میر دردؔ کی غزل نمبر 1

خواجہ میر دردؔ کی غزل نمبر 1

Share With Others

خواجہ میر دردؔ کی غزل نمبر 1: مکمل تشریح، مفہوم، مشکل الفاظ کے معانی اور حوالہ جات

خواجہ میر دردؔ اردو کے عظیم صوفی شاعر ہیں جن کی شاعری میں تصوف، اخلاقیات، زندگی کی ناپائیداری اور انسانی عظمت کے موضوعات نمایاں ہیں۔ یہ مضمون غزل نمبر 1 کے منتخب اشعار کی تفصیلی تشریح پیش کرتا ہے۔ ہر شعر کے لیے مفہوم، تشریح، مشکل الفاظ کے معانی اور حوالہ جات (جیسے بورڈز 2009-2010) بالکل اصل متن کی طرح شامل کیے گئے ہیں۔ یہ مواد طلباء، اساتذہ اور شاعری کے شائقین کے لیے  ہے ۔ اس میں “خواجہ میر درد غزل 1 تشریح”، “دردؔ کے اشعار کے معانی” یا “صوفی شاعری اردو”  آسانی سے ملے گی۔

شاعر کا تعارف

دردؔ کا نام سید خواجہ میر اور دردؔ تخلص تھا با پ کا نام خواجہ محمد ناصر تھا جو فارسی کے اچھے شاعر تھے اور عندلیبؔ تخلص کرتے تھے۔ خواجہ میر دردؔ دہلی میں 1720ءمیں پیدا ہوئے اور ظاہری و باطنی کمالات اور جملہ علوم اپنے والد سے حاصل کیے ۔ درویشانہ تعلیم نے روحانیت کو جلا دی اور تصوف کے رنگ میں ڈوب گئے۔ آغاز جوانی میں سپاہی پیشہ تھے۔ پھر دنیا ترک کی اور والد صاحب کے انتقال کے بعد سجادہ نشین ہوئے۔ تصوف کے ساتھ ساتھ درد ؔنے حکمت کے موتی بھی بکھیرے ہیں ۔ بقول مولانا محمد حسین آزاد:

” تصوف میں جیسا انہوں نے لکھا اُردو میں آج تک کسی سے نہ ہوا。“

درد کے ہاں بھی دنیا کی بے ثباتی کا احساس جابجا ملتا ہے۔‘‘ آپ نے اپنی شاعری میں زندگی کی حقیقتوں کو بیان کیا ہے۔ آپ کی شاعری میں کائنات کے رموز اور زندگی کی ناپائیداری کا ماتم بھی موجود ہے۔آپ کے ہاں انسانی عظمت کے ساتھ ساتھ اخلاقی مضامین بھی ملتے ہیں۔

شعر 1: کام مردوں کے جو ہیں ، سو وہی کر جاتے ہیں

جان سے اپنی جو کوئی کہ گزر جاتے ہیں

(بہاولپوربورڈ، راولپنڈی بورڈ2009ء۔ گوجرانوالہ بورڈ2010ء)

مشکل الفاظ کے معانی

 
 
الفاظ معانی
مردوں کے کام بہادر لوگوں کے کام
جان سے گزرنا بڑے مقصد کے لیے جان دینا
 

مفہوم

بہادری کے کام مرد ہی کرتے ہیں اس کے لیے وہ اپنی جان کی پروا نہیں کرتے۔

تشریح

 خواجہ میر دردؔ ا ُردو کے مشہور  صوفی شاعرہیں ۔ ان کے کلام میں بیشتر صوفیا نہ اور اخلاقی مضامین پائے جاتے ہیں ۔ تشریح طلب شعر کا بنیادی خیال بھی اعلیٰ کردار اور مقصد حیات کا راز بتانے والا ہے ۔خواجہ میر دردؔ جواں ہمت اور ایثار پیشہ لوگوں کی تعریف بیان کرتے ہوئےکہتے ہیں کہ جواں مرد وں کے کام جواں مرد ہی کر جاتے ہیں اور جواں مرد اُنھیں کہا جاتا ہے  جو اعلیٰ مقاصد کے حصول کے لیے اپنی جان کی قربانی دینے سے بھی گریز نہ کریں ۔

وہ مرد نہیں جو ڈر جائے حالات کے خونی منظر سے

جس حال میں جینا مشکل ہو اس حال میں جینا لازم ہے

          یہ حقیقت ہے کہ دنیامیں کسی بھی مقصد کو حاصل کرنے کے لیے بڑی جدوجہد اور محنت کرنا پڑتی ہے۔میدان حیات میں وہی لوگ قابل قدر کارہائے نمایاں سرانجام دیتے ہیں جو راہ عمل میں آنے والی مشکلات کا مردانہ وار مقابلہ کرتے ہیں۔ اس دنیا میں   انسان کو وہی کچھ ملتا ہے جس کے لیے وہ کوشش کرتا ہے۔ کتاب ہدایت قرآن مجید میں ارشاد پاک ہے۔

وَاَنْ لَّيْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰى

ترجمہ:   اور یہ کہ انسان کو وہی ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے۔

          تشریح طلب شعر میں دردؔ نے بلند نصب العین رکھنے والے لوگوں کو خراج تحسین پیش کرنے کے ساتھ ساتھ انسانیت کو عملی جدوجہد کا درس دیا ہے۔دنیا میں بڑے کام کرنے کے لیے محنت ،حوصلہ ، جذبہ ایثار  درکار ہوتا ہے ۔تاریخ کے اوراق پر انہی لوگوں کا نام سنہری حروف میں لکھا جاتا ہے جو اعلیٰ مقاصد اور کام کی خاطر اپنی جان تک کی پرواہ نہیں کرتے۔ یہ کام دینی ہوں یا دنیاوی ، ا نسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے  ہوں یا آنے والی نسلوں کی بہتری اور فائدے کے لیے ہوں۔ باطل اور ظالم قوتوں سے لڑنا  ہو یا اپنے نفس اور شیطان کے خلاف جہاد  ہو۔ یہ سبھی  ہر حالت میں سخت محنت ومشقت اور جدوجہد کے متقاضی ہوتے ہیں۔

اتنے ناداں تو نہ تھے جاں سے گزرنے والے

ناصحو ،پند گرو ، راہ گزر تو دیکھو

           منزل مقصود پر وہی لوگ پہنچ جاتے ہیں جو راستے کی مشکلات کو خندہ پیشانی سے برداشت کرتے ہیں ۔اعلیٰ نصب العین کی خاطر جان کی قربانی دینا ہر انسان کی بس کی بات نہیں بلکہ بہادر اور جواں مرد لوگوں کا کام ہے ۔ جو بڑی شان سے موت کو گلے لگا کر تاریخ کے صفحات میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے زندہ وجاوید ہو جاتے ہیں۔

بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق

عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی

          فیض ؔ اسی مضمون کو یوں بیان کرتے ہیں:

جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا وہ شان سلامت رہتی ہے

یہ جا ن تو آنی جانی ہے اس جان کی تو کوئی بات نہیں

          نصب العین یا منزل حاصل کرنے کےلیے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جہاں تک مشکلات کا تعلق ہے تو کہا جاسکتا ہے کہ تین چیزیں انسان کو کوئی قدم اٹھانے سے روک سکتی ہیں۔ پہلی اپنی زندگی ،دوسری اولاد اور تیسری مال و دولت۔ ارشاد خداوندی ہے:

وَاعْلَمُوْٓا اَنَّمَآ اَمْوَالُكُمْ وَاَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ  ۙ

ترجمہ:   اور جان رکھو کہ تمہارا مال اور اولاد بڑی آزمائش ہے۔

          انسان ڈرتا ہے کہ کہیں اُس سے اُس کی دولت چھن نہ جائے وہ زندگی کی آسائشوں سے محروم نہ ہو جائے۔ وہ اپنی اولاد کے لیے پریشان رہتا ہے کہ کہیں وہ کسی مشکل میں نہ پڑ جائے۔ حالانکہ یہ رشتے ناطے، روپیہ پیسہ سب چیزیں بے معنی ہیں۔ مال و دولت اور اولاد کی طرح انسانی زندگی بھی انسان کے پاس اللہ کی امانت ہے۔ وہ لوگ جو موت کے خوف، اولاد اور مال و دولت کی محرومی کے اندیشوں پر قابو پا کر ہر طرح کی مشکلات کا سامنا کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ وہی زندگی میں اہم کارنامے سر انجام دے سکتے ہیں۔

          خواجہ میر دردؔایک صوفی شاعر تھے صوفیا کے ہاں عرفان ذات سے ہی قرب الٰہی حاصل ہوتا ہے ۔ عرفان ذات کے لیے انسان کو اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر راہ سلوک کی مشکل ترین منزلیں سر کرنا پڑتی ہیں ۔ چناں چہ تصوف کے قبیلے میں راہ حق پر جان دینے والا صوفی ہی کامیاب ہوتا ہے ۔

جان کا نذرانہ دینے سے ہی ملتی ہے مراد

کچھ نہیں ہاتھ آتا خاک وخوں میں لتھڑے بغیر

          یہ حقیقت ہے کہ عشق الٰہی کے دعویٰ کرنے والے  تو بہت  ہیں لیکن اس کا عملی ثبوت فراہم کرنے والے بہت کم  ہوتے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے چاہنے والوں  کو آز مائشوں سے گزارتا ہے ۔ حب الہٰی  میں استقامت کا مظاہرہ کرنا پڑتا ہے اور فی الواقع یہ ہر نفس کے بس کا روگ نہیں۔

            تشریح طلب شعر میں ایک ہلکاسا طنز بھی پیش نظر رہے جو شعر کے باطن سے جھلکتا ہے اور جو قول اور فعل کے تضاد سے متعلق ہے۔ دردؔ کا کہنا ہے کہ یہ ان لوگوں کا کام نہیں جو بڑے بڑے دعوے تو کرتے ہیں مگر عملی طور پر کچھ نہیں کرتے ۔ گویا درد ؔ  راہ عشق میں جان دینے والوں کی تعریف کر رہے ہیں کہ یہ لوگ جان کی پرواہ نہیں کرتے بلکہ اعلیٰ مقصد کے حصول کے لیے سب کچھ قربان کر دیتے ہیں۔

جان دی، دی ہوئی اسی کی تھی

حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا

          اقبال فرماتے ہیں۔

شہادت ہے مطلوب ومقصود مومن

نہ مال غنیمت، نہ کشور کشائی

          کام کر جانا اور جان سے گزر جانا ، خوبصورت محاورات اور دردؔ نے اس میں معنی کی بہت سی تہیں چھپا دی ہیں ۔ شعر میں حرف ’’ک‘‘ کی تکرار سے موسیقیت اور غنائیت پیدا ہو رہی ہے۔

شعر 2: موت! کیا آ کے فقیروں سے تجھے لینا ہے

مرنے سے آگے ہی ، یہ لوگ تو مر جاتے ہیں

مشکل الفاظ کے معانی

 
 
الفاظ معانی
فقیر اللہ کے عشق میں ڈوبا ہوا
مرنے سے آگے مرنے سے پہلے
کیا لینا کیا حاصل کرنا
 

مفہوم

اے موت! تجھے فقیروں سے کیا لینا ہے یہ لوگ تو مرنے سے پہلے ہی مر جاتے ہیں۔

تشریح

تشریح طلب شعر میں  شاعر محاوراتی انداز ِ بیان اختیار کرتے ہوئے موت اور زندگی کا صوفیانہ نظریہ پیش کر رہے ہیں ۔ دردؔ کہتے کہ صوفی کے نزدیک موت کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی ۔ صوفیا کے ہاں فنا فی الذات ہی قرب الٰہی کا باعث ہے چناں چہ صوفیا کو قول ہے :

مُوْتُوْ ا قَبْلَ اَنْ تَمُوْتُوْا

ترجمہ:   موت آنے سے پہلے ہی مر جاؤ

          یہاں موت سے پہلے مرنے سے مراد نفس امارہ کو دبانا ہے ۔ فطرت انسانی کا اُصول  ہے کہ نفس امارہ کی جس قدر پرورش کی جائے  اتنی ہی روح کمزور پڑ جاتی ہے ۔ اس کے بر عکس نفسانی خواہشات کو جس قدر  دبایا جائے اسی قدر روح کو تازگی اور رفعت حاصل ہوتی ہے ۔ فقردنیاوی مال کی خواہش سے خدا کی محبت میں دست برداری کا نام ہے۔ یہی سنتِ رسول بھی ہے۔ ارشاد نبوی ہے:۔

الفقر فخرى

ترجمہ:   فقر میرے لیے فخر کا باعث ہے۔

          صوفیا مختلف قسم کی ریاضتوں اور مجاہدوں سے نفس کو دبانے کی مشق کرتے ہیں۔ اِس میں کامیابی کے بعد اُن کا نفس پاکیزہ ہوجاتا ہے۔  وہ سلوک کی منزلیں طے کرتے ہوئے آخر کار دنیا کی حقیقت سے آگاہ ہوجاتے ہیں۔انھیں ملک الموت سے کوئی اندیشہ نہیں رہتا۔ایسے مقام پر وہ موت کے خود طلبگار ہوتے ہیں صوفیا کے نزدیک موت و صال ِ یار کا باعث ہے۔ اس لیے وہ موت کو پسند کرتے ہیں۔ صوفیا کرام اس امر  کو بھی سمجھتےہیں کہ انسان کے لیے سب سے مشکل اپنی زندگی سے دست بردار ہونا ہے ۔ موت انسان کو زندگی سے محروم کر دیتی ہے جو انسان خود ہی اپنی زندگی اور زندگی میں موجود ہر شے سے دست بردار ہو چکا ہو اس سے موت کو کیا لینا ہے۔

موت اک ماندگی کا وقفہ ہے

یعنی آگے چلیں گے دم لے کر

          تشریح طلب شعر میں استفہامیہ انداز اپنا کر  اپنی بات میں زور پیدا کر دیا ہے ۔مزید برآں شاعرنے بے خوفی کا تاثر نمایاں کرنے کے لیے موت کو براہ راست مخاطب کیا ہے کہ اے موت !تو درویشو ں کے ساتھ زیادہ سے زیادہ یہی سلوک کر سکتی ہے کہ ا ن کی حیات کا  سلسلہ دنیا سے منقطع کر دے گی ۔ اے موت !تجھے جان لینا چاہیے کہ اللہ والوں کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔

جینے میں اختیار نہیں ورنہ ہم نشیں

ہم چاہتے ہیں موت تو خدا سے آج

          صوفیا کی زندگی کا نصب العین عرفان ذات اور اس سے بھی آگے عرفان الہٰی کی منزل تک پہنچنا ہوتا ہے اس لیے وہ نفس کشی کی روش اختیار کرتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ کہیں دنیاوی چیزوں کی خواہش ان کی ذات  کے عرفان  اور اللہ کےقرب کے درمیان حائل نہ ہوں۔ اس لیے صوفی، درویش یا فقیروں کے نزدیک دنیا اور اس کی رنگینیاں اور دلچسپیاں کوئی اہمیت نہیں رکھتیں ۔اپنے اردگرد پھیلی ہوئی زندگی میں جتنی بھی اشیا ، مسرتیں ہیں یہ لوگ ان سے ہاتھ کھینچ کر زندگی گزراتے ہیں ۔ عام انسان موت سے اسی لیے خوف زدہ ہوتا ہے کہ اس کو عارضی دنیاوی راحتوں کے چھن جانے کا خوف ہوتا ہے ۔ جبکہ صوفیا ،درویش اور فقیر لوگ موت سے قطعاً خوف زدہ  نہیں ہوتے بلکہ یہ لوگ تو موت کے تمنائی ہوتے ہیں کیونکہ مرنے کے بعد دیدار الٰہی سے دور رکھنے والی جسم کی حائل دیوار بھی گر جاتی ہے ۔

ہم تجھ سے کس ہوس کی فلک جستجو کریں

 دل ہی نہیں رہا کہ  جو کچھ  آرزو کریں

           تشریح طلب شعر میں  دردؔ نے اس حقیقت سے بھی  پردہ اٹھایا ہے کہ موت ایک اٹل حقیقت ہے ۔جس کے بارے میں قرآن پاک میں ہے :

كُلُّ نَفْسٍ ذَاۗىِٕقَةُ الْمَوْتِ ۭ

ترجمہ:   ہر شخص کو موت کا مزہ چکھناہے۔

          تاہم دنیا کی حقیقت سے آگاہ ہو نے کے باوجود انسان جہان فانی میں دل لگا تا ہے ۔جبکہ دردؔکے بقول درویش ،صوفیا اور فقیرلوگوں کا حال اس سے برعکس ہوتا ہے۔ وہ نہ تو دنیا میں دل لگاتے ہیں اور نہ  ہی موت سے بھاگتے ہیں۔ یہی وجہ ہے ان کے لیے دنیا ہی موت کے مترادف ہے ۔ نظیر اکبر آبادی نے ان فقیروں کے اس وصف کی طرف یوں اشارہ کیا ہے۔

جینے کا نہ اندوہ نہ مرنے کا ذرا غم

یکساں ہے انہیں زندگی اور موت کا عالم

          لفظ ’’موت‘‘ ’’مر‘‘ اور ’’کرنے‘‘ کی تکرار موت کے عام ہونے کا احساس پیداکیا گیا ہے ۔ حرف ’’م‘‘ کی تکرار سے موسیقیت اور غنائیت پیدا کی گئی ہے ۔

شعر 3: دیدوادید جو ہو جائے، غنیمت سمجھو

جوں شرر ورنہ ہم اے اہلِ نظر جاتے ہیں

مشکل الفاظ کے معانی

 
 
الفاظ معانی
دید وا دید چلتے چلتے تھوڑی سی ملاقات ادھوری ملاقات (دہلی کامحاورہ)
غنیمت سمجھو خدا کی طرف سے انعام سمجھو
جوں کی مثل
شرر چنگاری
اے اہل نظر اے عقل و فہم رکھنے والو
 

مفہوم

اے اہل نظر! دنیا میں آپس کی ملاقات کو غنیمت سمجھ کیونکہ زندگی تو چنگاری کی مانند کسی لمحہ بھی بجھ سکتی ہے۔

تشریح

تشریح طلب شعر میں خواجہ میر درد ؔ نے دنیا کی بے ثباتی اور ناپا ئیدار ی کو موضوع بنایا ہے ۔ خواجہ میر درد ؔ ایک صوفی شاعر تھے اور صوفی دنیا کی حقیقت سے واقف ہوتا ہے اس لیے درد ؔ نےزندگی کی ناپائیداری کے لیے شرر یعنی چنگاری کا لفظ منتخب کیا ہے۔ درد ؔزندگی کو ایک چنگاری سے تشبیہ دیتے ہوئے خا لصتاً صوفیانہ انداز میں کہتےہیں کہ انسانی زندگی ایک چنگاری کی مانند ہے ۔ جس طرح ایک چنگاری پلک جھپکنے سے بھی کم عرصے میں سلگ کر خاک ہو جاتی ہے بالکل اسی طرح انسانی زندگی بھی مختصر ہے ۔انسانی  زندگی بھی چند سانسوں اور چند ساعتوں کا مرکب ہے۔انسان  بھی کچھ عرصے کے لیے یہاں آتا ہے اس دنیا کو اپنےعمل کے ذریعے اپنے ہونے کا احساس دلاتا ہے  ا ور پھر کچھ عرصے بعد خاک میں مل کر خاک ہوجاتا ہے۔ اقبال ؒ نے بھی اپنے ایک شعر میں انسانی زندگی کو چنگاری سےتشبیہ  دے کر اس کی ناپائیداری کو واضح کیا ہے۔

آیا ہے تو جہاں میں مثال شرار دیکھ

دم دے نہ جائے ہستیء ناپائیدار دیکھ

          تشریح طلب شعر میں شاعر صاحب  بصیرت  شخص سے مخاطب ہوکر کہتے ہیں دوست، احباب، عزیزواقارب اور ملنے جلنے والوں سے میل ملاقات، آپس کی رفاقت ، دوستی اور خلوص کو غنیمت سمجھنا چاہیے۔ ورنہ زندگی تو پانی کے بلبلے کی مانند ہے۔ انسان اس دنیا میں آتا ہے اور رخصت ہوجاتا ہے دردؔ کا اسی طرح کا ایک اور شعر کچھ یوں ہے۔

جوں شرر اے ہستیء بے بود یاں

بارے ہم بھی اپنی باری بھر چلے

          شاعر انسانی نفسیات کو بے نقاب کررہا ہے کہ یہ جاننے کے باوجود زندگی عارضی اور مختصر ہے پھر بھی انسان پیار محبت کی بجائے نفرتیں ،کدورتیں ، بغض ، حسدوکینہ اور عداوت کو بڑھاتا ہے ۔ خود غرضی کی وجہ سے خلوص اور محبت کے جذبات ناپائیدار ہوجاتے ہیں ۔ یوں پورے معاشرے میں بے مروتی درآتی ہے۔  میرؔ اس حقیقت کو یوں آشکار کرتے ہیں۔

اس عہد میں الٰہی محبت کو کیا ہوا

چھوڑا وفا کو اُن نے مروت کو کیا ہوا

          شاعر اس بات کا احساس دلاتا ہے کہ سچے اور پر خلوص دوست احباب ہمارے لیے  ہم درد اور غم خوار ہوتے ہیں کہ ان کی صحبت سے ہی ہمارے دکھ درد اور غم ہم سے دور ہوجاتے ہیں۔ اسی لیے دوست احباب سے گاہے بگاہے ملاقات ہوجانےکو غنیمت سمجھنا چاہیے۔دوست احباب سے ملاقاتیں سب زندگی کے میلے ہیں۔ زندگی ہے تو یہ بھی ہیں اور جب زندگی ختم ہوجائے تو سب کچھ بھی ختم ہوجائے گا۔ درد ؔ نے اسی بات کو ایک اور جگہ یوں بیان کیا ہے:

غنیمت ہے یہ دید وا دید یاراں

جہاں مند گئی آنکھ میں ہوں نہ تو ہے

          شعر میں دیدوادید سے مراد انوار الٰہی کا مشاہدہ بھی ہوسکتا ہے۔ البتہ اس کے علاوہ ایک اور قرینہ بھی ممکن ہے صوفیا ، اہل محبت کی آپس کی صحبتوں کو بہت اہمیت دیتے ہیں کیونکہ آپس میں مل بیٹھنے سے درویش ایک دوسرے سے اکتساب فیض بھی کرتے ہیں جس سے ان کے روحانی درجات میں اضافہ ہوتا ہے۔ چناں چہ دردؔ نے اہل بصیرت سے مخاطب ہوکر کہتے ہیں کہ زندگی بہت مختصر ہے اگر ایسے میں اہل نظر کا سامنا ہوجائے اور مل بیٹھنے کی سبیل بن جائے تو اسے غنیمت سمجھنا چاہیے۔

زندگی انسان کی ہے مانند مرغ خوش نوا

شاخ پہ بیٹھا کوئی دم ، چہچہایا اُڑ گیا

          شعر میں ’’ دیدوادید ہونا‘‘ اور ’’غنیمت سمجھنا ‘‘ محاورات ہیں۔ یہ شعر تشبیہ کی خوبصورت مثال ہے۔

شعر 4: بے ہنر، دشمنی اہلِ ہنر سے، آ کر

منہ پہ چڑھتے تو ہیں، پر جی سے اُتر جاتے ہیں 

مشکل الفاظ کے معانی

 
 
الفاظ معانی
بے ہنر جسے کوئی فن نہ آتا ہو۔ یہاں غیر اخلاقی اور غیر روحانی لوگ مراد ہیں
منہ پر چڑھتے توہیں عارضی شہرت حاصل کر لیتے ہیں
جی سے اترنا دل میں جگہ نہ بنانا
 

مفہوم

بے ہنر لوگ اہلِ ہنر سے دشمنی کی بنا پر (لوگوں کے) منہ چڑھتے تو ہیں مگر ان کے دل سے اُتر جاتے ہیں۔

تشریح

: تشریح طلب شعر میں خواجہ میردرد ؔنے بے ہنر لوگوں کے ہنر مند کے خلاف حسد کے جذبات رکھنے اور اُس کے بعد ظاہر ہونے والے اثرات کا مضمون باندھا ہے۔ فی الواقع دیکھنے میں آیا ہے کہ بے ہنر لوگ اہل علم اور اہل فن کے ساتھ خدا واسطے کا بیر رکھتے ہیں۔ نااہل لوگ عموماً موقع پرست، ابن الوقت اور خوشامدی ہوتے ہیں۔ وہ صرف چاپلوسی اور خوشامد سے اعلیٰ مقام اور شہرت حاصل کرتے ہیں۔یہ لوگ اہل فن کی شہرت اور عزت سے جلتے ہیں اور اُن کی برابری کرنے اور اُن کی عزت و توقیر کو کم کرنے کے لیے اوچھے اور منفی ہتھکنڈے استعمال کرکے ان باہنر افراد کے مقابلے پر اُتر آتے ہیں اور بعض اوقات معاشرے میں بڑے بڑے عہدے اور مرتبے بھی حاصل کرلیتے ہیں یہی سبب ہے کہ بڑے بڑے شعراادیب اور فنکار اکثر زمانے کی ناقدری کا گلہ کرتے ہیں۔ مثلاً ذوقؔ اپنے ایک شعر میں یوں اظہار کرتے ہیں۔

یوں پھریں اہل ہنر آشفتہ حال اے کمال

افسوس ہے تجھ پر کمال افسوس

          غالبؔ یوں گویا ہوئے۔

ہمارے شعر ہیں اب صرف دل لگی کے اسدؔ

کھلا کہ فائدہ عرضِ ہنر میں خاک نہیں

          خواجہ میردردؔ نے فی الواقع معاشرتی برائی کو بے نقاب کیا ہے کہ یہ بے ہنر لوگ اپنی توانائیاں کسی فن کو یا ہنر کو سیکھنے یا اس پر مہارت حاصل کرنے میں صرف نہیں کرتے بلکہ وہ سفارشوں، سازشوں اور خوشامدوں میں صرف کرتے ہیں دوسری طرف اہل ہنر یا باکمال لوگ انتہائی اعلیٰ ظرف اور عجز و انکسار کے پتلے ہوتے ہیں۔ اُن کی ذات اُس صراحی کی مانند ہوتی ہے جو سرنگوں ہوکر پیمانہ بھرا کرتی ہے۔

جو اعلیٰ ظرف ہوتے ہیں، ہمیشہ جھک کے ملتے ہیں

صراحی سرنگوں ہو کر بھرا کرتی ہے پیمانہ

          تشریح طلب شعر میں خواجہ میرددؔ  اس حقیقت کو بیان کرتے ہیں کہ اگرچہ بعض بے ہنر افراد اپنی چالاکی سے مقام و مرتبہ اور شہرت حاصل کرتو لیتے ہیں لیکن اُن کی حقیقت زیادہ دیر چھپ نہیں سکتی۔ یہ لوگ نکتہ شناسوں اور سچے قدر دانوں کے دلوں میں کوئی مقام پیدا کرنے کی بجائے ان کی نظروں سے گرجاتے ہیں۔ علم و فضل کے دلدادہ لوگ سچے فن کاروں کو سر آنکھوں پر بٹھاتے ہیں اور دل کی گہرائیوں سے ان کی قدر کرتے ہیں۔

          خواجہ میردرد ؔحقیقت میں سچے اہل علم و عالم اور اہل فن کو یہ نکتہ سمجھا رہے ہیں کہ اُنھیں ان کم ظرف لوگوں سے خائف ہونے کی ضرورت نہیں۔ اسی طرح نااہل لوگوں کو بھی دعوت بصیرت دیتے ہیں کہ وہ بھی سوچیں کہ اُن کی غیر موجودگی میں لوگ اُنہیں کن الفاظ سے یاد کرتے ہیں تاکہ وہ اپنی اصلاح کرلیں۔

سن تو سہی جہاں میں ہے ترا فسانہ کیا

کہتی ہے تجھ کو خلق خدا غائبانہ کیا

          شعر میں شاعر نے چڑھنا اور اُترنا کے الفاظ لاکر صنعت تضاد کا حسن پیدا کیا  ہے۔

شعر 5: ہم کسی راہ سے واقف نہیں، جوں نورِ نظر

رہنما تو ہی تو ہوتا ہے، جدھر جاتے ہیں 

مشکل الفاظ کے معانی

 
 
الفاظ معانی
کسی راہ سے واقف نہیں خدا تک پہنچنے کا راستہ معلوم نہیں
رہنما راہ دکھانے والا
جدھر بھی جہاں بھی
 

مفہوم

اے خدا ہم کسی راہ سے واقف نہیں۔ آنکھوں کی طرح تو ہی ہمارا راہنما ہے۔

تشریح

خالصتاً صوفیانہ انداز میں لکھے گئے اس تشریح طلب شعر میں خواجہ میردردؔ  انسان اور خالق حقیقی کے تعلق پر روشنی ڈال رہے ہیں۔ شاعر کا کہنا ہے کہ انسان کے تمام افعال و اعمال اللہ تعالیٰ کی عطاکردہ قوت و طاقت کے زیر بار ہیں۔ اس شعر میں ”راہ“ کے دو معنی لیے جاسکتے ہیں۔ ایک عام راہ ہے جس پر انسانی قدم چلتے ہیں۔ ”راہ“ کا دوسرا مطلب اچھائی یا برائی ہے۔

          تشریح طلب شعر کے پہلے مصرع میں لفظ ”نور نظر“ انتہائی کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ شاعر نے اللہ تعالیٰ کی راہنمائی کو ”نور نظر“ یعنی آنکھوں کے نور یا بینائی سے تشبیہ دے کر یہ بات سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ جس طرح آنکھ کی بینائی ہمیں راستہ دکھاتی ہے اور ہم ادھر اُدھر ٹھوکریں کھانے کی بجائے سیدھے اور صاف راستے پر گامزن رہتے ہیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کی راہنمائی بھی قدم قدم پر ہمارے شامل حال رہتی ہے۔ اگر اللہ رب العزت توفیق نہ بخشے اور اُس کی رحمت شامل حال نہ ہو تو ہم اچھے برے راستے کے بارے میں جان ہی نہ سکیں قرآن پاک میں ہے۔

ﯘاَللّٰهُ وَلِيُّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا  ۙيُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ ڛﯗ

ترجمہ:   اللہ اہل ایمان کا دوست ہے وہ انہیں اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتا ہے۔

          اس دنیا میں انسان کے سامنے اچھائی اور برائی کے دونوں راستے کھلے ہیں مگر انسانی عقل ان میں سے اصل راہ یعنی ”صراط مستقیم“ کا تعین کرنے سے قاصر ہوتی ہے۔ شاعر کے نزدیک یہ خدا کی ذات ہی ہے جو اس مقام پر آنکھوں کے نور کی طرح اس کی رہنما ئی کرتی ہے اور اُسے غلط اور درست راہ میں تمیز کرنے کی صلاحیت عطا کرتی ہے۔ دردؔ نے اسی بات کو اپنے ایک اور شعر میں یوں کہاہے:۔

جوں نور نظر تیرا تصور

 تھا پیش نظر جدھر گئے ہم

          خواجہ میردرد ؔکا تعلق صوفیاءکے اس طبقہ سے ہے جو ”وحدت الوجود“ کے قائل ہیں ان صوفیا کا عقیدہ ہے کہ انسان اس دنیا میں بے بس اور مجبور محض ہے۔ وہ اس قدر مجبور اور لاچار ہے کہ اپنی مرضی سے ایک قدم بھی نہیں رکھ سکتا۔ میر ؔنے ایک شعر میں اسی طرف اشارہ کیا ہے:

ناحق ہم مجبوروں پر تہمت ہے مختاری کی

 چاہے ہے سو آپ کرے ہے، ہم کو عبث بدنام کیا

          ابراہیم ذوق  نےاسی مضمون پر یوں شعر باندھا ہے۔

 لائی حیات آئے، قضا لے چلی، چلے

اپنی خوشی نہ آئے، نہ اپنی خوشی چلے

            تشریح طلب شعر سے یہ بھی نکتہ واضح ہوتا ہے کہ انسان کو دنیا کی وقتی کامیابیوں پر غرور اور تکبر کا شکار نہیں ہونا چاہے۔ غرور و تکبر اُسے زیب نہیں دیتا۔ انسان تو کائنات میں انتہائی عاجز و درماندہ عنصر ہے۔ خالق کائنات کی عنایت نہ ہو تو وہ تو زمین پرچل پھر بھی نہ سکے۔ ایسی بے مائیگی میں بھلا وہ کس چیز پر اترائے گا! وہ تو ایک ایک سانس کے لیے محتاج ہے۔ پس اُسے چاہیے کہ خالق ارض و سما کا شکرگزار بندہ بن کر رہے کہ کامیابی اور فلاح اسی میں مضمر ہے۔یہ شعر سادہ آسان، اور عام فہم اور رواں ہے۔ یہ شعر حسن بیان اور حسن کلام کی عمدہ مثال ہے۔

شعر 6: آہ! معلوم نہیں ، ساتھ سے اپنے شب و روز

لوگ جاتے ہیں چلے ، سو یہ کدھر جاتے ہیں 

مشکل الفاظ کے معانی

 
 
الفاظ معانی
آہ کلمہ افسوس
شب و روز رات اور دن
 

مفہوم

افسوس! ہمیں یہ علم نہیں کہ ہمارے ساتھ سے ’دن رات‘ لوگ چلے تو جاتے ہیں، مگر نا جانے کہاں جاتے ہیں؟

تشریح

: صوفیانہ طرز میں کہے گئے اس شعر میں شاعر نے حیات بعد از موت کو بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ حقیقت میں یہ شعر صنعت تجاہل عارفانہ کی عمدہ مثال ہے۔ صنعت تجاہل عارفانہ میں شاعر حقیقت جاننے کے باوجود اپنی لاعلمی کا اظہار کرتا ہے۔ یہاں میردرد ؔنے ایک آفاقی حقیقت کو نہایت خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔ یہ دنیا جب سے بنی ہے، اس میں لوگوں کا آنا جانا لگا ہوا ہے تاہم یہ معلوم نہیں ہو سکاکہ لوگ کدھر سے آتے ہیں اور سب کچھ چھوڑ کر کہاں چلے جاتے ہیں۔ اقبال ؒجیسا فلسفی شاعر بھی اس سوال کو یوں بیان کرتاہے۔

نہ سمجھا آج تک کوئی کہ انساں

کہاں جاتا ہے، آتا ہے کہاں سے

          انسانی فنا اور بقا کا مسئلہ صرف شعرا ہی کا موضوع نہیں رہابلکہ ہر دور کے فکرو فلسفے کا بھی انتہائی اہم موضوع رہا ہے ۔فلسفہ اور سائنس اس بات کا جواب دینے میں قاصر ہیں کہ انسان مرنے کے بعد کہاں جاتا ہے؟ اس حوالے سے میر ؔکہتے ہیں۔

مرگ اک ماندگی کا وقفہ ہے

یعنی آگے چلیں گے دم لے کر

          میردرد ؔخود بہت بڑے عالم دین تھے۔ قرآن و حدیث، فقہ، کلام اور تصوف جیسے دینی علوم پہ دسترس  رکھتے تھے۔ تاہم اس شعر میں ان کا لہجہ استفہامیہ بھی ہے اور استعجابیہ بھی۔ ان کا ایک اور شعر بھی اسی حوالے کا ہے۔

درد ؔ کچھ معلوم ہے یہ لوگ سب

کس طرف سے آئے تھے، کیدھر چلے؟

          تشریح طلب شعر میں ”آہ“ حرف تاسف ہے جس نے شعر میں جان پیدا کردی ہے۔ چناں چہ شاعر افسوس بھرے لہجہ میں کہہ رہے ہیں کہ آج تک کوئی نہیں جان پایا کہ یہ ہمارے ساتھ شب و روز گزارنے والے لوگ کہاں چلے گئے! شاعر کے سوالیہ انداز نے شعر کو پر معنی بنا دیاہے۔ کائنات اور زندگی کی ابتداءاور انتہاکے بارے میں ہمیشہ سے سوالات پیدا ہوتے رہے ہیں۔ اس دنیا میں آنے والے لوگ عدم کے بارے میں نہیں بتا سکتے اور اسی طرح مرنے والے کبھی مڑکر نہیں ملتے کہ اس کے بارے میں بتا سکیں۔ موت کا تجربہ کیا ہوتا ہے؟ اگلا جہان کیا ہے؟ موت کے بعد انسان کس حال میں اور کس رنگ میں ہوتے ہیں۔ ان سوالات کے جوابات کوئی نہیں دے سکا۔

          تجسس کا مادہ انسانی فطرت کا خاصہ ہے۔ انسان آنکھوں سے اوجھل چیز وں کو سمجھنے اور جاننے کا خواہاں رہا ہے اور ان کے متعلق سوالات اُبھارتا رہا ہے۔ میر درد ؔنے بھی مرنے والے کے متعلق سوال اُٹھایا کہ انسانی تجسس اور غیر معلوم حقیقتوں کو سمجھنے کی جستجوکی ہے۔ اقبالؔ کا تجسس بھر اشعر بھی یوں ہے۔

حیراں ہے بوعلی کہ میں آیا کہاں سے ہوں

رومی یہ پوچھتا ہے کہ جاؤں کدھر کو میں

 


Share With Others

اس موضوع پر مزید پڑھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *