اصحابِ کہف کا واقعہ
اصحابِ کہف کا واقعہ: غار کے سات خوابیدہ اور تاریخ کی ایک عجیب داستان
اصحابِ کہف کی داستان قرآن مجید کی سورۃ الکہف میں بیان کی گئی ہے، جو ایک معجزاتی اور سبق آموز واقعہ ہے۔ یہ کہانی ایمان کی حفاظت، اللہ کی قدرت اور وقت کی حقیقت پر روشنی ڈالتی ہے۔ آئیے اس واقعہ کو تفصیل سے جانیں، جیسا کہ قرآن اور تاریخی روایات میں بیان کیا گیا ہے۔ یہ داستان نہ صرف اسلامی عقائد کا حصہ ہے بلکہ مسیحی روایات میں بھی “سیون سلیپرز” (Seven Sleepers) کے نام سے مشہور ہے۔
واقعہ کی پس منظر
یہ واقعہ تقریباً 250 عیسوی کے آس پاس کا ہے، جب رومن سلطنت میں بادشاہ ڈیکیئنس (Daqyanus یا Decius) کی حکومت تھی۔ یہ بادشاہ مشرک تھا اور لوگوں کو بت پرستی پر مجبور کرتا تھا۔ جو کوئی ایک خدا کی پرستش کرتا، اسے سخت سزائیں دی جاتیں۔ اس دور میں ایک شہر افوس (Ephesus) میں کچھ نوجوان تھے جو اللہ پر ایمان لائے ہوئے تھے۔ یہ نوجوان شاہی دربار کے ارکان تھے اور بادشاہ کے قریب تھے، لیکن انہوں نے بت پرستی سے انکار کر دیا۔
ان نوجوانوں کی تعداد کے بارے میں مختلف روایات ہیں، لیکن قرآن مجید میں انہیں “اشابِ کہف” کہا گیا ہے، جو عام طور پر سات سمجھے جاتے ہیں۔ ان کے ناموں میں مشہور روایات کے مطابق مکسمیلین، یملیخا، مرطوس، دیوناس، یوحنا، سرینوس اور انطونینوس شامل ہیں۔ ان کے ساتھ ایک کتا بھی تھا، جس کا نام قطمیر بتایا جاتا ہے۔
جب بادشاہ کو ان کے ایمان کا پتہ چلا، تو اس نے انہیں گرفتار کرنے کا حکم دیا۔ یہ نوجوان شہر سے بھاگ کر ایک غار میں چھپ گئے، جہاں وہ اللہ سے دعا کرتے رہے کہ وہ ان کی حفاظت فرمائے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول کی اور انہیں ایک لمبی نیند میں سلادیا۔
قرآن مجید میں بیان
سورۃ الکہف کی آیت 9 سے 26 تک یہ واقعہ تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: “کیا تم سمجھتے ہو کہ غار والے اور رقیم والے ہماری نشانیوں میں سے ایک عجیب نشانی تھے؟” (آیت 9)۔ یہ نوجوان غار میں داخل ہوئے اور اللہ نے انہیں 309 قمری سال (تقریباً 300 شمسی سال) تک سلا رکھا۔ اس دوران غار کا منہ ایسے ڈھانپا گیا کہ سورج کی روشنی ان تک نہ پہنچے، لیکن غار میں ہوا اور تازگی برقرار رہی۔ ان کی حالت ایسی تھی کہ دیکھنے والا سمجھتا کہ وہ جاگ رہے ہیں، لیکن وہ سو رہے تھے۔ اللہ نے انہیں دائیں بائیں کروٹ بھی دلائی تاکہ ان کے جسم خراب نہ ہوں۔
جب وہ بیدار ہوئے تو انہیں لگا کہ وہ صرف ایک دن یا اس کا کچھ حصہ سوئے ہیں۔ ان میں سے ایک نوجوان (یملیخا) شہر میں کھانا خریدنے گیا۔ اس نے ایک قدیم سکہ استعمال کیا، جو 300 سال پرانا تھا۔ دکاندار نے سکہ دیکھ کر حیران ہو کر اسے گرفتار کر لیا۔ پھر جب بات کھلی تو لوگوں کو پتہ چلا کہ یہ نوجوان وہ ہیں جو صدیاں پہلے غائب ہو گئے تھے۔ اس وقت شہر میں ایک موحد بادشاہ کی حکومت تھی، اور لوگ ایک خدا پر ایمان لائے ہوئے تھے۔ یہ معجزہ دیکھ کر لوگوں کا ایمان مزید مضبوط ہوا۔
بعد میں یہ نوجوان دوبارہ غار میں لوٹ آئے اور اللہ نے انہیں ہمیشہ کی موت دی۔ لوگوں نے غار کے منہ پر ایک مسجد تعمیر کی۔
تاریخی اور جغرافیائی پہلو
اشابِ کہف کی غار کی جگہ کے بارے میں مختلف دعوے ہیں۔ یہ داستان نہ صرف قرآن میں ہے بلکہ مسیحی تاریخ میں بھی، جہاں اسے “سیون سلیپرز آف افیسس” کہا جاتا ہے۔ ممکنہ مقامات میں شامل ہیں:
- افیسس، ترکی (Ephesus, Turkey): یہ سب سے مشہور جگہ ہے۔ یہاں ایک غار ہے جو سیاحوں کے لیے کھلی ہے۔ تاریخی روایات کے مطابق، یہ وہی جگہ ہے جہاں نوجوان چھپے تھے۔ غار میں قدیم قبریں اور نشانات موجود ہیں۔
- عمان، اردن (Amman, Jordan): ابو علندہ کے علاقے میں ایک غار ہے جو بیزانطائن دور کی ہے۔ یہاں مسجد اور قبریں ہیں، اور مسلمان اسے اشابِ کہف کی غار مانتے ہیں۔
- ترسوس، ترکی (Tarsus, Turkey): ایک اور غار جو اشابِ کہف سے منسوب ہے۔
- دیگر جگہیں: ہسپانیہ، شام، یمن، اور حتیٰ کہ آذربائیجان میں بھی ایسی غاریں دعویٰ کی جاتی ہیں۔
تاریخی طور پر، یہ داستان رومن سلطنت کے عیسائیوں پر ظلم کی عکاسی کرتی ہے۔ بعض محققین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ بادشاہ ڈیکیئنس کے دور (249-251 عیسوی) کا ہے، جب عیسائیوں کو ستایا جاتا تھا۔ قرآن میں اسے ایک نشانی کے طور پر بیان کیا گیا ہے تاکہ لوگ اللہ کی قدرت پر یقین کریں۔
سبق اور اہمیت
یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ایمان کی حفاظت کے لیے اللہ کی پناہ میں رہنا چاہیے۔ جب حالات سخت ہوں، تو اللہ پر توکل کریں، وہ راستہ نکالے گا۔ یہ داستان جمعہ کے دن سورۃ الکہف کی تلاوت کی اہمیت بھی بڑھاتی ہے، جو فتنوں سے حفاظت کرتی ہے۔
اشابِ کہف کی یہ کہانی آج بھی لوگوں کو متاثر کرتی ہے اور تاریخ کی کتابوں، فلموں اور ویڈیوز میں بیان کی جاتی ہے۔ اگر آپ اس موضوع پر مزید جاننا چاہیں تو قرآن مجید کی تفسیر کا مطالعہ کریں۔
