نظیر اکبر آبادی کا تعارف اور نظم "تسلیم و رضا" کی مکمل تشریح

نظیر اکبر آبادی کا تعارف اور نظم “تسلیم و رضا” کی مکمل تشریح

Share With Others

شاعر کا تعارف اور نظم “تسلیم و رضا” کی مکمل تشریح

شاعر کا تعارف

اصل نام سید ولی محمد، تخلص نظیر۔ 1735ء میں اکبر آباد (آگرہ) پیدا۔ والد سید محمد فاروق۔ اکلوتی اولاد، لاڈلے۔ قادر الکلام، 2 لاکھ اشعار (6 ہزار محفوظ)۔ موضوعات کا تنوع، جزئیات نگاری، ظرافت، صوتی حسن، نغمگی۔ مجموعہ “کلیات نظیر اکبر آبادی”۔ عوامی شاعر، طویل العمر، ہر موضوع پر مہارت۔

نظم کا تعارف

اصل نام “خوش حال نامہ”، نصاب میں “تسلیم و رضا”۔ مسدس کی شکل (ہر بند 6 مصرعے: پہلے 4 ہم قافیہ، آخری 2 الگ قافیہ)۔ “کلیات نظیر” میں 15 بند، نصاب میں 5 (پہلا، تیسرے سے پانچویں، آخری)۔ موضوع: تصوف، اہل فقر کی صفات، مرضی کو اللہ کی مرضی تابع، “جو دم غافل سودم کافر” کا عملی نمونہ، غم تنگ دستی ثروت عسرت میں رضا، سر تسلیم خم۔

نوٹ: ہر بند کی تشریح کے آغاز میں اختصار سے:

عوامی شاعر نظیر اکبر آبادی نے ہر موضوع پر مہارت دکھائی۔ نصاب نظم “تسلیم و رضا” تصوف پر، اہل فقر کی صفات، مرضی اللہ کی تابع، ہر حال میں رضا، سر تسلیم خم…


بندوں کی تشریح (نصاب کے 5 بند)

1. بند (پہلا):

ہر کام میں، ہر دام میں، ہر حال میں خوش ہیں

جو فقر میں پورے ہیں وہ ہر حال میں خوش ہیں

بے زر جو کیا تو اُسی احوال میں خوش ہیں

گر مال دیا یار نے تو مال میں خوش ہیں

افلاس میں، ادبار، اقبال میں خوش ہیں

پورے ہیں وہی مرد جو ہر حال میں خوش ہیں

ڈیرہ غازی خان 2010، لاہور 2009، راولپنڈی 2013، سرگودھا 2013

الفاظ و معانی:

 
 
الفاظ معانی الفاظ معانی
فقر درویشی، افلاس دام قیمت
زر دولت بے زر بغیر دولت
افلاس غربت ادبار بدنصیبی
اقبال خوش نصیبی مرد انسان
پورے مکمل احوال حالات
 

مفہوم: کامل درویش ہر حال میں خوش۔ دولت ہو یا نہ، غربت تنزل بلندی میں خوش۔ یہی مرد مکمل۔

تشریح: درویشوں کی تعریف۔ فقر: غربت نہیں، درویشی۔ حدیث: الفقر فخری۔ تصوف: ف (فاقہ)، ق (قناعت)، ر (رضا)۔ دنیا سے کم تعلق، صبر استقامت، رضا۔ شان بے نیازی۔

رضا کی منزلیں ترک طلب سے ہاتھ آتی ہیں یہاں دامن سمیٹا جاتا ہے پھیلایا نہیں جاتا دولت: شکر، راہ خدا میں۔ فاقہ: شکایت نہیں، صابر شاکر۔ قرآن: إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ۔ تسلیم رضا پر مکمل مرد۔ سادگی، سلاست۔ تضاد: زر بے زر، اقبال ادبار۔ تکرار الف لام سے موسیقیت۔

2. بند (نصاب دوسرا، اصل تیسرا):

گھر بار چھڑایا تو وہیں چھوڑ کے بیٹھے

گریار کی مرضی ہوئی، سر جوڑ کے بیٹھے

گدڑی جو سلائی تو وہی اوڑھ کے بیٹھے

موڑا انہیں جدھر، وہیں منہ موڑ کے بیٹھے

اور شال اڑھائی تو اسی شال میں خوش ہیں

پورے ہیں وہی مرد جو ہر حال میں خوش ہیں

الفاظ و معانی:

 
 
الفاظ معانی الفاظ معانی
یار دوست (اللہ) سر جوڑ کے قریب، مشورہ
چھڑانا الگ کرنا جدھر جس طرف (متروک: جدھر)
گدڑی پیوند لباس شال اونی چادر
 

مفہوم: جدائی ملاپ، گدڑی شال، ہر حال تسلیم۔ یہی مکمل انسان۔

تشریح: اللہ کی رضا تابع۔ ذاتی خواہش اسیر نہیں۔ گھر اولاد: خوش۔ ہجرت: خوشی سے۔

فقیری میں ہوں، مجھ کو مانگنے سے شرم آتی ہے سوالی ہو کے مجھ سے ہاتھ پھیلایا نہیں جاتا گدڑی: عار نہیں۔ شال (امارت): شکر۔ ہر ایک عمل زیست کا بس تیرے لیے ہو ہر گام رہے فکر مجھے تیری رضا کی (حافظ لدھیانوی) دریا کوزے میں۔ محاورے: سر جوڑنا، منہ موڑنا۔ فنی مہارت۔

3. بند (نصاب تیسرا، اصل چوتھا):

اور اُس نے جو ماتم دیا، ماتم میں رہے خوش

گر اس نے دیا غم تو اسی غم میں رہے خوش

جس طور کہا اُس نے، اُسی عالم میں رہے خوش ک

ھانے کو ملا کم تو اسی کم میں رہے خوش

دکھ درد میں، آفات میں، جنجال میں خوش ہیں

پورے ہیں وہی مرد جو ہر حال میں خوش ہیں

لاہور بورڈ 2010

الفاظ و معانی:

 
 
الفاظ معانی الفاظ معانی
ماتم سوگ طور طریقہ
آفات مصیبت عالم حالت
جنجال مشکل    
 

مفہوم: دکھ ماتم غم، کم کھانا، مصیبتوں میں خوش۔ رب کی طرف سے، مرد مکمل۔

تشریح: اچھے برے حالات۔ غم: آزمائش، صبر۔ عزیز وفات: صبر۔

خوش رہا جب تلک رہا جیتا میرؔ معلوم ہے قلندر تھا پیٹ بھر نہ: شکایت نہیں۔ زیادہ: خوش۔ انداز اللہ کا: قبول۔ إنا لله وإنا إليه راجعون۔ آہ بکا نہیں۔ آسان رواں، اختصار۔ میم تکرار، ردیف سے موسیقیت۔

4. بند (نصاب چوتھا، اصل پانچواں):

یکساں ہے انہیں زندگی اور موت کا عالم

جینے کا نہ اندوہ، نہ مرنے کا ذرا غم

نہ شب کی مصیبت، نہ کبھی روز کا ماتم

واقف نہ برس سے، نہ مہینے سے وہ

اک دم دن رات، گھڑی پہر، مہ و سال میں خوش ہیں

پورے ہیں وہی مرد جو ہر حال میں خوش ہیں

بہاولپور 2009، لاہور 2013

الفاظ و معانی:

 
 
الفاظ معانی الفاظ معانی
یکساں برابر واقف جاننے والا
برس سال شب رات
گھڑی ساعت پہر دن کا چوتھا حصہ
مہ مہینہ سال بارہ مہینے
 

مفہوم: زندگی موت برابر۔ جینا مرنا غم نہیں۔ وقت کی کیفیات پریشان نہیں۔ ہر لمحہ خوش۔

تشریح: تسلیم رضا سراپا۔ جینا مرنا اللہ کے لیے۔ صوفی: قبل الموت موت (مرنے سے پہلے مرجاؤ)۔ موت: نئی زندگی۔

موت کو سمجھے ہیں غافل اختتامِ زندگی ہے یہ شامِ زندگی، صبح دوامِ زندگی دنیاوی رنگینیں بے معنی۔ وقت نہیں تولتے۔ ہم اہل وفا اس کی شکایت نہ کریں گے درویش ہیں، توہین محبت نہ کریں گے موت کیا آ کے فقیروں سے تجھے لینا ہے مرنے سے آگے ہی یہ لوگ تو مر جاتے ہیں حقیقت نگاری، پند نصیحت۔ سادگی بلاغت۔ تضاد: زندگی موت، شب روز۔

5. بند (نصاب پانچواں، اصل آخری):

سب ایسے تو دنیا میں ولی، کم ہیں نظیرآہ

ان کے تو جہاں میں عجب عالم ہیں نظیر،آہ

ہر وقت میں، ہر آن میں خرم ہیں نظیر،آہ

کیا جانے، فرشتے ہیں کہ آدم ہیں نظیر، آہ

جس ڈھال میں رکھا، وہ اسی ڈھال میں خوش ہیں

پورے ہیں وہی مرد جو ہر حال میں خوش ہیں

الفاظ و معانی:

 
 
الفاظ معانی الفاظ معانی
عجب عجیب عالم حالت
خرم خوش ڈھال انداز
ولی اللہ کا دوست    
 

مفہوم: درویش کم، عجیب عالم۔ فرشتے یا انسان؟ ہر ڈھال میں خوش۔ یہی مکمل مرد۔

تشریح: درویش مختلف، کم۔ فرشتہ صفات: عبادت، تقویٰ، انسان دوستی۔ مطمئن، رضا پر خوش۔ افسوس عام لوگوں پر (“آہ”: تاسف)۔ صنائع: تضاد (آدم فرشتہ)، مترادف (جہاں دنیا، وقت آن)۔ تکرار سے موسیقیت، بحر خوبصورت۔


نظم کا خلاصہ

بہاولپور 2008-10، لاہور 2008، ملتان 2007-09، گوجرانوالہ 2012، فنی بورڈ 2013 اہل فقر ہر حال کام دام میں خوش۔ دولت محرومی، غربت تنزل بلندی میں خوش۔ گھر چھڑایا یا بٹھایا، گدڑی شال، خوش۔ غم ماتم، کم کھانا، دکھ مصیبتوں میں خوش۔ زندگی موت، دن رات غم نہیں، وقت یکساں۔ افسوس! ایسے کم۔ فرشتے یا انسان؟ جس ڈھال میں، خوش۔ یہی مرد مکمل۔

یہ نظم تصوف، تسلیم رضا، سادگی، موسیقیت، تضاد کی تصویر۔ درویش کی زندگی کا عملی نمونہ۔


Share With Others

اس موضوع پر مزید پڑھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *