9 November Iqbal Day Speech In Urdu
یوم اقبال پر تقریر
،محترم معزز سامعین
!السلام علیکم
آج ہم یہاں ایک بہت خاص دن، یعنی 9 نومبر، یوم اقبال کے موقع پر جمع ہوئے ہیں۔ یہ دن ہمارے عظیم شاعر، مفکر اور رہنما علامہ محمد اقبال کی یاد میں منایا جاتا ہے، جنہوں نے نہ صرف اردو شاعری کو نیا رنگ دیا، بلکہ پورے عالم اسلام کو ایک نئی روشنی دکھائی اور ہمیں اپنی تقدیر بدلنے کا حوصلہ دیا۔
علامہ اقبال کا جنم 9 نومبر 1877 کو سیالکوٹ میں ہوا۔ ان کی شاعری اور فکر نے برصغیر کے مسلمانوں کو بیدار کیا اور ایک نیا جذبہ اور عزم دیا۔ اقبال نے ہمیشہ مسلمانوں کو اپنی خودی اور خودمختاری کو پہچاننے کی ترغیب دی۔ ان کا پیغام تھا کہ اگر ہم اپنی حقیقت کو سمجھیں اور اس پر عمل کریں، تو ہم اپنے مسائل کا حل خود نکال سکتے ہیں۔
علامہ اقبال کا سب سے مشہور کلام “شکوہ” اور “جواب شکوہ” نہ صرف ان کی شاعری کی بلندیوں کو ظاہر کرتا ہے، بلکہ اس میں انسان کی تقدیر کو بدلنے کی ایک گہری اپیل بھی چھپی ہوئی ہے۔ اقبال نے ہمیں سکھایا کہ خودی کا کوئی بھی انسان جب تک اپنی اصل کو نہیں پہچانتا، وہ کامیاب نہیں ہو سکتا۔ ان کا کہنا تھا
خُدی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خُدا بندے سے خود پُوچھے، بتا، تیری رضا کیا ہے
یہ اشعار صرف ایک شعر نہیں بلکہ ایک تحریک ہیں۔ اقبال نے ہمیں بتایا کہ ہمارے اندر وہ طاقت ہے کہ ہم اپنی تقدیر خود بدل سکتے ہیں، بس ہمیں اپنی طاقت کو پہچاننے کی ضرورت ہے۔
علامہ اقبال کا خواب تھا کہ مسلمانوں کو اپنی شناخت ملے، اور انہیں ایک الگ ریاست کا حق ملے۔ یہی خواب بعد میں پاکستان کی صورت میں حقیقت کا روپ دھار گیا۔ اقبال نے 1930 میں آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس میں مسلمانوں کے لیے الگ ریاست کا مطالبہ کیا، جسے بعد میں پاکستان کا نام دیا گیا۔ اقبال نے ہمیں بتایا کہ ہمیں ایک ایسی ریاست کی ضرورت ہے جہاں ہم اپنے عقائد اور نظریات کے مطابق زندگی گزار سکیں۔
یوم اقبال ہمیں اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ ہمیں اقبال کے فلسفے پر عمل کرتے ہوئے اپنے وطن اور اپنی قوم کی خدمت کرنی چاہیے۔ اقبال کی شاعری ہمیں نہ صرف ذہنی اور روحانی سطح پر بیدار کرتی ہے، بلکہ ہمیں ایک مضبوط معاشرتی اور سیاسی نظام قائم کرنے کی ترغیب بھی دیتی ہے۔
آج کے دن ہمیں اپنے عزم و ہمت کو دوبارہ جلا بخشنی چاہیے اور اس عہد کو تازہ کرنا چاہیے کہ ہم اپنے ملک اور قوم کی ترقی کے لئے بھرپور محنت کریں گے۔
مزید اردو تقاریر کے لیے اس صفحہ پر جائیں
آخر میں، میں علامہ اقبال کی تعلیمات پر عمل کرنے اور اپنے ملک و قوم کی خدمت کرنے کا عہد کرتا ہوں۔ اللہ ہمیں اقبال کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کی توفیق دے۔ آمین۔
!اللہ ہم سب کا حافظ
