سبق تشکیل پاکستان اردو بارہویں
2ND YEAR URDU SABAQ TASHKEEL E PAKISTAN
تشکیل پاکستان: میاں بشیر احمد بارہویں کلاس اردو سبق نمبر ۲
مصنف کا تعارف: میاں بشیر احمد
میاں بشیر احمد (29 مارچ 1893ء – 3 مارچ 1971ء) تحریک پاکستان کے ایک ممتاز رہنما، شاعر، اور ادیب تھے۔ لاہور کے باغبان پورہ میں پیدا ہونے والے میاں بشیر احمد کے والد، جسٹس میاں شاہ دین ہمایوں، برصغیر کی ایک معروف علمی و ادبی شخصیت تھے۔ میاں بشیر احمد سچے مسلمان اور نظریہ پاکستان کے پرجوش حامی تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی اسلام کی سربلندی اور مسلمانوں کی فلاح کے لیے وقف کی۔ ان کی تحریروں میں اسلامی تعلیمات اور نظریہ پاکستان کی وکالت نمایاں ہے۔
وہ انجمن ترقی اردو اور مسلم لیگ کے فعال کارکن تھے۔ ان کی مشہور نظم “ملت کا پاسباں ہے محمد علی جناح” نے 1940ء کے تاریخی اجلاس میں قرارداد پاکستان کی منظوری کے موقع پر سامعین میں جوش و جذبہ پیدا کیا۔ ان کی تصانیف میں طلسم زندگی، کارنامہ اسلام، اور مسلمانوں کا ماضی، حال اور مستقبل شامل ہیں، جو سادہ زبان، روانی، اور زورِ اثر کے لیے مشہور ہیں۔
اہم کلیدی الفاظ: میاں بشیر احمد، تحریک پاکستان، نظریہ پاکستان، مسلم لیگ، اردو شاعری
سبق کا تعارف: تشکیل پاکستان
یہ مضمون 1966ء میں رسالہ قومی زبان میں “اسلامی ہند میں بیداری اور تشکیل پاکستان” کے عنوان سے شائع ہوا۔ اس میں میاں بشیر احمد نے پاکستان کی تشکیل کے تاریخی پس منظر، Muslim revivalism، اور تحریک پاکستان کی جدوجہد کو بیان کیا ہے۔
اہم کلیدی الفاظ: تشکیل پاکستان، اسلامی ہند، تحریک پاکستان، قومی زبان، میاں بشیر احمد
خلاصہ: پاکستان کی تشکیل کا تاریخی سفر
مغلیہ سلطنت کا زوال
ہندوستان میں مغل شہنشاہ اورنگ زیب عالمگیر کی وفات (1707ء) کے بعد ڈیڑھ صدی تک مغلیہ سلطنت کمزور ہوتی رہی۔ اٹھارویں صدی کے وسط تک مسلمانوں کی سیاسی طاقت ختم ہو چکی تھی۔ 1803ء میں انگریزوں نے دہلی پر قبضہ کیا اور 1857ء کی جنگ آزادی کے بعد ہندوستان پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا۔ اس دوران شاہ ولی اللہؒ، شاہ عبدالعزیزؒ، اور سید احمد بریلویؒ نے مذہبی احیا کی کوششیں کیں، لیکن 1831ء میں بالاکوٹ میں سید احمد بریلوی کی شہادت سے یہ مساعی ناکام ہوئیں۔ بہار میں فرائضی تحریک نے بھی مسلمانوں کی معاشی و معاشرتی بہبود کے لیے جدوجہد کی۔
اہم کلیدی الفاظ: مغلیہ سلطنت، اورنگ زیب، جنگ آزادی 1857، شاہ ولی اللہ، فرائضی تحریک
جنگ آزادی 1857ء اور اس کے اثرات
1857ء کی جنگ آزادی کی ناکامی نے مسلمانوں کی باقی ماندہ عزت کو خاک میں ملا دیا۔ ان کی جائیدادیں ضبط کر لی گئیں، عہدوں سے محروم کیا گیا، اور تعلیمی مواقع محدود کر دیے گئے۔ ہندوؤں نے انگریزوں کے ساتھ مل کر مسلمانوں پر ظلم کیا۔ اس مشکل وقت میں سرسید احمد خان نے تعلیم کے ذریعے قوم کی اصلاح کا بیڑا اٹھایا۔ انہوں نے اسباب بغاوت ہند اور خطبات احمدیہ جیسی کتابیں لکھیں، رسالہ تہذیب الاخلاق جاری کیا، اور علی گڑھ کالج قائم کیا۔ 1886ء میں آل انڈیا محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس کی بنیاد رکھی۔
اہم کلیدی الفاظ: جنگ آزادی 1857، سرسید احمد خان، علی گڑھ تحریک، تہذیب الاخلاق
ہندو-مسلم اختلافات اور سیاسی بیداری
1867ء میں بنارس میں ہندوؤں نے اردو کی جگہ ہندی کو دفتری زبان بنانے کا مطالبہ کیا، جس سے سرسید نے ہندوؤں کے ساتھ اتحاد کی ناممکنات کو سمجھ لیا۔ 1885ء میں انڈین نیشنل کانگرس کے قیام پر سرسید نے مسلمانوں کو اس سے دور رہنے کا مشورہ دیا۔ سرسید کے رفقاء، جیسے محسن الملک، وقار الملک، مولانا الطاف حسین حالی، شبلی نعمانی، اور سید امیر علی نے ان کی تحریک کو آگے بڑھایا۔ 1894ء میں شبلی نے ندوة العلماء قائم کیا، اور دیوبند کے علما نے دینی خدمات انجام دیں۔
اہم کلیدی الفاظ: ہندو-مسلم اختلافات، انڈین نیشنل کانگرس، ندوة العلماء، دیوبند
علامہ اقبال اور نظریہ پاکستان
علامہ اقبالؒ نے فلسفہ خودی پیش کر کے مرد内核 قوم کی رہنمائی کی۔ تقسیم بنگال (1905ء)، ہندی-اردو تنازع، جنگ بلقان و طرابلس، اور پہلی جنگ عظیم نے Muslims کو اپنی الگ شناخت کی ضرورت کا احساس دلایا۔ 1913ء میں مسلم لیگ نے سیلف گورنمنٹ کا مطالبہ کیا، اور 1916ء کے میثاق لکھنؤ نے ہندو-مسلم تعاون کی کوشش کی، لیکن انگریزوں کی وعدہ خلافی سے یہ کوششیں ناکام ہوئیں۔
اہم کلیدی الفاظ: علامہ اقبال، فلسفہ خودی، میثاق لکھنؤ، مسلم لیگ
قرارداد پاکستان اور آزادی
1930ء سے 1932ء تک گول میز کانفرنسیں ناکام رہیں۔ 1935ء کا گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ بھی غیر اطمینان بخش تھا۔ 1937ء میں کانگرس کی صوبائی حکومتیں بنیں، لیکن ان کی Muslim مخالف پالیسیوں نے تناؤ بڑھایا۔ 23 مارچ 1940ء کو قرارداد پاکستان منظور ہوئی، جس نے Muslims میں نئی امنگ پیدا کی۔ 1945-46ء کے انتخابات میں مسلم لیگ کی کامیابی نے پاکستان کی راہ ہموار کی۔ 3 جون 1947ء کو برطانوی اعلان کے بعد 14 اگست 1947ء کو پاکستان معرض وجود میں آیا۔
اہم کلیدی الفاظ: قرارداد پاکستان، مسلم لیگ، آزادی پاکستان، 14 اگست 1947
اہم توضیحات
-
اورنگ زیب عالمگیر: مغل شہنشاہ، اسلامی قوانین کے نفاذ کے لیے مشہور
-
شاہ ولی اللہؒ: مجدد دین، قرآن کا فارسی ترجمہ، حجۃ البالغہ
-
سید احمد بریلویؒ: تحریک مجاہدین کے بانی، بالاکوٹ میں شہادت
-
سرسید احمد خان: علی گڑھ تحریک کے بانی، تہذیب الاخلاق، اسباب بغاوت ہند
-
فرائضی تحریک: بنگال میں مذہبی احیا، حاجی شریعت اللہ
-
مسلم لیگ: 1906ء میں قائم، Muslims کی سیاسی نمائندگی
-
قرارداد پاکستان: 23 مارچ 1940ء، لاہور، الگ وطن کا مطالبہ
اہم کلیدی الفاظ: اورنگ زیب، شاہ ولی اللہ، سرسید، مسلم لیگ، قرارداد پاکستان
عبارت نمبر1: (بہاولپور بورڈ2009ء)
ہندوستان میں اِسلامی حکومت اگر چہ کہنے کو اورنگ زیب عالمگیر کی وفات (1707) کے ڈیڑھ سوسال بعد تک قائم رہی لیکن دراصل حکومت اور امرادونوں کی طاقت اور سطوت اٹھارھویں صدی کے وسط تک ختم ہوچکی تھی۔ انیسویں صدی کے شروع میں مسلمانوں کے سیاسی تنزل کی تکمیل ہوئی، چنانچہ1803ء میں انگریز دہلی میں داخل ہوئے۔ لیکن اسی زمانے میں بعض افراد کے دل میں مذہبی احیا اور معاشرتی اصلاح کا خیال پیدا ہوا۔ شاہ ولی اللہ ، شاہ عبدالعزیز وغیرہ کی کوششوں سے علم دوست لو گوں میں مذہب کی صحیح واقفیت بڑھتی گئی لیکن عوام کی مذہبی حالت بہت گری ہوئی تھی اور مذموم معاشرتی رسموں میں مسلمانوں اور ہندوؤں میں زیادہ فرق نہ تھا۔
[تشریح کے لیے دی گئی تمام عبارات کا حوالہ متن اور سیا ق و سباق چونکہ ایک ہی ہو گا اس لیے اسے شروع میں دے دیا گیا ہے اس کے بعد عبارات کی صرف تشریح کی گئی ہے۔]
حوالہ اقتباس:
ہندوستان میں اِسلامی حکومت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔زیادہ فرق نہ تھا۔
حوالہ متن:
سبق کا عنوان: تشکیلِ پاکستان
مصنف کا نام: میاں بشیر احمد
سیاق وسباق: 1707ءمیں اورنگ زیب عالمگیر کی وفات دراصل برصغیر میں مسلمانوں کے زوال کا نقطہ آغاز تھا۔ شاہ ولی اللہ، شاہ عبدالعزیز اور سید احمد شہید نے مسلمانوں کی اصلاح وفلاح کی کوششیں کیں۔ 1857ء کے سیاسی زوال کے بعد سرسید نے سماجی ، مذہبی ، سیاسی اور تعلیمی اصطلاح کا فریضہ سر انجام دیا اور مسلمانوں میں ایک ایسا شعور پیدا کیا جو مسلم لیگ کی تشکیل کا باعث بنا۔ علی گڑھ یونیورسٹی اور عثمانیہ یونیورسٹی حیدرآباد قائم ہوئیں۔ اقبالؒ کے افکار نے ان میں جوش ولولہ پیدا کیا اور قائداعظم ؒکی رہنمائی میں مسلم لیگ نے ہندوؤں اور انگریزوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔قائد اعظم نے اپنی قائدانہ صلاحیتوں سے کام لے کر ملت کو ایک مرکز پر جمع کیا اور با لآخر 14اگست 1947ءکو ان کے لئے ایک علیحدہ وطن حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ پاکستان ملت اِسلامیہ اور اپنے لیے صرف اور صرف اِسلامی نظام کے نفاذ سے ہی ایک فلاحی ملک بن سکتا ہے۔
تشریح : تشریح طلب اقتباس میں مضمون کا آغاز کرتے ہوئے میاں بشیر احمد نے پاکستان کی تشکیل کے پس منظر کو بیان کیا ہے۔مصنف کے مطابق 1707 میں اورنگ زیب عالمگیر کی وفات دراصل برصغیر میں مسلمانوں کے زوال کا نقطہ آغاز تھا اورنگزیب عالمگیر چھٹا اہم مغل حکمران تھا جونہایت راسخ العقیدہ مسلمان تھا اس نے پچاس سال تک ہندوستان پر حکومت کی اوراپنی زندگی میں ہر اہم فیصلہ خود کیا۔ یہی وجہ ہے کہ جب تک وہ زندہ رہا ہندوستان پر مسلمانوں کی گرفت مضبوط رہی لیکن جیسے ہی اس نے آنکھیں بند کیں ہندوستان پر مغلیہ حکومت کی گرفت کمزور ہوتی گئی اور ایسٹ انڈیا کمپنی کی شکل میں موجود انگریز مضبوط تر ہوتے گئے ۔ملک میں انتشار بڑھنے لگا۔سیاسی سازشیں شروع ہو گئیں اور اورنگزیب کی وفات (۱۷۰۷) کے بعد مغلیہ دربار مسخروں اور بھانڈوں کا اکٹھ بن گیا چنانچہ مغلیہ حکومت زوال کا شکار ہوتی چلی گئی۔قرآن میں ارشاد ہے:
وَتِلْكَ الْاَيَّامُ نُدَاوِلُھَا بَيْنَ النَّاسِ ۚ
ترجمہ: اور یہ دن ہیں کہ ہم ان کو لوگوں میں بدلتے رہتے ہیں۔
اوربل والٹن کا قول ہے:
”تمھارے اعمال ہی تمھاری بربادی کا باعث ہیں“۔
مغل حکمرانوں کی کمزور حکمرانی کا فائدہ اُٹھاکر انگریز تاجروں کے روپ میں ہندوستان میں داخل ہوئے اور ہندوستانی علاقوں پر اپنی حکومت قائم کرنے لگے یوں انگریزوں نے بتدریج ہندوستان پر قبضہ کیا۔ ایک وقت تک مغلیہ حکومت کو جاری رکھنا انگریزوں کی پالیسی تھی تاکہ عوامی ردعمل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ جب انگریزوں نے حکومت پر گرفت مضبوط کرلی تو وہ اسلام مخالف ہتھکنڈوں پر اُتر آئے۔ ایسے کڑے وقت میں چند مذہبی رہنماؤں نے مذہبی زوال کو روکنے کی کوششیں کیں جن میں شاہ ولی اللہ ؒ کا نام سرفہرست ہے۔ آپ ایک عظیم مجدد اور مفکر اسلام تھے۔ آپ نے اسلامی علوم پر بیسیوں کتابیں لکھیں۔ ان کے بعد ان کے برخوردار شاہ عبدالعزیز ؒنے اپنے والد کی تعلیمات کو آگے بڑھانے کا سلسلہ جاری رکھا اور مسلمانوں کے سیاسی زوال کے زمانے میں مذہبی زوال کو ناپید کرنے کی کوشش کی۔
دولت کی تمنا ہے نہ انعام کا لالچ
بس کام کیے جاتے ہیں اخلاص و وفا سے
شاہ عبدالعزیزؒ جیسے عظیم علما اسلام نے ہندوستان کے مسلمانوں میں مذہب کی دوری ختم کرنے کی کوشش کی۔ اُن کی کوششیں رنگ لائیں اور لوگوں میں صحیح اسلامی تعلیمیات رواج پانے لگیں۔
اسی دور میں انگریزوں کی سرپرستی میں ہندوؤں نے بھی خوب سراُٹھایا۔ ہندوستان میں رام راج کے لیے عملی کوششیں شروع کردیں۔ ہندوؤں نے رسومات اور روایات کی خوب ترویج کی۔ مسلمانوں کا رہن سہن، رسم و رواج ہندوؤں جیسا دکھائی دینے لگا یوں مسلمان، ہندو ثقافت میں رنگتے گئے یوں کچھ عرصہ کے بعد ہندوؤں اور مسلمانوں کی رسومات میں واضح فرق نہ رہا۔
عبارت نمبر2:
سیاسی تنزل اور معاشرتی تخریب کے اس نازک وقت میں ایک پُر خلوص مصلح سید احمد بریلویؒ پیدا ہوئے جنھوں نے1816ء سے 1831ء تک پندرہ سال مسلمانوں کی مذہبی و معاشرتی خرابیوں کو دور کرنے کی پوری کوشش کی۔ اسی سلسلے میں مذہبی آزادی کے حصول کےلیے انھوں نے 1826ءمیں سکھوں کے خلاف مذہبی جہاد کی مہم بھی شرع کی جس کے آخر میں سات ہزار مجاہدین نے پشاور کے قریب میدان جنگ میں نمایاں کامیابی حاصل کی۔ (صفحہ6(
تشریح: زیر نظر مضمون 1966ءمیں رسالہ ”قومی زبان“ میں بعنوان ”اِسلامی ہند میں بیداری اور تشکیل پاکستان “چھپا تھا۔زیر بحث اقتباس میں مضمون کا آغاز کرتے ہوئے میاں بشیر احمد نے پاکستان کی تشکیل کے پس منظر کو بیان کیا ہے۔ مصنف لکھتے ہیں کہ انیسویں صدی کے شروع میں مسلمانوں سیاسی اور مذہبی تنزلی کا شکار ہو رہے تھے۔ ایک طرف برصغیر میں انگریز اپنے قدم جما رہے تھے تو دوسری طرف پنجاب میں سکھ زور پکڑ رہے تھے۔ مسلمانوں کا یہ زوال صرف سیاسی ہی نہیں بلکہ مذہبی اور معاشرتی لحاظ سے بھی تھا،مسلمانوں کی مذہبی آزادی ختم ہو کر رہ گئی تھی۔ اس پر فتن دور میں ملک میں ہند وؤں کی اکثریت ہونے کے سبب مسلمانوں میں بھی ہندی رسومات نجی زندگی میں نظر آنے لگیں۔ بل والٹن نے کہا تھا۔
’’تمھارے اعمال ہی تمھاری بربادی کا باعث ہیں۔‘‘
شاہ ولی اللہؒ اور شاہ عبدالعزیزؓ نے عوام کی گری ہوئی مذہبی اور معاشرتی حالت کی بہتری کےلیے کوششیں کیں۔ چنانچہ اسی زمانے میں حضرت سید احمد بریلویؒ کی پیدائش ہوئی اور اس طرح تحریک آزادی کا ایک نیا باب شروع ہوا۔ آپ کے دور میں بھی برصغیر کے مسلمان اپنے سیاسی زوال کے ایک نازک دور سے گزر رہے تھے۔ بد قسمتی سے ہندو مت اور بدھ مت کے زیر اثران میں بہت سی غیر اسلامی رسوم و بد عات رائج ہو چکی تھیں۔ چنانچہ سید احمد شہید بریلوی نے شاہ ولی اللہ اور شاہ عبدالعزیز کے چھوڑے ہوئے کام کو آگے بڑھاتے ہوئے مسلمانوں میں تبلیغ کا کام شروع کیا۔ آپ تحریک مجاہدین کے بانی تھے۔ شاہ ولی اللہؒ کے پوتے حضرت شاہ اسماعیل شہیدؒ بھی آپ کے مصاحب خاص تھے۔ سید احمد شہیدؒ نے 1816ءسے1831 ءتک پندرہ سال مسلمانوں میں مذہبی اور معاشرتی خرابیوں کو دور کرنے کی کوشش کی۔ اپنے تبلیغی دوروں کے دوران میں آپ کو پنجاب کے مختلف حصوں میں بھی جانا پڑا۔ پنجاب میں اس وقت سکھ راجہ رنجیت سنگھ کی حکومت تھی۔ آپ کو پنجاب کے مسلمانوں پر سکھوں کے ظلم و ستم کی داستانیں سن کے بے حد افسوس ہوا۔
آپ نے مسلمانوں کی سیاسی تنزلی اور مذہب سے دوری کے پیش نظر 1826ءمیں مذہبی جہاد کا آغاز کیا۔ اس تحریک کا مقصد پنجاب کے مسلمانوں کی مذہبی آزادی اور انہیں سکھوں کے مظالم سے چھٹکارا دلانا تھا۔ اس مقصد کےلیے سید احمد شہید بریلوی نے سات ہزار مجاہدین کا لشکر تیار کیا۔ آپ نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ اپنی سر گرمیوں کا مرکز صوبہ سرحد کو بنایا۔ چنانچہ ابتداءمیں سات ہزار مجاہدین اسلام نے رنجیت سنگھ کے بھیجے ہوئے ایک لشکر کو پشاور کے قریب شکست دے کر نمایاں کامیابی حاصل کی اور 1930میں پشاور پر قبضہ کر کے وہاں مختلف قبائل کی اصلاح کے قوانین نافذ کیے اور خلافت راشدہ کی طرز پر صحیح اِسلامی حکومت قائم کر دی ۔
عبارت نمبر3: (آزاد کشمیربورڈ2008ء)
1857ء میں مسلمانوں کی رہی سہی عزت بھی خاک میں مل گئی۔ انگریزی حکومت سو سال سے ان کی ذلت کے درپے تھی۔ بتدریج مسلمانوں کی زمینیں اور عہدے چھین لیے گئے، اسلامی تعلیم کے ذرائع ختم کر دیے گئے اور 1837ء میں فارسی زبان عدالتوں سے خارج کر دی گئی۔ 1857ء کے بعد ان پر عتاب اور دباؤبڑھتا گیا۔ اس طرح مسلمان پسپا بھی ہوئے اور ان مظالم سے متاثر ہو کر نئی حکومت اور اس کے اداروں سے بیزار بھی ہوتے گئے۔ (صفحہ6)
تشریح: زیر نظر مضمون 1966ءمیں رسالہ ”قومی زبان“ میں بعنوان ”اِسلامی ہند میں بیداری اور تشکیل پاکستان “چھپا تھا۔زیر بحث اقتباس میں مضمون کا آغاز کرتے ہوئے میاں بشیر احمد نے پاکستان کی تشکیل کے پس منظر کو بیان کیا ہے۔ مصنف لکھتے ہیں کہ انیسویں صدی کے شروع میں جب 1803ءمیں انگریزوں نے دہلی میں قدم رکھا تو یہ زوال اپنی تکمیل کو پہنچ گیا۔۱۸۵۷ ءمیں جنگ آزادی ہوئی اور برصغیر پر پوری طرح انگریزوں کا غلبہ ہو گیا۔ جنگ آزادی کو انگریزوں نے اسے غدر کا نام دیا۔
جب انگریز برصغیر میں آئے تو اس وقت حکمران مسلمان تھے۔ یہ تاریخی حقیقت ہے کہ انگریز اس ملک میں تجارت کی غرض سے آئے تھے لیکن مغلیہ سلطنت کو تیزی سے زوال کی طرف جاتے ہوئے دیکھ کر انہوں نے مختلف ریاستوں پر ناجائز قبضے جمانا شروع کردیے۔ یوں 1803ء میں انگریز دہلی میں داخل ہوئے۔ انگریز بھارت پر تسلط جمانے کے لیے ہر قسم کی چالاکی، مکاری ،دھاندلی اور دھونس جیسے ہتھکنڈوں سے کام لیا۔ ہندوؤں نے وقت کے تقاضے کو مدنظر رکھتے ہوئے انگریزوں کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ پر ان سے مفاہمت کر لی۔
انگریزوں نے برصغیر کی حکومت بتدریج مسلمانوں سے چھینی تھی،اس لیے انگریزوں کو کہیں کہیں مسلمانوں کی طرف سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اب وہ قدرتی طور پر مسلمانوں کی وفا داری کو شک و شبہ کی نظر سے دیکھتے تھے۔ دوسری بڑی وجہ انگریزوں کا مذہبی تعصب پرستی تھا۔ جوں ہی انگریز برصغیر پر مکمل طور پر قابض ہوئے تو انھوں نے مسلمانوں کو اپنی انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا۔ مسلمانوں سے دشمنوں جیسا سلوک کرنا شروع کر دیا۔ انھوں نے مسلمانوں کو مذہب سے دور کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ اسلامی تعلیم کے حصول کے ذرائع مثلاً دینی مدارس اور مسجد سکول جہاں دینی تعلیم دی جاتی تھی ، ختم کر دیے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مسلمان مذہب سے دور ہونے لگے۔ انگریزوں نے ایک خاص حکمت عملی کے تحت مسلمانوں سے اُن کی زمینیں اور جائیدادیں چھین لیں‘ انہیں ایسے تمام عہدوں سے ہٹا دیا گیا جو ان کے آباؤ اجداد کے وقتوں سے ان کے پاس چلے آرہے تھے۔ انگریزوں کی اس پالیسی سے ہزاروں مسلمان بےروزگار ہوگئے۔ یہاں تک کہ فارسی زبان جو مغلیہ دور کے آغاز سے ہی سرکاری دفاتر اور عدالتوں کی زبان تھی، 1837ءمیں ختم کر دی گئی۔ اس کے بدل میں انگریزی اور مقامی زبانوں کو اس کی جگہ دے دی گئی ۔ مغلیہ دور حکومت سے جن مسلمانوں کے پاس فوج، عدلیہ اور خزانے کے محکموں میں اعلیٰ عہدے تھے اور جن کی وجہ سے وہ اقتصادی ، ثقافتی اور سماجی ترقی وا ستحکام کے راستے پر گامزن تھے وہ سب چھین لیے گئے۔ 1857ء کی جنگ آزادی کے بعد مسلمان تباہ حال زندگی گزارنے پر مجبور ہوگئے۔ ان حالات میں مسلمان معاشی، ثقافتی لحاظ سے بھی خستہ حال ہوگئے۔
ہندوہمیشہ سے مطلب پرست، مفاد پرست اور مکار رہے ہیں ۔ ان کے ہاں سیاست نام ہی فریب کاری کا ہے۔ 1857ء کی جنگ آزادی میں ہندو مسلمانوں کے شانہ بشانہ تھے۔ جنگ میں شکست کے بعد ہندو بڑی چالاکی سے سارا الزام مسلمانوں کے سر پر ڈال کر جنگ میں اپنی شرکت کے بارے میں انگریزوں کو مطمئن کر چکے تھے ۔ یوں ہندو جبلی مفاد پرستی کے تحت کٹھن حالات میں مسلمانوں کو چھوڑ گئے۔مسلمان انگریزوں کے دباؤ اور ہندوؤں کی بے رخی اور بے وفائی کے باعث نہ صرف اپنے مستقبل سے مایوس ہو گئے بلکہ انگریزوں کے نت نئے مظالم کے باعث وہ انگریزوں اور ان کے قائم کر دہ مختلف اداروں سے بھی بیزاری کا اظہار کرنے لگے۔ ایسےحالات میں کوئی بھی انگریزوں کا قائم کردہ ادارہ مسلمانوں کے لیے عدل و انصاف کے تقاضے پورے نہیں کررہا تھا۔
اچھا ہے اہل جور کیے جائیں سختیاں
پھیلے گی یوں ہی شورشِ حب وطن تمام
عبارت نمبر4: (راولپنڈی بورڈ2008-10ء)
سر سید نے قدامت پسند مسلمانوں کو نئے زمانے کی ضروریات سے آگاہ کیا اور ہزار دقتوں سے ان کو نئے علوم کے حصول اور نئی حکومت سے تعاون پر آمادہ کیا۔ اپنی مذہبی تصانیف اور رسالہ ”تہذیبُ الاخلاق“ کے اجرا سے انھوں نے ثابت کر دکھایا کہ اِسلام عقل کے اصولوں پر مبنی ہے۔ ان کی تعلیمی مساعی 1877ءمیں تکمیل کو پہنچیں جب علی گڑھ کالج کا افتتاح ہوا جو کم از کم تیس برس تک مسلمانان ہند کا واحد قومی مرکز بنا رہا۔(صفحہ7(
تشریح: زیر نظر مضمون 1966ءمیں رسالہ ”قومی زبان“ میں بعنوان ”اِسلامی ہند میں بیداری اور تشکیل پاکستان “چھپا تھا۔زیر بحث اقتباس میں مضمون کا آغاز کرتے ہوئے میاں بشیر احمد نے پاکستان کی تشکیل کے پس منظر کو بیان کیا ہے۔ مصنف لکھتے ہیں کہ ۱۸۵۷ء میں ہونے والی جنگ آزادی کے بعد انگریزوں کو برصغیر پر غلبہ حاصل ہو گیا تو انھوں نے مسلمانوں کو حد سے زیادہ عتاب کا نشانہ بنایا۔ چوں کہ جب انگریز برصغیر میں آئے تو اس وقت حکمران مسلمان تھے اس لیے انگریزوں کو ہمیشہ مسلمانوں کی طرف سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ دوسری بڑی وجہ مذہبی تعصب پرستی بھی تھا۔ جس نے انگریزوں کو مسلمانوں کے خلاف کر دیا۔جوں ہی انگریز برصغیر پر مکمل طور پر قابض ہوئے تو انھوں نے مسلمانوں کو اپنی انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا۔ تمام بڑے عہدوں سے انھیں ہٹا دیا گیا ۔مسلمان امراءکی تمام جاگیریں اور جائیدادیں ضبط کر لی گئیں۔ مسلمانوں پر تجارتی پابندی لگادی گئی۔ مسلمانوں کی صنعتیں بند کردی گئیں۔ اسی طرح اعلیٰ ملازمتوں کے دروازے بند کر دیے گئے۔ غرض مسلمان سیاسی اور اقتصادی طور پر بر ی طرح تباہی کا شکار ہوگئے۔
تشریح طلب عبارت میں سر سید احمد خان کی ان کو ششوں کا ذکر کیا گیا ہے جوہر لحاظ سے زوال کا شکار مسلمان قو م کی بہتری اور بھلائی کےلیے انہوں سر انجام دیں ۔ سر سید احمد خان نے بصیرت اور دوراندیشی سے کام لیتے ہوئے مسلمانوں کو نئے زمانے کی ضرورتوں اور تقاضوں سے روشناس کرایا۔ سر سید احمد خاں مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی کے بارے میں خاص طور پر متفکر تھے۔ تعلیم کے میدان میں مسلمانوں کے پیچھے رہ جانے کا اگر ایک سبب انگریز سر کار کی مسلم کش پالیسیاں تھیں تو دوسری طرف خود مسلمان بھی اس پسماندگی کے ذمے دار تھے۔ اسی لیے اقبالؒ نے کہا تھا:
آئین نو سے ڈرنا طرز کہن پہ اڑنا
منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں
مسلمان علماءنے انگریزی تعلیم کے حصول کو کفر قرار دے دیا جس کا نتیجہ یہ نکلا تعلیم کے میدان میں مسلمان دیگر اقوام کی بہ نسبت تعلیمی میدان میں پسماندہ رہ گئے۔ سر سید احمد خان نے پرانے رسم و رواج کو پسند کرنے والے مسلمانوں کو جدید تعلیم کی اہمیت باور کرائی۔ سر سید احمد خاں نے پرانے زمانے اور پرانے خیالات کے مالک مسلمانوں کو نئے زمانے کی ضروریات سے آگاہ کیا۔ سر سید نے ان پر واضح کیا کہ انگریزی تعلیم کا حصول وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انگریزی تعلیم کے حصول کے بغیر مسلمان باقی اقوام کی زندگی کے کسی بھی میدان میں برابری نہیں کرسکتے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ انہیں اپنی مذہبی اور اسلامی روایات کو بھی کسی طرح نہیں چھوڑنا چاہیے۔
سرسید احمد خان نے اس عملی کوشش کے ساتھ ساتھ حکومت سے تعاون پرآمادہ کیا کہ یہ وقت اور حالات کا تقاضا ہے اور اسی میں نجات ہے۔ سرسید نے ”خطبات احمدیہ“، قرآن پاک کی تفسیر اور بعض دوسرے مذہبی رسائل لکھ کر مسلمانوں اور عیسائیوں دونوں پر واضح کیا کہ اسلام عقل کے اصولوں پر مبنی مذہب ہے۔ 1870 ءمیں انگلستان سے واپس آکر سر سید نے ”تہذیب الاخلاق“ نامی ایک رسالہ جاری کیا۔جس میں عموماً ملی،اخلاقی، معاشرتی اور اصلاحی مضامین تحریر کیے۔ اپنے مضامین کے ذریعے مسلمان کے دلوں میں پیدا ہونے والی نفرت کو کم کرنے کی جدوجہد کی۔ چنانچہ سر سید احمد خان نے اپنی سیاسی بصیرت اور دوراندیشی سے پرانے خیالات رکھنے والے مسلمانوں کو انگریزوں سے تعاون اور مفاہمت پر راضی کر لیا۔
سر سید احمد نے جدید تعلیم کے حصول پر بھر پور زور دیا اس سلسلے میں انھوں نے 1859ء مراد آباد میں اور 1863ء میں غازی پور میں مدرسہ قائم کیا۔ اس کے بعد علی گڑھ میں 1875ء میں سکول قائم کیا۔ اُن کی یہ کوششیں اُس وقت تکمیل کو پہنچی جب اس کا لج کے قیام میں نا صرف مسلمانوں، ہندوؤں بلکہ انگریزی کی مدد بھی حاصل تھی۔ یہ کالج کم وبیش تیس سال تک مسلمانوں کی جدید تعلیمی ضروریات پوری کرتا رہا۔بعد میں یہ کالج ، یونیورسٹی کا درجہ اختیار کر گیا۔ اس یونیورسٹی کے فارغ التحصیل طلبہ نے تحریک پاکستان میں بڑا اہم کر دار ادا کیا۔
عبارت نمبر5
سر سید کے بعد اُن کے رفقا نے ان کا شاندار کام جاری رکھا۔ محسن الملک ، وقار الملک، حالی، نذیر احمد، ذکا ءاللہ ، شبلی وغیرہ نے تعلیمی، سیاسی اور ادبی خدمات سرانجام دیں ۔محسن الملک نے علی گڑھ کالج کو ترقی دی۔ وقار الملک ایک سیاسی جماعت کی تشکیل میں معاون ہوئے۔ حالیؔ کی مسدس نے ہندوستانی مسلمانوں کی زندگی میں انقلاب کی لہر دوڑادی۔ شبلیؒ نے اِسلامی تاریخ کے آئینے میں انھیں اپنی گذشتہ عظمت دکھا کر ان کے دلوں کو گرما دیا۔ امیر علی نے اپنی انگریزی تصانیف سے مغربی حلقوں میں اِسلام کی وقعت پیدا کی۔
تشریح: زیر نظر مضمون 1966ءمیں رسالہ ”قومی زبان“ میں بعنوان ”اِسلامی ہند میں بیداری اور تشکیل پاکستان “چھپا تھا۔ اس مضمون میں میاں بشیر احمد نے پاکستان کی تشکیل کے پس منظر کو بیان کیا ہے۔ زیر تشریح عبارت میں مصنف نے سرسید اور ان کے رفقا کے کارناموں کو بیان کیا ہے۔ 1857ء کی جنگ آزادی کے بعد برصغیر میں مسلمانوں کے اقتدار کا مکمل خاتمہ ہو گیا۔ ہندوؤں اور انگریزوں کی ملی بھگت سے مسلمان اقتصادی، سماجی اور ثقافتی لحاظ سے زوال کا شکار ہوگئے۔ ایسے حالات میں سر سید نے قوم کو سنبھالا دیا اور انھیں نئے زمانے کی ضروریات سے آگاہ کیا۔ وہ سمجھ گئے تھے کہ مسلمان جب تک تعلیمی لحاظ سے ترقی یافتہ نہیں ہو جاتے تب تک ان کا کامیاب ہونا ناممکن ہے۔ اسی مقصد کے پیش نظر بہت سے تعلیمی ادارے قائم کیے۔ سر سید احمد خان کی خوش بختی تھی کہ انھیں بہت اچھے دوست ملے۔ ان سب نے مل کر ایک جماعت کے طور پر حصول مقصد کے لیے کام کیا۔ کسی دانا کا قول ہے:
”جب تک دو چراغ روشن نہ ہوں ایک چراغ کے نیچے اندھیرا رہے گا۔“
1898ء میں جب سرسید کا انتقال ہوا تو اُس کے دوستوں اور ساتھیوں نے ان کی چلائی ہوئی تعلیمی، سیاسی اور ادبی تحریکوں کو جاری رکھا۔ خوش قسمتی سے سر سید کے تمام ساتھی نہ صرف سرسید بلکہ ان کے مقاصد کے ساتھ اس قدر مخلص تھے کہ اُن کی وفات کے بعد بھی اُسی طرح سرگرم رہے ہر میدانِ زندگی میں شاندار کارنامے سر انجام دیے۔
سر سید کے ان رفقا میں محسن الملک، وقار الملک، حالی، نذیر، ذکا ءاللہ اور شبلی وغیرہ شامل تھے۔نواب محسن الملک علی گڑھ کالج کے ٹرسٹی بورڈ کے ممبر تھے۔ اس سلسلے میں انھوں نے بہت سی خدمات سر انجام دیں۔ علی گڑھ کے لیے چندہ اکٹھا کرنے کے لیے جگہ جگہ تقریریں کیں اور اس کو جاری رکھنے کے لیے بے حد کو ششیں کیں۔ اُنہوں نے آٹھ نو سال میں نہ صرف کالج کی آمدنی کو بڑھایا بلکہ سات آٹھ لاکھ روپیہ چندہ جمع کر کے کالج کو مزید ترقی دی۔
نواب وقارالملک نے سرسید کے دو قومی نظریے کو آگے بڑھایا اور یوں 1906ء میں ڈھاکہ میں آل انڈیا مسلم لیگ کے نام سے برصغیر کے مسلمانوں کی ایک علیحدہ سیاسی جماعت بنانے میں کامیاب ہوئے۔ یوں مسلمانوں کو ایک سیاسی پلیٹ فارم نصیب ہوا یہی جماعت پاکستان بنانے میں کامیاب ہوئی۔
مولانا الطاف حسین حالی بہت اچھے شاعر اور نثر نگار تھے۔ آپ سرسید کے رفیق خاص تھے۔ آپ نے سرسید کے کہنے پر معروف نظم ”مدوجزراسلام“ ہے۔ اس نظم میں مسلمانوں کے عروج وزوال کی تمام داستان بڑے دل کش انداز میں پیش کی گئی ہے۔ چنانچہ اس نظم سے برصغیر کے مسلمانوں کی زندگی میں انقلاب کی ایک لہر دوڑ گئی۔ حالی کی مسدس کو سر سید نے خراج تحسین یوں پیش کیا۔
”روزِ آخرت جب خدا پوچھے گا کہ کیا لائے ہو تو میں کہوں گا کہ حالیؔ سے مسدس لکھوالا یاہوں۔“
ڈپٹی نذیر احمد نے نا صرف مسلمانوں کی تعلیمی حالت بہتر بنانے کے لیے عملی طور پر حصہ لیا بلکہ مسلم خواتین کی اصلاح کے لیے اصلاحی کئی ایک ناول اور قصے کہانیاں لکھیں۔
اسی طرح مولانا شبلی نعمانی جن کا شمار اردو ادب کے معروف مؤرخوں میں ہوتا ہے۔ اپنی تالیفات سے مسلمانوں کو اسلامی تاریخ سے روشناس کرایا۔ ان کی اہم تصانیف میں ”الفاروق“ ”الغزالی“ ”المامون“ اور ”سیرت النبیA “ شامل ہیں ۔انھوں نے اپنی تالیفات کے ذریعے مسلمانوں کو ان کی درخشاں تاریخ کی جھلک دکھائی۔ اُن کی خواہش تھی کہ مسلمانوں میں پھر سے وہی جوش و جذبہ پیدا ہو جو ان کے اسلاف میں موجود تھا۔
سید امیر علی بھی سرسید کے رفقاء میں سے تھے۔ آپ ایک معروف قانون دان تھے۔ اُنہوں نے انگریزی زبان میں اسلام پر کتب لکھیں ان کی مشہور کتاب”The Spirit of Islam”ہے۔ اس کتاب کے ذریعے انھوں نے مغربی حلقوں میں اسلام کی اہمیت اجاگر کی اور ثابت کر دیا کہ اسلام عقل کے اصولوں پر مبنی دین ہے۔
غرض یہ کہ سر سید کے رفقا نے ان کے کام کو اسی جذبے سے آگے بڑھایا جس جذبے سے سر سید نے اس کام کاآغاز کیا تھا۔ ہر ایک نے سرسید کے نظریے کو اپنا نصب العین بنایا اور اس کی تکمیل کے لیے سردھڑ کی بازی لگا دی۔ یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ سرسید کے ساتھیوں نے نا صرف سیاسی، سماجی اور معاشی خدمات سرانجام دیں بلکہ اُن کی کوششوں سے مغرب میں دینِ اسلام کو بھی بہتر انداز میں متعارف کرایا گیا۔
عبارت نمبر6: (لاہور بورڈ2011ء)
علی گڑھ تحریک کی وجہ سے قوم میں کئی اور تحریکات شروع ہو گئیں۔ اختلافات ضرور رونما ہوئے لیکن ایک حد تک یہ نئی زندگی کا نشان تھے۔ سر سید‘ امیر علی اور دیگر بزرگوں نے اسلام کو مغربی علوم سے اس طرح جا ملایا تھا کہ اسے ایک ترقی یافتہ مذہب ثابت کیا لیکن اس جدید علم الکلا م کے رد عمل کے طور پر بعض اور مذہبی مساعی بروئے کار آئیں ۔ شبلی نے لکھنومیں ندوة العلماءقائم کیا۔دیو بند علما نے قدیم طرز کی درس گاہ بنا کر ملک میں قدیم اسلامی علوم کے چراغ روشن کیے۔ (صفحہ8)
تشریح: زیر نظر مضمون 1966ءمیں رسالہ ”قومی زبان“ میں بعنوان ”اِسلامی ہند میں بیداری اور تشکیل پاکستان “چھپا تھا۔ اس مضمون میں میاں بشیر احمد نے پاکستان کی تشکیل کے پس منظر کو بیان کیا ہے۔ تشریح طلب اقتباس میں میاں بشیر احمد لکھتے ہیں کہ برصغیر میں تحریک علی گڑھ سے متاثر ہوکر کئی ایک مسلم رہنماؤں نے ہندوستان کے مسلمانوں کی حالت بدلنے کے لیے کئی ایک تحریکیں شروع کردیں۔ ان تحریکوں نے ہندوستان کے مسلمانوں پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ علی گڑھ تحریک کا مقصد برصغیرکے مسلمانوں کو سیاسی، علمی اور معاشرتی مقام دوبارہ دلانا تھا۔ اس مقصد کے لیے سرسید نے برصغیر کے گردوپیش سے اعلیٰ ذہانت کے مالک لوگوں کو اکٹھے کیا۔ برصغیر کے مسلمانوں کو زندگی کے مختلف شعبوں میں باوقار مقام دلانے کے لیے سر سید احمد خاں اور ان کے رفقائے کار نے جو تحریک شروع کی وہ ایک ہمہ جہت تحریک تھی جس کے تعلیمی ، تمدنی ، معاشی اور سیاسی ہر طرح کے مقاصد تھے۔ اسی طرح سماجی اور مذہبی پہلو پر سر سید اور ان کے رفقاءنے بہت کام کیا۔
چناں چہ سر سید کی تحریک کے رد عمل میں کئی ایک تحریکیں رونما ہوئیں۔ سر سید احمد خاں اور امیر علی جیسے دوسرے بزرگوں نے اسلام کو ایک ترقی یافتہ مذہب ثابت کرنے کےلیے بہت کچھ لکھا۔ اپنی تصانیف میں ان بزرگوں نے مذہب اسلام کو عقلی دلیلوں سے واضح کرنے کے لیے بھرپور کوشش کی۔ اس سلسلے میں سرسید تو حد سے بھی گزر گئے۔ اُنھوں نے علم الکلام سے کام لیتے ہوئے مذہب کی کئی ایسی چیزوں سے انکار کیا جو مسلمہ طور پر مانی جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر سرسیدنے ابلیس کے وجود اور فرشتوں کے خارجی وجود سے انکار کیا ہے۔ قیامت کے روزحساب کتاب اور جنت اور دوزخ کے تصور کو بھی محض استعارے قرار دیا ہے۔ چنانچہ ان عقائد کے ردعمل کے طور پر بعض تحریکوں کی بنیاد پڑی۔ مولانا شبلی نے سر سید احمد خاں سے الگ ہو کر 1894ءمیں لکھنو میں ندوة العلماءکے نام سے ایک تعلیمی ادارہ بنایا۔
یہ تحریکیں دراصل سر سید کی مغربی تہذیب سے بےجا مرعوبیت اور قرآن وحدیث کے احکامات کی غلط تعبیرات کرنے کی وجہ سے وجود میں آئیں۔ انھی میں سے ایک ندوۃ العلماء بھی ہے اس تحریک کے بانی شبلی نعمانی تھے۔ شبلی سرسید کے قریبی ساتھی تھے لیکن بعد میں چند فکری اختلافات کی بناء پر علیٰحدگی اختیار کرلی اور ندوۃ العلماء کی بنیاد ڈالی اسی طرح علی گڑھ تحریک کی مغربیت پرستی کے خلاف ایک بڑی تحریک سامنے آئی جسے دیوبند کہا جاتا ہے۔ یہ ایک قدیم طرز کی درس گاہ تھی جس میں قدیم اسلامی علوم کی تعلیم دی جاتی تھی۔ اس کا مقصد مسلمانوں کی روحانی اصلاح، قدیم علمی ورثہ جس کا تعلق قرونِ اولیٰ کے مسلمانوں سے تھا کی حفاظت اور اشاعت ، عیسائی مشنریوں کا مقابلہ، مغربی تہذیب ومعاشرت کی مخالفت اور بدعات کو مذہب سے خارج کرنا تھا۔
اس ادارے نے اسلامی مدارس کا نصاب زمانے کی ضروریات کے مطابق مرتب کرنے کی طرف توجہ دی۔ علماءکے اختلافی مسائل کو ختم کیا اور ایک عظیم الشان اسلامی دارالعلوم قائم کیا جس میں مختلف علوم و فنون کے علاوہ عملی صنعتوں کی تعلیم بھی ہوتی تھی۔
مصنف آخر میں لکھتے ہیں کہ مسلم اکابرین کی یہ کوششیں رنگ لے آئیں۔ تحریک علی گڑھ سے قبل مسلمانانِ ہند جو مذہب سے دور ہوگئے تھے وہ مذہب کے قریب ہوگئے۔ ہندوستان کے مسلمان جو مغربی تعلیم و ترقی کی وجہ سے جو انگریزوں سے مرعوب ہوگئے تھے اس میں واضح کمی آئی۔ ندوة العلما اور دیوبند کے علما نے عوام کو یہ واضح پیغام دیا کہ محض دنیاوی ترقی کے لیے مذہبی عقائد اور آخرت کو قربان کرنا نادانی ہے۔
عبارت نمبر7
اقبال ؒ نے آکر اِسلامی ومغربی علوم کے غائر مطالعے کے بعد اپنا خاص اسلامی فلسفہ قوم کے سامنے پیش کیا، جس کا مقصد کامل ترین انسان کی انفرادی واجتماعی نشوونماہے۔ اقبالؒ کا خیال ہے کہ انسان اطاعت ، ضبطِ نفس اور نیابت الہٰی کی تین منزلیں طے کرتا ہوا خودی کی انتہائی بلندی پر پہنچ سکتا ہے۔ اس ارتقا میں اسے مذہب کی رہنمائی درکار ہے۔(صفحہ8)
تشریح: اس سبق میں مصنف نے پاکستان کی تشکیل کے مختلف مراحل بیان کرتے ہوئے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ یہ ملک درحقیقت ہندوستان میں مسلمانوں کی ایک طویل ترین جدوجہد کا نتیجہ ہے یہ مضمون۱۹۴۷ءمیں پہلی بار رسالہ ”قومی زبان“ میں بعنوان ”اسلامی ہند میں بیداری اور تشکیل پاکستان “ شائع ہوا تھا۔ جہاں تک میاں بشیر احمد کا تعلق ہے انھوں نے تاریخ ، ادب اور سیاست کے شعبوں میں اپنی گراں قدرخدمات انجام دی تھیں۔ اُن کی مشہور نظم ”ملت کاپاسباں ہے محمد علی جناح “ مسلم لیگ کے اُس اجلاس میں پڑھی گئی جس میں قرار دادِ پاکستان کو منظور کیا گیا تھا۔ اس مضمون میں مصنف نے اورنگ زیب عالمگیر سے اپنی گفتگو کا آغاز کرکے اُسے بالآخر پاکستان کی تخلیق پرختم کیا ہے۔ انھوں نے ۱۸۵۷ءکی جنگِ آزادی کو پاکستان کا نقطءآغاز بناتے ہوئے سر سید اور اُن کے رفقا اور دیگر سیاسی اور دینی اکابرین کا ذکر کرتے ہوئے اپنی گفتگو کو اقبال ؒاور اُن کی افکار سے جاملایا ہے۔
زیرِ بحث اقتباس میں انھوں نے علامہ اقبال کی فکر کے متعلق اظہار خیال کیا ہے ۔ اُن کے نزدیک تشکیل پاکستان میں جہاں دیگر رہنماؤں نے اپنا کردار ادا کیا وہاں اقبال ؒنے اپنے افکار اور شاعری کے ذریعے اُس تحریک کو مزید تقویت دی۔اقبال کے افکار میں جو چیز سب سے زیادہ اہم ہے وہ اُن کا تصور خودی ہے۔ اقبالؒ کے فلسفہ خودی کا بنیادی ڈھانچہ فرمانِ مصطفیٰﷺ پر استوار ہے کہ
من عرف نفسہ فقد عرف ربہ
ترجمہ: جس نے اپنے نفس کو پہچانا تو بے شک اُس نے اپنے رب کو پہچان لیا۔
خودی کی تعمیر اور اُس کے حصول کے لیے انھوں نے بنیادی طور پر تین باتوں کا بالخصوص ذکر کیا ہے جن میں اطاعت ،ضبطِ نفس اور نیابت الہی شامل ہیں۔ اطاعت سے مراد اقبال کے نزدیک اللہ تعالیٰ کے احکامات کی پیروی ہے یعنی ایک مرد مسلمان کے لیے جو بات سب سے زیادہ ضروری ہے وہ رب کی رضا ہے۔ گویا مرد مومن اُس بات میں خوش ہے جس میں اُس کا رب خوش ہے اس کے بعد ضبطِ نفس کا مرحلہ آتا ہے۔ قرآن کریم نے نفس کی تین قسمیں نفس امارہ،نفسِ لوامہ،نفس مطمئنہ بیان کی ہیں۔
انسان کو زندگی میں بے شمار خواہشات اور آرزوؤں سے واسطہ پڑتا ہے اور وہ انسان جو محض خواہشات کا اسیر ہوکر رہ جاتا ہے وہ اپنے رب کے احکامات کی پیروی نہیں کر سکتا ۔لہٰذا اُسے اگر رشد وہدایت کا راستہ اپنانا ہے تو اسے اپنی خواہشات کو قابو میں کرنا ہوگا۔ چنانچہ جب وہ اپنی آرزوؤں کا اسیر نہیں رہتا اور ہواوہوس پر کسی حد تک قابو پالیتا ہے تو اُس کا نفس نفس امارہ سے نفس لوامہ میں بد ل جاتا ہے۔ جس وقت انسان مکمل طور پر اپنے نفس کو قابو میں کرے تو وہ نفسِ مطمئنہ کو پالیتا ہے۔ مختصر یہ کہ ضبط نفس کے مراحل کو طے کرکے ایک مرد مسلماں اللہ تعالیٰ کا نائب مقرر ہوتا ہے جسے اقبال نیا بتِ الہٰی کہتے ہیں۔
کی محمد سے وفا تونے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
ان تمام مراحل سے گزرنے کے بعد مرد مومن کی خودی تشکیل پاتی ہے جو اسے صحیح معنوں میں اپنی شناخت کے عمل سے گزارتی ہے۔ اپنی شناخت کا معاملہ ہر مرد مومن کے لیے ضروری ہے اسی کے باعث وہ عِجزوانکسار کا راستہ اختیار کرتا ہے۔ ان سب کے حصول کے لیے مذہب ہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر انسان اپنی منزل پاسکتا ہے۔
اگر اس گفتگو کا محاکمہ کیا جائے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ اقبال نے مرد مومن کی تعریف کرتے ہوئے اُسے ان چار چیزوں کا مرکب قرار دیا ہے:
قہاری و غفاری و قدوسی و جبروت
یہ چار عناصر ہوں تو بنتا ہے مسلمان
عبارت نمبر 8: (فیصل آباد بورڈ 2010ء)
اپنے رہنماؤں کی پکار سن کر مسلمان قوم ترقی کی راہ پر کچھ چلنے تو لگی لیکن جا بجا ٹھو کریں کھاتے ہوئے ۔ معاشی حیثیت سے وہ اپنے ہمسایوں سے کہیں پیچھے رہی۔ تعلیمی حیثیت سے وہ ضرور کچھ بڑھی لیکن پھر بھی پسماندہ رہی۔ البتہ اپنی قومی زبان و ادب کو اس نے باوجود اپنے انحطاط کے خوب چمکایا۔ اُردو علم و ادب اور صحافت کو ترقی ہوئی اور ملک میں جابجا اُردو کی علمی و ادبی انجمنیں پھیل گئیں۔ (صفحہ9)
تشریح: زیر نظر مضمون 1966ءمیں رسالہ ”قومی زبان“ میں بعنوان ”اِسلامی ہند میں بیداری اور تشکیل پاکستان “چھپا تھا۔
تشریح طلب اقتباس سے قبل مضمون کا آغاز کرتے ہوئے میاں بشیر احمد نے پاکستان کی تشکیل کے پس منظر کو بیان کیا ہے۔ مصنف لکھتے ہیں کہ 1857ء کی جنگ آزادی کے بعد مسلمان قوم تباہ حالی کا شکار ہوگئی۔ اس تباہ حالی سے نکالنے کے لیے شاہ ولی اللہؒ سے لے کر علامہ اقبالؒ تک جتنے بھی مسلمان رہنما اپنی قوم کی بہتری کا پیغام لے کر آئے، مسلمانوں نے ان کے پیغامات کو نہ صرف توجہ سے سنا بلکہ بہت حد تک ان پر عمل بھی کیا۔ لیکن یہ عمل سست روی کا شکار رہا۔ انسانی فطرت بھی ہے کہ وہ نئی باتوں کو قبول کرنے سے ہچکچاتا ہے اور پرانی باتوں پر اڑے رہنے میں ہی اپنی عافیت سمجھتا ہے۔
آئین نو سے ڈرنا طرز کہن پہ اڑنا
منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں
یہی کیفیت اس دور میں مسلمان قوم کی بھی تھی۔یوں مسلمانوں کی سیاسی و معاشرتی حالت قدرے بہتر ہوگئی۔ برصغیر کے مسلمانوں نے آہستہ آہستہ آزادی کی منز ل کی جانب قدم بڑھانے شروع کر دیے۔ مسلمانوں میں بعض حلقے ایسے بھی تھے جنھوں نے اپنے رہنماؤں کی مخالفت بھی کی لیکن بالآخر وہ ان کے پیغام کی افادیت و اہمیت کو مان گئے۔ وہ بھی اُسی سمت چل نکلے جو اُن کے رہبروں نے بتائی تھی۔ ہاں یہ تاریخی حقیقت ہے کہ مسلمان معاشی حیثیت سے اپنی مد مقابل قوم ہندوؤں کا مقابلہ نہ کر سکے اور ان سے بہت پیچھے رہے۔ اس کا سبب دراصل یہ تھا کہ انگریزوں نے برصغیر کی سر زمین پر قدم رکھتے ہی مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھنا شروع کر دیا تھا۔ انگریزوں نے برصغیر میں حکومت مسلمانوں سے ہی چھینی تھی اس لیے وہ مسلمانوں کو اپنا مخالف سمجھتے تھے۔ مسلمانوں کو کمزور رکھنے کے لیے انگریز ہر معاملے اور ہر شعبے میں مسلمانوں کو پیچھے رکھنے اور ہندوؤں کو آگے لانے کی کوششیں کرتے رہتے تھے۔
ہندوؤں نے انگریزوں کی دی ہوئی مراعات سے خوب فائدہ اٹھایا۔ انہوں نے نہ صرف معاشی اعتبار سے اپنے آپ کو مضبوط کیا بلکہ تعلیمی میدان میں بھی وہ مسلمانوں سے کہیں آگے نکل گئے ہندوستان میں صنعت، تجارت اور اعلیٰ ملازمتوں پر ہندو قابض ہوگئے۔ نتیجے کے طور پر مسلمان قوم نے معاشی لحاظ سے ترقی تو ضرور کی لیکن وہ ہندوؤں کا مقابلہ نہ کر سکے۔
البتہ اُس آزمائشی دور میں مسلمان قوم نے علم و ادب اور صحافت کے میدان میں خوب ترقی کی۔ ملک میں کئی علمی و ادبی حلقے قائم ہوئے۔ مسلمانوں نے اپنے اخبارات جاری کیے۔ جامعہ دہلی کا قیام عمل میں آیا۔ جو دراصل علی گڑھ تحریک کا ردعمل تھا۔ شبلی نے لکھنو میں ندوة العلماءقائم کیا اس ادارے نے مدارس کی نصاب سازی کی۔ اس ادارہ کی وجہ سے کئی ایک نامورمصنفین سامنے آئے۔ دیوبند کے مدرسہ نے بھی بڑے بڑے عالم پیدا کیے۔ جنہوں نے علمی وادبی خدمات سرانجام دیں۔ مولانا حالؔی اور محمد حسین آزاد نے جدید اردو شاعری اور نثرنگاری کے لیے بے حد اہم کام کیا۔ علی گڑھ کالج کی تحریک نے نا صرف صحافت بلکہ اردو ادب کی خوب خدمت کی۔ ان کے علاوہ حیدر آباد دکن میں جامعہ عثمانیہ کا قیام عمل میں آیا جس میں تمام سائنسی مضامین اردو زبان میں پڑھائے جاتے تھے۔ ان تمام اقدامات سے اُردو زبان و ادب کو بے حد ترقی اور عروج حاصل ہوا۔
عبارت نمبر9: (لاہور بورڈ2008ء)
مسلمانانِ ہند کی جدید سیاسی زندگی کی داستان یہ ہے کہ انڈین نیشنل کانگرس کے قیام کے بعد گو سر سید نے علی گڑھ میں مسلمانوں کے سیاسی حقوق کے تحفظ کے لیے قدم اٹھایا لیکن بالعموم ان کی قومی سیاست یہی تھی کہ مسلمان ملکی سیاست سے الگ تھلگ رہیں اور پہلے مغربی علوم کے حصول سے اپنی قوم کی حالت کو درست اور مضبوط کر لیں مگر بیسویں صدی کے شروع سے ایشیا اور اس کے ساتھ ہندوستان میں صورت حال دگر گوں ہونے لگی۔ (صفحہ9)
تشریح: زیر نظر مضمون 1966ءمیں رسالہ ”قومی زبان“ میں بعنوان ”اِسلامی ہند میں بیداری اور تشکیل پاکستان “چھپا تھا۔
اس مضمون کا آغاز کرتے ہوئے میاں بشیر احمد نے پاکستان کی تشکیل کے پس منظر کو بیان کیا ہے۔ انہوں نے پاکستان کی تاریخ کو اورنگزیب عالمگیر کی وفات کے زمانے سے منسلک کرتے ہوئے اس اقتباس میں یہ کہنے کی کوشش کی ہے کہ پاکستان کا حصول دراصل ہندوستان میں مسلم زوال کے ساتھ وابستہ تھا۔مصنف لکھتے ہیں کہ 1857ء کی ناکام جنگ آزادی کے بعد برصغیر میں مسلمان سیاسی و معاشی برتری عملاً ختم ہوگئی۔ جنگ آزادی کے بعد پورے برصغیر پر انگریزی راج قائم ہوگیا۔ 1885ء میں ایک انگریز اے اوہیوم نے برصغیر میں ایک سیاسی پارٹی آل انڈیا نیشنل کانگریس کی بنیاد رکھی۔ سرسید احمد خاں جو مسلمان قوم کو انگریزی عتاب بچانا چاہتے تھے اور اس تباہ حالی سے نکالنا چاہتے تھے اُنھوں نے مسلمانوں کو مشورہ دیا کہ وہ انڈین نیشنل کانگریس میں شامل نہ ہوں اور نہ ہی سیاست میں حصہ لیں۔
دراصل سر سید چاہتے تھے کہ مسلمان سب سے پہلے اپنی تعلیمی پس ماندگی کو دور کریں اور اس کا حل انگریزی اور مغربی علوم کا حصو ل تھا۔ لیکن بد قسمتی سے مسلمان ان علوم کی ترویج کو خلاف اسلام سمجھتے تھے۔ مسلمان قوم اس قدر کمزور ہوچکی تھی کہ وہ اس قابل بھی نہیں تھے کہ متوازی تعلیمی ادارے کھول کر ان میں جدید علوم کی تدریس کا بندو بست کر سکے۔
چنانچہ سر سید نے مسلمان قوم کی تعلیمی حالت بدلنے کے لیے تعلیم ادارے قائم کیے جن میں مغربی علوم اور سائنسی علوم پڑھائے جاتے تھے تاکہ مسلمان قوم اپنے آپ کو وقت کے دھارے میں ڈھال سکیں۔ بالآخر کامیاب بھی ہوئے۔ سر سید کی ان کوششوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان سیاست سے الگ تھلگ رہے لیکن بیسویں صدی کا آغاز ہوا تونہ صرف براعظم ایشیا بلکہ ہندوستان کے سیاسی حالات بھی تیزی سے بدلنے لگے۔ علی گڑھ تحریک اور انڈین نیشنل کانگریس کی وجہ سے لوگوں میں سیاسی شعور اُجاگر ہونے لگا۔
عبارت نمبر10: (لاہور بورڈ2007ء،راولپنڈی بورڈ 2008ء)
مسلمانوں کا نصب العین اِسلام ہے۔ وہ اِسلام نہیں جس کا ڈنکا مطلق العنان بادشاہوں اور خود غرض امراءنے بجایا بلکہ وہ اِسلام جس کا حامل قرآن ہے جس نے صرف ان دیکھے خدا کے آگے سر جھکانا سکھایا۔ وہ اِسلام جس کا نمونہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کے عہد میں مسلمانوں کی زندگیوں میں نظر آتا ہے۔ وہ سچائی ، وہ دلیری ، وہ خود اعتمادی ،وہ انکسارو امن پسندی ، وہ محنت و مساوات ، وہ صبر و تقویٰ ، وہ مسلم و غیر مسلم سب کی خدمت ، سب کے حقوق کا تحفظ سب سے رواداری اور محبت ۔ یہ ہے پاکستان کے مسلمانوں کا نصب العین۔(صفحہ12)
تشریح: تشریح طلب عبارت میں مصنف وہ سوچ بیان کررہے ہیں جس کی بنیاد پر پاکستان حاصل کیا گیا۔ حصول پاکستان کا اصل مقصد ایسے خطے کا حصول تھا جس میں مسلمان عملی طور پر اسلام کو اپنی زندگی میں برت سکیں۔ حصول پاکستان یہاں کے عوام اور حکمران دونوں کا واحد اور اصل مقصد اس خطۂ زمیں پر اِسلام اور اِسلامی اُصولوں کا نفاذتھا۔یہ وہ اِسلام نہیں جس کو جابر اور آمر قسم کے بادشاہوں نے متعارف کروارکھا ہے۔ ایسے آزاد خود مختار اور بے لگام بادشاہ اسلام کی شکل پیش کرتے رہے جو اپنے آپ کو کسی کے سامنے بھی جوابدہ نہیں سمجھتے تھے اور من مانے انداز میں حکمرانی کرتے تھے ۔بادشاہوں نے خلافت کے ادارے کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کیا اور اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے اِسلام کے قوانین سے روگردانی کی۔
قیام پاکستان کا واحد مقصد وہ اسلام ہے جو قرآن میں اللہ نے بیان فرمایا ہے۔ جس کے احکامات قرآن کی صورت میں اللہ نے اپنے حبیبA پر نازل کیے۔ جس کی علمی تفسیر اللہ کے پیارے رسولA نے عملی طور پر دکھائی۔ ایسا اسلام جس کی رو سے اصل بادشاہت صرف اللہ کی ہے ایسا اِسلام جو اللہ کے سوا کسی اور کے اقتدار کو تسلیم نہیں کرتا اور جو صرف اللہ کے سامنے سر جھکانے کی تعلیم دیتا ہے ۔ یہی ایک خلیفہ اور بادشاہ میں فرق ہے کہ خلیفہ اقتدار کو اِسلام پر اور بادشاہ اسلام کو اقتدار پر قربان کر دیتا ہے:
”اِسلام کا منشایہ ہے کہ تمام لوگ ایک معتدل اور مساوی زندگی بسر کریں“۔
پاکستان اِسلامی نظریے کی بنیاد پر حاصل کیا گیا۔ یہ نظریہ خود اعتمادی کی وہ شکل ہے جو اِسلام نے ہر مسلمان کو عطا کیا ہے۔ جس کی بنیاد پر ہر مسلمان ان دیکھےخدا پر ایمان رکھتا ہے اور اس کے آگے سر جھکاتا ہے اور خدا کے احکامات کی پیروی کرتا ہے۔
مسلمانوں نے اسی اِسلام کو اپنی زندگی میں نافذ کرنے کے لیے ایک الگ وطن قائم کیا تھا۔ جس کا نمونہ آنحضرتA اور چاروں خلفائے راشدین کے عہد میں مسلمانوں کی زندگیوں میں نظر آتا ہے۔صحابہ کرام یا عام لوگ جس دین اور مذہب کی بات کرتے تھے، اسے اپنی زندگی میں نافذکرتے تھے۔ بقول علامہ اقبالؒ:
وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر
اور تم خوار ہوئے تارک قرآں ہو کر
برصغیر کے مسلمانوں کی خواہش تھی کہ اُن کا وطن بھی اُس فلاحی ریاست کا عکس ہو جو نبی اکرمﷺ اور صحابہؓ کے دور تھی۔ اس دور میں ہر ایک اسلامی تعلیمات کا سچا پیروکار تھا۔ صحابہ کرام ہوں یا عام مسلمان سچائی کی خاطر جان قربان کردیتے تھے۔ سچ بولنا ان کی فطرت میں شامل تھا۔ تاریخ کا مشہور واقعہ ہے کہ ایک شخص خلیفہ عمر فاروقؓ کے سامنے کھڑا ہو کر کہتا ہے: ’’اے عمر! خدا سے ڈر‘‘
گویا صحابہ کرامؓ بے خوف ہو کر ایک خدا کو مانتے تھے اور اس کے علاوہ کسی کا خوف ان کے دلوں میں موجود نہ تھا۔
جیسا کہ فردوسی کا قول ہے: ’’بادشاہوں سے کیا خوف! خوف بادشاہوں کے بادشاہ سے ہوتا ہے‘‘۔
برصغیر کے مسلما ن چاہتے تھے کہ پاکستان کے رہنے والے لوگوں کا انکسار شیوہ ہو۔ وہی انکساری جو حضرت ابوبکرؓ اور علیؓ میں تھی۔ جو اپنی روزی کمانے کے لیے محنت و مزدوری کرتے تھے۔ امن وامان اور سلامتی قائم رکھنے کے لیے اپنا سکون قربان کر دیتے تھے۔ رزق حلال کمانے اور اہل وعیال کے حقوق کی ادائیگی کے لیے ہر شخص محنت کرتا تھا۔ معاشرے میں مساوات کا عملی نمونہ نظرآتا تھا۔ گویا معاشرہ تعلیمات نبویA کا عملی نمونہ تھا۔ حدیث نبویA ہے:’’تمام مسلمان بھائی بھائی ہیں‘‘ اور ’’کسی گورے کو کسی کالے پر اور کسی عربی کو عجمی پر کوئی فضیلت نہیں سوائے تقویٰ کے‘‘۔
یہی وجہ ہے کہ حضرت عمر فاروقؓ حضرت بلال حبشی کو سیدنا بلالؓ کہہ کر پکارتے تھے۔ الغرض ہر شخص کی زندگی سے اسلام کا اصل چہرہ نمایاں نظر آتا تھا۔ مصیبت کے وقت صبروشکر کا مظاہرہ اور گناہوں سے نفرت کے مناظر دیکھنے کو ملتے تھے۔ بلا تفریق مذہب معاشرے میں ذمیوں کے حقوق کی ادائیگی کی جاتی تھی۔ سب سے محبت کا برتاؤکیا جاتا تھا۔ یہی نقش زندگی اُبھارنے کے لیے پاکستان بنایا گیا تھا۔ پاکستان بنانے کا مقصد یہاں کے رہنے والوں کی جان ومال کو تحفظ حاصل ہوگا۔ یہاں کے لوگ ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے والے ایک دوسرے کے جذبات کا احترام کرنے والے ہونگے۔ یہی وہ سوچ وہ نظریہ تھا جس کی وجہ سے پاکستان بنایا گیا۔
”ہم آزمائے گئے ہیں ایک ایسے زمانے سے جس میں نہ تو اِسلام کے آداب ہیں اور نہ زمانہ جاہلیت کی عادتیں ہیں اور نہ انسانی مروت“۔
نتیجہ
پاکستان کی تشکیل ایک طویل جدوجہد کا نتیجہ تھی، جس میں شاہ ولی اللہؒ، سرسید احمد خان، علامہ اقبالؒ، اور قائداعظم جیسے رہنماؤں نے کلیدی کردار ادا کیا۔ میاں بشیر احمد نے اپنے مضمون میں اس سفر کو نہایت جامعیت سے بیان کیا ہے، جو اسلامی جمہوریت، عدل و انصاف، اور مساوات کے اصولوں پر مبنی ایک فلاحی ریاست کے قیام کی داستان ہے۔
اہم کلیدی الفاظ: تحریک پاکستان، اسلامی جمہوریت، قائداعظم، علامہ اقبال، میاں بشیر احمد
