Easy Short Story In Urdu
پھولوں کی خوشبو
(تقریباً 1000 الفاظ کی کہانی)
ایک چھوٹا سا گاؤں تھا جس کا نام گل پور تھا۔ گاؤں کے آخری کنارے پر ایک جھونپڑی تھی جس کے سامنے رنگ برنگے پھولوں کا باغ لہلہاتا تھا۔ اس باغ کا مالک تھا بابا رحیم، ستر سال سے اوپر کا بوڑھا آدمی۔ لوگ اسے “بابا جی” کہتے تھے۔ بابا جی کی آنکھیں دھندلی تھیں، کمر جھکی ہوئی تھی، لیکن جب وہ پھولوں کے درمیان بیٹھتے تو لگتا تھا جیسے کوئی بادشاہ اپنے تخت پر بیٹھا ہو۔
ہر صبح سورج نکلنے سے پہلے بابا جی اٹھتے، وضو کرتے، دو رکعت نفل پڑھتے، اور پھر اپنے مٹی کے گھڑے میں پانی بھر کر باغ کی طرف چل دیتے۔ وہ ہر پھول سے باتیں کرتے۔ گلاب کو کہتے، “آج تم بہت خوبصورت لگ رہے ہو۔” چنبیلی کو سونگھتے اور مسکرا کر بولتے، “تم تو رات بھر مہکتی رہی ہو نا؟” موگرا، بیلا، چمبیلی، سورج مکھی، سب کے نام الگ الگ تھے، اور سب سے الگ الگ باتیں۔
گاؤں کے بچے حیران ہوتے کہ ایک بوڑھا آدمی اتنی محنت کیوں کرتا ہے؟ پھول تو چند دنوں میں مر جاتے ہیں۔ ایک دن گاؤں کا سب سے شرارتی لڑکا، جس کا نام علی تھا، بابا جی کے پاس آیا۔ وہ دس سال کا تھا، گال سرخ، آنکھیں چمکدار۔ اس نے پوچھا،
“بابا جی! آپ روز صبح اٹھ کر پانی دیتے ہو، کھاد ڈالتے ہو، کیڑے مارتے ہو۔ آخر کار یہ پھول تو مر ہی جائیں گے۔ پھر اتنی محنت کیوں؟”
بابا جی نے گھڑا ایک طرف رکھا، زمین پر بیٹھ گئے، اور علی کو اپنے پاس بٹھایا۔ پھر آہستہ آہستہ بولے،
“بیٹا، تم نے کبھی دیکھا ہے کہ جب کوئی اچھا انسان مر جاتا ہے تو لوگ روتے ہیں؟ کیوں روتے ہیں؟ کیونکہ وہ اچھا تھا۔ اس نے محبت بانٹی، مدد کی، ہنسایا، ساتھ دیا۔ اس کی خوشبو لوگوں کے دلوں میں رہ جاتی ہے۔ پھول بھی ایسے ہی ہیں۔ وہ چند دن جیتے ہیں، لیکن جب تک جیتے ہیں، خوشبو پھیلاتے ہیں، خوبصورتی دیتے ہیں، پرندوں کو بلاتے ہیں، تتلیوں کو ناچ سکھاتے ہیں۔ جب مرتے ہیں تو ان کی جگہ نئے پھول آ جاتے ہیں۔ زندگی بھی یہی سکھاتی ہے۔ ہم سب پھول ہیں، علی! کوئی گلاب ہے، کوئی چنبیلی، کوئی موگرا۔ ہمارا کام ہے جینا، مہکنا، اور جب ہم چلے جائیں تو اپنی خوشبو چھوڑ جانا۔”
علی خاموش ہو گیا۔ اس کی آنکھوں میں کچھ چمکا۔ وہ کچھ بولنا چاہتا تھا لیکن بول نہ سکا۔ اگلے دن وہ پھر آیا۔ اس بار اس کے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا گھڑا تھا۔ وہ بولا،
“بابا جی! آج میں پانی دوں گا۔”
بابا جی مسکرائے۔ دونوں نے مل کر پھولوں کو پانی دیا۔ علی نے دیکھا کہ جب پانی کی بوندیں پھولوں پر گرتی ہیں تو وہ جھوم جاتے ہیں جیسے شکر ادا کر رہے ہوں۔
دن گزرتے گئے۔ علی روز آنے لگا۔ کبھی وہ بابا جی کے ساتھ کھاد ڈالتا، کبھی کیڑے مارتا، کبھی پتے صاف کرتا۔ گاؤں کے دوسرے بچے بھی آہستہ آہستہ شامل ہونے لگے۔ باغ میں ہنسی، چہچہانا، اور بچوں کی آوازیں گونجنے لگیں۔
ایک دن بارش کا موسم آیا۔ رات بھر تیز بارش ہوئی۔ صبح جب علی دوڑتا ہوا آیا تو دیکھا کہ باغ میں آدھے سے زیادہ پھول گرے پڑے تھے۔ گلاب کی پنکھڑیاں زمین پر بکھری ہوئی تھیں۔ چنبیلی کی شاخیں ٹوٹ گئی تھیں۔ علی کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ وہ بابا جی کے پاس گیا اور روتے ہوئے بولا،
“بابا جی! سب ختم ہو گیا۔ آپ کی اتنی محنت ضائع ہو گئی۔”
بابا جی نے علی کو گلے لگایا اور آہستہ سے بولے،
“بیٹا، یہ ختم نہیں ہوا، یہ بدلا ہے۔ دیکھو زمین کو۔ یہ پنکھڑیاں اب مٹی میں مل جائیں گی، اور اگلی بار جو پھول کھلیں گے وہ اور زیادہ خوبصورت ہوں گے۔ زندگی میں بھی طوفان آتے ہیں، بارشیں ہوتی ہیں، کبھی ہم گرتے ہیں، کبھی ٹوٹتے ہیں۔ لیکن جو گر کر مٹی میں مل جاتا ہے، وہی اگلی بار زیادہ مضبوط کھلتا ہے۔”
علی نے بابا جی کی بات سنی اور سر ہلایا۔ اس دن سے وہ اور محنت کرنے لگا۔
موسم بدلتے گئے۔ گرمیاں آئیں، سردیاں گزریں۔ بابا جی کی عمر بڑھتی گئی۔ اب وہ زیادہ چل نہیں پاتے تھے۔ کمر اور بھی جھک گئی۔ لیکن باغ پہلے سے زیادہ خوبصورت ہو گیا تھا کیونکہ اب دس بارہ بچے مل کر اس کی دیکھ بھال کرتے تھے۔
ایک دن سردیوں کی صبح تھی۔ دھوپ ہلکی ہلکی نکل رہی تھی۔ علی آیا تو دیکھا بابا جی اپنی کرسی پر بیٹھے ہیں، آنکھیں بند، ہاتھ گھٹنوں پر رکھے۔ علی نے آواز دی، “بابا جی!” کوئی جواب نہ آیا۔ علی دوڑ کر گیا، بابا جی کے کندھے ہلائے۔ بابا جی خاموش تھے۔ ان کا چہرہ پر سکون تھا، جیسے کوئی پھول مکمل کھل کر خوشبو چھوڑ کر آرام کر رہا ہو۔
بابا جی چلے گئے تھے۔
گاؤں میں ماتم چھا گیا۔ لوگ رو رہے تھے۔ علی تو بالکل ٹوٹ گیا۔ وہ باغ میں بیٹھا رو رہا تھا۔ اچانک اسے کچھ یاد آیا۔ وہ دوڑتا ہوا بابا جی کے جھونپڑی میں گیا اور ایک چھوٹا سا ڈبہ لایا۔ اس میں بیج تھے۔ بابا جی نے کئی سالوں سے اپنے سب سے خوبصورت پھولوں کے بیج جمع کیے تھے۔
علی نے سب بچوں کو بلایا۔ سب نے مل کر بابا جی کی قبر کے ارد گرد وہ بیج بو دیے۔
بہار آئی۔ قبر کے ارد گرد رنگ برنگے پھول کھل اٹھے۔ گلاب، موگرا، چنبیلی، بیلا۔۔۔ سب بابا جی کے پسندیدہ پھول۔ جب ہوا چلتی تو خوشبو پھیلتی، اور لگتا جیسے بابا جی کہہ رہے ہوں،
“دیکھا علی! میں چلا گیا، لیکن میری خوشبو رہ گئی نا؟”
علی مسکرایا۔ اب وہ خود بابا بن چکا تھا۔ گاؤں کے بچوں کو وہی سبق سکھاتا جو بابا جی نے اسے سکھایا تھا:
“زندگی چند دنوں کی ہے، لیکن اگر ہم محبت، نیکی اور خوبصورتی بانٹیں تو ہماری خوشبو ہمیشہ رہتی ہے۔”
اور آج بھی گل پور کے اس باغ میں جب کوئی پھول کھلتا ہے تو لوگ کہتے ہیں، “یہ بابا جی کی خوشبو ہے۔”
