سبق مناقب عمر بن عبدالعزیزؓ

سبق مناقب عمر بن عبدالعزیزؓ

Share With Others

2nd Year Sabaq Munaqib E Umar Bin Abdul Aziz

مصنف کا تعارف: علامہ شبلی نعمانی

علامہ شبلی نعمانی اردو ادب کی ایک عظیم شخصیت ہیں، جن کا شمار اردو سوانح نگاری کے بانیوں میں ہوتا ہے۔ وہ ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے، جو سوانح نگار، مؤرخ، ادیب، شاعر، فلسفی، ناقد، ماہر تعلیم، فقیہ اور محدث کے طور پر مشہور ہیں۔ ان کی تحریروں میں دل آویزی، شگفتگی اور جدت نمایاں ہے۔ شبلی نعمانی سرسید احمد خان کی فکری اور اصلاحی تحریک کے اہم رکن تھے۔ ان کی تصانیف، جیسے کہ الفاروق، سوانح مولانا روم، شعر العجم، مقالات شبلی، اور سیرت النبیﷺ، اردو ادب میں سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔

اہم کلیدی الفاظ: علامہ شبلی نعمانی، اردو سوانح نگاری، الفاروق، سرسید تحریک، مقالات شبلی

سبق کا تعارف: مناقب عمر بن عبدالعزیزؓ

یہ مضمون علامہ شبلی نعمانی کی کتاب مقالات شبلی (جلد چہارم) کا حصہ ہے، جو 1892ء میں ترکی، شام اور مصر کے دورے کے دوران جمع کردہ معلومات پر مبنی ہے۔ یہ مضمون رسالہ الندوہ کے فروری 1905ء کے شمارے میں شائع ہوا اور ایک انگریز مصنف ہنری بیکر کی کتاب کا جائزہ ہے۔ مضمون میں حضرت عمر بن عبدالعزیزؓ کے اخلاق، عدل و انصاف، اور غیر مسلموں کے ساتھ حسن سلوک کو بیان کیا گیا ہے۔

اہم کلیدی الفاظ: مناقب عمر بن عبدالعزیز، مقالات شبلی، سیرت العمرین، عدل و انصاف، اسلامی تاریخ

خلاصہ: عمر بن عبدالعزیزؓ کی سیرت اور کارنامے

حضرت عمر بن عبدالعزیزؓ، جنہیں “عمر ثانی” کہا جاتا ہے، اموی خلافت کے آٹھویں خلیفہ تھے۔ انہوں نے اپنے مختصر دورِ خلافت (717ء-720ء) میں عدل و انصاف، مساوات، اور جمہوریت کے سنہری اصولوں پر عمل کیا۔ ان کے نمایاں کارناموں میں شامل ہیں:

1. جاگیروں کی واپسی

بنو امیہ کے سابقہ حکمرانوں نے عوام کی زمینیں چھین کر اپنے خاندان کو جاگیریں دی تھیں۔ عمر بن عبدالعزیزؓ نے علما سے مشاورت کے بعد ان زمینوں کو اصل مالکوں کو واپس کیا، حتیٰ کہ اپنی ذاتی جاگیریں بھی لوٹائیں۔

مثال: حمص کے ایک عیسائی کی شکایت پر خلیفہ ولید کے بیٹے عباس سے زمین واپس دلوائی گئی۔

اہم کلیدی الفاظ: عمر بن عبدالعزیز، جاگیریں، عدل و انصاف، بنو امیہ، مساوات

2. آزادی رائے کی بحالی

بنو امیہ کے خلیفہ عبدالملک نے آزادی رائے پر پابندی لگائی تھی، لیکن عمر بن عبدالعزیزؓ نے اس بدعت کو ختم کیا۔ انہوں نے دو دیندار افراد کو عدالتی نگرانی کے لیے مقرر کیا تاکہ ان کے فیصلوں پر تنقید کی جا سکے۔ اس سے عوام میں حق گوئی کی جرات پیدا ہوئی۔

اہم کلیدی الفاظ: آزادی رائے، جمہوریت، عدالتی نظام، بنو امیہ، حق گوئی

3. غیر مسلموں کے ساتھ حسن سلوک

عمر بن عبدالعزیزؓ غیر مسلموں کے ساتھ منصفانہ سلوک کرتے تھے۔ انہوں نے گرجا گھر کے متولیوں کے حق میں فیصلہ کیا اور عیسائیوں و یہودیوں کے گھروں میں مہمان بن کر ان کے ساتھ کھانا کھایا، لیکن اس کی ادائیگی ضرور کی۔

اہم کلیدی الفاظ: غیر مسلموں کے حقوق، مساوات، اسلامی جمہوریت، عمر ثانی

4. سادگی اور مساوات

عمر بن عبدالعزیزؓ عام مسلمانوں کے لنگر خانے سے کھانا کھاتے اور ایک درہم روزانہ ادا کرتے تھے۔ انہوں نے اپنی وفات پر صرف 17 دینار چھوڑے، جو ان کی سادگی کی عکاسی کرتا ہے۔

اہم کلیدی الفاظ: سادگی، لنگر خانہ، اسلامی مساوات، عمر بن عبدالعزیز

اہم واقعات اور اقتباسات

اقتباس 1: جاگیروں کی واپسی

“ان کا ایک اور کارنامہ جو نہایت قابل قدر ہے، سلاطین بنی امیہ کی ناجائز کاروائیوں کا مٹانا تھا۔”

تشریح: عمر بن عبدالعزیزؓ نے بنو امیہ کے ظالمانہ قوانین کو ختم کر کے عوام کی زمینیں واپس کیں، جو اسلامی عدل و انصاف کی بہترین مثال ہے۔

اہم کلیدی الفاظ: جاگیریں، بنو امیہ، عدل و انصاف، اسلامی اصول

اقتباس 2: آزادی رائے

“بنو امیہ کے دفتر اعمال میں سب سے زیادہ قوم کو برباد کرنے والا یہ واقعہ ہے کہ انھوں نے آزادی اور حق گوئی کا استیصال کردیا تھا۔”

تشریح: عمر بن عبدالعزیزؓ نے آزادی رائے کو بحال کیا اور عدالتی نظام میں شفافیت لائی، جو ان کے جمہوری طرزِ حکومت کی عکاسی کرتا ہے۔

اہم کلیدی الفاظ: آزادی رائے، جمہوری اصول، عدالتی شفافیت، عمر بن عبدالعزیز

اقتباس 3: مساوات اور سادگی

“عمر بن عبدالعزیزؓ کی حکومت و سلطنت کا اصل اصول مساوات اور جمہوریت تھا۔”

تشریح: آپؓ کی ذاتی زندگی اور طرزِ حکمرانی میں مساوات اور سادگی نمایاں تھی، جو اسلامی اصولوں کی پاسداری کی مثال ہے۔

اہم کلیدی الفاظ: مساوات، جمہوریت، سادگی، اسلامی طرزِ حکمرانی

اہم توضیحات اور اصطلاحات

  • مناقب: خوبیاں، اچھائیاں، یا اصحاب کبار کی مدح

  • عمر بن عبدالعزیزؓ: آٹھویں اموی خلیفہ، جنہیں “عمر ثانی” کہا جاتا ہے

  • کتب خانہ خدیویہ: قاہرہ کی مشہور لائبریری

  • سیرت العمرین: ابن جوزی کی کتاب، جس میں عمر فاروقؓ اور عمر بن عبدالعزیزؓ کی سوانح ہیں

  • حمص: شام کا تاریخی شہر

  • بنو امیہ: عرب خلفاء کا خاندان (661ء-750ء)

اہم کلیدی الفاظ: اسلامی اصطلاحات، تاریخی شہر، اموی خلافت، سیرت العمرین

حضرت عمر بن عبدالعزیزؓ کی سیرت اسلامی تاریخ کا ایک سنہری باب ہے۔ انہوں نے عدل و انصاف، مساوات، اور جمہوریت کے اصولوں کو نہ صرف اپنی حکومت میں نافذ کیا بلکہ اپنی ذاتی زندگی میں بھی ان پر عمل کیا۔ علامہ شبلی نعمانی نے اپنے مضمون مناقب عمر بن عبدالعزیزؓ میں ان کی شخصیت کو خراج تحسین پیش کیا ہے، جو ہر دور کے لیے ایک عظیم مثال ہے۔

اہم کلیدی الفاظ: عمر بن عبدالعزیز، اسلامی تاریخ، عدل و انصاف، مساوات، شبلی نعمانی

 

اہم توضیحات:

الفاظ معانی
مناقب منقبت کی جمع، خوبیاں، اچھائیاں، اصحاب کبار کی مدح
عمر بن عبدالعزیزؓ آٹھویں اموی خلیفہ جو سلیمان بن عبدالملک اُموی کی وفات پر حکمران بنے۔ ان کی والدہ حضرت عمر بن الخطابؓ کی پوتی تھیں۔ انھوں نے خلفائے راشدین کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اڑھائی سال حکومت کی۔ عوام کی سہولتوں اور ذمیوں کے حقوق کی نگہداشت کی۔ جزیے کی وصولی میں سختی نہ کرنے اور ضبط شدہ زمینیں اصل مالکوں کو لوٹانے  کا حکم دیا۔
موصوف جس کی تعریف کی جائے مجسم تصویر ہوبہو عکس
لقب وہ نام جو کسی خاص خوبی کے سبب پڑ جائے
مسند خلافت خلافت کا تخت متمکن ہونا بیٹھنا
تحریری سند تحریری ثبوت سلاطین سلطان کی جمع۔ بادشاہ
جاگیر انعام کے طور پر دی جانے والی زمین
علامہ ابن جوزی پورا نام عبدالرحمٰن الجوزی تھا۔ 1116ءمیں بغداد میں پیدا ہوئے۔ اپنے عہد کے بڑے نامور محدث، مؤرخ، خطیب ، مصنف اور صوفی تھے۔ تین سو سے زائد کتابوں کے مصنف ہیں جن میں تلبیس ابلیس زیادہ مشہور ہے۔
کتب خانہ خدیویہ خدیویہ فارسی زبان کا لفظ ہے جس کے لغوی معنی خداوند یعنی مالک اور حکمران کے ہیں۔ سبق میں مصر کی ایک لائبریر ی کانام ہے۔  1805ء سے  1952ء تک مصر کے جو حکمران ہوئے وہ اپنے نام کے ساتھ فارسی لفظ ”خدیو“ لگاتے تھے جس کا مطلب مالک /حکمران ہے۔ اسی مناسبت سے قاہرہ میں ایک لائبریری ”کتب خانہ خدیویہ“ کے نام سے قائم ہوئی۔
الفاروق حضرت عمر فاروقؓ خلیفہ دوم کی سوانح پر مبنی علامہ شبلی نعمانی کی لکھی ہوئی کتاب کا نام۔
سیرت العمرین علامہ ابن جو زی کی معروف تصنیف جس میں حضرت عمر فاروقؓ اور حضرت عمر بن عبدالعزیزؓ کے حالات اور عہد حکومت کے واقعات تحریر کیے گئے ہیں۔
حمص مغربی شام کا ایک شہر جو قدیم زمانے سے آباد ہے۔ حضرت عمر فاروقؓ کے عہد میں یہ شہر فتح ہوا۔ حضر ت خالد بن ولید ؓ نے یہیں وفات پائی اور یہیں پر دفن ہوئے۔ حضرت ابو عبیدہ ؓ ابن الجراح نے دوبارہ یہ شہر ۱۷ ہجری میں فتح کیا۔
ولید بن عبدالملک چھٹا نا مور اموی خلیفہ اپنے والد عبدالملک کی وفات پر ۸۶ ہجری میں خلیفہ بنا۔ بڑا فیاض اور رفاہ عامہ کے کاموں میں بڑی دلچسپی لیتا تھا۔ قتیبہ بن مسلم‘ موسیٰ بن نصیر ‘طارق بن زیاد اور محمد بن قاسم اس کے نامور سپہ سالار تھے جنہوں نے اندلس ‘سندھ اور وسط ایشیا کے علاقے فتح کیے۔
سلاطین بنی امیہ   عرب خلفاءکا خاندان جس کی بنیاد امیر معاویہؓ نے 661ءمیں رکھی۔ اس خاندان کے کل حکمرانوں کی تعداد چودہ ہے۔(امیر معاویہؓ ۔یزید۔ معاویہ بن یزید۔ مروان۔ عبدالملک۔ ولید ۔ سلیمان۔ عمر بن عبدالعزیز۔ یزید بن عبدالملک ۔ ہشام بن عبدالملک ۔ ولید بن یزید ۔ یزید بن ولید۔ ابراہیم۔ مروان دوم ۔ آخری حکمران مروان دوم سے بنوعباس نے 750ءمیں حکومت چھینی۔
سلاطین تیمور یہ چنگیزخان کی نسل سے تعلق رکھنے والا مشہور ترک فاتح امیر تیمور جو تیموری خاندان کا بانی تھا۔ 1405ءمیں اپنی وفات کے وقت اس کی سلطنت دریائے فرات سے ایک طرف دریائے سیحوں اور دوسری طرف جمنا تک پھیلی ہوئی تھی۔ اس نے اپنی پوری سلطنت اس غرض سے اپنے بیٹوں اور پوتوں میں تقسیم کر دی تھی کہ خانہ جنگی نہ ہو لیکن یہی تقسیم ان میں خانہ جنگی کا باعث بنی۔ ہندوستان کے مغل حکمران اسی تیمور کی نسل سے تھے۔
سفیر ایلچی، پیامبر خدا لگتی کہنا حق بات کہنا
غاصب دوسرے کا حق مارنے والا۔ زبردستی کسی سے کچھ چھین لینے والا
مجاز ہونا بااختیار ہونا دست بردار ہونا چھوڑ دینا
خواب راحت آرام کرنا جان پدر پیارے بیٹے، باپ کی جان
اُم عمر عمر بن عبدالعزیز ؓ کی پھو پھی جن کا نام فاطمہ بنت مروان تھا۔ عمر بن عبدالعزیزؓ آپ کا بے حد ادب و لحاظ کرتے تھے۔
مکحول/میمون بن مہران/ابو قلابہ حضرت عمر بن عبدالعزیزؓ کے دور کے تین بڑے مذہبی عالم جو علم حدیث اور فقہ کے ماہر تھے۔ لو گ ان کا احترام کر تے تھے اور ان کی ایک نمایاں حیثیت تھی۔
یمن عرب کا ایک قدیم خطہ جو آج کل شمالی یمن اور جنوبی یمن دو حصوں پر مشتمل ہے۔ ساتویں صدی میں یہاں لوگ حلقہ اِسلام میں داخل ہوئے۔
یمامہ صحرائے نجد کا ایک مشہور شہر جہاں کے مسیلمہ کذاب نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور میں اس مقام پر ایک خونر یز جنگ میں مسیلمہ قتل ہو گیا تھا۔
نفس اپنا آپ، ذات دفتر اعمال اعمال نامہ
استیصال کرنا جڑ سے اکھیڑ نا۔ قلع قمع کرنا متدین دین دار۔ ایمان دار
راستباز حق گو، سچا گرجا عیسائیوں کی عبادت گاہ
متولی منتظم۔ انتظام کرنے والا حسب قاعدہ قاعدے/طریقے کے مطابق
زعم غرور، تکبر متنازعہ جھگڑے کا سبب۔ جس چیز کا جھگڑا ہو
اصل اصول خلاصہ۔ لب لباب لنگر خانہ روزانہ کھانا تقسیم ہو نے کی جگہ
جمہوریت عوام پر عوام کی مرضی/خواہش سے حکومت کرنا
دست وبازو حامی ۔ مدد گار۔ قوت وطاقت سر زد ہونا عمل میں آنا
حجاج حجاج بن یوسف(۶۶۱۔۷۱۴) نہایت ظالم بے رحم اور جابر شخص تھا۔ حضرت عبداللہ بن زبیرؓ پر لشکر کشی کے دوران خانہ کعبہ پر پتھر برسانے سے بھی گریز نہ کیا جس سے حجرا سود کے تین ٹکڑے ہو گئے۔ حجاج یمن اور عراق کا گورنر رہا۔ قرآن پاک پر اعراب حجاج ہی نے لگوائے۔
عبدالملک عبدالملک بن مروان پانچواں اُموی خلیفہ جو 685ءتا706ءتک حکمران رہا۔
مسلمہ بن عبدالملک عبدالملک بن مروان کا بیٹا ۔ عراق اور دوسرے کئی علاقوں کا گورنر رہا۔
ہشام بن عبدالملک بنو امیہ کا دسواں خلیفہ جو 724ءمیں تخت پر بیٹھا۔ بڑا عقل مند اور مدبر تھا لیکن سخت بخیل تھا۔
درہم چاندی کاایک قدیم سکہ جھلا کر غضبناک ہو کر
استفسار کرنا دریافت کرنا وصیت آخری نصیحت جائیدا د وغیرہ کے بارے میں
ترکہ وراثت میں چھوڑی ہوئی جائیداد اور مال و اسباب وغیرہ
تجہیز و تکفین کفن دفن مصارف اخراجات
اولاد ذکور نرینہ اولاد

عبارت نمبر1 (ملتان بورڈ2007-10ء۔ راولپنڈی بورڈ2010ء)

          ان کا ایک اور کارنامہ جو نہایت قابلِ قدر ہے، سلاطینِ بنی اُمیہ کی ناجائز کاروائیوں کا مٹانا تھا۔ سلاطینِ بنی اُمیہ نے ملک کا بڑا حصہ، جو زمیندار ی کی حیثیت سے رعایا کے قبضے میں تھا ، اپنے خاندان کے ممبروں کو جاگیر میں دے دیا تھا۔ جس طرح سلاطینِ تیموریہ کے زمانے میں بڑے بڑے صوبے شہزادوں کی جاگیر میں دے دیے جاتے تھے۔ عمر بن عبدالعزیز ؓ تختِ خلافت پر بیٹھے تو سب سے پہلے ان کو اس کا خیال ہوا، لیکن ایسا کرنا تمام خاندانِ خلافت کو دشمن بنا لینا تھا۔ تاہم انھوں نے اس کی کچھ پروانہ کی۔

حوالہ اقتباس:

ان کا ایک اور کار نامہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کچھ پروانہ کی۔

حوالہ متن:

سبق کا عنوان:        مناقب عمر بن عبد العزیزؓ

مصنف کا نام:                   علامہ شبلی نعمانی ؒ

سیاق وسباق: اس اقتباس سے قبل مصنف نے بتایا ہے کہ حضرت عمر بن عبد العزیز ؓ  کے بارے میں معلومات اُنھوں نے ’’سیرت العمرین‘‘ سے اخذ کی ہیں۔ آپؓ مذہب کی مجسم تصویر تھے۔ آپ کی شخصیت تقوی وپر ہیزگاری ، رعا یا سے ہمدردی اور غیر مسلموں سے حسن سلوک کا بہترین نمونہ تھی ۔ آپؓ نے حمص کے عیسائی کو اُس کی زمین عباس سے واپس دلوائی۔ اسی طرح سلاطین بنی اُمیہ کی ناجائز کاروائیوں کا خاتمہ کیا۔سباق میں ہے کہ اُنھوں نے رعایاکو آزادی رائے کا حق دیا ۔ آپؓ نے مسلمہ بن عبدالملک سے گرجا کے متولیوں کوجاگیر دلوائی۔ آپ ؓنے  وفات کے وقت ترکہ میں چند دینار چھوڑے۔ آپ کی حکومت جمہوریت  اور مساوات کے سنہری اُصولوں پر تھی۔

تشریح: اس امر میں کوئی شک نہیں کہ اِسلام ہی وہ واحد مذہب ہے جس نے انسانوں کو برابری اور مساوات کا درس دیا ہے۔ اس سلسلے میں مشہور خلفائے اِسلام کی زندگیاں بہترین نمونے کی حیثیت رکھتی ہیں جنھوں نے دنیا کو جہاں بانی اور جہاں داری کے اصول سکھائے۔

تمدن آفریں، خلاقِ آئین جہاں داری

وہ صحرائے عرب، یعنی شتر بانوں کا گہوارا

          تشریح طلب اقتباس میں مصنف نے حضرت عمر بن عبد العزیز ؓ کی سیرت کے نمایاں پہلو ؤں کاذکر کیا ہے۔ آپؓ کے عدل و انصاف اور دین داری کے باعث آپؓ کو ”عمر ثانی“ بھی کہا جاتا ہے۔  حضرت عمر بن عبدالعزیز ؓکا شمار عرب کے ان خلفاءمیں ہوتا ہے جن کی شخصیت کسی قسم کی تنقید اور نکتہ چینی سے پاک تھی۔ انھی خوبیوں کی بنا پر خلفائے راشدین میں شمار کیا جاتا ہے۔

          بنو اُمیہ کے دور میں اپنی خلافت کو مضبوط کرنے اور امراءکی حمایت اور وفادار یاں حاصل کرنے کے لیے انہیں نوازنے کا رواج عام تھا۔ اس سلسلے میں امرائے سلطنت میں جاگیریں تقسیم کی جاتی تھیں تاکہ وہ حکومت کے ساتھ وفادار رہیں اور کسی ایسی

 سرگرمی کا حصہ نہ بنیں جو بغاوت کی شکل میں ہو۔ آپؓ کے تخت خلافت پر بیٹھنے سے پہلے والے خلفاء نے ملک کا ایک بہت بڑا حصہ جو زمینوں کی شکل میں رعایا کے  قبضے میں تھا، بغیر کسی وجہ ا ور  معاوضہ ادا کیے بغیر  ان سے چھین لیا اور اس رقبے کو جاگیروں کی شکل میں اپنے خاندان میں تقسیم کر دیا۔عمر بن عبدالعزیز ؓ جب خلیفہ بنے تو انھوں نے سب سے پہلے اس کی طرف توجہ دی اور اس رسم بد کو ختم کرکے لوگوں کی زمینیں انھیں واپس دلائیں۔

اور ہر حقدار کو اُس کا حق دو۔ (القرآن)

          حضرت عمر بن عبدالعزیز ؓ کا یہ ایک ایسا کارنامہ تھا کہ جس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے بنواُمیہ کے ایسے قوانین بھی منسوخ کیے جن سے عوام کے مفاد پر زدپڑتی تھی۔ عادل سلطان کا چند گھڑیوں کا عدل زاہد کی سو سالہ عبادت سے برتر ہے اس لیے انسانی زندگی کے تمام مسائل کا حل عدل و انصاف سے وابستہ ہے۔ عدل و انصاف جس قدر اہم ہے اُسی قدر مشکل ہے۔ خصوصاً جاگیریں، مراعات اور عیش و عشرت کو ترک کرنا سب سے مشکل ہے۔

          خاندان بنو امیہ کے حکمرانوں کا عوام کی زمین کو ذاتی جاگیر بنانے کا فعل بالکل ایسے ہی تھا جیسا کہ بہت بعد میں آنے والے سلاطین تیموریہ(اس سلطنت کا بانی امیر تیمور تھا۔ وہ ایک اچھا سپاہی اور بے مثل سپہ سالار تھا۔ وہ ترکستان اور موجودہ افغانستان کے بڑے حصے پر قابض ہونے کے بعد 1366ء میں بلخ میں تخت نشین ہوا۔) اور مغل بادشاہوں میں بھی عام تھا۔ ان دونوں خاندانوں کے دورِ حکومت میں بڑے بڑے صوبے امرائے سلطنت اور شہزادوں میں تقسیم کر دیے جاتے تھے تاکہ ان کی ہمدردیاں حکومت کے ساتھ وابستہ رہیں۔ حضرت عمر بن عبدالعزیزؓ نے بنوامیہ کے سابقہ حکمرانوں کی طرف سے چھینی گئی جائیداد و مال جو ظالمانہ طریقے سے غصب کیا گیا تھا۔ ایک ایک کرکے اُن کے مالکوں کو واپس کردیا۔ عمر بن عبدالعزیز ؓ نے عدل سے کام لے کر جب زمینیں اصل مالکوں کو واپس کیں  تو بنو امیہ میں سخت براہمی پیدا ہوئی اور انھوں نے مختلف لوگوں کو آپؓ کے پاس بطور سفارشی بھیجا۔ مگر آپؓ نے انھیں واپس کردیا۔ آپؓ نے بغاوت کے امکانات، عزیزوں کی ناراضی یا کسی قسم کے دیگر خدشات کی پروا نہ کی بلکہ للہ تعالیٰ کے اس فرمان کو پیش نظر رکھا:۔

اِنَّ اللّٰہَ یَاْمُرُبِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَان

ترجمہ:   بے شک اللہ تعالیٰ عدل واحسان کا حکم دیتا ہے۔

عبارت نمبر2: (گوجرانوالہ بورڈ2007 ء۔ بہاولپور2008ء۔ لاہور بورڈ2009ء۔ ملتان بورڈ2010ء)

            بنو امیہ کے دفتر اعمال میں سب سے زیادہ قوم کو برباد کرنے والا یہ واقعہ ہے کہ انھوں نے آزادی اور حق گوئی کا استیصال کردیا تھا۔ عبدالملک نے تخت پر بیٹھ کر حکم دیا تھاکہ کوئی شخص میری کسی بات پر روک ٹوک نہ کرنے پائے اور جو شخص ایسا کرے گا سزا پائے گا، اگرچہ اس پر بھی آزادی پسند عرب کی زبانیں بند نہ ہوئیں تاہم بہت کچھ فرق آگیا تھا۔عمر بن عبدالعزیز ؓ نے اس بدعت کو بالکل مٹادیا۔دو نہایت متدیّن اور راست باز شخص اس کام پر مقرر کیے کہ عدالت کے وقت ان کے پاس موجود رہیں اور ان سے جو غلطی سر زد ہو فوراً ٹوک دیں۔ ان کے اس طرز عمل سے لوگوں کو عام طور پر جرأت ہو گئی تھی اور لوگ نہایت بے باکی سے ان کے اقوال وافعال پر نکتہ چینی کرتے تھے۔

حوالہ اقتباس:

          بنو امیہ کے دفتر اعمال۔۔۔۔۔۔۔۔نکتہ چینی کرتے تھے۔

حوالہ متن:

سبق کا عنوان:        مناقب عمربن عبدالعزیزؓ

مصنف کا نام:                   علامہ شبلی نعمانی ؒ

سیاق وسباق: سبق میں مصنف نے عمر بن عبدالعزیز ؓکے اخلاق اور عدل وانصاف پر روشنی ڈالی ہے۔اس اقتباس سے قبل مصنف نے حضرت عمربن عبدالعزیز ؓکے اوصاف بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ انہوں نے ناجائز قبضے میں موجود جاگیریں ان کے اصل حقداروں کو واپس دلادیں۔ یہاں تک کہ جب معاملہ ابن سلیمان تک جا پہنچا تو آپؓ نے اس کی بھی کوئی پروا نہ کی جو کہ انہیں اپنے بیٹے کی مانند عزیز تھا۔ اس اقتباس کے بعد مصنف نے ابن جوزی کا تحریر کردہ واقعہ لکھا ہے کہ مسلمہ بن عبدالملک اور گرجے کے متولّیوں کے مابین زمین کے ناجائز قبضے کے حوالے سے مقدمہ پیش کیا گیا ہے اور اس کا فیصلہ عیسائیوں کے حق میں ہوا۔ تشریح طلب اقتباس سبق کے تقریباً درمیان سے لیا گیا ہے جس میں عمر بن عبدالعزیز ؓکے جمہوری رویوں کا اظہار کیا گیا ہے۔

تشریح: اس امر میں کوئی شک نہیں کہ اِسلام ہی وہ واحد مذہب ہے جس نے انسانوں کو برابری اور مساوات کا درس دیا ہے۔ اس سلسلے میں مشہور خلفائے اِسلام کی زندگیاں بہترین نمونے کی حیثیت رکھتی ہیں جنھوں نے دنیا کو جہاں بانی اور جہاں داری کے اصول سکھائے۔ تشریح طلب اقتباس میں مصنف نے حضرت عمر بن عبد العزیز ؓ کی سیرت کے نمایاں پہلو ؤں کاذکر کیا ہے۔ آپؓ کا دور خلافت بہت مختصر تھا جو کہ ۷۱۷ء سے ۷۲۰ءتک قائم رہا۔ آپؓ کے عدل و انصاف اور دین داری کے باعث آپؓ کو ’’عمر ثانی‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔

          حضرت عمر بن عبدالعزیزؓ کے دور حکومت میں عدل وانصاف ، آزادی رائے اور غیر مسلموں کے ساتھ سلوک کے حوالے سے بہترین مثالیں قائم ہیں ۔آپؓ کا شمار خاندان بنو امیہ کے ان چندخلفاءمیں ہوتا ہے جن پر عوام و خواص دونوں بھرپور اعتماد کرتے تھے۔ اس ضمن میں یہ مثال پیش کی جاسکتی ہے کہ جب بنو عباس نے حکومت پر قبضہ کیا تو انہوں نے نفرت اور تعصب کی بنا پر خاندان بنو امیہ کے تمام خلفاءجو دنیا میں موجود نہیں تھے کے خلاف مقدمہ چلایا لیکن حضرت عمر بن عبدالعزیز ؓ پر کسی نے بھی انگلی نہ اٹھائی۔

          زیر بحث اقتباس میں مصنف نے اس بات پر روشنی ڈالی ہے کہ خاندانِ بنو امیہ کے دور خلافت میں جہاں عدل وانصاف اور دیگر اِسلامی روایات کو نظر انداز کیا گیا وہاں آزادی رائے اور حق گوئی کا بھی سدباب کردیا گیا۔ آزادی رائے ہمیشہ انسان کا بنیادی حق تسلیم کیا گیا ہے اور اسلام میں اس کی اہمیت دو چند ہے۔ جابرسلطان کے سامنے کلمہ حق ادا کرنا افضل ترین جہاد قرار دیا گیا ہےیہ بات تاریخ سے ثابت ہے کہ ہمیشہ جابر و ظالم سلاطین بادشاہوں نے اس پر پابندی لگائے رکھی اور عوام کو اُن کے بنیادی حق سے محروم رکھا۔ خاندان بنو امیہ کے حکمران بھی اس معاملے میں دیگر بادشاہوں سے مختلف نہ تھے۔ اُن کے اعمال نامہ میں یہ بھی ایک سیاہ کار نامہ ہے کہ حق اور سچ بات کہنے پر اتنی سختی سے پابندی لگا رکھی تھی کہ یوں لگتا تھا کہ جیسے یہ دونوں خوبیاں ان کے دور حکومت میں بالکل ختم ہو کے رہ گئی تھیں۔ خاندان بنو امیہ کے خلفاءنے یہ اعلان کر رکھا تھا کہ خلیفہ کا حکم اور کہا سب پرلازم ہے لہٰذا کوئی شخص خلیفہ کے کسی بھی فیصلے پر انگلی نہیں اُٹھا سکتا اور نہ ہی کسی قسم کا اعتراض کر سکتا ہے۔خلیفہ عبدالملک جو پانچواں اُموی خلیفہ تھا اور 685ء سے 706ء تک کے طویل عرصے تک حکمران رہا، اس نے تخت پر بیٹھ کر حکم دیا تھا کہ میری کہی ہوئی بات اور دیا ہو احکم نہ کوئی ٹالنے کی کوشش کرے اور نہ ہی اس پر اعتراض کرے۔ اگر کوئی شخص ایسا کرے گا تو سزا پائے گا۔ عرب کے لوگ آزادی گفتار کے قائل تھے۔ انھوں نے خلیفہ عبدالملک کے اس حکم کی پرواہ نہ کی بلکہ موقع بہ موقع حق اور سچ بات کہہ دیا کرتے تھے۔ ہاں البتہ اس حکم سے حق گوئی پر کچھ نہ کچھ فرق ضرور پڑا۔

          تشریح طلب اقتباس میں مصنف نے عمر بن عبدالعزیزؓ کے حوالے سے یہ خوبی بیان کی ہے کہ حضرت عمربن عبدالعزیزؓ کی سلطنت اور حکومت عدل و انصاف پر مبنی تھی اور مساوات اور جمہوریت اس کی بنیاد میں شامل تھا۔ جس وقت حضرت عمر بن عبدالعزیؓز کے ہاتھ حکومت کی باگ ڈور آئی۔ سب سے پہلے جو اہم کام کیا وہ آزادی رائے اور جمہوری رویوں کا احترام تھا۔ حضرت عمر بن عبدالعزیزؓ خلیفہ بنے تو انہوں نے فساد کا باعث بننے والے اس حکم کو بالکل ختم کر کے رکھ دیا۔ عمر بن عبدالعزیز ؓنے یہ اعلان کروادیا کہ ہر شخص کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی رائے کا برملا اظہار کر سکتا ہے ۔ یہاں تک کہ کسی کو اگر خلیفہ وقت سے بھی کوئی شکایت ہو تو وہ کھلم کھلا کہنے میں آزاد ہے۔ حدیث پاک کا مفہوم ہے:

’’خدا کے تمام بندوں کی آزادی ہمارا اولین مقصد ہے۔‘‘

          عمر بن عبدلعزیز ؓنے آزادی رائے کا احترام کرتے ہوئے عدالتی نظام میں بھی اِسلامی اصولوں کے مطابق تبدیلیاں کیں اور فیصلہ کیا کہ جب وہ عدالت میں بطور قاضی کسی سماعت کا فیصلہ کرنے والے ہوں اور کسی کو اس فیصلے پر اعتراض ہوتو وہ انہیں اس وقت ٹوک دے۔ اس سلسلے میں انہوں نے دو نہایت دیندار، صاحبِ علم اور پرہیز گار اصحاب کو اس کام پر مقرر کیا تاکہ خلیفہ سے کوئی غلطی نہ سرزد ہوپائے چنانچہ اس طریقے سے عربو ں میں اپنی طبیعت کے مطابق کھلم کھلا کہنے کی روایت پھر سے بیدار ہوگئی۔

عبارت نمبر3:

          عمر بن عبدالعزیزؓ کی حکومت و سلطنت کا اصل اصول مساوات اور جمہوریت تھا۔ یعنی یہ کہ تمام لوگ یکساں حقوق رکھتے ہیں اور بادشاہ کو کسی پر کسی قسم کی ترجیح حاصل نہیں، صرف ملکی امور میں نہیں بلکہ معاشرت اور ذاتی زندگی میں بھی عمر بن عبدالعزیزؓ اس کا لحاظ رکھتے تھے۔ ان کے کھانے کا یہ طریقہ تھا کہ عام مسلمانوں کے لیے جو لنگرخانہ تھا اس میں ایک درہم روز بھیج دیا کرتے تھے اور وہیں جا کر عام مسلمانوں کے ساتھ کھا لیتے تھے۔ (صفحہ 3-4) 

حوالہ اقتباس:

حضرت عمر بن عبدالعزیزؓ کی حکومت و سلطنت ۔۔۔۔۔۔۔۔ عام مسلمانوں کے ساتھ کھا لیتے تھے ۔

حوالہ متن:

سبق کا عنوان:    مناقب عمربن عبدالعزیزؓ

مصنف کا نام:              علامہ شبلی نعمانی ؒ

سیاق و سباق: حضرت عمر بن عبدالعزیزؓ کی زندگی کے حالات و واقعات اِسلام کےاُصولوں کے عین مطابق تھے۔ اِسلام نے غیر مذہب والوں سے جس سلوک کا حکم دیا ہے، اپنے ملک کے عیسائیوں اور یہودیوں کے ساتھ عمر بن عبدالعزیؓز کا طرز عمل ویسا ہی رہا۔ آپؓ سے پہلے بنوامیہ کے دیگر بادشاہوں نے عوام کی زمینیں اور جاگیریں اپنے خاندان کے لوگوں کے نام منتقل کر لی تھیں۔ لیکن آپؓ نے پورے خاندان کی مخالفت کے باوجود ایسی تمام جاگیریں ان کے اصل مالکوں کو لوٹا دیں۔ آپؓ کی حکومت جمہوریت اور مساوات کے سنہری اصولوں پر قائم تھی جس میں بادشاہ سمیت تمام لوگ برابر ہوتے ہیں اور سب کو اپنی بات کہنے کے مکمل آزادی ہوتی ہے۔ مرتے وقت آپؓ نے صرف سترہ دینار ترکے میں چھوڑے ۔ کہا جا سکتا ہے کہ آپ کی حکومت اِسلامی اُصولوں کا صحیح نمونہ تھی۔

تشریح : تشریح طلب عبارت میں علامہ شبلی نعمانیؒ عمر بن عبدالعزیزؓ کا ایک نمایاں کارنامہ بیان کرتے ہیں، جو ہر لحاظ سے قابل قدر ہے۔ عمر بن عبدالعزیزؒ آٹھویں اموی خلیفہ تھے۔ سلاطین بنواُمیہ عرب کے رہنے والے تھے۔ جن کا دور حکومت(661ءتا750) پر محیط ہے۔ ان کا دور حکومت اور طرز حکومت دوسرے اموی خلفاءسے بالکل مختلف اور منفرد تھا ۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز ؓتخت نشین ہوئے تو انہوں نے ان تمام کالے قوانین کی یک قلم منسوخ کر دیا اور اس سلسلے میں اپنے خاندان والوں اور دوسرے لوگوں کی مخالفت کی ذرہ بھر بھی پرواہ نہ کی۔

          شبلی نعمانیؒ  لکھتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ نے اپنی تمام عمر اِسلامی اصولوں کے عین مطابق گزاری۔ حق و صداقت اور عدل و انصاف سے کام لیا اور کسی کی مخالفت اور دشمنی کی پروا نہ کی۔ ہر فیصلہ قرآن و سنت کی روشنی میں کیا۔ اس لیے لوگوں نے ان کے دور حکومت کو ان کے کارناموں کی وجہ سے حضرت عمر فاروقؓ کے دورِ حکومت کے مماثل قرار دیا ہے۔ جس طرح حضرت عمر فاروقؓ ذاتی زندگی میں اسلامی قوانین پر سختی سے کار بند تھے۔ اسی طرح عمر بن عبدالعزیزؓ بھی شرعی قوانین کی پاسداری کرتے تھے۔ اسی لیے آپؓ نے ایک اسلامی معاشرے کی بنیاد رکھی۔ اِسلامی جمہوریت اور مساوات آپؓ کی حکومت کے اہم عناصر تھے۔ اِسلامی تصور مساوات کی رُو سے قانون و شرع کی نظر میں سب برابر ہیں۔ اس سے مراد ہے کہ حکومت کی حدود میں بسنے والے تمام لوگ خواہ حاکم ہوں  یا رعایا، مسلمان ہوں یا غیر مسلم، سب لوگ برابری کے حقوق رکھتے ہیں اور حاکم یا سلطان  یا کسی اور طاقت ور طبقے کو دوسروں پر کسی قسم کی فوقیت  حاصل نہیں ہے۔یعنی سب لوگ برابر ہیں اور کسی پر کسی کو فضیلت حاصل  نہیں۔   حدیث میں ہے:  

 یایھا الناس ان ربکم واحد وانا ابا کم واحد لاافضل لعربی علی عجمی ولا عجمی علیٰ عربی الابالتقویٰ

ترجمہ:    اے لوگو! تمھارا رب ایک اور تمھارا باپ ایک ہے۔ کسی عربی کو عجمی پر اور کسی عجمی کو عربی پر کوئی فضیلت نہیں،سوائے تقویٰ کے۔

          حضرت عمربن عبدالعزیزؓ کی رعایا میں عیسائی اور یہودی بھی شامل تھے۔ آپؓ نے انصاف کرتے وقت کبھی اس بات کو پیش نظر نہیں رکھا کہ عیسائی یا یہودی کے مقابل کوئی مسلمان ہے تو فیصلہ مسلمان کے حق میں کر دیا جائے۔ بلکہ اکثر اوقات آپ کے فیصلے غیر مسلموں کے حق میں ہوتے تھے۔

          حضرت عمر بن عبدالعزیزؓ مساوات اور جمہوریت کے ان اصولوں کا خیال صرف ملکی امور میں ہی نہیں بلکہ اپنے رہن سہن ، میل جول اور اپنی ذاتی زندگی میں بھی ان کا خاص خیال رکھتے تھے۔ اس زمانے میں بڑے شہروں میں عام مسلمانوں کے کھانے کے لیے لنگر خانے قائم تھے جہاں سے قدرے سستے داموں کھانا مل جاتا تھا۔ حضرت عمر بن عبدالعزیزؓ اس لنگر خانے میں روزانہ ایک درہم بھیج دیا کرتے اور کھانے کے وقت وہیں جا کر عام مسلمانوں کے ساتھ کھانا کھا لیتے تھے۔ یہاں یہ نکتہ بھی قابل غور ہے کہ لنگر خانے سے کھانا منگواتے نہ تھے بلکہ وہاں خود جاتے اور بالکل عام لوگوں کی طرح کھانا کھاتے۔ مساوات اور برابری کی اس سے بہتر اور بڑی مثال اور کیا ہو سکتی ہے؟ حضرت علیؓ کا فرمان ہے:

”بھلائی کی خواہش برائی کی طاقت کو دبا دیتی ہے


Share With Others

اس موضوع پر مزید پڑھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *