Oppressed Queen and the Sisters’ Jealousy | مظلوم ملکہ اور بہنوں کا حسد

Oppressed Queen and the Sisters’ Jealousy | مظلوم ملکہ اور بہنوں کا حسد

Share With Others

مظلوم ملکہ اور بہنوں کا حسد: صبر اور نیکی کی ایک دلچسپ اخلاقی کہانی

ایک زمانے کی بات ہے، ایک خوبصورت سلطنت میں ایک عادل اور نیک دل بادشاہ رہتا تھا۔ اس کی تین بیٹیاں تھیں:

  • ملکہ زہرا (سب سے بڑی) – خوبصورت، نیک دل، صابر، خاموش اور اللہ کا خوف رکھنے والی۔
  • ملکہ شمس اور ملکہ قمر (چھوٹی بہنیں) – خوبصورت مگر حسود، خود پسند اور چالاک۔

بادشاہ کی وفات کے بعد تخت زہرا کو ملا کیونکہ وہ سب سے بڑی تھی۔ زہرا نے عادلانہ حکمرانی کی، رعایا کی دیکھ بھال کی، غریبوں کی مدد کی اور ہر ایک کے ساتھ نرمی سے پیش آئی۔ لوگ اس سے بہت محبت کرتے تھے۔ مگر اس کی دو چھوٹی بہنوں کے دل میں حسد بھڑک اٹھا۔ وہ سوچتیں:

“یہ ہم سے کم خوبصورت ہے، کم ہوشیار ہے، پھر بھی تخت اسے ملا؟ ہمیں کیوں نہیں؟”

حسد نے ان کے دل کو کھا لیا۔ ایک دن دونوں بہنوں نے مل کر ایک سازش تیار کی۔ وہ محل میں افواہیں پھیلانے لگیں کہ زہرا ایک جادوگرنی ہے اور اس نے بادشاہ کو مار کر تخت ہتھیا لیا ہے۔ انہوں نے درباریوں کو رشوت دے کر اور جھوٹے الزامات لگا کر زہرا کے خلاف ماحول بنایا۔

آخر کار ایک دن دربار میں بغاوت ہو گئی۔ لوگوں نے زہرا کو تخت سے اتار دیا اور اسے قید کر لیا۔ شمس اور قمر نے تخت سنبھال لیا۔ زہرا کو ایک تاریک کمرے میں بند کر دیا گیا۔ اسے روزانہ تھوڑا سا کھانا اور پانی ملتا، مگر وہ کبھی شکوہ نہ کرتی۔ وہ راتوں کو نماز پڑھتی، اللہ سے دعا مانگتی اور کہتی:

“اے اللہ! تو ہی میرا مالک ہے۔ تو ہی انصاف کرنے والا ہے۔ میں تیرے فیصلے پر راضی ہوں۔”

وقت گزرتا گیا۔ شمس اور قمر کی حکمرانی میں ظلم بڑھتا گیا۔ رعایا پریشان ہو گیا۔ ٹیکس بڑھا دیے، غریبوں پر جبر کیا جانے لگا۔ لوگوں کے دل میں زہرا کے لیے ترس اٹھا۔

ایک دن ایک غریب بوڑھا مسافر محل کے قریب سے گزرا۔ اس نے زہرا کی آواز سنی جو دعا مانگ رہی تھی۔ بوڑھے نے زہرا کی حالت دیکھی اور اس سے بات کی۔ زہرا نے مسکرا کر کہا:

“سب اللہ کی مرضی ہے۔ میں صبر کر رہی ہوں۔”

بوڑھا دراصل ایک نیک اللہ کا بندہ تھا جسے اللہ نے آزمائش میں بھیجا تھا۔ اس نے زہرا کی دعاؤں کو قبول کیا اور اللہ سے دعا کی۔

اگلے دن ایک عجیب واقعہ ہوا۔ شمس اور قمر صبح اٹھے تو ان کا جسم سیاہ ہو گیا تھا، بال جھڑ گئے تھے اور چہرہ اتنا بدصورت ہو گیا کہ لوگ انہیں دیکھ کر ڈرتے تھے۔ ان کی دولت بھی ایک رات میں غائب ہو گئی۔ رعایا نے انہیں نکال باہر کر دیا۔

ادھر زہرا کے کمرے کا دروازہ خود بخود کھل گیا۔ وہ باہر نکلی تو لوگ اسے دیکھ کر خوش ہوئے۔ سب نے اسے دوبارہ تخت پر بٹھایا۔ زہرا نے پھر وہی عدل و انصاف کی حکمرانی کی۔ اس نے غریبوں کو انعام دیا، ظالموں کو سزا دی اور بہنوں کے لیے بھی دعا کی۔

شمس اور قمر جنگل میں بھٹکتے رہے۔ وہاں انہیں حسد اور ظلم کی سزا ملی۔ آخر کار وہ توبہ کر کے واپس آئے اور زہرا سے معافی مانگی۔ زہرا نے انہیں معاف کر دیا اور کہا:

“حسد انسان کو تباہ کر دیتا ہے، اور صبر انسان کو عزت دیتا ہے۔”

سبق:

  • حسد دل کو کھا جاتا ہے اور انسان کو ذلیل کر دیتا ہے۔
  • صبر اور توکل اللہ کی طرف سے بہترین مدد لاتا ہے۔
  • نیکی اور عدل کی راہ پر چلنے والا کبھی ہار نہیں مانتا۔
  • اللہ ظالموں کو دنیا میں بھی سزا دیتا ہے اور نیک لوگوں کو انصاف دیتا ہے۔
  • بہن بھائیوں میں حسد رکھنا بہت بڑا گناہ ہے – محبت اور ایک دوسرے کی خیر خواہی رکھیں۔

یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ حسد اور ظلم کی انتہا پر اللہ کا انصاف ضرور آتا ہے، اور صبر کرنے والا کبھی خالی ہاتھ نہیں رہتا۔ یہ ایک جادوئی مگر گہرا ایمانی اور اخلاقی پیغام دیتی ہے۔

اگر آپ کو ایسی دلچسپ، اخلاقی اور سبق آموز اردو کہانیاں پسند ہیں تو ہماری ویب سائٹ https://adabiduniya.com/ پر ضرور آئیں۔ یہاں اردو کہانیاں، بچوں کی اخلاقی قصے، اسلامی سبق آموز کہانیاں اور ادبی تحریریں دستیاب ہیں۔ نئی کہانیاں پڑھنے کے لیے ابھی وزٹ کریں: https://adabiduniya.com/

آپ نے کبھی حسد کی وجہ سے کسی کو نقصان پہنچایا یا صبر سے کامیابی پائی؟ کمنٹ میں ضرور بتائیں!


Share With Others

اس موضوع پر مزید پڑھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *