سبق نواب محسن الملک بارہویں اردو

سبق نواب محسن الملک بارہویں اردو

Share With Others

SABAQ 2ND YEAR URDU NAWAB MOHSIN UL MALAK BY MOLVI ABDUL HAQ

نواب محسن الملک: ڈاکٹر مولوی عبدالحق

مصنف کا تعارف: ڈاکٹر مولوی عبدالحق

ڈاکٹر مولوی عبدالحق، جو “بابائے اردو” کے نام سے مشہور ہیں، 20 اپریل 1870ء کو پیدا ہوئے اور 16 اگست 1961ء کو وفات پائی۔ وہ برصغیر پاک و ہند کے عظیم اُردو مفکر، محقق، لسانیات کے ماہر، معلم، اور انجمن ترقی اُردو اور اُردو کالج کراچی کے بانی تھے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی اُردو زبان کے فروغ، ترویج، اور اشاعت کے لیے وقف کی۔ ان کی کوششوں کا نتیجہ ہے کہ آج اُردو کو عالمی سطح پر مقام حاصل ہے۔ ان کی کتاب چند ہم عصر، جو ہم عصر شخصیات کے خاکوں کا مجموعہ ہے، ان کی خاکہ نگاری کا شاہکار ہے۔ ان کی نثر میں سادگی، عام فہم الفاظ، اور سرسید احمد خان کے طرزِ نثر کا گہرا اثر نمایاں ہے۔ ان کی تصانیف جیسے اردو کی نشو و نما میں علمائے کرام کا حصہ اور دکنی مخطوطات پر تحقیق، اُردو ادب میں ان کی عظمت کو اجاگر کرتی ہیں۔

اہم کلیدی الفاظ: ڈاکٹر مولوی عبدالحق، بابائے اردو، اُردو فروغ، انجمن ترقی اُردو، اردو ادب

سبق کا تعارف: نواب محسن الملک

یہ مضمون ڈاکٹر مولوی عبدالحق کی تحریر ہے، جو ان کے خاکوں کے مجموعے چند ہم عصر کا حصہ ہے۔ اس میں نواب محسن الملک کی شخصیت، کارناموں، اور ان کے اُردو زبان اور مسلم تعلیمی تحریک میں کردار کو اجاگر کیا گیا ہے۔ یہ تحریر نواب محسن الملک کی زندگی کے مختلف پہلوؤں، ان کے اخلاقی اقدار، اور ان کے دور کے سیاسی و سماجی حالات کو بیان کرتی ہے۔

اہم کلیدی الفاظ: نواب محسن الملک، ڈاکٹر مولوی عبدالحق، مسلم تعلیمی تحریک، اُردو زبان، چند ہم عصر

خلاصہ: نواب محسن الملک کی زندگی اور کارنامے

شخصیت اور خوبیاں

نواب محسن الملک (اصل نام نواب مہدی علی خان) ایک منفرد شخصیت کے مالک تھے، جنہیں قدرت نے وجاہت، ذہانت، خوش بیانی، اور فیاضی جیسے اعلیٰ اوصاف سے نوازا تھا۔ وہ اعلیٰ حکومتی عہدوں پر فائز رہنے کے باوجود انتقامی سیاست سے دور رہے۔ ان کے قریب آنے والا ہر شخص ان سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکتا۔ وہ اپنے مخالفین کے ساتھ بھی احسان کرنے والے تھے اور ناپسندیدہ کاموں کو بھی سلیقے سے انجام دیتے تھے۔

اہم کلیدی الفاظ: نواب محسن الملک، وجاہت، ذہانت، خوش بیانی، فیاضی

انتظامی اور سیاسی خدمات

حیدرآباد کی حکومت میں نواب محسن الملک نے اپنی انتظامی، سیاسی، اور اخلاقی صلاحیتوں کا شاندار مظاہرہ کیا۔ انہوں نے انتظامی اور مالی شعبوں کو جدید پیمانوں پر استوار کیا، جس کی تعریف دانشوروں نے بھی کی۔ ان کی مقبولیت کا ثبوت ان کی رخصت کے وقت حیدرآباد ریلوے اسٹیشن پر جمع ہجوم تھا، جس میں امیر و غریب، بیوائیں، اور یتیم سب شامل تھے، جن کی آنکھیں آنسوؤں سے بھری تھیں۔

