاکستان کی صورت میں حقیقت بنا۔
اقبال کا پیغام صرف مسلمانوں تک محدود نہیں تھا بلکہ وہ پوری انسانیت کے لیے رہنما تھے۔ انہوں نے “خودی” کا فلسفہ دیا۔ فرمایا: خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے خدا بندے سے خود پوچھے، بتا تیری رضا کیا ہے
یعنی انسان اپنی ذات کو اتنا مضبوط اور بلند کرے کہ اللہ بھی اس کی مرضی پوچھے۔ آج ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم نے اقبال کو صرف نعرے لگانے تک محدود کر دیا، جبکہ ان کے فکر و فلسفہ کو بھلا بیٹھے ہیں۔
میرے نوجوانو! آج کا پاکستان جس بحران سے گزر رہا ہے، اس کا علاج اقبال کی تعلیمات میں موجود ہے:
- ایمان کی مضبوطی
- عمل کی لگن
- اتحاد و یقجہتی
- سچائی اور دیانت داری
- علم و ہنر کی قدر
اگر ہم اقبال کے بتائے ہوئے راستے پر چلیں تو کوئی طاقت ہمیں کمزور نہیں کر سکتی۔
آج ہم عہد کریں کہ:
- ہم اقبال کے خواب کو شرمندۂ تعبیر نہیں ہونے دیں گے
- ہم پاکستان کو وہ اسلامی فلاحی ریاست بنائیں گے جس کا اقبال نے خواب دیکھا تھا
- ہم ہر مشکل حالات میں مایوس نہیں ہوں گے، بلکہ خودی کو جگائیں گے
آخر میں اقبال کے ہی اشعار سے بات ختم کرتا ہوں: تُو شاہین ہے، پرواز ہے کام تیرا تری آنکھوں میں ہے آسمانوں کا ٹھکانہ
اٹھ! کہ اب خوابِ گراں خواب نہیں رہا اے مسافرِ شوق، یہ مقام نہیں رہا
اللہ تعالیٰ ہمیں اقبال کے افکار پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ پاکستان زندہ باد! اقبال زندہ باد!
