قرطبہ کا قاضی مصنف:سید امتیا زعلی تاج کا خلاصہ
مصنف کا تعارف
امتیاز علی تاج 13 اکتوبر 1900 کو لاہور میں پیدا ہوئے اور ایک قاتلانہ حملے میں 1970 کو فوت ہوگئے۔ سید امتیاز علی تاج دور جدید کے مستند ادیب ،افسانہ نگار، اور ماہر ڈراما نویس ہیں۔ انہوں نے اوائل عمرہی میں تھیٹر اور ڈراما کا بہت قریب سے مشاہدہ کیا۔ ذوق سلیم کی کامل صلاحیتوں کے لحاظ سے فنی نکات پر عبور رکھتے ہیں۔ مکالموں میں جذبات کا ایک سیل رواں اُمڈا چلا آتا ہے۔ قاری اس سیل رواں میں بہتا چلا جاتا ہے۔کرداروں کی خود کلامی قاری کو مسحور کر دیتی ہے۔ خود کلامی کرنے والے کر دار در اصل اپنے داخلی کرب اور اندرونی کش مکش کو اپنے مکالمات کے ذریعے پیش کرتے ہیں۔سید امتیاز علی تاج نے مکالمہ نگاری کے فن کو اوج کمال تک پہنچا دیا ہے۔ اس سے اردو ڈراما کی ثروت میں اضافہ ہوا ہے۔ سید امتیاز علی تاج کو نفسیاتی کیفیات اور قلبی احساسات کے بیان پر جو قدرت حاصل ہے وہ ان کے اُسلوب کا نمایاں ترین وصف ہے۔ تمام کردار موقع اور محل کی مناسبت سے جو گفتگو کرتے ہیں وہ نہ صرف ان کے حسب حال ہوتی ہے بلکہ اسے سن کر قاری کی آنکھیں بھی پر نم ہو جاتی ہیں۔سید امتیاز علی تاج کے ڈرامے موضوع، مواد، حسن بیان، مکالمہ نگاری اور کردار نگاری کے انتہائی دلکش انداز کی خوبیوں سے مالامال ہیں۔
ڈراما کے فن میں اتنی ترقی کی کہ بائیس برس کی عمر میں ڈراما ’انار کلی‘ لکھا جو اُردو ڈرامہ کی تاریخ میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے اس کے بعد بچوں کے لیے کئی کتابیں لکھیں۔ کئی ڈرامے سٹیج، فلم اور ریڈیو کے لیے تحریر کیے۔ انہوں نے بہت سے انگریزی اور فرانسیسی زبان کے ڈراموں کا ترجمہ کیا اور یہاں کے ماحول کے مطابق ڈھال لیا۔ قرطبہ کا قاضی)انگریز ڈرامہ نویس لارنس ہاؤس مین کے ڈرامے کا ترجمہ ہے اور (خوشی) پیٹرویبر فرانسیسی ڈراما نگار سے لیاگیا ہے۔ (چچا چھکن) ان کی مزاح نگاری کی عمدہ کتاب ہے۔ اس کے علاوہ محاصرہ غرناطہ (ناول) اور ہیبت ناک افسانے بھی مشہور ہوئے۔ تاج کو حکومت پاکستان نے ستارہ امتیاز اور ڈرامے کے صدارتی اعزاز سے نوازا۔
اندلس کے شہر غرطانہ میں قاضی یحییٰ بن منصور کے مکان کے ایک ایوان میں علی الصبح حلاوہ نامی ایک خاتون افسردگی کے عالم میں بینچ پر بیٹھی ہوئی تھی۔ اسی اثنا میں عبداللہ نامی غلام جو یحییٰ بن منصور کا قدیمی نوکر تھا، کمرے میں داخل ہوا اور حلاوہ کو اس بات پر برا بھلا کہنے لگا کہ وہ زبیر کی پھانسی کے منحوس کلمات اپنی زبان سے کیوں نکال رہی ہے۔ حلاوہ نے مایوسی سے کہا کہ آج زبیر کی زندگی کا آخری دن ہے وہ عدالت کی حراست میں ہے اور شام ہونے سے پہلے پہلے اس کی زندگی ختم کر دی جائے گی۔ وہ رب العالمین سے زبیر کی زندگی کے لیے دعائیں مانگتی ہے۔
عبداللہ حلاوہ کو حوصلہ دیتا ہے کہ پورے غر ناطہ میں قاضی کو ایسا کوئی شخص نہ مل سکے گا جو زبیر کو پھانسی پر لٹکائے۔ دوسرے شہروں سے آنے والوں سے بھی قسم لی جائے گی کہ وہ زبیر کے خون سے ہاتھ نہیں رنگیں گے۔ آج کسی بھی صورت میں قاضی کے حکم کی تعمیل نہیں ہونے دی جائے گی۔ حلاوہ نے کہا کہ میں اپنی چشم تصور میں سولی پر لٹکتی ہوئی زبیر کی لاش کو دیکھ چکی ہوں۔حلاوہ کو عبداللہ پھر یقین دلاتا ہے کہ سوائے ابلیس کے قاضی کے فتوے پر کوئی عمل نہ کرے گا۔ لیکن حلاوہ کی آنکھیں پتھرائی رہتی ہیں۔
عبداللہ نے کہا کہ زبیر کو پھانسی کی سزا کا حکم سنانا غلط ہے کیونکہ اس نے یہ خون اپنی محبت اور اپنی غیرت کی خاطر کیا ہے۔مقتول کو زبیر کی محبوبہ سے محبت تھی اور یہ بات زبیر کی برداشت سے باہر تھی کہ کوئی غیر اس کی محبت میں کود پڑے۔ حلاوہ نے کہا کہ حقیقت تو یہ ہے کہ زبیر نے خون کیا ہے اور اس کی سزا کے طور پر آج اسے پھانسی پر لٹکا دیا جائے گا۔عبداللہ نے کھڑکی میں سے چوک کا منظر حلاوہ کو دکھاتے ہوئے کہا کہ سولی کے ارد گرد لوگوں کا ہجوم اس لیے نہیں کہ وہ تماشا دیکھنے کے لیے کھڑے ہیں، بلکہ یہ سب لوگ اس لیے جمع ہیں کہ زبیر کسی بھی صورت میں پھانسی پر لٹکتا ہو انہیں دیکھیں گے۔
اسی دوران قاضی وہاں آ جاتا ہے۔ حلاوہ قاضی کو احساس دلانے کی کوشش کرتی ہے کہ وہ زبیر کو سولی پر نہ چڑھائے۔ وہ قاضی سے کہتی ہے کہ زبیر کی زندگی بچانے کے لیے میں نے اسے دودھ پلایا،اس کی ماں تو اسے جنم دیتے ہی چل بسی تھی۔ یہ آپ کا خون ہے۔ کیا آپ ہی اسے موت کے سپرد کر دیں گے۔ حلاوہ نے ممتا کی محبت کے واسطے دیے کہ وہ زبیر کی جان بخشی کر دے لیکن قاضی نے مختصر سا جواب دیا کہ تم نے جو کچھ کہنا تھا ، کہہ چکی۔ قاضی عدالت کے اہل کاروں کو بلا کر پوچھتا ہے کہ ابھی تک موت کا ڈھنڈورا کیوں نہیں پیٹا گیا تو معلوم ہوتا ہے کہ سولی دینے والا موجود نہیں۔ قاضی اِن سے کہتا ہے کہ تم میں سے کسی کو یہ فریضہ انجام دینا ہو گا مگر ان میں سے کوئی آمادہ نہیں ہوتا۔
قاضی نے کھڑکی میں سے چوک میں کھڑے لوگوں میں سے کسی کو یہ خدمت سر انجام دینے کو کہا تو ہجوم نے اسی کی بات ہنسی میں اڑا دی۔ اس دوران میں قاضی ناظرِ عدالت کے آفسر کو قید خانے کی چابیاں دے کر حکم دیتا ہے کہ مجرم کو پھانسی کے چبوترے کی طرف لے جائے۔پس منظر میں کوسِ رحلت بجنے لگتا ہے۔ قانون کے احترام اور انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے باپ نے اپنے ہاتھوں بیٹے کو سولی پر لٹکا دیا۔
قاضی بہت بوجھل اور تھکے ہوئے قدموں سے واپس آتا ہے۔ خود کو سنبھالتا ہوا اپنے کمرے میں جاتا ہے اور دروازہ مقفل کر کے اس کی کھڑکی بھی بند کر لیتا ہے۔ حلاوہ جانتی ہے کہ دنیا والے اب قاضی کو کبھی نہ دیکھ سکیں گے۔
اہم توضیحات:
|
الفاظ |
معانی |
الفاظ |
معانی |
|
قرطبہ |
ہسپانیہ/سپین کے جنوبی علاقے میں مسلمانوں کا بسایا ہوا ایک مشہور شہر جو مسلمان حکمرانوں کا پایہ سلطنت رہا۔ |
||
|
غرناطہ |
آج کل جنوبی ہسپانیہ /اندلس کے صوبہ غرناطہ کا دارالحکومت ۔ بلند پہاڑی پر آباد اس شہر میں عربوں کی بہترین تاریخی یاد گار قصر الحمر اواقع ہے۔ |
||
|
خانہ زاد |
غلام ۔ نوکر جو گھر میں پیدا ہوا ہو۔ قدیمی ملازم |
||
|
ناظر عدالت |
عدالت کا ایک عہدیدار جو ماتحت ملازموں کی نگرانی کرتا ہے |
||
|
شمع دان |
وہ برتن جس میں موم بتی رکھ کر جلاتے ہیں۔ |
||
|
دھند لکا |
علی الصبح۔ نور کا تڑکا |
بدفال |
براشگون |
|
نحس کلمے |
منحوس باتیں |
فتویٰ |
شرعی فیصلہ |
|
حریص |
لالچی۔ یہاں پر پیٹو کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ |
||
|
نشتر زبان |
ایذا/دکھ دینے والی باتیں کرنے والا/بددعا اللہ کرے تیری زبان نشتر سے کٹ جائے |
||
|
سجیلا |
بانکا۔ چھبیلا۔ خوبصورت |
چکنی چپڑی باتیں کرنا |
خوشامد کی باتیں کرنا |
|
ہم نسب |
نسل /خاندان کے لحاظ سے ایک ہی مرتبے کا |
||
|
کام تمام کرنا |
جان سے مار ڈالنا |
حجتی |
جھگڑالو۔ تکرار کرنے والا |
|
دار پر لٹکانا |
سولی پر لٹکانا، پھانسی دینا |
پٹ |
دروازہ۔ تختہ |
|
مخلوط |
ملی جلی |
ڈھنڈورا |
اعلان |
|
ابلیس |
شیطان |
مرعوب ہونا |
رعب میں آجانا۔ ڈرجانا |
|
نمک خوار |
غلام ۔ نوکر |
بھنبھناہٹ |
کھسر پھسر۔ ہلکی ہلکی آوازیں |
|
قرعہ اندازی |
کسی کام کے لیے کسی کا نام نکالنے کا طریقہ |
||
|
استہزا |
ہنسی اڑانا۔ مزاق کرنا |
کوس رحلت |
کوچ کا نقارہ ۔ موت کا اعلان |
|
آنکھ کا تارا |
بہت پیارا۔ لاڈلا |
دلدوز |
درد ناک |
|
مقفل کر لینا |
تالہ لگا کر بند کر لینا |
|
|
