Write A Letter to youger brother In Urdu
چھوٹے بھائی کے نام نصابی /غیر نصابی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی تلقین کا خط ۔
(بہاولپور بورڈ2009ء۔ لاہور بورڈ2008,10,11ء۔ فیصل آباد بورڈ2010ء۔ فنی تعلیمی بورڈ2010ء)
امتحانی مرکز
۱۲مئی ۲۰۲۰ء
عزیزم نور چشمی، محمد آصف!
السلام علیکم ،کل تمھارا خیریت نامہ موصول ہوا۔یہاں ہر طرح سے خیریت ہے۔تمھارا خط پڑھ کر سب گھر والوں کو دلی اطمینان ہوا کہ تم پڑھائی میں دلچسپی لے رہو ۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ تمہیں جس مقصد کے لیے گھر سے دور ایک اجنبی شہر میں بھیجا گیا ہے، تم اس سے غافل نہیں بلکہ باقاعدگی اور پابندی کے ساتھ اپنی تعلیم کی طرف متوجہ ہو۔ اسی خط میں موجود رزلٹ کا رڈ کو دیکھ کر اور بھی خوشی ہوئی کہ پہلی سہ ماہی میں تم نے اپنی جماعت میں سب سے زیادہ نمبر حاصل کیے ہیں۔یہ کامیابی بلاشبہ تمہاری شدید لگن اور محنت شاقہ کا ثمر ہے۔دعا ہے کہ زندگی کے ہر موڑ پر ایک نئی کامیابی تمھارا استقبال کرے۔مگر اس کامیابی پر قانع نہ رہوبلکہ مزیدمحنت کرو تاکہ سالانہ امتحان میں اس سے بھی بہترین نتائج دکھا سکو۔
عزیز من! تمھاری اس پراگرس رپورٹ میں سربراہِ ادارہ نے اپنی جورائے سبز روشنائی کے ساتھ لکھی ہےوہ یقیناً سراہے جانے کے قابل ہے۔ مگر اس میں دادو تحسین کے جملوں کے بعد جو لکھا تھا اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اُن کا انگریزی میں جملہ تھا۔
(He has shown a commendable performance. Welldone! Should take part in Extra curriculum activities)
میرے خیال میں سربراہِ ادارہ نے درست رائے دی ہے کیونکہ شخصیت کی تکمیل میں کھیل اور جسمانی کسرتیں بہت اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ ایک متوازن شخصیت کے لیے پڑھائی کے ساتھ ساتھ کھیل کُود کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ کھیل اُکتاہٹ کو کم کرتا ہے۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ بدنی صحت ہے۔ اگر ہم غور کریں تو تندرستی اور عمدہ صحت انسان کا انسان کا بہت بڑا سرمایہ ہے۔ مثل مشہور ہے:
ایک صحت مند جسم ہی صحت مند دماغ رکھتا ہے۔
عزیز من! اس میں کوئی شک نہیں کہ تم محنتی ہو اور تم زندگی میں کچھ کر دکھانے کا جذبہ رکھتے ہو ۔ اس کے لیے سارا وقت پڑھائی کو دیتےہو لیکن یہ کوئی متوازن طریقہ کار نہیں ہے۔ کہتے ہیں ’’جان ہے تو جہان ہے‘‘ واقعی اگر صحت کا خیال نہیں رکھو گے تو اس شاندار کامیابی کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ انٹرمیڈیٹ کی سطح پر نصاب بہت وسیع ہے۔ لیکن محض کتابی کیڑا بن کر اپنی لا تعداد دیگر سرگرمیوں اور صلاحیتوں سے منہ موڑ لینا عقل کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ تدریسی سہولتوں اور نصابی تعلیم کے علاوہ غیر نصابی اور ثقافتی سرگرمیوں کے جس قدر مواقع میسرہوں ان سے فائدہ اٹھانا ضروری ہے۔ کورس لفظ تو سکھاتے ہیں لیکن زندگی کا ہُنر الگ چیز ہے جو عملی بنیادوں کا مطالبہ کرتی ہے ۔بقول اکبر الٰہ آبادی:۔
کورس تو لفظ ہی سکھاتے ہیں
آدمی آدمی بناتے ہیں
مختلف علمی و ادبی مباحثے ، تقریری مقابلے اور کھیل کود کے مشاغل غیر علمی نہیں کہے جا سکتے۔ ان سے طلبہ کی ذہنی اور جسمانی صلاحتیں نکھرتی ہیں۔ ان سے انسان میں خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے۔ یاد رکھو ! عملی زندگی میں وہی لوگ کامیاب ٹھہرتے ہیں جو دورانِ تعلیم کالج میں منعقد ہونے والی غیر نصابی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں۔ علم انسان کو محدود نہیں کرتا بلکہ یہ تو لا محدود کی طرف سفر کا نام ہے۔ اس سے ذہن میں کشادگی اور سوچ میں وسعت پیدا ہوتی ہے۔
میرا مشورہ ہے کہ خود ساختہ خول سے باہر نکل کر کالج کی نمایاں ہم نصابی سرگرمیوں میں حصہ لو۔ اس سے تمھاری شخصیت میں وقار اور اعتماد پیدا ہو گا جسے تم شاید عملی زندگی کے دوران محسوس کر سکو گے۔ اُمید ہے تم ان اشارات کو کافی سمجھو گے اور اپنی سرگرمیوں کے بارے میں ہر ماہ مجھے رپورٹ بھیجتے رہو گے۔ باقی گھر میں سب خیریت ہے، امی سلام کہتی ہیں۔ ننھی اکثریاد کرتی ہے۔
والسلام
تمھارا بڑا بھائی
الف ۔ب۔ج

There iѕ ɗefinately a great deal to know about tһis topіc.
I really like all the poіnts you’ve made.
Aⅼso visit my webpage: fintechbase