اہم کلیدی الفاظ: حیدرآباد حکومت، انتظامی خدمات، سیاسی صلاحیت، مقبولیت

مذہبی لگاؤ اور ادبی خدمات

نواب محسن الملک کا دور انگریزوں کے زیرِ تسلط برصغیر میں مذہبی بیداری کا زمانہ تھا۔ ان کا اسلام اور مسلمانوں کی فلاح سے گہرا تعلق تھا، جو ان کی تحریروں میں نمایاں ہے۔ اگرچہ ان کی تحریروں میں ادبی طرز کا فقدان تھا، لیکن ان میں ایک خاص شوکت موجود تھی۔ انہوں نے انگریزی ادب سے استفادہ کرتے ہوئے تراجم کیے، جو ان کی تحریروں میں جھلکتی ہے۔

اہم کلیدی الفاظ: مذہبی بیداری، اسلامی فلاح، انگریزی ادب، تراجم

خوش بیانی اور اثر انگیزی

نواب محسن الملک ایک بے مثال مقرر تھے، جن کی ذہانت اور اندازِ گفتار سامعین کو اپنی طرف مائل کر دیتے تھے۔ ان کے مخالفین، جیسے بدرالدین طیب جی، بھی ان کی تقریروں سے متاثر ہوئے۔ طیب جی نے علی گڑھ کالج کو عطیہ دیا اور آل انڈیا مسلم ایجوکیشنل کانفرنس کی صدارت کی۔ ان کی گفتگو میں ظرافت، شگفتگی، اور بعض اوقات شوخی بھی شامل تھی، جو ان کی مردم شماری اور کام لینے کی مہارت کو ظاہر کرتی تھی۔

اہم کلیدی الفاظ: خوش بیانی، بدرالدین طیب جی، علی گڑھ کالج، ظرافت، مردم شماری

اُردو زبان کی حمایت

سرسید احمد خان کی وفات کے بعد جب اُردو کے خلاف مہم چلی، تو نواب محسن الملک نے اس کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ ان کی پرجوش تقریریں انجمن ترقی اُردو کے جلسوں میں اُردو کے فروغ کے لیے ایک نئی تحریک چلائی۔ انہوں نے سرسید کے کام کو آگے بڑھایا اور اُردو زبان کی ترویج میں اہم کردار ادا کیا، جس کی وجہ سے ان کا نام آج بھی زندہ ہے۔

اہم کلیدی الفاظ: اُردو زبان، سرسید احمد خان، انجمن ترقی اُردو، تقریریں

اہم توضیحات

  • نواب محسن الملک: اصل نام نواب مہدی علی خان، 1837ء-1907ء، سرسید کے جانشین، علی گڑھ کالج کے ٹرسٹی

  • ڈاکٹر مولوی عبدالحق: بابائے اردو، اُردو کے فروغ کے لیے مشہور، چند ہم عصر کے مصنف

  • حیدرآباد: دکن کی مشہور مسلم ریاست، انتظامی اصلاحات کا مرکز

  • انجمن ترقی اُردو: اُردو زبان کی ترویج کے لیے قائم ادارہ

  • علی گڑھ کالج: سرسید احمد خان کی تعلیمی تحریک کا اہم حصہ

اہم کلیدی الفاظ: نواب محسن الملک، بابائے اردو، حیدرآباد، انجمن ترقی اُردو، علی گڑھ کالج

عبارت نمبر1

          قدرت نے نواب محسن الملک کو بہت سی خوبیاں عطا کی تھیں۔ وجاہت، ذہانت، خوش بیانی، فیاضی ان کی ایسی عام اور ممتاز خصوصیات تھیں کہ ایک راہ چلتا بھی چند منٹ کی بات چیت میں معلوم کرلیتا تھا۔ خطاب یا نام اٹکل سے رکھ دیے جاتے ہیں۔ مسمی کی خصوصیات کا ان میں مطلق لحاظ نہیں ہوتا۔ نام رکھتے وقت تو ممکن ہی نہیں، عطائے خطاب کے وقت بھی اس کا خیال نہیں کیا جاتا۔ لیکن محسن الملک کا خطاب ان کے لیے بہت ہی موزوں نکلا۔ ان میں پارس پتھر کی خاصیت تھی۔ کوئی ہو، کہیں کا ہو، ان سے چھوا نہیں اور کندن کا ہوا نہیں۔

حوالہ متن 

سبق کا عنوان:        نواب محسن الملک

مصنف کا نام :                   ڈاکٹر مولوی عبدالحق

سیاق و سباق: نواب محسن الملک کو اللہ تعالیٰ نے بہت سی خوبیوں اور صلاحیتوں سے نوازا تھا۔  نواب صاحب اسم بامسمی تھے۔ وہ حیدرآباد دکن میں اعلیٰ عہدے پر فائز رہے۔ معاملات کو سلجھانے میں مہارت رکھتے تھے۔ انتظامی قابلیت اور سیاسی تدبر اُن میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ عوام میں اس قدر مقبولیت تھی کہ حیدرآباد سے واپس آنے پر ہر آنکھ اشک بار تھی۔آپ کو فطری طور پر مذہب سے لگاؤ تھا۔اچھے خطیب تھے، بگڑتے ہوئے مجمعے کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ نواب صاحب کو مطالعہ کرنے کا بے حد شوق تھا اور وہ ہر طرح  کی کتابیں پڑھتے تھے۔ الغرض نواب محسن الملک مسلمان قو م کے بڑے خیر خواہ تھے۔ وہ مرتے دم تک اس شاہراہ پر گامز ن رہے جس کی داغ بیل سر سید ڈال گئے تھے۔

تشریح: تاریخ برصغیر میں نامور ہستیوں میں سے ایک معروف ہستی نواب محسن الملک ہیں۔ ان کا اصل نام نواب سید مہدی علی خاں تھا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بہت سی بے مثال خوبیاں عطا کی تھیں۔ آپ دل کش شخصیت کے مالک تھے۔ آپ کے چہرے سے رعب داب جھلکتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بے مثل ذہانت عطا کی تھی۔ بات کرنے میں آپ کو کمال حاصل تھا۔ جب بھی گفتگو کرتے دِل موہ لیتے تھے۔ آپ ایک ملنسار شخصیت کے مالک تھے۔

ہر لحظہ ہے مومن کی نئی شان نئی آن

گفتار میں کردار میں اللہ کی برہان

          نواب محسن الملک بڑے فیاض اور سخی تھے۔ یہی وہ خاص خوبیاں تھیں جو اُنہیں دوسروں سے ممتاز کرتی تھیں۔ ایسے باکمال انسان تھے کہ اگردوست احباب ، رشتہ دار، اور رفقائے کار بلکہ ایک عام نا واقف آدمی ، جس کی راستے میں سے گزرتے ہوئے اتفاقاً ان سے ملاقات ہو گئی تو وہ بھی ان کی خوبیوں سے واقف ہو جاتا تھا اور چند لمحوں کی گفتگو سے ان کی صفات کا ہمیشہ معترف رہتا تھا۔

          نواب صاحب کو بات کرنے کا خاص ڈھنگ آتا تھا۔ آپ کی زبان دانی اپنی مثال آپ تھی۔ جو شخص اُن سے ملتا ان کی گفتگو سے ان کے اخلاق اور دیگر خوبیوں کا ہمیشہ معترف رہتا تھا۔ افلاطون کا قول ہے کہ:

”انسان کا فخر اس میں ہے کہ فخر نہ کرے اور باوجود بڑا ہونے کے خود کو کمتر سمجھے“۔

          عام طور پر بچوں یا بڑوں کے نام اور خطاب رکھتے وقت اس بات کا قطعاً خیال نہیں رکھا جاتا کہ جو نام ان کا رکھا جا رہا ہے اس نام کی خوبیاں اس شخصیت میں پائی جاتی ہیں یا نہیں۔ نام کا انتخاب کرتے وقت نام کی معنوی خوبیوں پر ہرگز غوروخوض نہیں کیا جاتا۔ جس نام پر ذہن اور دل مطمئن ہو جاتا ہے رکھ لیتے ہیں۔ چنانچہ بچے کا نام سوچے سمجھے بغیر رکھ دیا جاتا ہے اور کوئی ضروری نہیں ہوتا کہ عالم دین نام کا شخص بڑا ہو کر واقعی دین کا بڑا عالم ثابت ہو گا یا شریف الد ین نام کا شخص واقعی شریف بن کر ہی رہے گا۔ معاملات اس کے برعکس بھی ہو سکتے  ہیں۔

          اکثر اوقات حکومت کی طرف سے بھی یہی صورت حال سامنے آتی ہے کہ جب کسی شخص کو سرکاری خطاب عطا کیا جاتاہے تو یوں ہی عطا کردیا جاتا ہے۔ ایسے موقعوں پر بھی اس بات کا بالکل خیال نہیں رکھا جاتا کہ جس شخص کو جو خطاب دیا جارہا ہے اس کی شخصیت میں خطاب کی معنوی خوبیاں بھی پائی جاتی ہیں یا نہیں۔ حکومتی سطح پر تو یہ اصول ہونا چاہیے کہ وہ تحقیق کرے کہ جس شخص کو وہ خطاب عطا کیا جارہاہے اُس شخص کی عادات و اطوار خطاب سے مطابقت بھی رکھتی ہیں یا نہیں۔ اس شخصیت کی خدمات یا کارنامے واقعی ہی اس خطاب کے لیے مناسب ہیں یا نہیں۔ حکومتی سطح پر خطاب عطا کرنے کے حوالے سے یہ بات مشاہدے میں آتی ہے کہ حکومت اسی شخصی کو خطاب عطا کرتی ہے جو غلط کاموں کی تکمیل میں معاونت کرے۔ جو خوشامد اور جی حضور یوں میں پیش پیش رہے۔ لیکن نواب محسن الملک کی خوش قسمتی دیکھئے کہ حیدر آباد دکن کی حکومت کی طرف سے انہیں ”محسن الملک“ کا خطاب دیا گیا۔ یہ خطاب ان کے لیے بہت ہی موزوں ثابت ہوا۔ ان کا خطاب واقعی ان کے حسب حال تھا کیوں کہ انھوں نے ملک و قوم کے لیے بے لوث خدمات سر انجام دیں اور ملک و قوم کے بڑے معاون ومددگار رہے۔ انھوں نے اپنی ملی و قومی خدمات سر انجام دے کر یہ ثابت کر دیا کہ وہ واقعی محسن الملک یعنی ملک کے محسن اور خیر خواہ ہیں۔ بقول سقراط:

”اپنا نام قائم رکھنے کے لیے انسان مرنے کے لیے بھی تیار ہو جاتا ہے“۔

          مصنف نے نواب محسن الملک کی ایک اور خوبی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ آپ کی شخصیت پارس پتھر کی مانند تھی۔ پارس وہ پتھر ہے جو ادنیٰ دھاتوں سے مس کر جائے تو انہیں بھی سونا بنا دیتا ہے۔اس لحاظ سے محسن الملک بھی خوش قسمت تھے کہ ان میں پارس کی سی خاصیت تھی کہ ان سے ایک بار بھی جو ملاقات کر لیتا، وہ خالص سونے کی مانند بن جاتا جس میں ذرہ بھر بھی ملاوٹ اور کھوٹ نہیں ہوتا۔ محسن الملک کے حسنِ عمل اور اچھے اخلاق کی وجہ سے لوگ اپنی ذات میں بہتر تبدیلی محسوس کرتے تھے اور یہ محسن الملک کی سیرت اور کردار کا خوب صورت پہلو تھا۔

اس کی امیدیں قلیل، اس کے مقاصد جلیل
اس کی ادا دلفریب اس کی نگہ دل نواز
نرم دم گفتگو ، گرم دم جستجو
رزم ہو یا بزم ہو ، پاک دل و پاک باز

مرد خدا کا عمل عشق سے صاحب فروغ
عشق ہے اصل حیات ، موت ہے اس پر حرام

عبارت نمبر2:

          سیاسی مصلحتیں بعض اوقات اہل حکومت کو مجبور کرتی ہیں کہ وہ ان افراد کو جو ان کی یا حکومت کی راہ میں حائل ہیں، دودھ کی مکھی کی طرح نکال کر پھینک دیں۔ مرحوم کو بھی کبھی کبھی ایسا کرنا پڑتا لیکن انہوں نے اس ناگوار اور دل شکن کام کو اس خوبی اور سلیقے سے کیا کہ مخالف ہونے پر بھی محسن الملک کو دعائیں دیتے گئے اور جب تک زندہ رہے، ان کے شکر گزار رہے۔

تشریح: نواب محسن الملک جن کا اصل نام نواب سید مہدی علی خان تھا، انھیں اللہ تعالیٰ نے بہت سی صفات اور خوبیاں ودیعت کی تھیں۔ نواب محسن الملک نے   1866ء صوبائی سول سروس کے امتحان میں اول پوزیشن حاصل کی اور انہیں مرزا پور کا ڈپٹی کلکٹر بنا دیا گیا۔ سرسیداحمدخان آپ کی قابلیت اور حسن عمل سے پہلے ہی متعارف ہوچکے تھے۔ انھوں نے  حیدر آباد دکن کے نواب سالار جنگ کو نواب محسن الملک کی خدمات حاصل کرنے کا مشورہ دیا۔ چنانچہ 1874ء میں محسن الملک انگریزوں کی نوکری سے استعفٰی دے کر نظام آف حیدرآباد کی ملازمت میں چلے گئے ،جہاں انہوں نے بائیس سال تک بڑے بڑے اور اعلیٰ عہدوں پر فائز رہ کر  خدمات سرانجام دیں۔

           حیدر آباد میں آپ انتظامی امور میں سیاہ و سفید کے مالک تھے۔ ایسے بڑے بڑے عہدوں پر کام کرنے والے حکام کو بعض اوقات سیاسی اور انتظامی مصلحتوں کی خاطر اپنے ماتحت افراد کو جو ان کے یا حکومت کے رستے میں مشکلات پیدا کرتے ہیں نوکری سے فارغ کرنا پڑتا ہے۔ ایسے افراد سے سخت رویہ نہ اپنایا جائے تو حکومتی کاموں میں رخنہ اندازی کرتے ہیں۔ لہٰذا ایسے افراد کو آڑے ہاتھوں لیا جاتا ہے یا کچل دیا جاتا ہے۔

”سیاست میں افراد سے نہیں، اصولوں سے دوستی ہوتی ہے“۔

          ایسے افراد کو فارغ کیے بغیر کوئی چارہ کا رہی باقی نہیں رہتا۔گویا ان افراد کو اصولوں کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے۔نواب محسن الملک کو بھی بعض اوقات یہ ناخوش گوار کام سر انجام دینا پڑتا تھا۔ اور اپنے ماتحتوں ، واقف کاروں یا حکومت کے ناپسندیدہ افراد کو ملازمت وغیرہ سے برطرف کرنا پڑتا تھا لیکن وہ اس نا پسندیدہ اور دوسروں کی دل شکنی کا باعث بننے والا کام اس خوبی اور ہنر مندی سے کرتے تھےکہ دوسرے  انھیں بددعا نہ دیں اور نہ ہی ان کے انتظامی امور میں روڑے اٹکائیں۔ آپ نے حتی الامکان کوشش کی کہ کسی کی دل آزاری نہ ہو۔ یہ نواب محسن الملک کی معاملہ فہمی، دانش مندی یا دوراندیشی ہی تھی کہ لوگ آپ کے خلاف ہونے کی بجائے آپ کے ممنون احسان اور شکر گزار ہوتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کی عطاکردہ انھی صلاحیتوں کی وجہ سے آپ کو انتظامی امور میں ان مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑا، جتنا کہ ایک عام آدمی کو واسطہ پڑ سکتا تھا۔ لہٰذا آپ نے کسی کا دل نہ دکھایا اور اس انداز سے لوگوں کو ملازمت سے علیحدہ کیا کہ بجائے وہ دشمن ہونے کے آپ کے شکر گزار ہوئے۔ یہاں تک کہ وہ جب تک زندہ رہتے محسن الملک کے شکر گزار رہتے تھے جیسے انہیں نوکری سے فارغ کر کے نواب صاحب نے ان کے ساتھ بھلائی کی ہو۔

اب کہاں ایثار و اخوت وہ مدینے جیسی

اب تو مسلم کو مسلمان سے ڈر لگتا ہے

عبارت نمبر3: (لاہور بورڈ2010ء۔ بہاولپور بورڈ2008ء)

          وہ جو ہر قابل تھے مگر موقعے کی تاک میں تھے۔ حیدرآباد میں ان کی سیاست دانی، تدبر، انتظامی قابلیت کے جوہر کھلے۔ ان کا ذہن ایسارسا، ان کی طبیعت ایسی حاضر، ان کے اوسان ایسے بجا اور معاملات اور واقعات پر ایسا عبور تھا کہ بڑے بڑے پیچیدہ معاملات کو باتوں باتوں میں سلجھادیتے تھے۔ وہ اگر ٹرکی یا کسی اور سلطنت کے فارن منسٹر ہوتے تو یقیناً دنیا میں بڑا نام پیدا کرتے، بڑے بڑے مدبر ان کا لوہا مان گئے تھے۔

تشریح: نواب محسن الملک جن کا اصل نام نواب سید مہدی علی خان تھا، انھیں اللہ تعالیٰ نے بہت سی صفات اور خوبیاں ودیعت کی تھیں۔ تشریح طلب عبارت میں مصنف مولوی عبدالحق لکھتے ہیں کہ نواب محسن الملک ایک قابل شخص تھے۔ انسانوں میں اگر بعض صلاحیتیں اور خوبیاں قدرتی اور فطری ہوتی ہیں تو بعض صلاحیتیں لوگ اپنی محنت ، کوشش اور ان تھک جدو جہد اور تجربات سے بھی حاصل کرتے ہیں ۔نواب صاحب نے اپنی محنت سے فطری صلاحیتوں کو جلا بخشی۔ نواب محسن الملک دونوں لحاظ سے بہت خوش قسمت واقع ہوئے تھے کہ قدرت نے انہیں بعض بیش بہا خوبیوں اور صلاحیتوں سے نواز رکھا تھا اور پھر قدرت نے انہیں ان خوبیوں کے اظہار کے لیے مواقع بھی فراہم کیے۔ نواب محسن الملک نے انگریزوں کی نوکری ایک معمولی سے عہدے سے شروع کی لیکن اپنی خدا داد صلاحیتوں کے باعث وہ جلد ہی اس معمولی عہدے سے بڑے عہدوں تک جا پہنچے۔محسن الملک ایک بہت ہی لائق فائق آدمی تھے۔ وہ اپنی اس قابلیت اور صلاحیتوں کے اظہار کے لیے کسی مناسب موقع کی تلاش میں رہتے تھے۔ انھیں خداداد صلاحیتوں کے اظہار کا موقع حیدرآباد میں سیاست دانی کے دوران میں ملا۔ ان کی سیاسی بصیرت دوراندیشی اور انتظامی صلاحیتوں کے ذریعے حیدرآباد ہی میں ا ن کی قابلیت لوگوں پر واضح ہوئی۔ اس خاص شعبہ زندگی میں ان کو خاص مہارت کا ملہ حاصل تھی۔ اسی بنا پر وہ ایک ماہر سیاستدان اور منتظم کہلائے۔ بقول فلاسفر:

”ماہر وہ شخص ہوتا ہے جو کم سے کم کے متعلق زیادہ سے زیادہ جانتا ہو“۔

          مولوی عبدالحق لکھتے ہیں کہ نواب محسن الملک کی یہ بھی خوبی تھی کہ وہ کام کی زیادتی سے گھبراتے نہیں تھے۔ عام طور پر لوگوں کا کام کی زیادتی کی وجہ سے مزاج بدل جاتا ہے لیکن نواب صاحب ہر وقت ہشاش بشاش رہتے تھے۔ اُن کی حاضر دماغی کا یہ عالم تھا کہ کوئی بھی پیچیدہ مسئلہ ہوتا فوراً اُس کی تہہ تک پہنچ جاتے۔ واقعات اور معاملات کی باریکیوں تک رسائی حاصل کرلیتے اسی دانش مندی کی وجہ سے باتوں باتوں میں مسئلے کا حل بھی بتادیتے۔ یہ بات بھی مشاہدے میں آتی ہے کہ مشکل حالات میں افسران کے ہوش و حواس جواب دے دیتے ہیں۔ وہ مشکل حالات کا سامنا نہیں کرپاتے۔ جس کی وجہ سے وہ غلط فیصلے کرتے ہیں لیکن نواب صاحب کے ہاں ایسا معاملہ نہ تھا۔

          نواب محسن الملک کی ذہانت اور قابلیت کو دیکھتے ہوئے مولوی عبدالحق لکھتے ہیں کہ اگر نواب صاحب کسی دوسرے ملک جیسے ترکی وغیرہ میں وزیر خارجہ ہوتے تو یقیناً اپنی قابلیت اور مہارت کی وجہ سے دنیا بھر میں ناموری پیدا کرتے۔ مصنف لکھتے ہیں کہ اسی صلاحیت کی وجہ سے لوگ اُن کی قابلیت کو مان گئے تھے۔ ملٹن کا قول ہے کہ:

”جو شخص مصیبت کا بوجھ بخوشی اٹھا سکتا ہے وہی سب سے بہتر کام کر سکتا ہے“۔

عبارت نمبر4:

          حیدر آباد میں بڑے بڑے لوگ آئے اور گئے لیکن اب تک کسی کو وہ مقبولیت اور ہر دل عزیزی حاصل نہیں ہوئی جو نواب محسن الملک کو ہوئی۔ ہمارے ملک میں خوشامد یوں کی کوئی کمی نہیں۔ وہ ہر بڑے اور صاحبِ اقتدار آدمی پر اس طرح ٹوٹ کر گرتے ہیں جیسے شہد پر مکھیاں، لیکن سچ اور جھوٹ کا امتحان اس وقت ہوتا ہے جب وہ بڑا آدمی اپنے اقتدار یا منصب سے محروم ہو جاتا ہے۔

تشریح: مولوی عبدالحق بتاتے ہیں کہ نواب صاحب کو اللہ تعالیٰ نے بہت سی خوبیاں عطا کررکھی تھیں۔ نواب محسن الملک نے اپنی ملازمت کا آغاز ایک معمولی سے سرکاری عہدے سے کیا۔ اپنی ذاتی صلاحیتوں، مسلسل اور ان تھک محنت کی بدولت وہ بڑے بڑے عہدوں پر پہنچے۔ نواب محسن الملک کی صلاحیتوں کا شہرہ ہوا، توحیدرآباد کے نظام نے انھیں بھی حیدرآباد میں ملازمت کی دعوت دی۔ جہاں انھیں قدرت کی طرف سے عطا کردہ خوبیوں کے اظہار کا بھر پور موقع ملا۔ ان کی سیاسی بصیرت ، دوراندیشی اور انتظامی صلاحیتوں کی بدولت حیدرآباد میں ان کی قابلیت لوگوں پر واضح ہوئی۔ حضرت علیؓ کا فرمان مبارک ہے:

”ہوشیاری اس کا نام ہے کہ انسان اپنے تجربہ کو محفوظ رکھے اور اس کے مطابق کام کرے۔“

          مولوی عبدالحق تشریح طلب عبارت میں بتاتے ہیں کہ حیدر آباد دکن کی ریاست میں حکومت کے بڑے بڑے اعلیٰ اور ذمہ دار عہدوں پر قابل اور صاحب علم لوگ فائز ہوئے۔ وہ اپنی مدتِ ملازمت پوری کرکے یہاں سے فارغ بھی ہوگئے لیکن یہاں کی حکومت، افسروں اور عوام میں وہ مقبولیت ، شہرت اور پسندیدگی جو نواب محسن الملک کو حاصل ہوئی، کسی اور کو حاصل نہ ہو سکی۔نواب صاحب اپنے افسروں، ماتحتوں اور عوام میں یکساں مقبول تھے۔ برصغیر کے لوگوں کا ہمیشہ سے یہ مزاج رہا ہے کہ یہاں خوشامدی بہت زیادہ پائے جاتے ہیں۔ حیدرآباد میں بھی خوشامدیوں کی کمی نہ تھی۔ خوشامد یوں کی یہ مکارانہ چال ہوتی ہے کہ وہ اپنی غرض اور مطلب کو پورا کرنے کے لیے حکومتی افسروں کی جھوٹی تعریفوں کے پل باندھتے ہیں اور بے جا تعریف کرتے ہیں اور اس کے اردگرد اس طرح جمع ہو جاتے ہیں کہ جس طرح شہد پر مکھیاں جمع ہو جاتی ہیں۔ حکیم جالینوس کا قول ہے کہ:

”دانا اپنے اردگرد ایسے لوگوں کو جمع کرتا ہے جو خوشامدی نہ ہوں“۔

            یہ لوگ متعلقہ عہدیدار یا افسر کو اپنی وفاداری ، خلوص اور محبت کا اس طرح یقین دلاتے ہیں کہ لگتا ہے جیسے یہ بالکل صحیح کہہ رہے ہوں حالانکہ  یہ لوگ چڑھتے سورج کے پجاری ہوتے ہیں۔ وہ یہ سب کچھ اپنی غرض اور مقصد کو حاصل کرنے کے لیے کررہے ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی اس سچائی اور خلوص کا امتحان اس وقت ہوتا ہے جب متعلقہ عہدیدار یا حاکم اقتدار سے محروم ہو جاتا ہے یا وہ عہدہ اس سے چھن جاتا ہے۔ تب لوگوں کے اصل چہرے بے نقاب ہوتے ہیں۔ ان کے رویے کھل کر سامنے آتے ہیں جو منھ پر تعریفیں کرتے ہوئے تھکتے نہیں تھے، وہی گلے شکووں کے پل باندھ دیتے ہیں۔ ایسے وقت  پر یہ خوشامدی اور وقتی طور پر فائدہ حاصل کرنے والے لوگ اس کے نزدیک تک نہیں بھٹکتے، یہاں تک کہ اس سے ملنا اور بات کرنا تک بھی گوار ا نہیں کرتے۔ امام غزالیؒ کا فرمان ہے:

”ایسے دوست سے بچو جو تمھاری خوشحالی کا دوست ہو اور آڑے وقت پر تمھارے کام نہ آئے“۔

نتیجہ

نواب محسن الملک ایک ایسی شخصیت تھے جنہوں نے اپنی ذہانت، خوش بیانی، اور اخلاقی اقدار سے نہ صرف حیدرآباد کی انتظامیہ کو مضبوط کیا بلکہ اُردو زبان اور مسلم تعلیمی تحریک کو نئی بلندیوں تک پہنچایا۔ ڈاکٹر مولوی عبدالحق نے ان کی زندگی کو چند ہم عصر میں خوبصورت انداز میں بیان کیا، جو ان کے کارناموں کی عکاسی کرتا ہے اور آج بھی قارئین کے لیے ایک قیمتی دستاویز ہے۔

اہم کلیدی الفاظ: نواب محسن الملک، ڈاکٹر مولوی عبدالحق، اُردو زبان، مسلم تعلیمی تحریک، چند ہم عصر


Share With Others

اس موضوع پر مزید پڑھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *