سبق کا عنوان مولانا ظفر علی خاں عبارت نمبر1
عبارت نمبر1
ان دنوں ”نئی دنیا“ کا دفتر چونا گلی میں ہوا کرتا تھا۔ سٹرک کے کنارے ایک چھوٹا سا مکان تھا۔ باہر ایک طرف عصرِ جدید پریس، دوسری طرف حکیم غلام مصطفی کا مطب۔ دروازے سے اندر گھسو تودا ہنی طرف نئی دنیا آباد تھی اور بائیں طرف مولا نا شائق احمد عثمانی نے پرانی دنیا بسا رکھی تھی، یعنی اپنے اہل وعیال اور عربی کی بھاری بھر کم کتابوں سمیت رہتے تھے۔ میں اس نئی دنیا کا کولمبس تھا اور مقا لہ افتتاحیہ کے جہاز کے ساتھ ساتھ فکاہات کی کشتی بھی چلاتا تھا، افسوس کہ یہ محفل سال بھر کے اندراندر برہم ہوگئی، نہ نئی دنیا رہی نہ پرانی دنیا، رہے نام اللہ کا۔ (صفحہ54)
حوالہ اقتباس:
ان دنوں نئی دنیا کا دفتر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رہے نام اللہ کا۔
:حوالہ متن
سبق کا عنوان: مولانا ظفر علی خاں
مصنف کا نام: چراغ حسن حسرت
سیاق وسباق: تشریح طلب اقتباس سبق کے ۔۔۔سے لیا گیا ہے۔چراغ حسن حسرت بتاتے ہیں کہ میں نے آج سے کوئی دس قبل کلکتہ میں اخبار”نئی دنیا“ کے دفتر میں پہلی بار مولانا ظفر علی خاں کو دیکھا۔ میرے تصور کے برعکس عام لیڈروں کی مانند نہ تو ان کی توند تھی اور نہ مولانا حضرات کی مانند ان کے کندھے پر عمامہ تھا۔ مجھے لاہور میں ان کے اخبار”زمیندار“ میں ان کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا تو ان کی اور بہت سی خوبیوں کے ساتھ ساتھ اس بات کا پتہ چلا کہ وہ باقاعدگی سے لمبی سیر اور سخت ورزش کے عادی ہیں۔ شاید اسی لیے ان کی توند نہیں ہے۔ مولانا کو شعر کہنے میں کمال حاصل تھا۔ لمبی سے لمبی نظم آدھے گھنٹے میں کہہ لیتے تھے۔ نظم لکھتے تو اخبار کے دفتر کے سب ساتھیوں کو سناتے۔ اپنے اخبار میں لکھی گئی زبان اور کتابت کی غلطیوں کا خاص خیال رکھتے تھے۔ اگر کسی دن اخبار میں ایسی غلطیاں کچھ زیادہ نکل آتیں تو اخبار بند کرنے کی دھمکی دے دیتے۔
تشریح: ہندوستان میں مسلمانوں کے حقوق کے حصول کے لیے بہت سے سیاسی رہنماؤں نے اپنی تحریروں کے ذریعے اپنے مطالبات بیان کیے اور اس سلسلے میں کئی مسلمان رہنماؤں نے اخبارات ورسائل کی اشاعت کی۔تشریح طلب نثر پارہ چراغ حسن حسرت کے مضمون ،”مو لانا ظفر علی خاں “جو صنف کے حوالے سے شخصی خاکہ ہے سے ما خوذ ہے۔
تشریح طلب اقتباس میں مصنف چراغ حسن حسرت نے اخبار’’ نئی دنیا‘‘ میں اپنی ملازمت کے خوبصورت دورانیے کو یاد کیا ہے کہ اخبار’’ نئی دنیا‘‘ کا دفتر ، جہاں پر اس کی طباعت واشاعت کی جاتی تھی کلکتہ کے ایک مشہور علاقے چونا گلی میں واقع تھا۔ جبکہ سڑک کے دوسری طرف حکیم غلام مصطفی خاں کا دواخانہ تھا۔ چراغ حسن حسرت اپنے اس شخصی خاکے میں بڑی چابکدستی سے تاریخی اور لفظی مناسبت سے کام لیتے ہیں ۔تاریخ میں جھانکا جائے تو سلطان محمد فاتح کے زمانے میں سپین اور پرتگال کی ریاستوں نے حکومتی سطح پر اپنے مشہور جہازرانوں کو یورپ سے ایشیا جانے کے لیے متبادل آبی گزرگاہ کی تلاش کے لیے روانہ کیا تو کولمبس راستہ بھول کر امریکا جا پہنچا ۔ جو ’’نئی دنیا ‘‘ کہلایا۔ مولانا شائق احمد عثمانی اپنا اخبار ’’نئی دنیا‘‘کلکتہ سے نکالتے تھے۔ اس اخبار میں چراغ حسن حسرت ، کوچہ گردکے قلمی نام سے” کلکتہ کی باتیں “کے عنوان سے کالم لکھا کرتے تھے۔ مصنف اس اخبار سے۱۹۲۸ءتک وابستہ رہے۔ مولانا شائق احمد عثمانی کے اخبار کا نام ’’نئی دنیا‘‘ نئے رحجانات کی نمائندگی کے حوالے سے ہے۔ ’’نئی دنیا‘‘ (امریکا) کے ساتھ کولمبس کا نام جڑا ہوا ہے شاید اس رعایت سے چراغ حسن حسرت نے اپنا قلمی نام ’’کولمبس‘‘ رکھا تھا۔کلکتہ کی بندرگاہ پر واس کوڈے گاما آیا تھا اور ’’نئی دنیا‘‘ کا دفتر بھی کلکتہ میں تھا ۔ یہ تاریخی اور لفظی مناسبتیں مولانا شائق احمد عثمانی کے تاریخی اور علمی و ادبی شعور اور اُن کے مزاج کی لطافت کو ظاہر کرتے ہیں۔
مصنف لکھتے ہیں کہ سڑک کے کنارے ایک چھوٹا سا مکان تھا ۔باہر کی طرف ایک پرنٹنگ پریس تھا جسے ’’عصرِ جدید پرنٹنگ پریس‘‘ کہا جاتا تھا۔ ’’عصر جدید پرنٹنگ پریس ‘‘ بھی ایک لفظی مناسبت کا حامل نام ہے کلکتہ شہر بندرگاہ ہونے کی وجہ سے برصغیر کے اُن شہروں میں شامل رہا ہے جہاں جدید رحجانات سب سے پہلے متعارف ہوئے۔ مولانا شائق احمد عثمانی نے صرف اخبار کا نام ’’نئی دنیا ‘‘ نہ رکھا بلکہ پرٹنگ پریس کا نام بھی ’’عصر جدید ‘‘ رکھا جو اُن کی زندگی کے بارے میں نئے رحجانات کو اپنانے کو ظاہر کرتا ہےلیکن وہ اپنی وضع قطع کےا عتبار سے پرانی دنیا لگتے تھے۔ اُن کی عمر خاصی ہوچکی تھی۔ پھر اُن کے پاس جو کتب کا ذخیرہ تھا وہ بھی فارسی اور عربی زبان کی قدیم کتب تھیں۔ گویا پرانی دنیا اور نئی دنیا آمنے سامنے آباد تھیں ۔یوں مولانا اپنی پرانی دنیا کے ساتھ خاندان سمیت رہائش پذیر تھے۔
چراغ حسن حسرت نئی دنیا کے دفتر میں ملازمت کے دوران میں اپنا تعارف کرواتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ جب اس اخبار کے کارکن بنے تو وہ کولمبس کے نام سے کالم لکھا کرتے تھے۔ علاوہ ازیں وہ اداریہ جیسے عظیم کام کو بخوبی سر انجام دینے کے ساتھ ساتھ مختلف عنوانات ’’کولمبس‘‘، ’’سندباد جہازی‘‘ کے نام سے فکاہیہ تحریر یں بھی لکھا کرتے تھے ۔ ’’فکاہیہ‘‘ اخباری اصطلاح میں ایسے موضوعات پر مبنی تحریروں کو کہتے ہیں جو روز مرہ زندگی کی ترجمانی کرتی ہوں ایسی تحریروں کا مقصد حالات کی سنگینی کو کم کرکے لوگوں اور حالات کی اصلاح کرنا ہوتا ہے مصنف نے فکاہات کی کشتی سے یہی مراد لیا ہے۔
مصنف نے خود کو نئی دنیا کا کولمبس اس لیے بھی کہا ہے کہ کسی اخبار کا اداریہ کسی اخبار کی پالیسی کا مظہر ہوتا ہے اور اسے لکھنے میں بہت محنت درکار ہوتی ہے اور وہ یہ فریضہ خوش اُسلوبی سے انجام دیتے تھے ۔دوم کولمبس نے جو نئی دنیا دریافت کی تھی اُسی نسبت سے اخبار’’نئی دنیا‘‘ کا کولمبس مصنف تھا۔
اخبار میں اداریہ کی نسبت مزاحیہ کالم لکھنا قدرے آسان ہوتا ہے اس لیے مصنف نے اس کام کو کشتی چلانا لکھا ہے۔مگر سب سے بڑی المناک بات تو یہ ہے کہ نئی دنیا اخبارکے مالک مولانا شائق احمد عثمانی انتقال کر گئے ۔ مولانا کے بعد اس اخبار کو جاری رکھنا ممکن نہ رہا اور اُن کی پرانی دنیا کے ساتھ نئی دنیا بھی ختم ہوگئی کہ ہر شے عارضی اور ناپائیدار ہے بقا ہے تو فقط اللہ تعالیٰ کی ذات کو جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ کے لیے ہے۔
