ظفر علی خاں کا تعارف اور نظم "مستقبل کی جھلک" کی مکمل تشریح

ظفر علی خاں کا تعارف اور نظم “مستقبل کی جھلک” کی مکمل تشریح

Share With Others

شاعر کا تعارف اور نظم “مستقبل کی جھلک” کی مکمل تشریح

شاعر کا تعارف

نام مظفر، تخلص ظفر علی خاں۔ 1873ء میں تحصیل وزیر آباد (گاؤں کرم آباد) پیدا۔ والد مولوی سراج الدین خان (ہفت روزہ “زمیندار”)۔ 1909ء میں “زمیندار” کی ادارت، لاہور سے روزنامہ۔ قادر الکلام، موضوعات سیاسی ہنگامی، زبان لطافت، محاورہ بندی، روانی، زور بیان۔ نثری کتب: معرکہ مذہب و سائنس، غلبہ اسلام، جنگل میں منگل، غلبہ روم، سیر ظلمات، فسانہ لندن۔ نظم: حبسیات، نگارستان، بہارستان، چمنستان، خیالستان۔ بے باک صحافی، شاعر، سیاسی لیڈر۔ 1956ء وفات۔ فی البدیہہ، آمد، سمندر طوفان دریاؤں روانی۔ بقول اقبالؒ: مصطفی کمال کی تلوار ترکوں کو جگانے، ظفر علی خان قلم ہندوستان مسلمانوں کو۔ بقول آل احمد سرور: سیاست سے الگ رہتے تو دوسرے اقبال۔

نظم کا تعارف

“چمنستان” (صفحہ 97) میں “پردہ استقبال کی چھنتی ہوئی روشنی”۔ نصاب میں “مستقبل کی جھلک”۔ کل 13 اشعار، غزل لب لہجہ۔ یکم دسمبر 1937ء “زمیندار” میں شائع۔ فلسطین، ترکی، طرابلس، ہندوستان آزادی تحریک۔ غیور خوددار مسلمانوں روشن مستقبل نوید۔ آزادی جدوجہد، استعماری ظلم دور میں پیش گوئی، صاحب بصیرت ثبوت۔

نوٹ: ہر شعر کی تشریح آغاز میں اختصار سے:

مولانا ظفر علی خان طرز ادیب، بے باک صحافی، قادر الکلام۔ فی البدیہہ، آمد، طوفان روانی۔ قلم جہاد۔ اقبالؒ: قلم مسلمان جگانے۔ سرور: دوسرے اقبال۔ نصاب نظم: غیور مسلمان روشن مستقبل نوید، آزادی جدوجہد استعماری ظلم دور پیش گوئی، صاحب بصیرت…


اشعار کی تشریح (نصاب کے اشعار)

1. شعر:

کوئی دن جاتا ہے پیدا ہو گی اک دنیا نئی

خون مسلم صرف تعمیر جہاں ہو جائے گا

لاہور 2006-10، بہاولپور 2010

الفاظ و معانی:

 
 
الفاظ معانی الفاظ معانی
کوئی دن جاتا عنقریب خون مسلم مسلمان خون
صرف خرچ تعمیر جہاں دنیا تعمیر
 

مفہوم: عنقریب نئی دنیا، مسلمان خون تعمیر میں خرچ۔

تشریح: 1937ء آواخر، فلسطین ترکی طرابلس ہندوستان تحریک۔ برصغیر انگریز ظلم پس منظر۔ امید: مصیبت ٹلنے، غیرت جاگ۔ اللہ حالت بدلتا قوم کی دھن۔

خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا خون رنگ لائے، قربانی ثمر، رائیگاں نہیں۔ نئی دنیا امن۔ خواب حقیقت، مایوسی گناہ، پانسہ پلٹنے، مستقبل درخشاں۔ شب گریزاں ہوگی آخر جلوۂ خورشید سے یہ چمن معمور ہو گا نغمۂ توحید سے سلاست روانی جوش۔ “خون مسلم”، “تعمیر جہاں” عمدہ تراکیب۔

2. شعر:

بجلیاں غیرت کی تڑپیں گی فضائے قدس میں

حق عیاں ہو جائے گا، باطل نہاں ہو جائے گا

لاہور 2006-2008، بہاولپور 2010، ڈی جی خان 2013

الفاظ و معانی:

 
الفاظ معانی الفاظ معانی
بجلیاں بجلی تڑپ گرج
غیرت جوش بہادری فضائے قدس بیت المقدس فلسطین
حق سچائی عیاں ظاہر
باطل جھوٹ نہاں چھپ
 

مفہوم: فلسطین غیرت بجلی تڑپے، حق ظاہر باطل مٹ۔

تشریح: “فضائے قدس”: بیت المقدس فلسطین۔ 1920ء اسرائیل تحریک، مسلمان جدوجہد۔

کبھی تو چھین ہی لوں گا ردائے ناموری جو حصہ غیر کے قبضے میں ہے وہ میرا ہے غیرت جوش، دشمن دہل۔ شعلہ بن کر پھونک دے خاشاکِ غیر اللہ کو خوفِ باطل کیا کہ ہے غارت گرِ باطل بھی تو انگریز چالیں ناکام، باطل زوال، حق فتح۔ قرآن: وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا۔ فتح کامرانی۔ شب گریزاں ہو گی آخر جلوۂ خورشید سے یہ چمن معمور ہو گا نغمۂ توحید سے

3. شعر:

ان کواکب کے عوض، ہوں گے نئے انجم

طلوع ان دنوں رخشندہ تر، یہ آسماں ہو جائے گا

بہاولپور 2009، سرگودھا 2010، ڈی جی خان 2013

الفاظ و معانی:

 
 
الفاظ معانی الفاظ معانی
کواکب ستارے عوض بدلے
انجم ستارے طلوع ظاہر
رخشندہ تر زیادہ روشن    
 

مفہوم: پرانے ستاروں بدلے نئے روشن، آسمان جگمگا۔

تشریح: مجاہد استعارہ ستارے۔ غلامی تاریکی نکالنے، غیرت دلیری۔ قربانی نذرانہ۔ ڈوبنے عوض نئے چمکدار۔ خون رائیگاں نہیں، نوجوان پکے ایمان جہاد راغب۔ سلسلہ مسلسل۔

ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں اب ٹھہرتی ہے دیکھیے جا کر نظر کہاں سکوں محال ہے قدرت کے کارخانے میں ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں حوصلہ، فلسطین عرب ہندوستان آزادی۔ امید رجائیت، ہم معنی حسن۔

4. شعر:

پھر نئے محمود ہوں گے حامی دین متیں

بچہ بچہ، غیرت الپ ارسلاں ہو جائے گا

سرگودھا 2010، بہاولپور 2009، لاہور 2010

الفاظ و معانی:

 
الفاظ معانی الفاظ معانی
محمود غزنوی حامی دین متین اسلام حمایتی مضبوط
الپ ارسلاں سلجوقی حکمران    
 

مفہوم: نئے محمود دین حمایتی، بچہ الپ ارسلان بہادر۔

تشریح: مصیبت ٹلنے۔ نئے بہادر: محمود غزنوی (17 حملے، سومنات)، الپ ارسلان (رومی شکست، ایشیا نکال)۔ اسلام نصرت، دشمن خاتمہ، عروج۔ تاریخ دہرائی، حکومت۔

یہ آگہی مری مجھے رکھتی ہے بے قرار خوابیدہ اس شر ر میں ہیں آتش کدے ہزار جہاں میں اہل ایماں صورت خورشید جیتے ہیں ادھر ڈوبے اُدھر نکلے اُدھر ڈوبے ادھر نکلے تاریخی حوالے جوش میدان۔ جوش سادگی روانی فصاحت بلاغت۔

5. شعر:

میرے جیسے ہوں گے پیدا، سیکڑوں اہل سخن

نکتہ نکتہ جن کا، آزادی کی جاں ہوجائے گا

سرگودھا 2010

الفاظ و معانی:

 
 
الفاظ معانی الفاظ معانی
اہل سخن شاعر آزادی کی جاں جدوجہد جان
 

مفہوم: سیکڑوں شاعر، کلام آزادی جان۔

تشریح: شعرا قوم تربیت رہنمائی، جوش ولولہ۔ قلم بیداری، متوالہ۔ سزا۔ پیش گوئی: رخصت عوض سیکڑوں، افکار بیداری روح، تڑپ شہادت۔ وطن آزادی۔

شاعر دل نواز بھی بات گر کہے کھری ہوتی ہے اس کے فیض سے مزرع زندگی ہری میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا سادہ آسان روشن نوید۔

6. شعر:

ڈھائی جائے گی بنا، یورپ کے استعمار کی

ایشیا، آپ اپنے حق کا پاسباں ہو جائے گا

گوجرانوالہ 2010، ملتان 2006، سرگودھا 2010

الفاظ و معانی:

 
 
الفاظ معانی الفاظ معانی
ڈھائی جائے گرا دی استعمار نوآبادی
پاسباں محافظ    
 

مفہوم: یورپ استعمار ڈھا، ایشیا حقوق محافظ۔

تشریح: یورپی ملک گہری ہوس خاتمہ۔ نوآبادیاتی جڑ اُکھاڑ۔ غلامی طوق اتار، پاؤں کھڑے، حفاظت دفاع۔ وسائل بروئے کار، وجود تسلیم۔

محکم بنا اسی سے ہے قصرِ فرنگ کی تو بھی کر اُستوار اساس اقتصاد کی تری خودی میں اگر انقلاب ہو پیدا عجب نہیں ہے کہ یہ چار سو بدل جائے نشاۃ ثانیہ، جگانا، ستارے کمند زوال اٹھو مقام۔

7. شعر:

نغمہ آزادی کا گونجے گا حرم اور دیر میں

وہ جو دارالحرب ہے، دارالاماں ہو جائے گا

گوجرانوالہ 2010-12، ملتان 2007، راولپنڈی 2013

الفاظ و معانی:

 
 
الفاظ معانی الفاظ معانی
حرم مسجد دیر مندر
دارالحرب جنگ جگہ دارالامان امن جگہ
 

مفہوم: مسجد مندر آزادی نغمہ، دارالحرب دارالامان۔

تشریح: عیسائی تبلیغ، مذہبی پابندی۔ آزاد: عبادت خانوں عمل۔ ہندو مسلمان تحریک حصہ، جبر خاتمہ، نظام موت۔ تحریک ہجرت: دارالحرب دارالامن ہجرت۔ آزاد: مذہبی امور، امن سکھ۔ نعرہ روک نہیں، جانا۔

غلامی مستقل لعنت ہے اور توہین انساں ہے غلامی سے رہا ہو اور آزادوں میں شرکت کر اسلام کی فطرت میں قدرت نے لچک دی ہے اتنا ہی یہ اُبھرے گا جتنا کہ دبادیں گے روانی جوش جذبہ، دریا کوزے۔

8. شعر:

ہم کو سودا ہے غلامی کا، کہ آزادی کی دھن

چند ہی دن میں، ہمارا امتحاں ہو جائے گا

ملتان 2007

الفاظ و معانی:

 
 
الفاظ معانی الفاظ معانی
سودا جنون دھن لگن
 

مفہوم: غلامی پسند یا آزادی، دنوں امتحان۔

تشریح: غلط فہمی ازالہ: غلامی عادی۔ فیصلہ: آزاد جینا غلامی۔

دنیا میں ٹھکانے دو ہی تو ہیں آزاد منش انسانوں کے یا تختہ جگہ آزادی کی یا تخت مقام آزادی کا عشق و آزادی بہار زیست کا سامان ہے عشق میری جان آزادی مرا ایمان ہے عشق پہ کر دوں فدا میں اپنی ساری زندگی لیکن آزادی پہ میرا عشق بھی قربان ہے آزادی خون رچی، حاصل جانتے۔ جدوجہد کامیاب امتحان۔

9. شعر:

اس بشارت کو نہ سمجھو، ایک دل خوش کن قیاس

جس کو سن کر ہر مسلماں، شادماں ہو جائے گا

الفاظ و معانی:

 
الفاظ معانی الفاظ معانی
بشارت خوشخبری دل خوش کن دل خوش
قیاس گمان شادمان خوش
 

مفہوم: خوشخبری وقتی دل خوش قیاس نہیں، سن خوش۔

تشریح: غلامی جذبہ ختم نہیں۔ یقین: آزادی۔ قیاس نہیں، حالات تبدیلی جھلک۔

اُٹھ کہ اب بزمِ جہاں کا اور ہی انداز ہے مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے شک: دیوانہ بڑ، خوش خیالی۔ کل ہمنوا، ترانہ زباں، خواب تعبیر۔ محبت کے لیے کچھ خاص دل مخصوص ہوتے ہیں یہ وہ نغمہ ہے جو ہر ساز پہ گایا نہیں جاتا خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا امید رجائیت، منزل عزم۔ جوش سلاست روانی۔ “دل خوش کن قیاس” فارسی۔ س ش تکرار موسیقیت۔

10. شعر:

سچ ہے میرا حرف حرف اور جس کو اس میں شک ہے

آج دیکھ لینا کل مرا، ہم داستاں ہو جائے گا

مفہوم: حرف حرف سچ، شک آج کل ہمنوا۔

تشریح: دل گواہی، بات سچی۔ پیش گوئی حقیقت۔ خلوص، تسلی نہیں۔ حرف سچائی ثابت، غلامی طوق اتار، آزاد سانس۔ یقین، شک نہیں، کمر بستہ۔

آسماں ہو گا سحر کے نور سے آئینہ پوش اور ظلمت رات کی سیماب پا ہو جائے گی


نظم کا خلاصہ

بہاولپور 2007-08-10، ڈیرہ غازی خان 2008-09-13، ملتان 2010، سرگودھا 2010، لاہور 2007, 2013 جلد نئی جہاں، مسلمان خون تعمیر۔ فضائے قدس غیرت بجلی، حق ظاہر باطل مٹ۔ کواکب عوض نئے انجم روشن آسمان۔ دین متین نئے محمود الپ ارسلان، بچہ بہادر۔ سیکڑوں اہل سخن آزادی نکات۔ یورپ استعمار ڈھا، ایشیا حقوق پاسباں۔ حرم دیر آزادی نغمہ، دارالحرب دارالامان۔ غلامی سودا آزادی دھن امتحان۔ دل خوش کن قیاس نہیں، حرف حرف سچ، شک کل ہمنوا۔

یہ نظم امید رجائیت جوش جذبہ سے لبریز، آزادی جدوجہد نوید، پیش گوئی (1947ء پاکستان) صاحب بصیرت۔ غزل لب لہجہ، روانی سلاست، محاورہ زور بیان۔ مسلمان جگانے قلم جہاد۔


Share With Others

اس موضوع پر مزید پڑھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *