میرانیس کا تعارف اور مرثیہ کی مکمل تشریح

میرانیس کا تعارف اور مرثیہ کی مکمل تشریح

Share With Others

شاعر کا تعارف اور مرثیہ کی مکمل تشریح

شاعر کا تعارف

اصل نام میر ببر علی، تخلص انیس۔ 1802ء میں فیض آباد (محلہ گلاب باڑی، بھارت) میں میر خلیق کے ہاں پیدا۔ دسمبر 1874ء لکھنؤ میں انتقال، گھر سے ملحقہ باغ میں دفن۔ غزل سے آغاز، والد کے کہنے پر مرثیہ نگاری۔ مرثیہ نگاری میں بے مثال۔ جوش عقیدت، شعری محاسن، فصاحت بلاغت، منظر نگاری، جذبات نگاری، واقعہ نگاری، سیرت نگاری۔ خوددار، پابند وضع۔ عمر مرثیوں کو وقف، ~2.5 لاکھ اشعار۔ مرثیوں کے علاوہ سلام، قطعات، رباعیات۔ تمام مراثی 5 جلدوں میں شائع۔

مرثیہ کا تعارف

طویل مرثیہ (194 بند) کا مختصر اقتباس۔ ہیئت مسدس ترکیب بند (پہلے 4 مصرعے ہم قافیہ، اگلے 2 الگ آپس میں ہم قافیہ)۔ نصاب میں 5 بند (مرثیہ کا ابتدائیہ): حمد، نعت، منقبت، منظر کشی، حیات ممات۔ عنوان “میدان کربلا میں صبح کا منظر”۔ مرثیہ نگاری میں غزل کا سوز، قصیدہ کی ہجو، سیرت منظر کشی۔ کمال منظر کشی: ٹھنڈی ہوائیں، سبزہ صحرا، مرغان خوش نوا، قمریاں، ذکر اللہ کی مصوری۔ صبح کا منظر آنکھوں میں گھومتا ہے۔

نوٹ: ہر بند کی تشریح کے آغاز میں اختصار سے:

میر انیس معروف مرثیہ نگار، مرثیوں میں غزل کا سوز، قصیدہ کی ہجو، سیرت منظر کشی۔ نصاب اقتباس ابتدائیہ: حمد نعت منقبت منظر کشی۔ میدان کربلا صبح کا دلکش منظر: ٹھنڈی ہوائیں، سبزہ، پرندے، قمریاں، ذکر اللہ۔ فن منظر کشی کا ثبوت…


بندوں کی تشریح (نصاب کے 5 بند)

1. بند:

شرمائے جس سے، اطلس زنگاریِ فلک

ٹھندی ہوا میں، سبزۂ صحرا کی وہ لہک

ہر برگِ گل پہ، قطرۂ شبنم کی وہ جھلک

وہ جھومنا درختوں کا، پھولوں کی وہ مہک

ہیرے خجل تھے، گوہرِ یکتا نثار تھے

پتے بھی ہر شجر کے، جواہر نگار تھے

سرگودھا 2010، فنی تعلیمی 2011، راولپنڈی 2011، گوجرانوالہ 2007

الفاظ و معانی:

 
 
الفاظ معانی الفاظ معانی
اطلس ریشمی کپڑا زنگاری فلک آسمان کا نیلا رنگ
سبزہ صحرا صحرا کی گھاس لہک ہوا میں حرکت
برگ گل پھول کی پتی شبنم اوس
جھلک چمک مہک خوشبو
ہیرے قیمتی پتھر خجل شرمندہ
گوہر یکتا بے مثل موتی نثار قربان
جواہر نگار موتی جڑے شجر درخت
 

مفہوم: آسمان شرماتا، سبزہ لہکتا، شبنم چمکتی، درخت جھومتے، پھول مہکتے۔ ہیرے شرمندہ، موتی نثار، پتے جواہر نگار۔

تشریح: قافلہ حسینؓ کے پڑاؤ پر قدرت جوش میں۔ ٹھنڈی ہوا تازگی، سکون۔ سبزہ لہلہاتا، آسمان (اطلس زنگاری) شرماتا۔ درخت مستی میں جھومتے، پھول مہکتے، صحرا معطر۔ شبنم قطرے پتیوں پر: ہیرے موتی شرمندہ، نثار۔ پتے جواہر نگار، سورج کرنیں سے جھلملاتے۔

پھولوں سے تھا بھرا ہوا دامان کوہسار شبنم کے وہ گلوں پہ گہر ہائے آبدار تھا موتیوں سے دامن صحرا بھرا ہوا کھا کھا کے اوس اور بھی سبزہ ہرا ہوا قاری جذب مستی میں۔ تشبیہ: شبنم موتی گوہر ہیرے۔ مراعات النظیر: ہوا، صحرا، لہک، درخت، پھول، مہک، برگ، شبنم، شجر، گوہر، جواہر۔ مسدس ترکیب بند۔

2. بند:

دراج و کبک و تیہو و طاوس کی صدا

وہ نور اور وہ دشت سہانا سا وہ فضا

سردی جگر کو بخشتی تھی، صبح کی ہوا

وہ جوش گل، وہ نالۂ مرغانِ خوش نوا

پھولوں سے سبز سبز شجر، سرخ پوش تھے

تھالے بھی نخل کے، سبدِ گل فروش تھے

فیصل آباد 2009

الفاظ و معانی:

 
الفاظ معانی الفاظ معانی
دراج تیتر کبک چکور
تیہو تیتر کی قسم طاوس مور
دشت میدان کربلا سہانا خوبصورت
جوش گل پھولوں کا کھلنا نالہ مرغان پرندوں کی آواز
سرخ پوش سرخ لباس نخل کھجور درخت
تھالے پانی کا گڑھا سبد گل فروش پھولوں کی ٹوکری
 

مفہوم: پرندوں کی آوازیں، نورانی دشت، ٹھنڈی ہوا جگر ٹھنڈک۔ پھولوں کا جوش، پرندوں کا نالہ۔ درخت سرخ پوش، تھالے پھولوں سے بھرے۔

تشریح: قافلہ پر بہار۔ صبح نور پھیلا، دشت حسین۔ ہوا خوشگوار، جگر ٹھنڈک۔ پرندے (تیتر چکور تیہو مور) تقدیس نغمے۔ پھول جوبن پر، پرندے گیت۔ موسیقی سجاوٹ یکجا۔ درخت پھول لدے، سبز پتے چھپے، سرخ لباس۔ تھالے پھول گرے، گل فروش ٹوکریاں۔

وہ رونق اور وہ سرد ہوا، وہ فضا، وہ نور خنکی ہو جس سے چشم کو اور قلب کو سرور پھول ہیں صحرا میں یا پریاں قطار اندر قطار اُودے اُودے، نیلے نیلے، پیلے پیلے پیرہن حسن تعلیل: پھول گرنا گل فروش ٹوکریاں۔ تضاد: سبز سرخ۔ تکرار سے صوتی آہنگ۔

3. بند:

پھولوں پہ جا بجا، وہ گہر ہائے آب دار

وہ دشت وہ نسیم کے جھونکے، وہ سبزہ زار

بالائے نخل ایک جو بلبل تو گل، ہزار

اُٹھنا وہ جُھوم جُھوم کے شاخوں کا، بار بار

خواہاں تھے زیب گلشن زہرا جو آب کے

شبنم نے بھر دیے تھے کٹورے گلاب کے

لاہور 2009-12، فیصل آباد 2010، بہاولپور 2013

الفاظ و معانی:

 
الفاظ معانی الفاظ معانی
گہر آب دار چمکدار موتی نسیم ٹھنڈی ہوا
سبزہ زار ہرا میدان بالائے نخل درخت اوپر
گل پھول جھوم جھوم لہراتے
زیب گلشن زہرا فاطمہؓ کے باغ پھول کٹورے گلاب گلاب کے پیالے
 

مفہوم: پھولوں پر موتی، نسیم جھونکے، سبزہ زار۔ بلبل ایک، پھول ہزار۔ شاخیں جھومتیں۔ گلشن زہرا پیاسے، شبنم کٹورے بھرے۔

تشریح: ٹھنڈی ہوا جھونکے، سبزہ مسحور کن۔ شبنم قطرے چمکتے موتی۔ درخت جھومتے، شاخیں دائیں بائیں اوپر نیچے۔ درخت پھول لدے: بلبل ایک، گل ہزار۔

پرندوں کی شیریں بیانی عجب تھی درختوں پہ پھولوں کی خوشبو غضب تھی یزیدی پانی روک، گلشن زہرا پیاسے۔ قدرت: شبنم گلاب کٹورے بھرے۔ پیاسی جو تھی سپاہ خدا تین رات کی ساحل سے سر پٹکتی تھیں موجیں فرات کی

4. بند:

کو کو کا شور، نالۂ حق سرہ کی دھوم

وہ قمریوں کا چار طرف سرو کے، ہجوم

جاری تھے وہ جو اُن کی عبادت کے تھے رسوم

سبحان ربَّنا کی صدا تھی، علی العموم

کچھ گل فقط نہ کرتے تھے، ربِّ علیٰ کی مدح

ہر خار کو بھی نوکِ زباں تھی، خدا کی مدح

بہاولپور 2009

الفاظ و معانی:

 
الفاظ معانی الفاظ معانی
کوکو کوئل آواز نالہ حق سرہ حمد آواز
قمری فاختہ جیسا سرو Cypress درخت
ہجوم بھیڑ رسوم طریقے
سبحان ربنا رب پاک علی العموم عام طور پر
رب علیٰ برتر رب نوک زباں زبان پر
 

مفہوم: کوکو شور، حمد دھوم۔ قمریاں سرو پر ہجوم، عبادت رسوم۔ سبحان ربنا صدا۔ پھول کانٹے مدح۔

تشریح: ہر چیز عبادت میں۔ کوکو چہچہاتی، قمریاں سرو پر حمد۔ پرندے انداز میں۔ سبحان ربنا عام۔ پھول مدح، کانٹے نوک زباں سے۔ قرآن: کائنات تسبیح۔ حدیث: سبحان اللہ۔ تلمیح۔

ہر شمع خموش فکر میں ہے ہر طائر شوخِ ذکر میں ہے پیدا گلوں سے قدرت ِ اللہ کا ظہور وہ جابجا درختوں پہ تسبیح خواں طیور پڑھتے ہیں وظیفہ شجرو سنگ بھی تیرا دھیرے سے سہی عالم ہُو بول رہا ہے انسان زمیں پہ محو، مَلکَ آسمان پر جاری تھا ذکرِ قدرتِ حق ہر زبان پر منظر کشی جذبات بلاغت عروج۔

5. بند:

اے دانہ کش ضعیفوں کے رازق، ترے نثار

چیونٹی بھی ہاتھ اُٹھا کے، یہ کہتی تھی، بار بار

تسبیح تھی کہیں، کہیں تہلیلِ کردگار

یا حیُّ یا قدیر کی تھی ہر طرف، پکار

طائر ہوا میں مست، ہرن سبزہ زار میں

جنگل کے شیر گونج رہے تھے کچھار میں

الفاظ و معانی:

 
الفاظ معانی الفاظ معانی
دانہ کش رزق اگانے والا ضعیفوں کمزور
رازق روزی دینے والا تسبیح پاکی بیان
تہلیل لا الہ الا اللہ یا حی یا قدیر زندہ قادر
طائر پرندہ کچھار شیر کی ماند
 

مفہوم: چیونٹیاں ہاتھ اٹھا نثار۔ تسبیح تہلیل یا حی قدیر پکار۔ پرندے مست، ہرن چوکڑیاں، شیر دھاڑتے۔

تشریح: چیونٹیاں ہاتھ اٹھا: رازق نثار۔ یا حی قدیر، تسبیح تہلیل۔ پرندے پرواز ذکر، ہرن سبزہ زار چوکڑیاں، شیر کچھار دھاڑ حمد۔

پھیلی ہوئی بوئے گل چمن میں اور صَلِّ علیٰ کا غل چمن میں قمری اسی کی یاد میں کُو کُو کرے ہے یار بلبل اُسی کے شوق میں کرتی ہے چہچہا عربی فارسی تراکیب۔ فصاحت بلاغت۔ تخیلاتی سبزہ زار، مخلوق حمد ثنا۔ آخری مصرع اصل: جنگل کے شیر ہونک رہے تھے کچھار میں۔ مسدس ترکیب بند۔


مرثیہ کا خلاصہ

ملتان 2008-13، راولپنڈی 2012 میدان کربلا صبح: ٹھنڈی ہوا سبزہ لہکاتا، آسمان شرماتا۔ درخت جھومتے، پھول مہکتے۔ شبنم موتی، ہیرے شرمندہ موتی نثار، پتے جواہر۔ پرندے (تیتر چکور تیہو مور) چہچہاتے، ہوا جگر ٹھنڈک۔ درخت سرخ پوش، تھالے گل فروش ٹوکریاں۔ شبنم گلاب کٹورے بھرے (گلشن زہرا پیاس)۔ نباتات پھول کانٹے، چیونٹی شیر تک عبادت: سبحان ربنا، یا حی قدیر، تسبیح تہلیل۔

یہ اقتباس منظر کشی کا شاہکار، قدرت جوش، عقیدت، فصاحت بلاغت۔ کربلا صبح آنکھوں میں گھومتی۔


Share With Others

اس موضوع پر مزید پڑھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *