اندر سبھا ڈرامہ - تحریر آغا حسن امانت لکھنوی

اندر سبھا ڈرامہ – تحریر آغا حسن امانت لکھنوی

Share With Others

اندر سبھا ڈرامہ – تحریر آغا حسن امانت لکھنوی (مکمل تعارف)

اندر سبھا (انگریزی: Inder Sabha) ایک اردو ڈرامہ اور اوپیرا ہے جو آغا حسن امانت نے 1853 میں تحریر کیا تھا۔ یہ پہلا مکمل اردو سٹیج ڈرامہ سمجھا جاتا ہے جو کبھی لکھا گیا۔ یہ ڈرامہ ہندو مت کی اساطیری دنیا پر مبنی ہے اور اس کا مرکزی موضوع ایک شہزادے اور ایک پری کے درمیان رومانس ہے۔ ڈرامہ مکمل طور پر شعری شکل میں لکھا گیا ہے اور اس میں آتش بازی، ماسک اور دیگر اوپیرا کے آلات استعمال ہوتے ہیں۔

مصنف کا تعارف

آغا حسن امانت (1815-1858) لکھنو کے ایک مشہور شاعر اور ڈرامہ نگار تھے۔ وہ نواب واجد علی شاہ کے دربار سے وابستہ تھے اور انہیں “امانت لکھنوی” بھی کہا جاتا ہے۔ ان کا اصل نام سید آغا حسن تھا۔ اندر سبھا ان کی سب سے مشہور تصنیف ہے جو نواب واجد علی شاہ کے دربار میں پیش کی گئی۔ کچھ مورخین کا کہنا ہے کہ یہ ڈرامہ نواب کی ہدایت پر لکھا گیا، جبکہ دوسرے اسے امانت کی خودمختار تخلیق قرار دیتے ہیں۔ امانت کی دیگر تصانیف میں غزلیں اور دیگر شعری کام شامل ہیں، لیکن اندر سبھا نے اردو تھیٹر کی بنیاد رکھی اور بعد کے ڈراموں جیسے “بزم سلیمان” اور “جشن پرستان” کو متاثر کیا۔

تاریخی تناظر اور اہمیت

یہ ڈرامہ 1853 میں اودھ (اوڈھ) کے آخری نواب واجد علی شاہ کے محل میں پہلی بار پیش کیا گیا۔ یہ اودھ کی ثقافتی اور ادبی عروج کے دور کا عکاس ہے، جہاں موسیقی، ناچ اور ڈرامہ دربار کا حصہ تھے۔ ڈرامہ نے اردو گیٹ کی روایت کو متاثر کیا اور اس کے گانے دو نسلوں تک لکھنو کے فنکاروں میں مقبول رہے۔ اس میں 31 غزلیں, 9 تھمریاں, 4 ہولیاں, 15 گیت, 2 چوبولے اور 5 چھند شامل ہیں، جو ناچ کے لیے کافی مواقع فراہم کرتے ہیں۔ یہ ڈرامہ جرمن میں 1892 میں ترجمہ ہوا اور 1932 میں اس پر فلم “اندرا سبھا” بنی جو 72 گانوں کے ساتھ ہندوستانی سنیما کی پہلی ٹاکی فلموں میں سے ایک تھی۔

اندر سبھا نے اردو ڈرامے کو ایک نئی سمت دی اور پارسی تھیٹر کو متاثر کیا، جو بمبئی میں اردو ڈرامے پیش کرتا تھا۔ یہ ہندو مسلم ثقافتی ملاپ کی مثال ہے، جہاں ہندو اساطیر کو مسلم ذوق کے مطابق پیش کیا گیا۔

اندر سبھا کی کہانی

اندر سبھا کی کہانی ہندو مت کی اساطیری دنیا پر مبنی ہے اور یہ راجا اندر کی آسمانی عدالت میں ہوتی ہے۔ ڈرامہ دو ایکٹس میں تقسیم ہے۔

پہلا ایکٹ: آسمانی عدالت اور محبت کا آغاز

کہانی راجا اندر کی سبھا سے شروع ہوتی ہے، جو دیوتاؤں کا بادشاہ ہے۔ اس کی عدالت میں خوبصورت پریاں (اپسرا) ناچتی اور گاتی ہیں۔ چار اہم پریاں – پنکھراج پری (پکھراج پری)، نیلم پری، لال پری اور سبز پری – ایک ایک کرکے پیش ہوتی ہیں۔ ہر پری اپنے نام کے مطابق ملبوس ہوتی ہے اور غزلیں، تھمریاں، ہولیاں اور دیگر گیت گاتی ہے، جو ناچ کے ساتھ پیش کیے جاتے ہیں۔ سبز پری سب سے آخری اور سب سے خوبصورت ہوتی ہے۔

سبز پری آسمان سے زمین پر ایک خوبصورت انسانی شہزادے گلفام کو دیکھتی ہے اور اس سے محبت کر بیٹھتی ہے۔ وہ اسے اغوا کرکے اپنے محل میں لے آتی ہے۔ گلفام ابتدا میں پریشان ہوتا ہے، لیکن سبز پری کی خوبصورتی سے متاثر ہوکر وہ سبھا دیکھنے کی خواہش کرتا ہے۔ سبز پری اسے ایک موسیقار (لال دیو) کے بھیس میں سبھا میں لے جاتی ہے۔ وہاں کالا دیو (کالا دیوتا، عدالت کا محافظ) گلفام کو پہچان لیتا ہے اور راجا اندر سے شکایت کرتا ہے کہ ایک انسانی کو آسمانی عدالت میں لایا گیا ہے، جو ممنوع ہے۔ راجا اندر غصے میں سبز پری کو آسمان سے جلاوطن کردیتا ہے اور گلفام کو کالا دیو کے حوالے کرکے قید میں ڈال دیتا ہے۔ گلفام کو ایک کنویں یا غار میں قید کیا جاتا ہے۔

دوسرا ایکٹ: جوگن کا بھیس اور خوشخبری

سبز پری زمین پر جلاوطن ہوجاتی ہے اور جوگن (تارک الدنیا خاتون) کا بھیس اختیار کرتی ہے۔ وہ پیلے-سرخ لباس میں، چہرے پر راکھ ملے اور بال بکھرے ہوئے گھومتی ہے اور غمگین گیت گاتی ہے۔ وہ گلفام کی تلاش میں نکلتی ہے اور کالا دیو کی نگرانی میں قید گلفام تک پہنچتی ہے۔ جوگن کے بھیس میں وہ کنویں کے پاس گیت گاتی ہے، جو کالا دیو کو متاثر کرتا ہے۔ کالا دیو گلفام کو باہر لاتا ہے۔

اس دوران، راجا اندر جوگن (سبز پری) کے گیت سنتا ہے اور متاثر ہوکر اسے تحائف دیتا ہے۔ سبز پری خود کو ظاہر کرتی ہے، راجا اندر سے معافی مانگتی ہے اور گلفام کی رہائی کی التجا کرتی ہے۔ راجا اندر ان کی محبت سے متاثر ہوکر انہیں معاف کردیتا ہے۔ سبز پری کو واپس سبھا میں قبول کرلیا جاتا ہے اور گلفام کو آسمان میں لے جایا جاتا ہے، جہاں وہ سبز پری کا ابدی ساتھی بن جاتا ہے۔ کہانی محبت کی فتح پر ختم ہوتی ہے۔

یہ ڈرامہ محبت، سزا اور معافی کے موضوعات پر مبنی ہے اور اس میں موسیقی اور ناچ کا غلبہ ہے۔

اندر سبھا کے کردار

اندر سبھا کے اہم کردار درج ذیل ہیں:

کردار کا نام تفصیل
راجا اندر دیوتاؤں کا بادشاہ، آسمانی عدالت کا سربراہ، سخت مزاج لیکن انصاف پسند۔
پنکھراج پری (پکھراج پری) آسمانی اپسرا، پیلے جواہر کی طرح ملبوس، گیت اور ناچ پیش کرتی ہے۔
نیلم پری نیلے جواہر کی طرح ملبوس اپسرا، عدالت میں پرفارم کرتی ہے۔
لال پری سرخ جواہر کی طرح ملبوس اپسرا، گیت گاتی ہے۔
سبز پری سبز جواہر کی طرح ملبوس، سب سے خوبصورت اپسرا، مرکزی کردار جو گلفام سے محبت کرتی ہے اور جوگن بنتی ہے۔
گلفام انسانی شہزادہ، سبز پری کا عاشق، آسمان میں لایا جاتا ہے اور قید ہوتا ہے۔
کالا دیو عدالت کا محافظ اور دیوتا، گلفام کو پکڑتا ہے اور اسے قید کرتا ہے۔

دیگر کرداروں میں عدالت کے ارکان، موسیقار اور اپسرا شامل ہیں۔

درج ذیل چیزیں جو جوگن کو راجا نے دیں

ڈرامے میں، جب سبز پری جوگن کے بھیس میں گیت گاتی ہے تو راجا اندر متاثر ہوکر اسے تحائف دیتا ہے۔ یہ چیزیں درج ذیل ہیں:

  • گلوری ری (ایک خاص قسم کی پھولوں کی مالا یا جواہراتی چیز، جو خوشبو اور خوبصورتی کی علامت ہے)۔
  • نو لکھا ہار (نو لاکھ روپے کی مالیت کا ہار، ایک قیمتی زیور جو بادشاہانہ تحفہ ہے)۔
  • شالی رومال (شالی کا رومال یا شال، ایک نرم اور قیمتی کپڑا جو تحفے کے طور پر دیا جاتا ہے)۔

یہ تحائف جوگن (سبز پری) کی فنکاری کی داد میں دیے جاتے ہیں اور کہانی میں معافی اور خوشخبری کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔


Share With Others

اس موضوع پر مزید پڑھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *