Jab Shehzadi Darakht Ban Gayi | Urdu Story | Hindi Fairy Tales

Jab Shehzadi Darakht Ban Gayi | Urdu Story | Hindi Fairy Tales

Share With Others

جب شہزادی درخت بن گئی: قربانی، محبت اور توبہ کی ایک دلچسپ جادوئی کہانی

ایک پوشیدہ سرخ وادی (Surkh Waadi) میں، جہاں مٹی سے میٹھے پھل پیدا ہوتے تھے اور ہوا میں ہمیشہ خوشبو رہتی تھی، ایک بزرگ کسان بابا رحیم اور ان کی بیوی زینب رہتے تھے۔ وہ اللہ کے شکر گزار تھے مگر اولاد نہ تھی۔ ایک بہار میں ایک عجیب روشنی پھیلی اور ان کے کھیت میں ایک سٹرابیری کا پودا اگا جو تیزی سے درخت کی شکل اختیار کر گیا۔ رات کو چاندنی میں وہ پھل پھٹا اور اس میں سے ایک خوبصورت لڑکی نکلی – گلابی رنگت، سٹرابیری جیسی خوشبو اور نرم پنکھڑیوں جیسی جلد والی۔ اس کا نام اقصیٰ (Aqsaa) رکھا گیا – سٹرابیری شہزادی۔

اقصیٰ کی پیدائش اللہ کی خاص نعمت تھی۔ اس کی آنکھوں سے گرنے والے آنسو سرخ روبی (حقیقی جواہرات) بن جاتے تھے، اس کا ہاتھ لگانے سے بیمار ٹھیک ہو جاتے اور بنجر زمین سرسبز ہو جاتی۔ بابا رحیم نے اسے دنیا سے چھپا کر پالا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ لالچی لوگ اسے نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ اقصیٰ نے پودوں کی زبان سیکھی، ہمیشہ مسکراتی رہی اور اللہ کا شکر ادا کرتی رہی۔

دوسری طرف کوہستان کی سلطنت میں خشک سالی پھیلی ہوئی تھی۔ ظالم اور لالچی سلطان زورآور نے جادوگر سے اقصیٰ کے بارے میں سنا تو اسے پکڑنے کا حکم دیا۔ سلطان نے اپنے بیٹے شہزادہ حسنین کو دھمکی دی کہ اگر نہ لایا تو ماں اور چھوٹے بھائی کو پانی بھی نہ ملے گا۔ حسنین دل میں تکلیف کے ساتھ سفر پر نکلا اور زخمی مسافر بن کر سرخ وادی پہنچا۔

اقصیٰ نے اسے دیکھا، اس کی دیکھ بھال کی، اسے اپنے ہاتھ سے پانی پلایا اور زخم ٹھیک کر دیے۔ حسنین اس کی پاکیزگی اور محبت سے متاثر ہوا۔ دونوں میں دوستی ہوئی جو محبت میں بدل گئی۔ اقصیٰ نے اپنے راز بتائے اور حسنین نے شادی کا وعدہ کیا کہ وہ لوگوں کی مدد کرے گی۔ اقصیٰ نے والدین کو چوم کر الوداع کہا اور حسنین کے ساتھ چلی گئی۔

کوہستان پہنچ کر حسنین نے دھوکہ دیا۔ سلطان نے اقصیٰ کو شیشے کی اونچی برج میں قید کر دیا۔ اسے رو کر روبی بنوانے لگا – اس کی آنکھوں سے گرنے والے آنسو سرخ ہیرے بنتے اور سلطان انہیں بیچ کر امیر ہوتا جاتا۔ اقصیٰ روتی رہی مگر حسنین کی دھوکہ دہی سے اس کا دل ٹوٹ گیا۔ حسنین راتوں کو اس کی آہ سُن کر پچھتاتا رہا۔

ایک رات حسنین نے فیصلہ کیا کہ اقصیٰ کو آزاد کرے گا۔ وہ چپکے سے برج میں گیا، محافظوں کو بے ہوش کیا اور اقصیٰ سے ملا۔ اقصیٰ نے معافی مانگی مگر کہا کہ اب دیر ہو چکی ہے۔ سلطان آ گیا، حسنین پر حملہ کیا۔ لڑائی میں سلطان نے زہریلا خنجر پھینکا – اقصیٰ نے حسنین کو بچانے کے لیے خود کو ڈھال بنا لیا۔ خنجر اس کے دل میں لگا۔ اس کا خون زمین پر گرا تو پھول کھل اٹھے۔ وہ مسکرائی اور بولی:

“میری قربانی ضائع مت کرنا۔ توبہ کرو اور نیکی کی راہ اپناؤ۔”

اقصیٰ کی روح پرواز کر گئی اور اس کا جسم مٹی میں مل گیا۔ مگر اللہ کی قدرت سے وہ ایک بہت بڑا سٹرابیری کا درخت بن گئی – کانٹوں والے جھاڑیوں نے سلطان اور اس کے سپاہیوں کو قید کر لیا جہاں وہ چیختے رہے۔ درخت نے حسنین کو بچایا۔ حسنین نے سلطان کو قید کیا، تخت سنبھالا اور عادل حکمرانی کی۔ وہ روزانہ درخت کو پانی دیتا، اس سے باتیں کرتا اور کبھی جھوٹ نہ بولنے کا عہد کرتا رہا۔ درخت کی برکت سے کوہستان سرسبز ہو گیا۔

دس سال بعد، بابا رحیم اور زینب بھی آ گئے۔ ایک رات درخت سے روشنی نکلی اور اقصیٰ دوبارہ انسانی شکل میں واپس آ گئی – زیادہ خوبصورت اور پاکیزہ۔ حسنین نے اس سے شادی کی اور دونوں نے مل کر انصاف کی سلطنت قائم کی۔

سبق:

  • قربانی اور محبت اللہ کے نزدیک بہت بڑی ہیں – حقیقی محبت دھوکہ نہیں دیتی۔
  • لالچ اور ظلم انسان کو تباہ کر دیتا ہے، اور اس کی سزا فطرت بھی دیتی ہے۔
  • توبہ اور ندامت اللہ کی رحمت کو کھول دیتی ہے – حسنین کی توبہ نے معجزہ کر دیا۔
  • والدین کی پرورش اور پاکیزگی دل کو طاقتور بناتی ہے۔
  • اللہ نیک بندوں کی قربانی ضائع نہیں کرتا – وہ انہیں بہتر شکل میں لوٹاتا ہے۔

یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ محبت میں وفاداری، قربانی میں اخلاص اور غلطی پر توبہ اللہ کی برکت لاتی ہے۔ یہ ایک جذباتی فیری ٹیل ہے جو بچوں اور بڑوں دونوں کو متاثر کرتی ہے۔

اگر آپ کو ایسی جادوئی، قربانی اور توبہ کی سبق آموز اردو کہانیاں پسند ہیں تو ہماری ویب سائٹ https://adabiduniya.com/ پر ضرور آئیں۔ یہاں اردو کہانیاں، بچوں کی اخلاقی قصے، اسلامی فیری ٹیلز اور ادبی تحریریں دستیاب ہیں۔ نئی کہانیاں پڑھنے کے لیے ابھی وزٹ کریں: https://adabiduniya.com/

آپ نے کبھی کسی کی قربانی دیکھی ہے جو زندگی بدل دے؟ یا توبہ سے سکون ملا؟ کمنٹ میں ضرور بتائیں!


Share With Others

اس موضوع پر مزید پڑھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *